• دسمبر
1999
غازی عزیر
اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم عمل ہے۔جس کے مسائل اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں بعض مساجد کی انتظامیہ معتکف حضرات کی سرگرمیوں سے شاکی بھی ہوتی ہے۔ذیل میں مسجد کے انتظام وانصرام سے وابستہ ایک صاحب نے تفصیلی طور پر چند چیزوں کے بارے میں علماء سے استفسار کیا ہے کہ ان امور کی قرآن وسنت کی روشنی میں شرعی حیثیت کی وضاحت کی جائے۔ان استفسارات میں سے راقم کی نگاہ میں اہم نکات صرف یہ ہیں:
1۔کیا مسجد میں چھوٹے بڑے حتیٰ کہ غیر روزہ دار بچوں کا  جمع کرنا جائز ہے؟
2۔کیامعتکف(اعتکاف کرنے والے) کے لیے ان بچوں کے ساتھ مشغول ہونا درست ہے؟
3۔کیا تمام اہل خاندانکا کسی تقریب کے مثل مسجد میں جمع ہوکر کھانا پینا درست ہے؟
4۔بچوں کا مسجد میں شوروغوغا کرنا اور اپنی چیخ پکار سے نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو اذیت دینا کیسا ہے؟
5۔معتکفین کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیر تک گفتگو بلکہ گپ شپ  میں مصروف رہنا کیا ہے؟
6۔ایسے بچوں کا مسجد میں لانا جو وہاں  پیشاب کردیتے ہوں ،کیسا ہے؟
7۔معتکف کے لیے بچوں کو ابتدائی اردو یا قرآن وغیرہ کادرس دینا کیسا ہے؟
8۔بچوں کے ساتھ پیارومحبت کرنا کیسا ہے؟
9۔معتکف کے لیے معلمی،خیاطی یا جلد سازی کرنے کا کیا حکم ہے؟