• ستمبر
2004
محمد اسحاق بھٹی
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے دودمانِ بلند مرتبت کے سلسلۃ الذہب کی ایسی درخشندہ کڑی ہیں جن کی ضیا پاشیاں اُفق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادراک کی فراوانیوں اور فضل وکمال کی وسعتوں سے کشور ِ ذہن مصروفِ استفادہ اور اقلیم ِقلب مشغولِ استفاضہ رہیں گے۔ ان کے جد ِامجد مجدالدین کو حنابلہ کے ائمہ واکابر میں گردانا جاتا تھا اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد ِمطلق کے پرشکوہ لقب سے ملقب کیا ہے۔
  • نومبر
2000
ادارہ
سوال۔شیخ الاسلام ابو العباس امام احمد بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو(قرآن شریف میں مختلف جگہوں پر) حَقُّ الْيَقِينِ ،  عَيْنَ الْيَقِينِ  ،اور عِلْمَ الْيَقِينِ کے تین مقام  بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر مقام کےکیا معنی ہیں؟ اور کون سا مقام ان سب میں اعلیٰ ہے؟
جواب۔حضرت امام موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  نے یوں جواب دیا:الحمد للہ رب العالمین، حَقُّ الْيَقِينِ،  عَيْنَ الْيَقِينِ ، عِلْمَ الْيَقِينِ کی تفسیر میں لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ہیں،ان میں ایک قول یہ ہے کہ:
عِلْمَ الْيَقِينِ علم کے اس درجہ کا نام ہے جو کسی شخص کو کسی بات کے سننے،کسی دوسرے شخص کے بتلانے اور کسی بات میں غور اور قیاس کرنے سے حاصل ہو،پھر جب وہ اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے  گا تو اسے عَيْنَ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔اور جب دیکھنے کے بعد اسے چھوئے گا،اسے محسوس کرے گا،اسے چکھے گا اور اس کی حقیقت کو پہچان لے گا تو اسے حَقُّ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔
  • مئی
  • جون
1995
پروفیسر محمد یحییٰٗ
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  تصنیف و تا لیف کے "سلسلہ الذہب" کی ایسی درخشندہ و تا باں کڑی ہیں جن کی ضیا پا شیا ں افق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادرا ک کی فراوانیوں اور فضل و کمال کی وسعتوں سے کشورذہن مصروف استفادہ اور اقلیم قلب مشغول استفاضہ رہیں گے ۔ان کے جدا امجد شیخ الدین کو حنا بلہ کے آئمہ و اکا بر میں گردانا جا تا ہے اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد مطلق کے پر شکوہ لقب سے ملقب کیا ہے ۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  جو فن رجا ل کے مستند امام ہیں ۔کتاب سیرا علا م النبلا ءمیں ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
انتهت إليه الإمامة في الفقه
کہ مسائل فقہ کے حل و کشود میں وہ مرتبہ امامت پر فائز تھے۔
امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ولا دت ایسے جلیل المرتبت خا ندا ن میں ہو ئی اور ایسے ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں جہاں فضیلت و عرفان کا ہمہ گیر شامیانہ تنا ہوا تھا اور جہاں مجدوز کاوت کی خوشگوار گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھیں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ہی پا کیزہ فضاؤں میں پرورش و پرواخت کی منزلیں طے کیں اور پھر اسی گلستان فضیلت کی شمیم آرائیوں میں عہد طفولیت سے نکل کر دور شباب میں قدم رکھا۔اب وہ جا دہ علم کے پر عزم را ہی تھے اور ان کی عزیمت و عظمت نے ان کو جا مع الحشیات شخصیت کے قالب میں ڈھا ل دیا تھا وہ بیک وقت عالم بھی تھے اورمعلم بھی محقق بھی تھے اور مصنف بھی مفسر بھی تھے اور محدث بھی فقیہ نکتہ ور بھی تھے اور ماہر اصول بھی مجا ہد بھی تھے اور مجتہد بھی مناظر بھی تھے اورجارح بھی حملہ آور بھی تھے اور مدا فع بھی واعظ شیریں بیاں بھی تھے اور مقرر شعلہ مقال بھی مفتی بھی تھے اور ناقد بھی شب زندہ دار بھی تھے اور سالک عبادت گذار بھی منطلقی بھی تھے اور فلسفی بھی ادیب حسین کلا م بھی تھے اور شاعر اعلیٰ مذاق بھی ۔۔۔جس طرح وہ کشور قلم و لسان کے شہسوار تھے اسی طرح قلیم سیف وسنان پر بھی ان کا سکہ رواں تھا اور ان سب کو ان کی اطاعت گزاری پر فخرتھا ۔ علوم کے سامنے قطار بنا کر کھڑے رہتے جب کسی مو ضوع پر گفتگو کرنا مقصود ہو تا تو متعلقہ علم اپنی ہمہ گیریوں کے ساتھ کو رنش بجا کر ان کے حضور میں حاضر ہو جا تا اور جب کسی معاملے کو ضبط تحریر میں لا نے کا قصد کرتے تو قلم نہا یت تیزی کے ساتھ صفحات قرطا س پر حرکت کنا ں ہو جا تا اور پھر آنا فا نا علوم و فنون کی بارش شروع  ہو جا تی اور پو ری روانی کے ساتھ مرتب شکل میں الفا ظ کا غز پر بکھیرتے چلے جا تے ۔وہ جلہ اور فرات کے سنگم میں پیدا ہو ئے تھے اور ان دونوں دریا ؤں کی روانی اور ان کی مو جیں اور اچھا لیں ان کے قلم و زبان میں سمٹ آئی تھیں ۔
  • نومبر
2000
شبلی نعمانی
اسلام میں سینکڑوں ،ہزاروں بلکہ لاکھوں علماء فضلا، مجتہدین آئمہ فن اور مدبرین ملک گزرے لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے۔ایک حدیث ہے کہ ہرصدی میں ایک مجدد پیدا ہو گا ۔ اگر یہ حدیث صحیح مان لی جائے تو آج تک کم از کم 13مجددپیدا ہونے چاہئیں لیکن اس حدیث کے صادق آنے کے لیے جن لوگوں کو مجددین کا لقب دیا گیا ان میں سے اکثر معمولی درجہ کے لوگ ہیں یہاں تک کہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  بھی اس منصب کے امیدوار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے مجدد کے رتبہ کا اندازہ نہیں کیا۔مجدد یاریفارمرکے لیے تین شرطیں ضروری ہیں۔
1۔مذہب یا علم یا سیاست (پالیٹکس ) میں کو ئی مفید انقلاب پیدا کردے ۔
2۔جو خیال اس کے دل میں آیا ہو کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو بلکہ اجتہادی ہو۔
3۔جسمانی مصیبتیں اٹھائی ہوں جان پرکھیلا ہو سر فروشی کی ہو۔
یہ شرائط قدماءمیں بھی کم پائے جاتے ہیں اور ہمارے زمانہ میں تو ریفارمر ہونے کے لیے صرف یورپ کی تقلید کافی ہے تیسری شرط اگر ضروری قرار نہ دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  ،امام رازی رحمۃ اللہ علیہ  شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ  صاحب اس دائرے میں آسکتے ہیں لیکن جو شخص ریفارمرکا اصلی مصداق ہو سکتا ہے وہ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  ہیں ۔ہم اس بات سے واقف ہیں کہ بہت سے امور میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ کو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  پر ترجیح ہے۔لیکن وہ امور مجددیت کے دائرے سے باہر ہیں مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔۔۔ اس لیے ہم اس عنوان کے ذیل میں علامہ موصوف کے حالات اور ان کی مجددیت کی خصو صیات لکھنا چاہتے ہیں۔