• دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔
  • جنوری
1982
عبدالحمید بن عبدالرحمن
چند دن قبل مولانا عبدالمجید صاحب بھٹی (ضلع گوجرانوالہ) کی طرف سے ادارہ کو ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں ایک استفتاء اور اس کے دو مختلف جوابات تھے، ساتھ ہی مولانا کا ایک وضاحتی خط بھی تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا:
"میں نے یہ استفتاء مفتی عبدالواحد صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ کو بھیجا تھا، جس کا جواب انہوں نے لکھ کر بھیج دیا لیکن راقمکی ان جوابات سے تشفی نہیں ہوئی چنانچہ یہی استفتاء میں نے جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا عبدالحمید صاحب کو ارسال کیا اور انہوں نے جو جوابات لکھ کر بھیجے، گو میں ان سے مطمئن تھا لیکن چونکہ دونوں جوابات ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف تھے اس لیے اس الجھن میں پڑ گیا کہ ان دونوں میں سے کون سا جواب صحیح ہے اور کون سا غلط ۔۔۔ جو صحیح ہے، اس کی صحت کی دلیل کیا ہے اور غلط کس بناء پر غلط ہے؟ ۔۔۔ ناچار یہ استفتاء مع ہر دو جواب کے آپ کی خدمت میں روانہ کر رہا ہوں، آپ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں نہ صرف صحیح نتیجے پر پہنچ سکوں بلکہ مجھے اطمینانِ قلب بھی حاصل ہو، جو ظاہر ہے کتاب و سنت ہی کی بناء پر ممکن ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ... ٥٩﴾...النساء
والسلام
  • جولائی
1995
غازی عزیر
تسویۃ الصفوف کا معنی:۔
"تسویۃ الصفوف"کا معنی امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  یو ں فرما تے ہیں ۔
"تسویۃالصفوف،یعنی صفوں کو برا بر اور سیدھی کرنے سے مراد "اتمام الاول فالاول " صفوں میں جو خلا یا شگا ف ہوں،انہیں بند کرنا اور نماز کے لیے صف میں کھڑے ہو نے والوں کی اس طرح محاذات (برا بری)ہے کہ کسی فرد کا سینہ یا کو ئی دوسرا عضو اس کے پہلو میں کھڑے دوسرے نمازی سے آگے نہ بڑھنے پا ئے۔اسی طرح جب تک پہلی صف پوری نہ ہو ،دوسری صف بنانا غیر مشروع ہے اور جب تک اگلی صف مکمل نہ ہو جائے کسی نمازی کا پچھلی صف میں کھڑے ہو نا بھی درست نہیں ہے۔(5)حافظ بن حجر  عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں ۔
  • فروری
1988
اکرام اللہ ساجد
وہ ہینڈ بل کراچی میں تیار ہوا، لیکن لاہور میں تقسیم ہوا او رہاتھوں ہاتھ ادارہ محدث تک بھی  پہنچا۔ یوں اغلب گمان یہی ہے کہ ملک عزیز کے تقریباً تمام بڑے بڑے شہروں میں ضرور بانٹاگیا ہوگا۔ جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہےکہ اس کے آخر میں’’شرعی ذمہ داری‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے:
ملّت جعفریہ کے تمام شیعان علیؑ کےمومنین و مومنات (جذبہ امامیہ سےسرشار) پرفرض ہے کہ وہ اس دعوت مبین کی تشہیر و تبلیغ بذریعہ فوٹو کاپی ؍طباعت (چھپوا کر) یا خود پڑھ کر کریں اور ثواب حصل کریں!‘‘
چنانچہ ادارہ محدث کو ایک نہیں، بلکہ ایک ہی مضمون کی دو مختلف قسم کی فوٹو کاپیاں ملیں جن میں سے ایک کا عکس شمارہ زیر نظر کے صفحہ 10۔11 پر دیکھا جاسکتاہے۔
 ہم حیران ہیں کہ وہ کون سی شریعت ہے، جس کے حوالے سے  اور وہ کون سا ایمان ہے، جس کی رُو سے
  • فروری
1989
علیم الدین شمسی
"سیلاب آ رہا ہے، اپنے سرمایہ کی حفاظت کرو۔"
جلیل نے نذیر کی معرفت راشد کو یہ پیغام بھیجا اور نذیر کو اپنے اس پیغام کا منشاد مراد بتا دیا کہ "سیلاب" سے اس کی کیا مراد ہے؟ بداخلاقیوں اور برائیوں کی کثرت پر متنبہ کرنا مقصود ہے یا پانی والے سیلاب کی خبر دینا مدِنظر ہے۔ اس طرح "سرمایہ" اور اس کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ سیرت و کردار کی خوبیاں اور حسنِ اخلاق مراد ہے یا روپیہ اور خانگی سازو سامان مراد ہے؟ راشد تک یہ پیغام پہنچتا ہے، اس کا مفاد و مدعا جلیل ہی بتا سکتا ہے، مگر بعض اسباب ایسے ہیں کہ جلیل راشد کو براہِ راست اپنے پیغام کا مفہوم و مراد نہیں بتا سکتا۔ لہذا اب اس کی واحد شکل یہ ہے کہ نذیر بتائے کہ جلیل کی اس سے کیا مراد ہے؟ اور نذیر ہی کو اس کا حق بھی پہنچتا ہے۔
اب فرض کیجئے کہ نذیر یہ کہتا ہے کہ اس پیغام کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی کا ریلا تیزی سے بڑھتا آ رہا ہے اس لئے راشد کو چاہئے کہ وہ اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا سامان کرے، ورنہ ساری چیزیں پانی کے سیلِ رواں میں بہہ جائیں گی۔
  • ستمبر
1982
عزیز زبیدی
ايك گائے میں سات عقیقے

برج جیوسے خاں (ساہیوال ) سےایک صاحب پوچھتےہیں کہ : 
جسے کہ قربانی کی گائے میں سات آدمی قربانی کرسکتےہیں یعنی سات گھروں کی طرف سے قربانی ہوتی ہے، کیاایسے ہی ایک گائے میں سات عقیقے بھی ہوسکتےہیں ؟
الجواب :
عقیقہ کوخلیل اللہ والی قربانی پرقیاس کرنامناسب نہیں ہے،دونوں کاپس منظر، دونوں کی زمین اور دونوں کاخصوصی ماحول اورفضا ایک دوسرے سےکافی مختلف ہیں ----- اس لیے قربانی کاطرح عقیقہ کےلیے ،مثلا گائے میں سات حصےکی تجویز درست نہیں ہے۔ 
اونٹ اورگائے میں جودس یاسات حصے ہیں وہ سرکےمقابلے میں نہیں ہیں ۔بلکہ ایک کنبہ اورگھر کےمقابلے میں کافی ہوتےہیں ۔ خواہ اس گھر میں پندرہ افراد ہوں ۔اگرعقیقہ میں اس طرح کےدس یاسات حصوں کی تخلیق کریں گےتووہ مولوی صاحب بھی جواب دئےجائیں گےجوان حصوں کےقائل ہیں ۔
  • ستمبر
1985
ثنااللہ مدنی
1۔مسئلہ وراثت اور اس کا حل
2۔شرعی طور پرحق مہر کی کوئی  مقدار متعین ہے یا نہیں؟
1۔سوال۔ایک عورت کا انتقال ہوجاتا ہے جو اپنے پیچھے حسب ذیل ورثاء چھوڑ جاتی ہے۔ان میں جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟باپ۔ماں ۔بیٹا۔بیٹی۔خاوند جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
الجواب بعون الوھاب
صورت مرقومہ میں والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے:یعنی"میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے ترکہ میں سے  چھٹا حصہ ہے بشرط یہ کہ میت کی اولاد ہو۔"
نیز بیٹے اور بیٹی کے درمیان جائداد(عربی)کے اصول کے تحت تقسیم ہوگی۔یعنی لڑکے کو لڑکی کی نسبت دوگنا حصہ ملے گا۔
اور صورت مسئولہ میں خاوند کے لئے چوتھا حصہ ہے۔کیونکہ میت  کی اولاد موجود ہے۔قرآن مجید میں ہے:یعنی اگر عورتوں کی اولاد موجود ہے تو خاوندوں کے لئے ان کے ترکہ میں سے چوتھا حصہ ہے۔تقسیم ہذا وصیت کے نفاذ یاقرض کی  ادائیگی کے بعد ہوگی۔باپ۔2۔2۔ماں۔6۔2۔بیٹا ۔5۔10۔بیٹی۔5۔5۔خاوند 9۔3۔(حافظ ثناء اللہ مدنی)
  • نومبر
2000
منیر قمر
بریلوی مکتب  فکرکی مساجد میں عموماً 3/اوقات ایسے ہیں جن میں پڑھے جانے والے درود کو سپیکری درود کہا جاسکتا ہے:
1۔نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہوکر،اجتماعی شکل میں اور باآواز بلند،راگ لگا کر درود شریف پڑھا جاتا ہے ۔
2۔فرض نمازوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی مل کر اجتماعی طور پر،راگ لگا کر درود پڑھتے ہیں۔
3۔اسی طرح مؤذن جب اذان دینے لگتا ہے تو وہ بھی اپنا گلا درود شریف کے راگ سے ہی صاف کرتے ہیں۔
ان سب کےلیے باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر استعمال کیے جاتے ہیں اور جب تک لاؤڈ سپیکر  رائج نہیں ہوئے تھے۔درودشریف کے ان اوقات ومواقع کا بھی کہیں ذکر نہیں تھا۔اسی لیے ان مواقع پرپڑھے جانے والے درودشریف کو سپیکری درود کہاجاتاہے اور ان کاسنت نبوی سے کہیں  پتہ نہیں چلتا۔
  • مئی
1990
ادارہ
ڈیڑھ دو سال سے پاکستان جس رخ جارہاہے۔ اس میں یہ بات حیرت ناک ہے کہ ملک میں سرکاری سطح پر نفاذ شریعت کی پیش رفت ہورہی ہے۔مثلاً ان دنوں نفاذ شریعت بل1990ء(جسے 13مئی کو سینٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے) کے علاوہ ملک کے مالیاتی قوانین کے وفاقی شرعی عدالت کے دارہ اختیار کے تحت آنے کا مسئلہ اور تعزیرات پاکستان کی 299 سے 338 تک چالیس دفعات کے غیر اسلامی قرار  پانے کا مسئلہ حکومت کے لئے سنجیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں۔حکومت کا ظاہری رویہ تو ا ُن کے بارے میں مثبت نہیں۔تاہم کیا مشکل ہے کہ اگر جمعے کے چھٹی اور شراب کی بندش کے قوانین کے علاوہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی  ترمیم پیپلز پارٹی کے دور اول میں پاس ہوگئی تھی۔جبکہ شریعت بل جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُن کی حکومت ہی کی مخالفت کی وجہ سے سینیٹ سے بھی پاس نہ ہوسکا۔لیکن وہ اب سینیٹ کے مرحلہ سے گزر گیا ہے۔تو شاید اگلے مراحل میں بھی کامیابی حاصل کرجائے۔
  • مئی
1999
عطاء اللہ صدیقی
عاصمہ جہانگیرکی طرف سے اسلامی شعائر کی تضحیک
اسلامی شعائر اور معروفات کی پاسداری مسلمانوں میں اسلام سے محبت اور قلبی وابستگی میں اضافہ کرتی ہے اسی لیے اسلام دشمن قوتوں کے مذموم پراپیگنڈہ کا یہ مؤثر ہتھیار رہا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کی تضحیک و تحقیر کے گھناؤ نے فعل کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں داڑھی رکھنا اسلامی شعائر میں داخل ہے باریش مسلمانوں کو جس استہزاء اورکیک حملوں کا نشانہ بنایا جا تا ہے وہ محتاج بیان نہیں پردہ اسلامی حکم کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر کا حصہ بھی ہے۔ اس کے متعلق جس طرح لادین اور اسلام دشمن عناصر ہر زہ سرائی کرتے ہیں وہ اس مذموم پراپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے۔ ولیٰ ہذاالقیاس ۔
  • ستمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین بشمول ائمہ اہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین کادستور کتا ب وسنت 
وقت کاتقاضا ہے کہ اس دستور محمدیؐ پرمتفق ہوجائیے!!!
وطن عزیز نہ صرف اس وقت چاروں طرف سے بیرونی خطرات کی زد میں ہے بلکہ اس کی داخلی صورت حال بھی کسی طورپرقابل اطمینان نہیں!بالخصوص حکومت اور ایم۔آر۔ڈی کی تازہ محاذآرائی نے تو اس ملک کے ہر بہی خواہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ناجانے اس کا انجام کیا ہوگا؟
یوم آزادی کو جہاں ایک طرف اس تجدید عہد کا دن قرار دیاجارہا تھا کہ جس ا خوت،اتحاداورتنظیم کی بدولت ہمیں آزادی ملی، اور یہ ملک پاکستان معرض وجود میں آیاتھا۔آئندہ بھی ہمیں اسی اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حفاظت اوراستحکام کے لئے جدو جہد کرنا ہوگی وہیں دوسری طرف بغض وعداوت اتمشار وانارکی اور بدامنی وبدنظمی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ملک دشمنی کے سامان بھی فراہم ہوتے رہے!
  • جولائی
1998
غازی عزیر
حضرت ابوقتادہ سےمروی ہے:
'' قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقيمت الصلاة فلاتقومو ا حتى ترونى"
'' رسول الہ ﷺ نےفرمایا کہ جب نماز کےلیے اقامت کہی جائے توجب تک مجھے نہ دیکھ نہ لو، کھڑے نہ ہواکرو،،
بعض روایات میں قد خرجب کےالفاظ بھی وار د ہیں ۔
امام ترمذی ﷫ اس حدیث کو'' حسن صحیح ،، قرار دیا ہے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کےالفاظ لاتقوموا کی شرح میں فرماتےہیں :''اس کھڑے ہونےکی ممانعت مذکور ہے،، ۔اور اگلے قول حتی ترونی کی متعلق فرماتےہیں :''اس میں امام کودیکھنے پرکھڑے ہونےکاحکم وارد ہے۔ یہ حکم مطلق ہےاوراقامت کےکسی مخصوص جملے کےساتھ مقید نہیں ہے،،
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
ملک عزیز اس وقت جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے تو اس کا بڑا سبب کتاب و سنت سے بے اعتنائی بلکہ ان سے انتہائی ظالمانہ سلوک ہے ۔ اور ارباب سیاست و اقتدار سے لے کر اصحاب جبہ و دستار تک سبھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔"هل افسد الذين الا الملوك واحبار سوء ورهبانها"یعنی ’’ فساد دین کے ذمہ دار ہی تین طبقے ہیں ۔۔۔۔۔۔صاحبان اقتدار ، علمائے سوء اور برے درویش ! ‘‘
کوئی نہیں جانتا کہ دین اسلام صرف اور صرف کتاب و سنت سے عبارت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بطور وصیت اپنی امت کے راہ ہدایت پر قائم رہنے کا راز ’’ تمسک بالکتاب والسنۃ ‘‘ ہی میں مضمر بتلایا تھا ؟ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ یہ دین اسلام کے علمبردار ہی ہیں جو ٹولے ٹوٹکوں سے تو اس قوم کی نیا کو پار لگانے کی فکر میں ہیں لیکن کتاب وسنت ہی کا نام لینا انہیں گوارا نہیں ہے ! ۔۔۔۔۔ ایک طرف اگر فقہ جعفری کو ملک کا دستور قرار دینے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تو دوسری طرف فقہ حنفی کے نفاذ کو عین اسلام قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
  • مئی
1990
عبدالقدوس سلفی
یوں تو ہر دور میں انسانوں کا ایک  گروہ انبیاء ورسل کے پیش کردہ احکامات  اللہیہ کے بارے میں کہتا رہا کہ:
"یہ سب کچھ تمہاری اپنی آسیب زدہ شخصیت کا اظہار ہے حقیقت سے اسے کوئی واسطہ نہیں۔لیکن اس عصر حاضر میں بھی غیر مسلموں کا ایک ہجوم بات وہی کہتا ہے لیکن اعتراف عظمت کے ساتھ۔"
ڈاکٹر مچل ایچ ہارٹ اپنی تصنیف"ایک سو" "the hunredمیں ایسے سو آدمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  جنھوں نے تاریخ پر سب سے زیادہ اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتا ہے:
"محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی تاریخ میں ایسے عدیم المثال اثرات چھوڑے ہیں کہ کسی بھی دوسری مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔"
  • اگست
2000
علامہ یوسف قرضاوی
اجتہاد انسانی زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے بارے میں الہامی رہنمائی کے لیے اس انتہائی ذہنی کدو کاوش کا نام ہے جس کا مدار تو کتاب وسنت ہی ہوتے ہیں لیکن مجتہد کو اس بارے میں کتاب و سنت کی واضح صریح نصوص نہ ملنے پر کتاب و سنت کی وسعتوں اور گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔اگر غور و فکر کی گیرائی اور گہرائی شریعت کی مہیا کردہ رہنمائی کی تلاش کے لیے نہ ہوتو اسے اجتہاد کی بجائے تدبیرکہتے ہیں پھر اگر چہ نبی کو بھی نت نئے پیش آمدہ بہت سے مسائل میں اللہ کی رضا معلوم کرنے کے لیے ایسی ذہنی تگ و تازسے ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن چونکہ اللہ عاصم اور نبی معصوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کو استصواب کے ذریعے ایسی اجتہادی غلطی پر قائم رہنے سے بھی تحفظ فرمادیا ہے۔ اس لیے اصطلاح شرح میں نبی کا اجتہاد سنت و حدیث ہی کہلاتا ہے جو انسانی کا وش اجتہاد و فقہ کی بجائے شریعت کا حصہ ہے۔
چونکہ غیر نبی کے لیے اجتہاد میں انسانی تگ و تاز کایہ پہلو صحت و خطا کے احتمال سے خالی نہیں ہو سکتا اور بسا اوقات وہ الہامی ہدایت کے بجائے صرف دنیاوی تدبیر کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔اس لیے علمائے دین اس کے بارے میں بڑے محتاط ہیں اور وہ نہ تو ہرایرےغیرے کو اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس بارے سابقہ ذخیرہ فقہ سے ناآشنائی کو برادشت کرتے ہیں اسی بنا پر جدید دانشور طبقہ انہیں قدامت پرستی کا طعن دیتا ہے حالانکہ۔ ع۔ ز۔ تقلید عالمان کم نظر اقتداء بررفتگان محفوظ تر، تاہم اس بارے میں اسلامی معاشرے میں موجود تقلید والحاد کے دوانتہائی رویوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اسی افراط و تفریط کا کا جائزہ اس مکالمہ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔(محدث)
  • فروری
1999
ڈاکٹر جابر دامانوی
آج امت مسلمہ ہر طرف مصائب ومشکلات کا شکار ہے ۔دشمن ان پر مسلط ہوچکا ہے۔ان کی خواتین کی عزت تک محفوظ نہیں رہی بلکہ انہیں برسرعام ننگا کرکے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایا جارہاہے۔نوجوان بوڑھوں اور معصوم بچوں تک قتل کیاجارہاہے۔کہیں یہی مسلمان آپس میں دست بہ گریبان ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں۔

یہ امت جو کبھی دنیا میں سربلند تھی اور اس کی ہیبت اور دبدبہ دشمن پر چھایا ہوا تھا اور ہر کوئی اس کی عظمت کامعترف تھا۔لیکن آہستہ آہستہ اس کی عظمت کا چراغ گل ہونے لگا۔دشمن کی دلوں سے اس کی ہیبت اور دبدبہ ختم ہوگیا۔اور اب یہ عالم ہوچکا ہے کہ یہ امت ہر طرف ذلیل وخوار ہورہی ہے بلکہ ذلت ان کامقدر بن چکی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ دنیامیں انتہائی کمزور اور غیر محفوظ بھی ہوچکی ہے۔اوردشمن کا ترنوالہ بن چکی ہے۔
  • اکتوبر
1998
غازی عزیر
قرآن وسنت ، شریعت کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ دین کی اساس انہی دو چیزوں پر قائم ہے اگرچہ حکم الٰہی ہونے کے اعتبار سے دونوں بجائے خود ایک ہی شے ہیں ،لیکن کیفیت وحالت کے اعتبار سے جدا ہیں ، مگر اس کے بادجود ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ دونوں چیزیں دین کے قیام کے لیے یکساں طور پر ضروری اور اہم ہیں ۔ ان کے درمیان ردح اور قالب جیسا تعلق ہے افاداتِ فراہی کے ترجمان جناب خالد مسعود اپنے ایک مضمون ''احکام رسول کا قرآن مجید سے استنباط'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

''یہ ایک مسلمہ امر ہے جس میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا کہ نبی ﷺ کے ارشادات شریعت کے احکام کی ایک مستقل بنیاد ہیں خواہ قرآن سے مستنبط ہوں یا نہ ہوں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حضوؐر کے دیئے ہوئے احکام کتابِ الٰہی ہی سے مستنبط ہوتے تھے جیسا کہ متعدد احکام کے ضمن میں خود آپ نے تصریح فرمائی اور قرآن میں بھی ا س پر نصوص موجود ہیں''
  • دسمبر
1998
غازی عزیر
........ ذیل میں قرآن سے زائد احکام پرمشتمل چند احادیث کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں : 
1 ۔ قرآن میں شراب کوحرام قرار دیا گیا ہےلیکن لفظ خمر سےبظاہر شراب کی اتنی ہی مقدار حرمت ثابت ہوتی ہےجونشہ آور ہو، چنانچہ ارشاد ہوتاہے: 
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ﴾( 97) 
یعنی ’’ شیطان تویوں چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کےذریعے سےتمہارے آپ میں عداوت اوربغض واقع کردے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اورنماز سےتم کوباز رکھے،،.......
لیکن حدیث میں اس پریہ زائد حکم بیان کیاگیا ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے،’’ ماأسكر كثيره فقليله حرام ،، ( 98 )
  • جنوری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نومبر 1988ء کے عام ملکی انتخابات کے نتیجہ میں قوم کے منتخب نئے ممبروں کو ملکی قیادت سونپ دی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ مکمل طور پر نئی حکومت کی مدح و ستائش میں مصروفِ عمل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اہل وطن نے نئی قیادت کے انتخاب میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے ملک میں عظیم انقلاب آ جائے گا، ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی قیادت و سیادت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس منصب پر براجمانی ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہونا ضروری ہے نیز ملکی حالات کو کنٹرول کرنا، عوام کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت بھی انہی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ ان سب سے بڑھ کر کلمہ گو مسلمان حاکم پر دستورِ خداوندی کا نافذ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ اس سے عہدہ بر آ نہ ہونے کی صورت میں حاکم " ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾ ... المائدة  " کا مصداق ہوتا ہے۔
  • اپریل
1992
ابو ارقم انصاری
ابھی حال ہی میں قرآن وسنت کے دو علمبردار اہل سنت حضرات(جناب رضوان علی ندوی اور جناب شاہ بلیغ الدین) نے قرآن مجید کی نہایت واضح اصطلاح"اہل البیت" کو اپنے مختلف اختلافات کا نشانہ بنایا۔جو نہایت تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔ان دونوں حضرات نے ان اختلافات پر ہفت روزہ"تکبیر" میں درجنوں صفحات پر خامہ فرسائی فرمائی، یہاں تک کہ "اہل بیت" کے علاوہ دیگر مسائل اور معاملات پر بھی تنازعات کھڑے کردیئے ان کے بارے میں ظن غالب تو خیر ہی کا ہے۔ اور  یہ کہ انھوں نے یہ بحث نیک نیتی کے جذبے سے ہی کی۔لیکن غالباً انھوں نے اس مسئلہ کی تاریخی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہوئے لاشعوری طور پر وہ کام کیا جو علماء اہل سنت کے شایان شان نہیں اور کتاب  وسنت کےمنحرفین یعنی منافقین کو ہی زیب دیتا ہے۔تاکہ اسلام کی اساس (قرآن وسنت) کو مختلف فیہ بنادیا جائے۔
  • اگست
1985
عبدالرحمن عزیز
جنگ خیبر:
سن 7ہجری میں خیبر کامشہور معرکہ پیش آیا۔اس معرکہ میں حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی شامل ہیں۔جب مرحب حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ہاتھوں مارا گیا تو معرکہ خیبر بھی ختم ہوا۔خیبر کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین میں تقسیم کردی۔چنانچہ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے حصہ میں آیا۔انہوں نے اس ٹکڑے (ثمغ) کو راہ خدا میں وقف کردیا۔صحیح مسلم میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔(ملاحظہ ہو باب الوقف صحیح مسلم)
  • اکتوبر
1982
عبدالرحمن کیلانی
کسی چیز کےبتدریج آگے بڑھنے کانام ارتقاء ہے۔انسان کا بچہ عمر کےساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ا س کاجسمانی ارتقاء ہے، پھر وہ تعلیم کی طرف آتا ہے،پہلی جماعت میں بیٹھتا ہےاورآہستہ آستہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتاہے۔یہ اس کاعلمی ارتقاء ہے۔کسی انسانی ذہن نےپہیہ کی ساخت اوراس کےفوائد پرغور کیا پھر اسےعملی شکل دی ، توآج انسان نےمحیر العقول مشینیں ایجاد کرلی ہیں ، یہ انسان کا ذہنی ارتقاء ہے۔
ارتقاء کا یہ قانون صرف انسان میں نہیں بلکہ تمام موجودات میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نےآسمان دودنوں ( periods ) میں ننائے اس کےبعد چاردنوں میں زمین اوراس میں بالیدگی کی قوتوں کوبنا یا اس سے ارتقاء کاقانون واضح پرثابت ہے۔
پھریہ بات بھی ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہےکہ ان قدرتی قوانین میں کچھ نہ کچھ مستثنیات بھی آجاتےہیں مثلاً تمام مائعات کی یہ خاصیت ہےکہ وہ جم کریاٹھوس شکل اختیار کرکےسکڑ جاتےہیں اور یاان کا حجم کم ہوجاتا ہےلیکن پانی جم کر پھیل جاتا ہے۔یہ اس تمام قانون سےمستثنیٰ ہوا۔ پھرہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ بالکل صحیح عقل وحواس اورذہن رکھنے والے میاں بیوی کےہاں بلید الذہن بچہ پیداہوجاتاہ ے۔یہ ارتقاء کےعام قانون قدرت سےمستثنیٰ ہوا۔
  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
؏ وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا ! 
کسی دوسرے کی مصیبت کااحساس اس وقت ہوتاہےجب وہی مصیبت خو د پرآئے،یاکم از کم انسان یہی تصور کرےکہ اگراس مصیبت زدہ کی جگہ وہ خو د ہوتاتو اس کی کیفیت کیا ہوتی ؟----- بیروت میں نہتےفلسطینیوں کوقطاروں میں کھڑاکرکے گولیوں سےبھوں دیا گیا ہزاروں بےگوروکفن لاشیں بیروت کےگلی کوچوں میں بکھرگئیں ------- اخبارات میں ان دلدوز مناظر کےفوٹو بھی شائع ہوئے------- انسانی بھیریوں کی سفاکی ،درندگی اوربہمیت کی داستانیں بھی زبان زد عام ہوئیں اورمظلوموں کی جگر سوز چیخوں نےلبنان کی فضاؤں کومرتعش کرکےعرشی الہی تک کوہلا ڈالا ہوگا ---لیکن میں دوسروں کوکیا الزام دوں ، میں خود بھی توان کروڑوں بےنصیب مسلمانوں میں سےایک ہوں کہ جن کی آنکھوں سےایک آنسو بھی نہ ٹپکا ، جن کےمنہ سےایک آہ تک نہ نکل سکی،جن کےسینے سےاِک ہوک بھی نہ اٹھی -----
  • مئی
2000
عبدالجبار سلفی
"ایک بہتی ہوئی بڑی نہر کے کنارے میں چھوٹا سا شگاف پڑجائے تو اسے فوراً ہی مٹھی بھر مٹی سے بند کردینا عین دانش مندی ہے۔اگر اس موقع پر سستی یالا اُبالی پن کامظاہرہ ہوجائے تو وہ شگاف چند گھنٹوں بعدبڑا اور گہرا ہوجائےگا اور نہر  کے کنارے کو تیزی سے بہالے جائےگا اور آن کی آن میں بستیاں غرقاب ہوجائیں گی"
اس مثال کی روشنی میں آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   نے کمال مہربانی سے نہ صرف یہ کہ امت مسلمہ کو مہلک اعمال سے روکابلکہ ان راستوں کو بھی بند کردیا جو ہلاکت گاہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم   ہے:
ما تركت شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به، وما تركت شيئاً يبعدكم عن الله ويقربكم إلى النار إلا وقد نهيتكم عنه(مشکوٰۃ)
"میں نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہو مگر میں تمہیں بتا چلا ہوں اور کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں جہنم کے قریب کرتی ہواور اللہ سے دور کرتی ہو مگر تمھیں اس سے روک چلاہوں۔"
  • دسمبر
1989
محمد دین قاسمی
دور حاضر میں یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلے کو بہت اچھا لا گیا ہے فکر مغرب کی یلغار سے مسخر دماغوں نے اس مسئلے کو ایک جذباتی پس منظر میں رکھ کر علماء اُمت کو بالعموم اور فقہاء اسلام کو بالخصوص ،خوب نشانہ بنایا ہے۔قرآن کے نام پر قرآن کی مرمت کرنے والوں نے اسلام کےقانون وراثت کو جس طرح تختہء مشق بنایا ہے۔اس کی واضح مثال بھی چونکہ"یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ" ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس پر قرآن وسنت کی  روشنی میں بحث کرنے کے بجائے ،صرف قرآن ہی کی روشنی میں غلام احمد پرویز صاحب کے دلائل کا جائزہ لیاجائے: