• اپریل
1999
عبدالرحمن عزیز
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے
  • جنوری
2005
عبداللہ دامانوی
(1) عن ابن عباس عن النبیﷺ أنه قال: (ما العمل في أيام (العشر) أفضل منها في هذا) قالوا: ولا الجهاد؟ قال: (ولا الجهاد ، إلا رجل خرج يخاطر وبنفسه وماله فلم يرجع بشيئ)
“جناب عبداللہ بن عباس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی دن میں عمل ان دس دنوں میں عمل کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا: جہاد بھی نہیں۔
  • جنوری
2008
کامران طاہر
تمام تعریف اللہ تبارک و تعالیٰ کو سزاوار ہے جس نے اپنے صالح بندوں کو ایسے مواقع عطا کئے جن میں کثرت کے ساتھ نیک اعمال بجا لاتے ہیں اور موت تک اُنہیں یہ مہلت اور موقع فراہم کیا کہ نیکیوں کے ان مختلف موسموں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دن اور رات کی مبارک گھڑیوں میں بھلائیوں کے وافر ثمرات اپنے دامن میں سمیٹ سکیں ۔
  • دسمبر
2013
کفایت اللہ سنابلی
عید الاضحیٰ کے دنوں میں قربانی کرنا اسلام اور مسلمانوں کا شعار ہےاور ان دنوں کا سب سے بہترین عمل قربانی کرنا ہی ہے۔ 10ذو الحجہ، 11 اور 12 تاریخوں کو عام طورپر قربانی کا اہتما م کیا جاتا ہے، لیکن قرآن وسنت میں قربانی کے ایام' ایام تشریق' کو قرار دیا گیا ہے۔ اور ایام تشریق چوتھے روز 13 ذو الحجہ کےغروبِ آفتاب تک برقرار رہتے ہیں۔ گویا عید کے دن کوشامل کرکے چار دن قربانی کرنا اسلامی شریعت میں مشروع ہے۔
  • جنوری
2007
فیض احمد بھٹی
اللہ کریم کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے اوروہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے، اِسی لئے اس نے اپنے انبیاے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لئے جنت کے راستے ہموار کئے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کئے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
  • جنوری
2006
اختر حسین عزمی
انسانی فطرت ہے کہ وہ جسے ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے، اسی کے سامنے نذرونیاز پیش کرتا ہے۔ غیر اللہ کے لئے ایسا کرنا اللہ نے 'شرک' قرار دے کر منع کیا تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اس فطری جذبے کی تسکین کا راستہ بھی بنا دیا۔ انسان اگر غیر اللہ کو سجدہ کرتا تھا تو اللہ نے جہاں غیراللہ کو سجدہ کرنا حرام ٹھہرایا، وہاں اس کے متبادل کے طور پر نماز کو فرض کردیا۔
  • فروری
1972
سید داؤد غزنوی
قربانی کے متعلق علماء کا اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا سنت؟ لیکن احادیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک مدینہ منورہ رہے قربانی کرتے رہے اور دوسرے مسلمان بھی قربانی کرتے رہے کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لئے وجوبًا حکم دیا ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ آپ نے جواب دیا:
  • اکتوبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
لفظ "ہدی" اور پرویز صاحب:
لفظ "ہدی" کے متعلق پرویز صاحب ایک مقام پر فرماتے ہیں:
"ہدی جمع ہے " هدية" جس کے معنیٰ ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے﴿ بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ﴿٣٦﴾...النمل اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔" (قرآنی فیصلے ج1 ص108)
اس چھوٹے سے اقتباس میں "مفکر قرآن" صاحب نے تین لغزشوں کا ارتکاب کیا ہے۔
1۔ ھدی جمع ہے۔
2۔ ھدیة، جس کا معنیٰ تحفہ ہوتا ہے۔ اس کی ہی جمع ہدی ہے۔
3۔ ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی ہی کے جانور ہوں۔
پہلی لغزش:
پرویز صاحب کی پہلی لغزش یہ ہے کہ انہوں نے "ھدی" کو جمع قرار دیا۔ افسوس ہے کہ جو شخص اٹھتے بیٹھتے اپنے آپ کو قرآنی تحقیق میں عمر کھپا دینے والا محقق ظاہر کرتا رہا، اس نے "ھدی" کے واحد یا جمع ہونے کا فیصلہ قرآنی اساس پر نہیں کیا، بلکہ کسی کی کتاب لغت میں ایسا دیکھا اور مکھی پر مکھی مارتے ہوئے "ھدی" کو جمع قرار دے دیا، حالانکہ کتاب اللہ نے اسے جمع نہیں بلکہ واحد قرار دیا ہے۔ قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں:
1۔  ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ... ١٩٦﴾...البقرة
"یہاں تک کہ حرم میں کی جانے والی قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔"
  • دسمبر
1983
عبدالرؤف ظفر
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد صرف اسلامی شریعت کی عملداری کے لیے رکھی گئی تھی۔ اگرچہ بوجوہ ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ تاہم اس سلسلہ میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے او رابھی تک یہ سفر جاری ہے۔ واضح رہے کہ جہاں حکومت اور سیاستدانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں خصوصی دلچسپی لیں۔ وہاں اہل علم کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو قابل عمل ثابت کریں اور لوگوں کو بتائیں
  • اگست
1984
عبدالرؤف ظفر
نوٹ۔اس مضمون کی پہلی قسط گزشتہ سال ذوالحجہ 1403ھ کے محدث میں شائع ہوئی تھی لیکن مسودہ گم ہوجانے کی وجہ سے اس کی تکمیل نہ ہوسکی تھی۔چنانچہ صاحب مضمون سے اسے دوبارہ حاصل کیاگیا اور اب موقع کی مناسبت سے اس کی دوسری قسط ہدیہ قارئین ہے۔۔۔بہرحال اس مضمون کو محدث جلد13 عدد 12(ذوالحجہ 1403ھ) کے آخری مضمون سے ملا کر پڑھا جائے تو اس کی تکمیل ہوجائےگی۔(ادارہ)
  • ستمبر
1984
عبدالرؤف ظفر
قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی کی اصل حقیقت متعین کرنے کے لئے ضروری ہے۔پہلے قرآن مجید پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ائمہ پر غور کریں۔اور پھر تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں۔اس سے قربانی کے متعلق منشاء الٰہی اسوہ حسنہ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا علم ہوگا۔اوراس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
قرآن مجید اورقربانی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾...(الحج:34)
" اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی مقرر کردی  تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ نے اُن کوعطافرمائے ہیں۔"
  • ستمبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
قربانی کا ثبوت سورہ کوثر کی دوسری آیت سے بھی ملتا ہے ۔ پرویز صاحب اس کی تردید میں فرماتے ہیں :
’’مروجہ قربانی کی تائید میں سورۃ الکوثر کی آیت............ فصل لربک وانحر۔ بھی پیش کی جاتی ہے ۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔’’نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر‘‘........... ’’قربانی کر‘‘ ترجمہ کیا جاتا ہے وانحر کا۔‘‘
لغت کی رُو سے نحر سینے کے اوپر کے حصے کوکہا جاتا ہے ۔ صاحب تاج العروس نے مختلف تفاسیر کی سند سے وانحر کو کہا کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ مثلاً (1 نماز میں کھڑے ہوکر سینے کو باہر کی طرف  نکالنا (2) نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا (3) نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا (4) نماز میں نحر تک ہاتھ اٹھانا  (5) اپنے سینے کو قبلہ رُخ کرکے کھڑے ہونا (6) خواہشات کا قلع قمع کرنا۔