• اگست
1993
اسحاق زاہد
ہفت روزہ "الاعتصام"لاہور مجریہ یکم جنوری 1993ء میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی کافتویٰ بعنوان"مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنے کاجواز" شائع ہواتھا۔جس پر جامعہ عربیہ(حنفیہ) گوجرانوالہ کے ایک فاضل مدرس مولانا محمد امیر نواز نے تعاقب فرمایا ہے جس میں انہوں نے احناف کے اس موقف کو ترجیح دینے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنا درست نہیں ہے۔
  • جنوری
1989
غازی عزیر
ہندوستان و پاکستان سے تشریف لانے والے اکثر حجاج و زائرین اور مملکت سعودیہ میں مقیم برصغیر سے متعلق تارکین وطن کی اکثریت کو عموما یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جو شخص مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازیں کسی بھی نماز کو قضا ہوئے بغیر (مسلسل) باجماعت پڑھ لے تو اس کے لیے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی رہنمائی کرنے والی بعض اردو کتابوں میں بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مسلسل پڑھنے کا ذکر بتاکیدِ شدید ملتا ہے۔ لہذا ہر مرد و زن حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا ہے یہ تینوں بیش قیمت پروانے اس کو بہرصورت حاصل ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے مدینۃ منورۃ کے بیشتر زائرین وہاں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرتے ہیں تاکہ مسجد نبوی میں چالیس (40) نمازیں باجماعت ادا کرنے کی شرط پوری کر کے اس پروانہ نجات کو حاصل کر سکیں۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے ان کی کوئی نماز چھوٹ جاتی ہے تو مزید ایک ہفتہ اس کی تکمیل کے لیے وہاں قیام کیا جاتا ہے۔