1999
  • جنوری
صلاح الدین یوسف
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه الى يوم الدين
اس مضمون میں روزے سے متعلق ضروری احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، مثلا ۔۔ روزے کے واجبات و آداب کیا ہیں؟ رمضان المبارک میں کون سی دعائیں مسنون ہیں؟ اس کے فوائد اور فضائل کیا ہیں؟ روزن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟ اور اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ وغیرہ، مختصر ان باتوں کا ذکر ہو گا۔ وباللہ التوفیق ۔۔
روزے کی اہمیت
روزے کی اہمیت تو اسی سے واضح ہے کہ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت
(صحیح بخاری، الایمان، باب، رقم الحدیث 8 ۔ مسلم، الایمان، باب ارکان الاسلام، رقم 16)
1985
  • جولائی
اکرام اللہ ساجد
روزہ خور توجہ فرمائیں
ع۔(تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں؟)
روزوشب:
ماہ وصال تو گزر ہی جاتے ہیں لیکن یہی روز وشب بھی ماہ وسال کسی کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوتے ہیں تو کسی کے لئے محرومیوں اور حسرتوں کا  پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت اور پرعظمت مہینہ آیا اور رخصت بھی ہوگیا چنانچہ جن لوگوں نے اس ماہ مقدس میں دن کو روزہ رکھا تلاوت قرآن مجید اور نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیا اور راتوں میں قیام ورکوع وسجدہ کے زریعے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے،اظہار ندامت کیا،وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے مستحق بھی ہوئے اور جہنم سے آزادی کی نوید بھی انھوں نے حاصل کرلی!۔لیکن جن لوگوں نے اس مبارک مہینے کے تقاضوں کو نہ صرف ملحوظ نہ رکھا۔بلکہ اس کی حرمتوں کو پامال اور اس کے تقدس کو مجروح کیا۔بلاشبہ انھوں نے اللہ کے غضب کوللکارا اور اپنی نفسانی خواہشات پر اُخروی فوائد کو قربان کرتے ہوئے سراسر گھاٹے کاسود کیا ہے۔لیکن اس خسارے کا آج بھی انھیں احساس نہیں ہے۔
2006
  • جنوری
سید داؤد غزنوی
جس طرح کسی قوم کی ملی سیاست اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے تمام انتظامی اُمور کے لئے اوقات مخصوص اور معین نہ کردیے جائیں ۔ اسی طرح سیاست ِشرعیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کی عبادات اور اطاعات کے لئے اوقات و ایام مخصوص نہ کرلئے جائیں ۔
2004
  • فروری
عمران ایوب لاہوری
شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرتے ہيں ان ميں سے ايك قربانى بهى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش كنہ وحقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنابهى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں جزوِلاينفك كى حيثيت اختيار كر گئے۔