• جنوری
1993
مفتی محمد عبدہ
حضرت مولانا مفتی محمد عبدہ الفلاح صاحب کی شخصیت جماعتی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں۔ آپ اکابر علماء میں سے ہیں۔ آپ نے جہاں قریباً نصف صدی وطن عزیز کے اہم جامعات و مدارس کو اپنی تدریسی خدمات سے سرفراز فرمایا وہاں آپ کی تصنیفی و تالیفی خدمات بھی ملت کے علمی سرمائے میں گراں قدر اضافے کا موجب بنیں۔ پاکستان بھر میں آپ کے فیض یافتہ علماء کی ایک بڑی تعداد دینی خدمات میں مصروف ہے۔ تدریس کے مسائل کو عام فہم انداز میں حل کردینا آپ کی تدریس کا
  • مئی
2006
شفیق مدنی
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد، کنیت ابوعیسیٰ اور والد کا نام عیسیٰ ہے۔ پورا سلسلۂ نسب یوں ہے: ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک ضریراور نسبت کے اعتبارسے سلمی،بوغی اور ترمذی کہلاتے ہیں جیسا کہ ابن اثیرنے جامع الاصول میں بیان کیا ہے۔آخر عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے ضریراور قبیلہ بنوسلیم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سُلمي کہلائے۔جبکہ بوغی قریہ بوغ کی جانب نسبت ہے جو ترمذ سے 18؍میل کی مسافت پرواقع ہے۔
  • مئی
2005
حافظ انس نضر

امام زرکشی رحمہ اللہ کے مختصر حالات زندگی۔

نام و نسب: امام زركشى كا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن بہادر ہے۔بعض كے نزديك ان كے باپ كا نام بہادر بن عبد اللہ ہے ۔

كنيت ابو عبد اللہ، جبكہ نسب زركشى اور مصرى ہے۔تركى الاصل اور شافعى المسلك ہيں۔
  • اکتوبر
1989
حمیداللہ عبدالقادر
اور اُن کی الجامع الصحیح کا تعارف اور صحیحین کا موازنہ

ولادت 194ھ وفات :256ھ

نا م ونسب :
  • جنوری
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
نمبرشمار

صفحہ

سطر

خطأ                                                             (غلط)

صواب                                              (صحیح)

103

291

2

سلیمان الاشعث

سلیمان بن الاشعث

104

294

3

عن جدہ عن ابن عباس

عن جدہ ابن عباس



  • جنوری
1993
غازی عزیر
پیش نظر مضمون راقم نے جناب حکیم محمداجمل خان صاحب شکراوی (مدیر 'مجلّہ اہلحدیث' گڑ گاؤں) کے ایماء پر آج سے تقریباً 13 سال قبل اپنی طالب علمی کے زمانہ میں مرتب کیا تھا لیکن دفتر 'مجلّہ' کی بدنظمی کے باعث کاغذات کے انبار میں کہیں دَب کر شائع نہ ہوپایا اور نہ ہی باوجود طلب کرنے کے واپس نہ مل سکا تھا۔ چند ماہ قبل پرانے کاغذات کی ذاتی فائل کی ورق گردانی کے دوران اتفاقاً 'مجلّہ اہلحدیث' کوبھیجے جانے والے مضمون کے مسودہ کے چند اوراق دستیاب ہوئے جن کو نظرثانی اور
  • جولائی
2006
شفیق مدنی
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کو چونکہ حدیث اور علوم حدیث کے علاوہ تاریخ، فقہ اور تفسیر وغیرہ پر بھی کافی دسترس حاصل تھی لہٰذا اُنہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور بہت سی علمی کتب تصنیف کیں جن میں سے چند معروف کتب یہ ہیں :(1) کتاب الجامع، جو سنن ترمذی کے نام سے مشہور ہے۔(2) الشمائل النبویةجو شمائل ترمذی کے نام سے مشہور ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق احادیث میں ایک بہترین تصنیف ہے جیسا کہ عبد الحق محدث دہلوی نے أشعة اللمعات میں اس کی تعریف فرمائی ہے۔