• جولائی
  • اگست
2015
محمد نعمان فاروقی
قرآن مجىد كى سورتوں کے ناموں كو اکثر لوگ جانتے ہیں مگر کچھ ایسی آیات بھی ہیں جن کے مفسرین نے نام رکھے ہیں اور وہ تفسیر کرتے ہوئے ان کے باقاعدہ نام لیتے ہیں۔ اور آىات كے نام ركھے بھى جاسكتے ہىں جىسا كہ بعض آیات کے نام نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے بھی ثابت ہیں۔عربى تفاسىر كے مطالعے كے دوران مىں ان آىات كا نام لىا جاتا ہے مگر ان كا علم نہ ہونے كى وجہ سے فہم مىں خلا رہ جاتا ہے۔ اسی ضرورت کے تحت وہ آیات پیش کی جاتی ہیں جن کے نام مفسرین کے ہاں متداول ہیں اور ساتھ ہی ان آیات کے سببِ نزول ،مختصر احکام اور نکات درج کیے جاتے ہیں۔ ان آیات کی ترتیب وہی رکھی گئی ہے جو قرآنِ مجید کی ہے۔
  • مارچ
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
  • مارچ
1973
عزیز زبیدی
منظر اور پسِ منظر:

دنیا ہرجائی تھی، بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سبھی کے ہیں مگر ٹٹولو تو کسی کے بھی نہ تھے۔ خدا رکھتے تھے پر ان کا خدا ان کے نرغے میں تھا، گو وہ انسان تھے مگر انسانیت کے بہت بڑے دشمن تھے، اس لئے مکی دَور میں ان کو خدا فہمی، خدا جوئی، پاسِ وفا اور انسانیت کا درس دیا گیا
  • مئی
1973
عزیز زبیدی
(۱) بِالْغَیْبِ (غیب کے ساتھ، غیب پر، پسِ پشت) اس کے دو معنے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا اور رسول کی بات صرف اس لئے برحق تسلیم کرنا اور ماننا کہ چونکہ اس نے فرمایا ہے۔ وہ بات ہمارے ادراک کے بس کا روگ ہو یا ہ ہو۔ دوسرے یہ کہ سامنے ہوں یا غائب اور آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں تو ہر حال میں ان کے ایمان و اسلام میں فرق نہیں آتا۔
  • دسمبر
1973
عزیز زبیدی
گو ان سب کا حاصل ایک جیسا ہے، تاہم ان میں ایک گونہ تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً اس کا بھی ذکر ہو جائے تو قلب و نگاہ' پر مہر اور پردے والی بات بھی مزید واضح ہو جائے زیادہ یہ تفصیل حضرت امام ابن القیمؒ (ف۷۵۱ھ) کی کتاب 'شفاء العلیل فی مسائل القضاء والقدر و الحکمۃ والتعلیل' (ص ۹۲ تا ص ۱۰۷) سے ماخوذ ہے اور کچھ 'مفرداتِ راغب' سے۔
  • جنوری
  • فروری
1979
ثناء اللہ خان
چونکہ مسئلہ ہذا فتویٰ، تعلیق، تعاقب، تبصرہ او رجواب تبصرہ کی صورت میں کئی رسالوں میں پھیل گیا ہے۔ لہٰذا ہم محدث میں پوری بحث جمع کررہے ہیں، تاکہ قارئین ایک ہی جگہ سے مکمل استفادہ کرسکیں۔ (مدیر)

محترمی و مکرمی....... استادی المکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

بعد از آداب و تسلیم یہاں سب خیریت ہے اور خداوند کریم سے دُعاگو ہوں کہ آپکا سایہ شفقت ناچیز پر ہمیشہ کیلئے باخیریت طور پر رکھے۔ آمین
  • اکتوبر
1994
صدیق حسن خان
﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّـهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿١١٨﴾...البقرة
"اور جولوگ کچھ نہیں جانتے(مشرکین) وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔اس طرح ان سے پہلے لوگ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ان لوگوں کے  دل آپس میں ملتے جلتے ہیں،جولوگ صاحب یقین ہیں ان کے لئے ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں۔"
تشریح:۔
یہاں پہلے لوگوں سے مراد یہودی ہیں،وہ لوگ بھی اپنے نبی  علیہ السلام  سے یہی کہتے تھے جو مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  فرمایا:رافع بن حرملہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ اللہ کے رسول ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ سے کہیں کہ وہ ہم سے باتیں کرے،ہم اس کی گفتگو کو سُنیں اس پر آیت نازل ہوئی۔
  • مئی
1971
مولا کریم بخش
بطور نمونہ چند آیات

آپ بعض وہ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جن کی تفسیر و تشریح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کرام اور تابعین علیہم الرحمۃ والرضوان کی تفسیر کے بغیر ہرگز ہرگز ممکن ہی نہیں۔ ورنہ سوائے عقلی ڈھکوسلوں کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ جس کا نتیجہ دنیا و آخرت میں رسوائی ہے۔ اب  بتلائیے کہ ذیل کی آیات کی تفسیر کیا کی جائے؟
  • جولائی
  • جولائی
1973
ادارہ
اس بے کراں وسعت کے باوجود دنیا کے اندر سخت گھٹن سی محسوس ہوتی ہے، زمین نے اپنے سارے دفینے اگل ڈالے ہیں مگر بھوک اور افلاس کا رونا جاری ہے۔ فضاؤں نے ابنِ آدمؑ کی تگ و تاز کے لئے اپنی گودیاں پھیلا دی ہیں مگر پاؤں میں چلنے کی سکت نہیں رہی۔ گلستانِ حیات میں رحمتوں کی بادِ نسیم چل رہی ہے۔ لیکن افسوس! سانس لینا مشکل ہو رہا ہے، بہاروں کی دلآویزی اپنے جوبن پر ہے مگر نگاہوں کی ویرانی نہیں جاتی۔
  • ستمبر
1973
عزیز زبیدی
بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ١ الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ٢ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ٣ مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ ٤ إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥ اهدِنَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ﴿٦﴾ صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧﴾... سورة فاتحة

الٰہی! ہم صرف تیری ہی غلامی کریں گے اور (اس کے لئے) تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ہم کو سیدھا رستہ دکھا۔ ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے (اپنا فضل) کیا۔
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِاليَومِ الءاخِرِ‌ وَما هُم بِمُؤمِنينَ ٨ يُخـٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ٩ فى قُلوبِهِم مَرَ‌ضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَ‌ضًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكذِبونَ ١٠ وَإِذا قيلَ لَهُم لا تُفسِدوا فِى الأَر‌ضِ قالوا إِنَّما نَحنُ مُصلِحونَ ١١ أَلا إِنَّهُم هُمُ المُفسِدونَ وَلـٰكِن لا يَشعُر‌ونَ ١٢ وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا كَما ءامَنَ النّاسُ قالوا أَنُؤمِنُ كَما ءامَنَ السُّفَهاءُ ۗ أَلا إِنَّهُم هُمُ السُّفَهاءُ وَلـٰكِن لا يَعلَمونَ ١٣ وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا إِلىٰ شَيـٰطينِهِم قالوا إِنّا مَعَكُم إِنَّما نَحنُ مُستَهزِءونَ ١٤ اللَّهُ يَستَهزِئُ بِهِم وَيَمُدُّهُم فى طُغيـٰنِهِم يَعمَهونَ ١٥ أُولـٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَ‌وُا الضَّلـٰلَةَ بِالهُدىٰ فَما رَ‌بِحَت تِجـٰرَ‌تُهُم وَما كانوا مُهتَدينَ ١٦﴾... سورة البقرة
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
عزیز زبیدی
سلسلہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں: جلد ۳ عدد ۴ شمارہ صفر المظفر ۹۳ھ

﴿وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ...٤﴾... سورة البقرة

اور (اے پیغمبر!) جو (کتاب) تم پر اتری اور جو (کتابیں) تم سے پہلے اتریں، ان (سب) پر ایمان لاتے ہیں۔
  • جولائی
  • اگست
1973
عزیز زبیدی
بِسْمِ اللہِ: (شروع) اللہ کے نام سے

سورۃ الفاتحہ (سورۂ فاتحہ) اس سورت کے اور بھی کئی ایک نام ہیں، زیادہ مشہور فاتحہ ہے۔ سورتوں کے جتنے نام ہیں، سب توقیفی ، یعنی الہامی ہیں۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تجویز کردہ ہیں۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس لئے اس کو ''مکی'' کہتے ہیں۔
  • اگست
1999
مفتی محمد عبدہ الفلاح
قرآنِ پاک نوع انسانی کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دائمی معجزہ، اس نے اپنے نزول کے ساتھ تاریخ عالم کا دھارا بدل دیا اور پھر اپنی جامعیت اور گہرائی کے اعتبار سے ہر دور میں انسانی عقل و فکر کے لئے رہنما ہے۔ اس کی زبان معجزانہ ہے اور اندازِ بیان اچھوتا، اس کی تفسیر و تاویل، اِعجاز و اِعراب، تاریخ و جغرافیہ، اُسلوبِ بیان وغیرہ پر جس قدر لکھا جا چکا ہے وہ بھی معجزہ سے کم نہیں۔ ہر دور میں مفسرین نے اپنے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی ہے جس سے تفسیر اور علومِ قرآنی کا دائرہ وسیر تع ہو گیا ہے۔ دوسری صدی کے علماء کی تفاسیر پر نظر ڈالیں تو وہ صرف صحابہ و تابعین کے اقوال پر مشتمل نظر آئیں گی مگر اس کے بعد ہر دور میں علوم تفسیر میں اضافہ ہی نظر آتا ہے حتیٰ کہ فی زمانہ یہ علوم اس قدر پھیل چکے ہیں کہ کسی ایک علم پر احاطہ بھی مشکل ہے اور علومِ تفسیر نے اس قدر ارتقائی شکل اختیار کر لی ہے کہ ان کا تاریخی جائزہ بھی بجائے خود ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ ان علوم کے ارتقاء اور ان کی تفصیل سے قطع نظر یہاں پر ہم صرف ان وسائل و عناصر کو موضوعِ سخن بناتے ہیں جو قرآن فہمی میں ممدومعاون ہو سکتے ہیں اور جن کے ملحوظ رکھنے سے قرآن فہمی مشکل ہے اور پھر ان عناصر کی تربیتی حیثیت سے صرفِ نظر کرنا بہت سے گمراہیوں اور لغزشوں کا موقجب بن سکتی ہے
  • جولائی
2005
محمد دین قاسمی
جناب غلام احمد پرويز بلا شبہ ذہين آدمى تهے- ذہانت و فطانت كے ساتھ عمده قلمى صلاحيتوں كے بهى حامل تهے- جديد افكار و نظريات سے متاثر ہى نہيں بلكہ انتہائى مرعوب بهى تهے- اسى فكرى اسيرى اور ذ ہنى غلامى كے باعث وہ قرآن مجید سے نت نئى چيزيں كشيد كيا كرتے تهے، جو ان كے پيروكاروں كے نزديك 'علمى جواہر پارے' اور ان كے مخالفين كى نظر ميں 'تحريفات و تلبيسات'تهيں-
  • اگست
2005
محمد دین قاسمی
'طلوعِ اسلام' مئى 2005ء كے شمارہ ميں خواجہ ازہر عباس صاحب __ "قرآن فہمى وحديث نبوى " موٴقر ماہنامہ محدث سے چند گزارشات كے زيرعنوان فرماتے ہيں :
"قرآن فہمى كے اُصولوں اور قواعد كے سلسلہ ميں محترم پرويز صاحب اور محترم جاويد غامدى صاحب كے حوالے سے مضمون ميں جو كچھ كہا گيا ہے،
  • مارچ
2005
زاہد الراشدی
فہم قرآن كريم كے تقاضوں كے حوالے سے ان دنوں دو علمى حلقوں ميں ايك دلچسپ بحث جارى ہے- ايك طرف غلام احمد پرويز صاحب كا ماہنامہ 'طلوعِ اسلام' ہے اور دوسرى طرف جاويداحمد غامدى صاحب كے شاگردِ رشيد خورشيد احمدنديم صاحب ہيں- 'طلوعِ اسلام' كے ماہ رواں كے شمارے ميں خورشيدنديم كا ايك مضمون، جس ميں انہوں نے پرويز صاحب كى فكر پر تنقيد كى ہے، شائع ہوا ہے اور اس كے جواب ميں ادارہ طلوع اسلام كى طرف سے ايك تفصيلى مضمون بهى اسى شمارے ميں شامل اشاعت ہے-
  • اگست
2000
عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اور دنیا میں شاید عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جو ترجمہ کے بغیر  پڑھائی جاتی ہے۔ بچہ جب پہلی جماعت سے انگریزی پڑھنا شروع  کرتا ہے  تو استاد اسے بتلاتا ہے:Aسے"APPLE"،"Apple"بمعنی سیب،اسی طرح فارسی پڑھنے والے بچے کو،آب، اور است ہی نہیں پڑھایا جاتا بلکہ یہ بھی بتلایا جاتاہے کہ آب بمعنی پانی اور است کے معنی ہے۔لیکن جو بچے عربی پڑھتے ہیں ،انہیں صرف الفاظ ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ الفاظ کے معنی کاخیال کسی کو بھولے سے بھی نہیں آتا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ناظرہ پڑھنا ہی باعث برکت ہے۔دلیل کے طور پر رسول ا للہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد پیش کیاجاتاہے:
"قرآن کریم کے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا دس گنا اجرملے گا۔میں نہی کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل الگ حرف ہے اور م الگ حرف!"(ترمذی)
  • جولائی
1982
ادارہ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب بھی طرز حکومت کاسوال زیر بحث آتا ہے توبراہ راست کتاب وسنت میں غور کرنے کی بجائے عموما دنیا میں جونظام رائج ہیں ان میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانےکی کوشش کی جاتی ہے۔اس دور کے دو مشہور نطام جمہوریت اورآمریت ہیں۔چناں چہ جہاں اکثر مسلمانوں کی کوششین جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے میں صرف ہوتی وہاں بعض من چلے امریت کو اسلام کی مطابق قرار دے ڈالتےہیں.
  • نومبر
1998
غازی عزیر
قرآن کی روشنی میں باعتبارِ مضمون،احادیث کی قسمیں
امام شافعی نے احادیث وسنن کی باعتبار مضمون قرآن صرف تین قسمیں بیان کی ہیں:
1۔"وہ جو بعینہ قرآن کریم میں مذکور ہیں
2۔وہ جو قرآن کے مجمل احکام کی تشریح کرتی ہیں
3۔وہ جن کا ذکر بظاہر قرآن میں نہ تفصیلا موجود ہے اور نہ اجمالا"(38)
آخر الذکر اس تیسری قسم کے متعلق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے علماءکرام کے چار اقوال نقل کیے ہیں  کا تذکرہ ان شاءاللہ آگے ہوگا۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سنے کی تین قسمیں ہی بیان کی ہیں،جو حسب ذیل ہیں:
"1۔وہ سنتِ متواترہ جو ظاہر قرآن کے خلاف نہ ہو بلکہ اس کی مفسر ہو مثلا نمازوں کی تعداد،یا زکوٰۃ کا نصاب یا حج کے ارکان وغیرہ۔اس طرح کے دوسرے احکام سنت ہی سے معلوم ہو سکتے ہیں اور علماءِ اسلام کا ان کے بارے میں اجماع ہے،یہ قرآن کا تتمہ اور تکملہ ہیں۔پس جو ان کی حجیت کا انکار کرتا ہے،وہ علم دین کا انکار کرتا ہے،رکن اسلام کو منہدم کرتا ہے اور اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکتا ہے۔
2۔ایسی سنت متواترہ جو قرآن کی تفسیر نہیں کرتی،نہ ظاہر قرآن کے خلاف ہو،لیکن ایسے حکم کو بتاتی ہے جو قرآن میں صراحتَہ مذکور نہیں ہے،جیسے زانی کے لیے(جبکہ شادی شدہ ہو)سنگسار کی سزا یا نصابِ سرقہ کی تعیین۔تمام سلف امت اس قسم کی سنت پر بھی عمل ضروری سمجتے ہیں،سوائے خوارج کے
  • جنوری
1999
غازی عزیر
ذیل میں ہم اس قسم کی بعض احادیث اور ان کے مخالف قرآن ہونے کی حقیقت پر تبصرہ پیش کرتے ہیںؒ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کی حقیقت
قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
" وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ﴿٤١﴾"(130)
یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی راست باز نبی تھے" لیکن ایک صحیح حدیث میں مروی ہے " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ" (131) یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مواقع پر جھوٹ سے کام لیا تھا" بظاہر یہ حدیث قرآن سے متصادم نظر آتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیر مطالعہ حدیث قرآن سے کس طرح متعارض نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں جو تین کذب مذکور ہیں ان میں سے دو وقائع کا تذکرہ تو خود قرآن میں موجود ہے
  • جون
2008
محمد سرور
محترم جناب حافظ حسن مدنی صاحب مدیر ماہنامہ 'محدث' لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! براہِ مہربانی میرا یہ مراسلہ اپنے موقر جریدے میں شائع فرما کر شکرگزار فرمائیں: جیسا کہ تاج کمپنی لمیٹڈ، دارالسلام اور شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس وغیرہ کے نسخوں کے مطابق سورت وار تعداد آیات کے مندرجہ ذیل چارٹ سے واضح ہے، قرآنِ کریم کی کل آیات کی صحیح تعداد6236ہے۔
  • فروری
1973
عزیز زبیدی
شمارہ ہذا سے ہمارے محترم دوست مولانا عزیز زبیدی مسلسل تفسیر قرآن کا آغاز فرما رہے ہیں۔ تفسیر اور مفسر کے بارے میں تو ہم کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ تفسیر و تعبیر قارئین کے سامنے ہے اور مفسر جانے پہچانے لیکن اس بابرکت افادہ کو قائم رکھنے کے لئے احباب سے درخواست ہے کہ مولانا موصوف کے حق میں متنوع پریشانیوں اور الجھنوں سے نجات کے لئے دعائے خاص فرمائیں
  • مئی
1999
صلاح الدین یوسف
سوال:قرآن کریم کی آیت ہے:

﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ (سورہ مریم:71۔72)

"تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والاہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے (71) پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے"

صاحب"تدبر قرآن" نے اس کی تفسیر میں کہاہے کہ مِّنكُمْ میں خطاب صرف کافروں سے ہے۔اس کامخاطب تمام انسانوں کو قراردینا،چاہے وہ مومن ہو یاکافر؟مفسرین کی غلطی ہے اور یہ قرآن کریم کی دوسری آیات کے بھی خلاف ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اہل ایمان جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔