• جون
2002
زاہد الراشدی
اسلام میں جہاد کا تصور اور فضیلت، دیگر ادیان و مذاہب کے بالمقابل اسلام کا امتیازی تصور ہے جس کی رو سے جہاں جان و مال اور عقل و نسل کا تحفظ بنیادی حق قرار پاتا ہے، وہاں سیکولر ازم کے برعکس دین کا تحفظ بھی اسلام کی نظر میں بنیادی حقوق میں شاملہے۔ بلاشبہجہاد کا یہ تصور اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔
  • جنوری
1989
حافظ ثناء اللہ مدنی
انبیاء علیہم السلام کی شہادت یا دشمن کے ہاتھوں قتل کے بارے میں علماء میں دو مختلف آراء مشہور ہیں:
1۔ دشمن کے ہاتھوں رسول کا قتل ناممکن ہے۔
2۔ دشمن کے ہاتھوں نبی یا رسول کا قتل ممکن ہے۔
جیسا کہ متعدد قرآنی آیات سے ظاہر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ ہذا کچھ وضاحت ک متقاضی ہے۔
اولا لفظ قتل کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
قتل کے حقیقی معنی ہیں (موت فطری کے علاوہ کسی اور طریقے سے) روح کو جسم سے جدا کر دینا خواہ ذبح کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اب تفصیل اس اجمال کی ہوں کہ رُسُلُ اللہ دو طبقوں میں منقسم ہے۔
ایک وہ جن کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے وہ جو محج مبلغ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کے مامور نہ تھے۔
  • جون
1980
زاہد علی واسطی
ہادکے لغوی معنی ہر وہ کوشش اور محنت ہےجو کسی معین مقصد کے لیے کی جائے اور اصطلاح میں اس محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جو اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں، اسلام کے لیے ، نظام ملت کے لیے یا استحکام شعائر اللہ کے لیے کی جائے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ) یہ  لفظ  قرآن میں کبھی لغوی معنوں میں اور کبھی اصطلاحی معنوں میں متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
اس روئے زمین پر اخلاق و آداب، عبادات و معیشت، سیاست و معاشرت۔ الغرض تمام معاملات میں قدم قدم پر ہر خیر کے ساتھ ساتھ شرکاء عنصر بھی کارفرما ہے۔ اسلام امر بالمعروف (خیر) کا داعی ہے اور نہی عن المنکر(شر) کی نفی کرتا ہے۔ اس کوشش کو شریعت نے جہاد فی سبیل اللہ کا نام دیاہے۔اس لیے راہ خدا میں جہاد کرنے کا مفہوم سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اللہ کی رضا کی خاطر اس کے دین برحق کی سربلندی کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالا جائے جو انسان کے دائرہ اختیار میں ہو۔ اس مقصد اعلیٰ کے حصول میں پوری قوتیں صرف کردینے کا نام جہاد ہے۔ زیادہ معین معنوں میں جہاد۔اسلام کا فریضہ بھی ہے اور ہرمسلمان پر واجب بھی ہے کہ بطور عبادت وہ ہر کوشش اور محنت کرے جوملت کے استحکام میں اعلائے کلمۃ الحق میں مظلوم بھائیوں کی حمایت میں اسلامی ریاست کے خلاف حملہ آوروں کے مقابلہ میں بار آور ثابت ہوسکے۔
  • اکتوبر
1994
عبد الرحمن مدنی
(((مورخہ 11ستمبر 1994ء کے لیے"محدث" کے مدیر اعلیٰ کو جہاد کے پس منظر میں فرقہ وارانہ تشدد  پرغور وخوض کے مقصد سے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،جو عملاً مشاورت کے بجائے جلسہ عام کی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔تاہم موصوف نے جذباتی فضا میں جذبہ جہاد کوفرقہ وارانہ منافرت سے بچانے کے لئے جہاد کی تنظیم اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت متحد کرنے پر زور دیا۔اگرچہ ادارہ "محدث" سمیت متعلقہ تمام ادارے نہ صرف جہادی فکر کی تخم ریزی اور سیرابی کے لئے کوشاں ہیں بلکہ غزو فکری کے ساتھ ساتھ جہاں جانی اور مالی طورپر عملاً جہاد افغانستان،بوسنیا،اور کشمیر میں شریک رہتے ہیں،وہاں اس تجویز کے شدت سے موئید ہیں کہ جہاد کانعرہ لگانے والی ٹولیاں متحد ہوکر کام کریں ،نیز نوجوانوں کو بزرگوں کی سرپرستی میں کام کرناچاہیے تاکہ جوش ہوش پر غالب نہ آنے پائے،بعض جوشیلے لوگوں کی دینی قوتوں کی شیرازہ بندی یا اعتدال کے ایسے مشورے بھلے معلوم نہیں ہوتے۔وہ وضاحت کا موقع دیے بغیر تردیدی خطابات کا"جہاد" شروع کردیتے ہیں،بلکہ زبان بندی سے بھی نہیں چوکتے۔سطور ذیل میں ہم مذکورہ خطاب کا ایک خلاصہ اور سوال وجواب کی شکل میں مخالفانہ تقاریر پر وضاحتیں شائع کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں افراط وتفریط سے بچائے اور شریعت کے میزان عدل پر عمل کی توفیق دے۔آمین!۔۔۔(ادارہ)،)))
  • اگست
1999
خرم علی بلہوری
جماعتِ مجاہدین، جسے شہیدین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ احیاءِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں آج سے 175 برس قبل منظم کیا تھا، مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس دور میں جب تختِ دہلی پر انگریز اور تحتِ لاہور پر سکھ راج کی حکومت تھی، مسلمانانِ ہند کو منظم کر کے صوبہ سرحد کو اپنا مستقر بنا کر اس تحریک کے سرفروشوں نے ایک نئی سادتانِ شجاعت رقم کی۔ 1826ء سے 1864ء تک پھیلی مجاہدین کی ان سرگرمیوں اور کامیابیوں نے امتِ مسلمہ میں ایک نئی روحِ جہاد پھونک دی۔ اس جہاد کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ مجاہدین جن کا ہندوستان بھر سے مالی اِعانت کا ایک منظم جال تھا، نے آزاد علاقوں (صوبہ سرحد کے بعض شہروں) میں اپنا ٹھکانہ بنا کر جہاد کا احیاء کیا، کیونکہ اسی صورت میں وہ جہاں غیروں کی جہادی مقاصد میں دخل اندازی سے محفوظ رہ سکتے تھے وہاں جہاد کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کر سکتے تھے ۔۔ جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی اور امتِ مسلمہ کی عزت کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ساتھ آخری دم تک جہاد بھی باقی رہے گا۔
  • جولائی
1987
غازی عزیر
 9۔آخری علت یہ ہے کہ سرور و خوشی اور فرحت و تزویج کے مواقع پر دعوت طعام کرنا انبیاء علیہم السلام کا شیوہ او ران کی سنت رہی ہے۔ چنانچہ بادشاہ حبشہ نجاشی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے، جسے طبری نے سیر میں اس طرح نقل کیا ہے:
  • مئی
1990
مسعود عبدہ
حسب معمول یکم مئی 1990کی نماز فجر مجلس تحقیق اسلامی کی تین منزلہ عمارت کے درمیانے حصہ میں مخصوص جائے سجود میں ماہنامہ"محدث" کے مدیر اعلیٰ حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے پڑھائی۔نماز کے مسنون اذکار سے فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئے!
"آپ کو معلوم ہے مولانا خالد سیف صاحب شہید ہوگئے! انا للہ وانا الیه راجعون"
شہادت کی خبر سننے کا رد عمل خبر سنانے والے کے قلبی تاثرات کی وجہ سے اُس خبر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جس کا بھیانک نام "موت " ہے۔
اس لئے کہ شہید کی شخصیت کےلئے اس لفظ کا استعمال کلام الٰہی قرآن حکیم میں (جو ہمارا دستور حیات ہے) منع  فرمایا گیا ہے۔
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ "شہید" کہلاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مرتبہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تمنا فرمائی اور مختلف فرامین میں اس کی فضیلت و اہمیت سے امت کو آگاہ کیا۔
"قتل فی سبیل اللہ" کے علاوہ بھی چند صورتیں ایسی ہیں کہ اگر مومن کو اس میں سے کسی بھی صورت میں موت آ جائے تو وہ اللہ کے ہاں "مرتبہ شہادت" سے نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ "صحیح مسلم" باب بیان الشہداء میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، قَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ»، قَالُوا: فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم شہید کسے سمجھتے ہو؟" صحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے ہوں گے۔" صحابہ بولے: "یا رسول اللہ! پھر وہ کون لوگ ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والا شہید ہے۔ طاعوت کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے۔ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔"
  • جنوری
1995
محمود الرحمن فیصل
روس نے اپنی روایتی مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہو ئے افغانستا ن کی تبا ہی اور بو سنیا میں شر مناک کر دارادا کرنے کے بعد بلآخر آزادی کا اعلان کرنے والی مسلمان ریاست جمہور یہ چیچنیا جسے مقامی زبان میں " چیچنیا " کہتے ہیں پر فوجی چڑھائی کر کے مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اس سے قبل وہ سابقہ سوویت یو نین سے آزاد ہو نے والی دیگر مسلم ریاستوں خصوصاً تاجکستان میں حتی المقدور فوجی مداخلت کرتا رہا ہے رشین فیڈریشن کی دیگر ریاستوں کے سامنے بے بس ہو کر اس نے انتقامی کا روا ئی کے لیے چیچنیا کا نتخاب کیا اور انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کے اعلیٰ و ارفع اصولوں کو پامال کرتے ہو ئے "آئین کی بحالی " کے نام پر اس نومو د ریاست پر آتش و آہن کی بارش کر دی ہوائی اڈے اور طیاروں کو تباہ کرنے کے علاوہ شہری آبادیوں پر بے دریغ بمباری کر کے بھاری جا نی اور مالی نقصان پہنچا یا گیا.