1995
  • جنوری
صدیق حسن خان
آیت نمبر :125، "اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔
1985
  • اپریل
محمد اسرائیل فاروقی
ترجمہ: یہ (اپنے پندارمیں ) اللہ کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں ۔

"خداع" کا لغوی معنی فساد ہے مطلب یہ ہوا مفسدوں کا ساکا م کرتے ہیں اگرچہ اللہ پر کسی کا فساد مخفی نہیں رہتا ۔

﴿ وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ﴿٩﴾... سورةالبقرة
1990
  • جنوری
صدیق حسن خان
اللہ کے بغیر دنیا میں کو ئی ما لک و مختار نہیں جو غیر اللہ کو مالک کہتے ہیں یہ کہنا مجازاًہے ۔یہ مجاز قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔

﴿إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا... ﴿٢٤٧﴾... سورةالبقرة

"اللہ نے تم پر طالو ت کو بادشاہ مقرر فر ما یا ہے ۔
1994
  • جنوری
چودھری عبدالحفیظ
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا ر‌ٰ‌عِنا وَقولُوا انظُر‌نا وَاسمَعوا وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٠٤﴾ ما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن أَهلِ الكِتـٰبِ وَلَا المُشرِ‌كينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيكُم مِن خَيرٍ‌ مِن رَ‌بِّكُم وَاللَّهُ يَختَصُّ بِرَ‌حمَتِهِ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ ﴿١٠٥﴾... سورة البقرة

ترجمہ:۔اے ایمان لانے والو! گفتگو کے دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو" رَاعِنَا " نہ کہا کرو بلکہ" انظُرْنَا "کہاکرو اور خوب یاد رکھو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
1993
  • اگست
صدیق حسن خان
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَكُم لا تَسفِكونَ دِماءَكُم وَلا تُخرِ‌جونَ أَنفُسَكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم ثُمَّ أَقرَ‌ر‌تُم وَأَنتُم تَشهَدونَ ﴿٨٤﴾... سورة البقرة

"اورجب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے آ آپ کو اپنے وطن سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا اور تم اس پر گواہ ہو۔"

﴿ثُمَّ أَنتُم هـٰؤُلاءِ تَقتُلونَ أَنفُسَكُم وَتُخرِ‌جونَ فَر‌يقًا مِنكُم مِن دِيـٰرِ‌هِم تَظـٰهَر‌ونَ عَلَيهِم بِالإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ وَإِن يَأتوكُم أُسـٰر‌ىٰ تُفـٰدوهُم وَهُوَ مُحَرَّ‌مٌ عَلَيكُم إِخر‌اجُهُم أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِتـٰبِ وَتَكفُر‌ونَ بِبَعضٍ فَما جَزاءُ مَن يَفعَلُ ذ‌ٰلِكَ مِنكُم إِلّا خِزىٌ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيَومَ القِيـٰمَةِ يُرَ‌دّونَ إِلىٰ أَشَدِّ العَذابِ وَمَا اللَّهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٨٥﴾... سورة البقرة
1989
  • اکتوبر
صدیق حسن خان
سورۃا لفا تحہ

نام:

حدیث ابوہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں آیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا
1989
  • نومبر
چودھری عبدالحفیظ
صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک کو بسم اللہ سے ہی شروع کیا تھا۔سب علماء کا اس بات پراتفاق ہے۔کہ بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سورت کا دوسری سورت سے فرق نہ پہچانتے تھے ۔حتیٰ کہ بسم اللہ اُترتی۔ابوداؤد نے اسے صحیح اسناد سے ر وایت کیا ہے۔یہ روایت مستدرک حاکم میں بھی آئی ہے۔
1989
  • جولائی
چودھری عبدالحفیظ
بعض علماء نے کہا ہے کہ کو ئی چیز ایسی نہیں جس کا قرآن مجید سے اخذا کرناناممکن ہو مگر یہ وہ کر سکتا ہے ۔جسے اللہ نے سمجھ دی یہاں تک کہ بعض اہل علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر (63) برس سورہ منافقین کی اس آیت سے اخذا کی :

﴿وَلَن يُؤَخِّرَ‌ اللَّهُ نَفسًا إِذا جاءَ أَجَلُها...﴿١١﴾... سورة المنافقون
1995
  • جولائی
صدیق حسن خان
آیت نمبر۔137،138۔
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَالسَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾﴿صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴾...البقرة
" اگر وه تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے والا ہے(137) اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں”
1989
  • دسمبر
صدیق حسن خان
مرفوعاً یوں  آیا ہے کہ"وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجاتاہے۔؟بسم اللہ کہنے سے ایک مکھی کی مانند چھوٹا ہوجاتا ہے یہ تاثیر بسم اللہ کی برکت ہے۔
ابن کثیر ؒ کہتے ہیں "اسی لئے ہر کام اور ہر بات سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب ہے جیسے کتاب کے دیباچے سے پہلے ،بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اوروضو سے پہلے،بعض علماء کے نزدیک وضو سے پہلے "بسم اللہ " کہنا واجب ہے۔اسی طرح ذبحہ کے وقت کھانے سے پہلے ،جماع سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب یاواجب ہے۔اس باب میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔
حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاًآیا ہے۔اللہ کے نناوے نام  ہیں،جس نے انھیں یاد کرلیا وہ جنت میں جائےگا۔(بخاری ومسلم)
1990
  • مئی
صدیق حسن خان
﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾...البقرة
ترجمہ:۔یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ تو  ان کی  تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔"
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی ایک جماعت نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہی لے لی۔اور ہدایت چھوڑ دی۔ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ایمان دے کر  کفر خرید لیا۔مجاہد ؒ نے فرمایا ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے ،قتادہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا۔انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
ترجمہ"۔اور جو ثمود تھے ان کوہم نے سیدھا  رستہ دکھایا تھا مگر  انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا۔
1990
  • جولائی
صدیق حسن خان
ابن کثیرؒ کہتے ہیں ۔یہ آیت تو حید باری تعا لیٰ پر دلیل ہے کہ اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ۔صرف اُس کی عبادت لازم ہے مفسریننے اس آیت سے باری تعا لیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے جس طرح یہ آیت وجود باری تعا لیٰ پر دال ہے ۔اُسی طرح یہ آیت تو حید عبادت پر بھی بطریق اَولیٰ دلیل ہے کیونکہ جو آدمیان موجود ات سفلیہ اور عُلویہ اور لوگوں کی صورتوں اور رنگوں طبائع اور منافع کے اختلاف میں غور کرے گا تو اُسے پتہ چلے گا ان منافع کو کس عمدہ طریقے سے اس مقام اور منصب پر رکھا گیا ہے تو ضروری طور پر وہ ان سب کے خالق کی قدرت و حکمت علم و اتفاق اور عظمت و شان کو جان لے گا ۔
1992
  • اپریل
صدیق حسن خان
جن یا فرشتہ؟؟؟
جہاں یہ فرمایا:۔﴿كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ... ﴿٥٠﴾...الكهف
ترجمہ:۔ "وہ جنات میں سے تھا اپنے رب کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا۔"
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابلیس کا اس حکم عدولی سے پہلے فرشتے میں شمار ہوتا تھا۔"عزازیل" نام تھا۔زمین پر رہتا تھا اور نہ صرف سب سے زیادہ علم رکھتا تھا۔بلکہ سب سے زیادہ عابد بھی تھا۔انہیں خوبیوں کے گھمنڈ میں اس نے تکبر کیا۔مگر یہ بات طے ہے کہ اس کا تعلق جنات سے تھا۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اس کا پہلا نام عزازیل تھا۔فرشتوں میں معزز تھا۔چار پر ر کھتا تھا۔ بعد میں ابلیس کہلایا۔تیسری روایت یہ ہے کہ آسمان وزمین کی بادشاہت اورسیاوت کا مالک تھا۔لیکن معصیت کی پاداش میں اللہ نے اسے مسخ کرکے شیطان رجیم قرار دے دیا۔۔۔
1995
  • فروری
  • مارچ
چودھری عبدالحفیظ
(گزشتہ سے پیوستہ) ۔۔۔معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی حرمت ابراہیم علیہ السلام  کی تعمیر سے  پہلے کی ہے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کےہاں  پہلے سے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم  لکھے ہوئے تھے۔حالانکہ آدم علیہ السلام  ابھی مٹی کے پتلے تھے۔حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے ایک دعا بھی کی تھی کہ انہی میں سے ایک رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پیدا فرما۔اللہ نے اپنے علم وقدرت کے مطابق اس دعا کو قبول فرمایا۔اسی لئے حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا،تو فرمایا:میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام  کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام  کی بشارت ہوں،میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات چمک اٹھے۔
1995
  • مئی
  • جون
چودھری عبدالحفیظ
آیت نمبر:۔129:۔
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾...البقرة
"اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے"
ندائے خلیل اور دعائے مسیحا:۔
اس آیت میں حضرت  ابراہیم علیہ السلام   کی دعا کا وہ آخری حصہ ہے۔جو آپ نے اہل حرم کے لئے فرمائی۔دعا یہ تھی کہ اے پروردیگار!میری اولاد سے ایک رسول ان میں بھیج دے۔ان کی یہ  دعا تقدیر کے عین مطابق ثابت ہوئی۔تقدیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبی متعین کرنے کی تھھی جنھیں نہ صرف امیین کی طرف بھیجاگیا  بلکہ سارے عجم اورساری کائنات کے جن وانس کے لئے مبعوث کیاگیا۔حدیث عریاض بن ساریہ  رحمۃ اللہ علیہ  میں ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"میں اللہ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا جب آدم علیہ السلام   بھی مٹی کے پتلے تھے۔میں تمھیں نبوت کےآغاز کی اطلاع دیتا ہوں۔میں دعا ہوں ا پنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام   کی،بشارت ہوں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   کی اور اپنی ماں کاخواب ہوں،بالکل اسی طرح جیسے دوسرے پیغمبروں کی مائیں دیکھا کرتی تھیں"(رواہ احمد)
مراد یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو لوگوں میں مشہور کیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرعام کیا تھا وہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام   ہیں۔آپ کے ذکر مبارک کی یہ دھوم دھام لوگوں میں ہمیشہ لگاتار چلتی رہی۔حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   نے اپنی قوم میں کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک نام کایہ خطبہ پڑھا:۔
﴿...إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَد... ٦﴾...الصف
"میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔"
1994
  • نومبر
صدیق حسن خان
﴿اَلَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ ... ﴿١٢١﴾...البقرة
جنہیں کتاب دی گئی ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں ابن زید ابن جریر نے اس کو اختیار کیا ہے قتادہ نے کہا :اس سے مراد صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے فر ما یا :حق تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جب جہنم کا ذکر آتا ہے تو پناہ مانگتے ہیں ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ بات مرفوعاً ثابت ہے کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  رحمت کی آیت تلاوت فر ما تے تو اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب کی آیت پڑھتے تو اللہ سے پناہ مانگتے ۔
1990
  • اکتوبر
صدیق حسن خان
جس طرح اللہ تعالیٰ کو مچھر پیدا کرنے میں کوئی عار نہیں۔اسی طرح مچھر یا مکھی یا مکڑی کی مثال بیان کرنے میں بھی اسے کوئی عار نہیں۔فرماتا ہے:۔
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿٧٣﴾...الحج
"لوگوں ایک مثال بیان کیجاتی ہے اسے غور سے سنوجن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے۔اگرچہ اس کے لئے سارے جمع کیوں نہ ہوجائیں۔اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔طالب اور مطلوب(عابد اور معبود)دونوں گئے گزرے ہیں۔"
1989
  • مئی
صدیق حسن خان
برصغیر میں نواب صدّیق حسن خان ان ممتاز علمی شخصیات میں سے ھیں جو عرب و عجم کا سرمایہ اِنتخاد ہیں دُنیا کی کوئی اھم لائبریری آپ کی تالیفات سے خالی نہیں،آپ کی تفسیری خدمات میں عربی تفسیر"فتح البیان فی مقاصد القرآن"کے علاوہ"ترجمان القراٰن"جیسی جامع اور مفصل اردو تفسیر بھی ہے۔جسے بجاطور پر قرآنی علوم کا"انسائیکلو پیڈیا"کہا جاسکتا ہے۔یہ عظیم کتاب تقریباََ ناپید ہورہی تھی۔غالباََ پاک و ہند کے معدودے چند مکتبات ھی اس سے مزین ہوں گے۔
1993
  • جنوری
چودھری عبدالحفیظ
''وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤٨ '' (سورہ البقرہ:48)ترجمہ: ''اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی کے کام نہیں آئے گا۔ کسی کی سفارش منظور نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول ہوگا۔ نہ ہی لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں گے۔''ہمارے پیغمبر ہمیں چھڑا لیں گے !مذکورہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے اس دعوے کی تردید ہے جس میں وہ کہتے تھے کہ ہم چاہے کتنے ہی گناہ