• ستمبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہے
  • جنوری
1977
عزیز زبیدی
﴿فَما أوتيتُم مِن شَىءٍ فَمَتـٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ‌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِر‌ونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِر‌ونَ ﴿٣٩﴾...سورة الشورى

"غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے (وہ تو) دنیا کی زندگی کا (صرف چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر (بھی) ہے
  • فروری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 3
ملکیتِ مال ۔۔۔ اور ۔۔۔قرآن مجید
قل العفو (29/2) پر بحث:
قرآن کریم میں اس بات کی کیا دلیل ہے کہ افراد اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اس قدر کے ہی حق دار ہیں، جو فرد کا سب کی محنت کے بقدر ہو اور اس سے زائد کمائی کے وہ مالک نہیں ہو سکتے؟ اس کے جواب میں سورۃ البقرۃ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ... ٢١٩﴾... البقرة 
"وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو بہترین چیز ہو۔"
پرویز صاحب کا استدلال یہ ہے کہ یہاں عفو کے انفاق کا حکم ہے لغتِ عرب میں چونکہ عفو المال کے معنی زائد از ضرورت ، مال کے بھی ہیں۔ اس لئے یہاں تمام زائد از ضرورت مال کے، انفاق کا حکم دیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ فاضلہ دولت کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
  • جولائی
  • اگست
1974
عزیز زبیدی
﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ وَإِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَ‌ةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٢٣ فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّت لِلكـٰفِر‌ينَ ٢٤وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ ۖ كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها مِن ثَمَرَ‌ةٍ رِ‌زقًا ۙ قالوا هـٰذَا الَّذى رُ‌زِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشـٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزو‌ٰجٌ مُطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَهُم فيها خـٰلِدونَ ٢٥﴾... سورة البقرة
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
عزیز زبیدی
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَر‌وا فَيَقولونَ ماذا أَر‌ادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثـٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ‌ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَر‌ضِ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ٢٧﴾... سورة البقرة
  • نومبر
  • دسمبر
1974
عزیز زبیدی
﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ٢٨ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمـٰو‌ٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ٢٩وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ...٣٠﴾... سورة البقرة

(لوگو!) تم خدا کا کیونکر انکار کر سکتے ہو اور (تمہارا حال یہ ہے کہ) تم بے جان تھے اور اسی نے تم میں جان ڈالی۔ پھر (وہی) تم کو مارتا ہے پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) جلائے گا (بھی) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی کل کائنات پیدا کی پھر (اس کے علاوہ ایک بڑا کام یہ کیا کہ) آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز (کی کنہ) سے واقف ہے۔ (اے پیغمبر لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو) جب
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَائَھُمْ بَاَسْمَآئِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عزیز زبیدی
﴿وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ. فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ.﴾

اور ہم نے (آدم سے) کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور اس میں جہاں کہیں سے جی چاہے
  • فروری
1990
ثنااللہ مدنی
نام ونسب:

امام ابن جریرؒ کا مکمل نام ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید ابن کثیر غالب طبری ہے۔

جائے پیدائش:
  • جنوری
1989
صدیق حسن خان
﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔انھوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے فرمایا،میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔"
  • اگست
  • ستمبر
1989
صدیق حسن خان
تذکیر قصص القرآن:

(ف) قرآن مجید میں مخلوقات کے عجائب کا علم ،ملکوت ارض وسماوات کا علم،اس چیز کا علم جو آسمان وتحت الثریٰ میں ہے۔خلق کے آغاذ کا علم،مشاہیرانبیاءؑ ورسلؑ اور ملائکہ کا نام اور گزشتہ امتوں کے احوال کا ذکر موجود ہے۔مثلا ً حضرت آدمؑ کاابلیس کے ساتھ جنت سے نکلنا،اولاد کا نام عبدالحارث رکھنا،حضرت ادریسؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا۔نوح ؑ کی قوم کا غرق ہونا۔
  • جنوری
2013
محمد رفیق چودھری
قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ اورعلماے اسلام نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہایت قیمتی اور قابل قدر کام کیا ہے۔صحیح فہم قرآن کے لیے چند مسلّمہ بنیادی اُصول ہیں جن کا علم ضروری ہے ، ذیل میں بالاختصار یہ اُصول بیان کئے جاتے ہیں:

1. قرآنِ مجید کو سمجھنے سے قبل آدمی اپنے دل و دماغ کو ان تصورات اور تعصّبات سے بالکل خالی کردے
  • اپریل
2002
عبداللہ روپڑی
قرآنِ کریم کی آیت﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ﴾ کی تفسیر ان دنوں بعض مفسرین نے اس طرز پر کی ہے جو تفسیرسلف کے مخالف ہے۔چنا نچہ ایک نامور مفسرآیت ِکریمہ ﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ...٥٧ ﴾... سورة البقرة" کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
«فی واد التيه أی أرسلنا السماء عليکم مدرارا لأن بني إسرائيل أقاموا فی واد التيه أربعين سنة فکيف يکون المراد الظل المعروف فافهم لقوله تعالی» ﴿إِنَّها مُحَرَّ‌مَةٌ عَلَيهِم ۛ أَر‌بَعينَ سَنَةً...٢٦ ﴾... سورة المائدة
  • مارچ
1990
صدیق حسن خان
﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ﴾

"ترجمہ:۔جو غیب پرایمان لاتے ہیں۔

یہ متقین کی صفت ہے کہ وہ غیب کی بات پر ایمان لاتے ہیں ایمان کہتے ہیں تصدیق کو یعنی دل سے کسی بات کو سچ اور برحق ماننا۔کسی نے کہا یہاں ایمان کے معنیٰ ڈر ہیں۔ابن جریرؒ نے کہا اولیٰ یہ ہے۔کہ وہ لوگ ایمان بالغیب کےساتھ قول،اعتقاد اور عمل سے متصف ہیں۔
  • اکتوبر
1992
صدیق حسن خان
مجھ ہی سے ڈرو:۔

"مجھ ہی سے ڈرو" یہ حکم اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کو توڑ دو گے تو وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سزاؤں سے مراد وہ تمام آفات اور مصائب ہیں جو عہد شکنی کے جرم میں ان کےآباؤاجداد پر نازل ہوئیں ان میں صورتوں کامسخ(بگاڑ) ہونا بھی شامل ہے۔"
  • جون
1989
صدیق حسن خان
«بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ.الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ.إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ. والصلوة والسلام على عبده ورسوله محمد سيد المرسلين وخاتم النبيين وعلى اله واصحابه ومن تبعهم بالاحان اجمعين اكتعين ابصعين»

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے پروردیگار اور اپنے معبود کو پہچانے اس کی صفتوں کو جانے اس کے احکام معلوم کرے۔
  • جنوری
2000
محمد لقمان سلفی
ہند کے معروف صاحب ِعلم ، صوبہ بہار کے جامعہ ابن تیمیہ کے سرپرست اعلیٰ محترم جناب ڈاکٹر محمدلقمان سلفی تیسیر الرحمن لبیان القرآن کے نام سے ایک تفسیر لکھ رہے ہیں جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔بنیادی طور پر یہ تفسیر سلفی اسلوب ومنہج کی حامل ہے جس میں قرآن کریم کوقرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ ائمہ سلف کی تشریحات کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
  • جون
2001
عبدالغفار حسن
﴿وَالعـٰدِيـٰتِ ضَبحًا ١ فَالمورِ‌يـٰتِ قَدحًا ٢ فَالمُغيرٰ‌تِ صُبحًا ٣ فَأَثَر‌نَ بِهِ نَقعًا ٤ فَوَسَطنَ بِهِ جَمعًا ٥ إِنَّ الإِنسـٰنَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنودٌ ٦ وَإِنَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ لَشَهيدٌ ٧ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌ لَشَديدٌ ٨﴾... سورة العاديات "قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے اور آگ نکالنے والوں کی ٹاپ مارتے ہوئے اور حملہ کرنے والے صبح کے وقت، پھر اُڑایا صبح کے وقت غبار اور پھر اس غبار کے ساتھ لشکر کے بیچ میں گھس گئے۔
  • ستمبر
2001
عبدالغفار حسن
سوال: ﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾...سورة الكافرون" یہاں بجائے مَنْکے جو عقلاء کے لئے بولا جاتا ہے، مَا کیوں استعما ل کیا گیا ہے جوکہ دراصل غیر عقلاء پراستعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اِطلاق اللہ تعالیٰ پر کیسے درست ہوا؟
جواب: یہاں ایسے معبود کا ذکر مقصود ہے جو صحیح معنی میں عبادت کے لائق ہو۔
  • جنوری
1992
عبدالرؤف ظفر
قرآن مجید کلام الٰہی ہے ۔مثل مشہور ہے کلام الملوک ملوک الکلام۔قرآن مجید کا ملوک الکلام ہونا اس کے ایک ایک لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔اس کی تفسیر لکھنے کے لئے بہت سے علماء نے کوششیں کی۔یہ ہمہ پہلو کتاب ہے۔اس لئے اس کی تفسیر کے لئے اپنی فہم وفراست کے مطابق صاحب علم وفضل لوگوں نے مختلف انداز سے کام کیا بعض نے نہایت مختصر اور بعض نے مفصل کتب لکھیں۔بعض نے صرف وجوہ قرآت پرگفتگو کی۔بعض نے الفاظ کے معنی پر زور قلم صرف کیا۔
  • اپریل
1992
حسن مدنی
((یہ لیکچر 18 جمادی الاخرہ 1410ہجری بروز جمعرات مسجد بنی ہاشم میں دیا گیا۔))
آغاذ:۔سب سے بہتر کلام اللہ جل شانہ کا کلام ہے۔اور سب سے بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے۔اور دین میں بدعات کا ارتکاب سب سے بُرا کام ہے۔چنانچہ آج میں جس موضوع پر آپ سے گفتگو کرنا چاہتاہوں۔اس کاتعلق بدعات کی ہی قبیل میں سے ایک بدعت کے ساتھ ہے۔جس کے ثبوت میں میری نظر ہے۔چند ایسی تالیفات گزری ہیں۔جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کہ "قرآن حکیم" کی "تبیین" میں "سنت" کو کوئی اہمیت حاصل نہیں۔لہذا میں اللہ کے اس فرمان"(عربی)" کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی علمی بساط کےمطابق اس اہم مسئلہ پر روشنی ڈالوں گا۔
  • اکتوبر
1995
عبدالغفار حسن
راقم الحروف ، طالب علمی کے زمانہ سے امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی تصانیف کے مطالعہ کا شیدائی رہا ہے، خاص طور پر حافظ ابن قیم کے تفسیری نکات نے بہت زیادہ متاثر کیا۔

آج سے پچاس سال قبل جب کہ میں مالیر کوٹلہ میں مدرسہ کوثر العلم میں مدرس تھا، یہ کوشش کرتا رہا کہ حافظ ابن قیم کی تمام تصانیف جمع کی جائیں
  • ستمبر
1998
تخصیص عام اور تقید مطلق کو عموما '' زیادہ علی الکتاب '' بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ بقول حافظ ابن حجر عسقلانی وحافظ ابن قیم ﷫ وغیرہ.......متقدمین کی اکثریت تحصیص پر نسخ کا شبہ ہوا ہے لیکن ''تخصیص'' اور ''نسخ'' دو مختلف نوعیت کی چیزیں ہیں۔

سنت متواترہ سے عموم قرآن کی تخصیص جائز ہونے کے بارے میں جمہور علماء کے مابین کوئی اختلاف رائے پایا جاتا ہے چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ فرماتےہیں:
  • جولائی
  • اگست
1975
عزیز زبیدی
﴿واذ قلنا للملٰکۃ اسجدوا لادم فسجدوآ الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین﴾

''اور جب ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کے آگے جھکو تو شیطان کے سوا (سب کے سب)جھکے پڑے اس نے نہ مانا اور شیخی میں آگیا اور (وہ دراصل) نافرمانوں میں سے تھا۔''
  • جولائی
1976
عزیز زبیدی
ان کے تاریخی حقائق کی تفصیل بڑی طویل ہے ، جس کا یہ مقام متحمل نہیں ہے بہرحال وہ جتنی بھی ہے انہی حقائق کی ذیلی سرخیاں ہیں جوقرآن حکیم نے بیان فرمائی ہیں جن کاخاکہ اوپر کی سطور میں ہم نے سامنےرکھا ہے۔کتاب اللہ کی طرح ''سنت رسول اللہﷺ'' نے بھی بعض مقامات پر ان کاذکر کیا ہے ،گو ان سب کا استقصا یہاں مشکل ہے، تاہم وہ چند امور جو ضروری ہے، حاضر ہیں: