• جنوری
2008
محمد اسلم صدیق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناخواندہ اور اَن پڑھ قوم میں مبعوث ہوئے جو من حیث القوم حساب وکتاب کی صلاحیت سے بے بہرہ اور رسم الخط و فن تحریر سے ناآشنا تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے پورے جزیرۂ عرب میں تھوڑی سی تعداد؛ قبیلہ قریش کے دس بارہ افراد اور اہل مدینہ کے آس پاس بسنے والے یہودیوں کی ایک محدود تعداد خط و کتابت سے واقف تھی۔
  • فروری
2008
محمد اسلم صدیق
جمع وتدوینِ قرآن کے اَدوار گذشتہ تصریحات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم کو تین مرتبہ جمع کیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لیکن ان تینوں اَدوار میں جمع قرآن کی نوعیت میں واضح فرق ہے۔ ذیل میں ہم فرق کی اس نوعیت کو واضح کریں گے
  • اپریل
2008
محمد اسلم صدیق
زیر نظر مضمون کے مرتب علومِ قرآن کے حوالے سے عالم عرب کی ایک معتبر شخصیت ہیں جن کی اس موضوع پر متعدد کتب ومقالات کے علاوہ، شاگر دوں کی بڑی تعداد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت کے کنگ فہد قرآن کمپلیکس میں قرآنِ کریم کی عالمی پیمانے پر نشر واشاعت اور اصلاح کے لئے قائم کردہ کمیٹی نے ان کی کتب سے بھرپور استفادہ کیا ہے جو آپ علمیت کا مدینہ نبویہ میں حکومتی سطح پر ایک اعتراف ہے۔
  • مارچ
2008
محمد اسلم صدیق
گذشتہ صفحات میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی_
  • جنوری
1993
عبداللہ صالح
زیر نظر مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے مصحف عثمانی بالخصوص ''سبعہ قرآءات'' پر بیش قیمت بحث کی ہے۔ سبعہ قرآءات کا موضوع مدت مدید سے علماء کی بے اعتنائی کا شکار ہے۔ لہٰذا ایسے وقت میں اس موضوع کو نئے سرے سے شروع کرنا جہاں مشکل ہے وہاں مقالہ نگار کی کاوش لائق تحسین بھی ہے۔ گوکہ اس مضمون کے بعض مندرجات سے ادارہ اختلاف کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم ایک علمی تحقیق ہونے کے ناطے اسے شائع کیا جارہا ہے تاکہ علماء میں اس موضوع پر قلم اٹھانے اور اس
  • جنوری
1982
عبدالرشید عراقی
اس دور میں جو سورتیں نازل ہوئین ان کی تفصیل آپ پڑح چکے ہیں۔ ان میں سے بعض اہم سورتوں کے احکامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
احکام سورۃ النور:
سورہ نور میں صریح اور غیر مبہم الفاظ میں جو احکامات ہیں، یہ ہیں:
1۔ حدِ زنا سو کوڑے مارنا 2۔ زانی اور زانیہ مشرک اور مشرکہ کے نکاح کا حکم 3۔ قذف اور حدِ قذف 4۔ لعان کا حکم 5۔ بلا تحقیق بات کہنے کا حکم 6۔ محصنہ عورتوں کو تہمت لگانا 8۔ احکاماتِ پردہ 9۔ احکاماتِ شرم و حیا 10۔ محرموں کا تذکرہ 11۔ زنا اور اجرتِ زنا 12۔ غلام اور باندیوں کا نکاح 13۔ مکاتب بنانے کا حکم 14۔ مساجد اللہ کا اکرام 15۔ اوقاتِ تنہائی کے احکامات 16۔ اقارب اور ان کے ساتھ معاشرت 17۔ سلام کا طریقہ 18۔ آدابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
احکام سورہ مائدۃ:
اس سورۃ میں اسلامی شریعت کے بیشتر احکامات موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
1۔ تمام قسم کے عقود اور معاملات پورا کرنا۔
2۔ حالتِ احرام اور حرم کے شکار کی حرمت۔
3۔ شعائراللہ کی حرمت
4۔ ہدی کے جانور اور حاجیوں کا اکرام
  • اکتوبر
1996
غازی عزیر
"نسخ" کی لغوی تعریف
لغت میں "نسخ" کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہیں "ازاله" یعنی زائل کر دینا، اسی سے یہ محاورہ مستعمل ہے: "نسخت الشمس الظل" یعنی سورج نے سایہ کو زائل کر دیا۔ دوسرے معنی میں نقل کرنا یا تحویل، جیسا کہ محاورہ ہے: "نسخت الكتاب" یعنی میں نے کتاب نقل کر لی گویا ناسخ یعنی نقل کرنے والے نے منسوخ کو یعنی جس سے اس نے نقل کی، ختم کر کے رکھ دیا یا اسے کوئی اور شکل دے دی۔ اسی طرح بولا جاتا ہے: "مناسخات في المواريث" یعنی وارث سے دوسرے کو مال منتقل کرنا اور "نسخت ما في الخلية من العسل والنحل الى أخرى"(1)
"نسخ" کی اصطلاحی تعریف
نسخ کی اصطلاحی تعریف کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ زین الدین عراقی و سخاوی رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
"اصطلاحا هو رفع الشارع الحكم السابق من احكامه بحكم من احكامه "(2)
"اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ شارع علیہ السلام نے پہلے کوئی حکم دیا، پھر بعد میں دوسرا حکم دے کر اس پہلے حکم کو ختم یا زائل کر دیا"
پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"والمراد بارتفاع الحكم قطع تعلقه بالمكلفين والا فالحكم قديم لا يرتفع "(3)
یعنی "حکم کے رفع ہونے سے مراد مکلفین کا اس حکم سے تعلق کٹ جانا ہے ورنہ قدیم حکم رفع نہیں ہو گا"
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "نسخ هو بيان انتهاء الحكم"(4) یعنی "انتہاء حکم کے بیان کو نسخ کہتے ہیں" آں رحمہ اللہ نے ایک اور مقام پر نسخ کو "رفع الحکم"(5) سے تعبیر کیا ہے۔
آمدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"النسخ عبارة عن خطاب الشارع المانع من استمرار ما ثبت من حكم خطاب شرعى سبق" (الاحکام للآمدی ج3 ص 155)
یعنی "نسخ شارع کا وہ خطاب ہے جس کے ذریعہ سابقہ خطاب شرعی سے ثابت حکم کا استمرار ختم کر دیا جاتا ہے"
علامہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"یہ کہنا کہ ایک حکم نے دوسرے حکم کو منسوخ کر دیا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہو گی کہ ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہوا"(6)