• نومبر
1995
عبدالغفار حسن
سوال12: مغضوب عليهم کی تفسیر یہود اور ضالين کی تفسیر نصاریٰ سے کیوں کی جاتی ہے۔ یہ دونوں وصف تو باہمی لازم و ملزوم ہیں، جو مغضوب ہیں، وہ ضال بھی ہے۔ اور جو ضال ہے وہ مغضوب ہے۔
  • جولائی
2006
محمد رفیق چودھری
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے تو صحابہ کرامؓ اس کے شاہد اور امین۔بلا شبہ قرآنِ کریم کے جواہرات جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم زندگی کی لڑی میں پروئے جاتے تو یہ ہار صحابہ کی نظروں کو خیرہ کرتا۔چنانچہ بعد کے مفسرین قرآن پر آپؐ کے اصحابؓ کو یہی امتیاز حاصل ہے کہ قرآنِ مبین اُن کی زبان میں اُترتا تھا اور وہ اپنے سامنے وحی ٔ نبوت کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔
  • اگست
2006
محمد رفیق چودھری
قرآنِ کریم کے اوّل مخاطب صحابہ کرامؓ ہیں ، اور ایک کلام اسی وقت ہی بلیغ ومبین کہلا سکتا ہے جب وہ اپنے اوّل مخاطبین کی سمجھ میں آئے، وگرنہ اس کے اِبلاغ میں نقص ماننا پڑے گا۔ اس لحاظ سے صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کو دیگر اہل علم پر کئی پہلوئوں سے ترجیح حاصل ہے۔ صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کے تین مرحلے ہیں اور تینوں کے احکام مختلف ہیں : a جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فلاں آیت اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تو اس واقعہ کے تعین،حقیقت اورکیفیت کے بارے میں صحابہ کا موقف حجت ہے
  • ستمبر
2003
محمد مسعود عبدہ
قرآنِ پاک نوعِ انسانی کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے اس کی وسعت اور ہمہ گیری کا یہ عالم ہے کہ ہر دور میں زندگی کے ہر شعبے میں انسانی عقل و فکر کے لئے رہنما بن سکتا ہے۔ قرآنی مضامین میں اس قدر جامعیت موجود ہے کہ ہر مکتب ِفکر کا آدمی اپنی تسکین کے لئے اس سے مواد حاصل کرسکتا ہے۔