• اگست
1976
ابو شاہد
جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مرکزی درس گاہ ''جامعہ سلفیہ'' کے تعارف کے سلسلے میں حضرت مولانا محمد اسماعیل  بحیثیت ''ناظم تعلیمات'' لکھتے ہیں:

''جس میں طلباء کی اس نہج سے علمی تربیت کی جائے کہ وہ مستقبل میں جماعت کے لائق مصنف، بہترین خطیب، سلجھے ہوئے مقرر، صاحب تحقیق مفتی، زمانہ کے نشیب و فراز سے آشنا مُبلغ او ربلند کردار مُدرس ثابت ہوں نیز وہ اس خصوصیت کے حامل ہوں کہ اہل حدیث کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ان کے علم و فضل اور تحقیق و کاوش سے متاثر و مستفید ہوسکیں۔''
  • اپریل
2010
ثریا بتول علوی
اُستاد اپنی بات اپنے شاگردوں تک اسی زبان میں پہنچاتا ہے جس کو وہ بخوبی سمجھ سکیں۔ اگر متعلّم اپنے اُستاد کی بات ہی کونہ سمجھ سکے تو تعلیمی عمل زوال کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جب کسی قوم کی طرف مبعوث کیا تو وہ ان سے ان کی زبان میں ہی گفتگو کرتا تھا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
  • اکتوبر
1996
٭ وحدت نصاب اور نظام تعلیم کے لئے تمام دینی مدارس کو وفاق المدارس السلفیہ کے نظام کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔
٭ دینی مدارس کے فضلاء کی تدریب و تربیت کے لئے حسب حال متنوع مختصر نصاب تشکیل دئیے جائیں۔
٭ ائمہ و خطباء کے لئے تربیتی اور رابطہ پروگرام مرکز خود وضع کرے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے شعبہ نظامت تعلیمات کی دعوت پر 13 مارچ 1996ء کو پاکستان بھر کے اہل حدیث مدارس / جامعات کا ایک عظیم الشان کنونشن 106 راوی روڈ لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ اس کنونشن میں سفارشات کو منظم کرنے اور ان کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے مدارس کی نمائندہ ایک مجلس قائمہ (Monitoring Committee) کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ خواتین مدارس کو منظم کرنے کے لئے نظامت تعلیم ہی کے زیر نگرانی علیحدہ تنظیمی طریق کار اختیار کیا گیا تھا جس کے مطابق خواتین مدارس کنونشن کے انعقاد کے بعد سے ان کے باضابطہ ماہانہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ بہرصورت مردانہ مدارس کی مجلس قائمہ کا مورخہ 24 اگست بروز ہفتہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں اہم اجلاس مولانا عبدالرحمین مدنی ناظم تعلیمات مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی صدارت میں صبح 11 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے سرکردہ جامعات و مدارس کے مندوبین نے شرکت کی۔
  • جولائی
  • اگست
1979
عبدالرؤف
مقالہ نگار یہ سیدھا سادھا مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ تعلیمی جہاد کے کسی محاذ پر بھی نظریاتی لگن کے بغیر مثبت نتائج کی آس لگائے رکھنا جنت الحمقاء میں بسنے کے مترادف ہے۔ نظریاتی لگن کا واضح شعور او را س کی پیہم تعمیل تعلیمی دنیاکے تمام مدارج کے لیے ضروری ہے تعلیمی قیادت کے فکروعمل پر اس کی واضح چھاپ تو قطعی لازمی ہے۔ پاکستان کی تعلیمی تاریخ کے مختلف ادوار کا تجزیاتی حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرؤف یہ تلخ حقیقت مزید واضح کرتے ہیں
  • دسمبر
2015
حسن مدنی
     اسلام اور مسلمانوں کا خواتین کی تعلیم وتربیت کے بارے میں کیا موقف ہے،اور اسلام میں خواتین کی تعلیم کی کتنی ترغیب موجود ہے، خواتین کی تعلیم کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟اس بارے میں بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔اسلام کو عورتوں کی تعلیم کا مخالف بتایا جاتا اورمیڈیا میں مسلم خواتین کو تعلیم کا مطالبہ کرتے دکھایا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ملالہ یوسف زئی کو مسلم خواتین میں تعلیم کا سفیر بنا کر پیش کیا گیا
  • جون
1971
تقی الدین ہلالی
ہمارے پہلے آباؤ اجداد جو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی،
  • مئی
1971
عبدالسلام کیلانی
یہ ہے کہ  عورتوں کو بغیر کسی تفہیم و تفسیر کے صرف سادہ قرآن مجید کی تعلیم دی جائے۔ ان کی نظر میں یہی رائے عمدہ ترین اور یہی نظریہ باقی تمام نظریات سے درست ہے، ہمارے آباؤ اجداد۔۔۔۔ جو ہم سے بہتر تھے۔۔۔۔۔ ان کی روشن بھی یہی تھی۔ تعلیم نسواں ان کے اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے، کیونکہ ناخواندہ عورت شیطان سیرت مردوں کی دسترس سے دور رہتی ہے، بدیں وجہ کہ قلم بھی۔
  • جولائی
2001
مرزا عمران حیدر
انسان خود محنت كرے يا اس سے محنت كروائى جائے- دونوں صورتوں ميں اس كى صلاحيتوں كو جلا ملتی ہے- ان صلاحيتوں كا نكهر كر سامنے آنا فرد، ادارے يا معاشرے كى ترقى و عروج كا پيش خيمہ ہوتا ہے- ليكن دوسرى طرف انسان طبعى طور پر آرام پسند اور مشقت سے بچنے والا واقع ہوا ہے- اپنے اس طبعى ميلان كو شوق كے ساتھ محنت كى طرف مائل كرنا ايك مشكل مرحلہ ہے۔
  • ستمبر
2001
مرزا عمران حیدر
جامعہ لاہور الاسلامیہ (جامعہ رحمانیہ) ایک تحریک ایک فکر کا نام ہے۔ جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق عملی صورت میں پیش کیا جائے۔ جس کے لئے ایک وسیع و عریض علماء کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔ جو اسلامی نظام کو عمل کے پیراہن سے آراہستہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔جو یہ بات ثابت کرسکیں
  • نومبر
2004
ثریا بتول علوی
علم نور ہے اورجہالت گمراہی !

انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم و تربیت، علم و آگہی اور شعور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ طبقہ نسواں معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا اس طبقہ نسواں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی صلاح و فلاح کے لئے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عادل خاں
دمشق کی مختصر تاریخ:

دمشق ملک شام کا سب سے قدیم شہر ہے۔ جنگ یرموک کے فوراً ہی بعد ۱۴؁ھ میں اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ پہلے اس پر باز نطینی حکومت تھی۔

۱۴ ؁ھ سے لے کر آج تک اس کو ہمیشہ اسلامی ثقافت کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔
  • ستمبر
2005
ادارہ
’دينى مدارس كا كردار‘ ان دنوں بطورِ خاص ہدفِ تنقيد ہے اور ميڈيا نے لگاتار اُنہيں مہمل،بيكار اور معاشرے كا عضو ِمعطل قرار دينے كى پاليسى اپنا ركهى ہے- جبكہ دوسرى طرف انہى دينى مدارس كو ملك كى سب سے بڑى اين جى او اوراسلام كے قلعے قرار دينے كے علاوہ جديد مغربى تہذيب وفلسفہ كا سب سے بڑا مخالف بهى قرار ديا جاتا ہے۔
  • مئی
  • جون
1995
برصغیر پاک وہند میں ہمارےدینی مدا رس نہ صرف مسلمانوں کی پرا نی تہذیب کا تسلسل اور روایتی نظا م تعلیم کی یا دگا ر ہیں بلکہ انبیاء کرام علیہ السلام   کے مشن عظیم کی بقاءاور ان کے علمی ورثہ کے احیاء کی علا مت بھی ہیں ۔اگر چہ زمانہ کی دست مدد سے درس نظامی میں شامل عصری تقاضوں کی تکمیل کے خا طردنیوی علوم تو جاری نہ رہ سکے یا منطق و فلسفہ جیسے انسانی سوچ کے حا مل علوم دینی مدا رس میں اپنے اتقاء کو باقی نہ رکھ سکے تا ہم کیا دینی مدا رس کے یہ صرف دو پہلو ہی غنیمت نہیں کہ انبیاءکرا م  علیہ السلام  کے مشن کے حا مل افراد تیار ہو تے رہیں اور مسلمان اپنے ماضی سے بھی جزے رہیں اگر اب درس نطا می میں شامل قدیم دنیوی علوم کا خلا ء تسلیم بھی کر لیا جا ئے پھر بھی ایک شعبہ تمھیں دینی کے اعتبار سے ان کی اہمیت و افادیت سے انکا ر ممکن نہیں۔
  • جنوری
2002
زاہد الراشدی
پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے دینی مدارس ومکاتب کاموجودہ نظام ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کانتیجہ ہے۔ اس سے قبل پورے برصغیر میں درسِ نظامی کا یہی نصاب تعلیمی اداروں میں رائج تھا جو مغل بادشاہت کے دور میں اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کرمرتب کیا گیا تھا اور جو اَب بھی ہمارے دینی مدارس میں بدستور رائج چلا آرہا ہے۔
  • جولائی
2002
فرید احمد پراچہ
دینی مدارس کی لازمی رجسٹریشن، ان کی غیر ملکی گرانٹ پر پابندی اور ان پر بعض مضامین ہر صورت شامل نصاب کرنے کی لازمی شرط کے نادر شاہی اَحکامات کے اعلان کی واحد و جہ وفاقی وزیراطلاعات نے یہ بیان کی ہے کہ بعض مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جارہی تھی۔
یہ الزام ماضی میں مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے بھی لگائے گئے تھے
  • جولائی
1972
عبدالرشید اظہر
ہمارے دینی مدارس کے نصاب پر کسی تبصرہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جن علوم و فنون پر اس کا خاکہ مشتمل ہے ان کی عصری خصوصیات کا ایک مختصر جائزہ پیش کر دیا جائے جس سے ان علوم کی صحیح افادیت اور حقیقی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا کہ ہماری مروجہ نصابی کتب طلباء کی کیسی ذہنی ربیت کر رہی ہیں اور ایسی کتابیں کس حد تک اپنے فنی مقاصد پورے کر سکتی ہیں؟
  • اپریل
1972
ثناء اللہ بلتستانی
لغوی تشریح:

لفظِ ''رحلت'' رَحِلَ۔ يَرْحَلُ رَحْلًا۔ تَرْحَالًا۔ رِحْلَةً سے ہے جس کا مادہ ر، ح، ل یعنی رحل ہے جس کے معنی سفر اور کوچ کرنے کے ہیں، جب اس کا صلہ ''عن'' آئے تو معنی کسی جگہ سے روانہ ہونے، کوچ کرنے، چلے جانے، ترکِ وطن کرنے، ہجرت کرنے اور نقل مکانی کے ہوتے ہیں ۔
  • مئی
1972
ثناء اللہ بلتستانی
قارئین کرام اسوۂ انبیاء کے ذکر کے سلسلہ میں تین جلیل القدر انبیاء کے رحلات علم کا بیان پڑھ چکے ہیں۔ اب جن اسلافِ امت نے اس ورثہ انبیاء کی حفاظت کرتے ہوئے علمی سفر کئے ان میں سے چند ایک کا حال سنیئے:
  • جون
1972
ثناء اللہ بلتستانی
قارئین کرام محدثین کے چند رحلات علم کے ذکر سے ان کی مشقتوں کا اندازہ فرما چکے ہیں۔ تاریخ امم میں مسلمانوں کے اس عظیم کارنامہ کی مثال نہیں ملتی جس کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے۔ واقعی کسی انسان کی پوری زندگی کے اقوال و افعال کا اس طرح جمع ہونا ایک معجزہ ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ہاتھوں قرآن مجید کی طرح اس کی تفسیر و تعبیر یعنی حدیث بھی محفوظ فرما دی۔
  • جولائی
1972
ثناء اللہ بلتستانی
کثرتِ مرتحلین:

اسلامی قرونِ اولیٰ، وسطیٰ اور متاخرہ ہر زمانہ میں یہ رواج رہا ہے کہ علم کے شائقین کثیر تعداد میں علمی مراکز میں آس پاس سے جمع ہوتے تھے۔ دورِ خلافتِ راشدہ تک تو حجاز میں زیادہ رونق رہی۔
  • اپریل
1989
محمد اسحاق بھٹی
نعرہ بازی کی سیاست یا علمی تحقیق اور تبلیغ و جہاد؟
حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ العالی پاکستان کی معروف علمی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں، مدرسہ رحمانیہ، کلیۃ الشریعۃ اور وکلاء و جج حضرات کی شرعی تربیت گاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹیڈیز جیسی درسگاہوں کے علاوہ، مجلس تحقیق اسلامی اور "ماہنامہ محدث" لاہور کے مدیر اعلیٰ ہیں۔
موصوف جنوری کے مہینے میں سعودی عرب تشریف لائے۔ اس دوران میں، جہاں وہ مکۃ المکرمہ، ریاض اور قصیم گئے۔ وہاں مدینۃ المنورہ میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانیوں کے علاوہ ہندی، بلتستانی اور کشمیری طلبہ بھی۔۔۔۔ باوجودیکہ سب کے سب ششماہی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس انتہائی پُروقار تقریب میں انہوں نے طلبہ سے ایک تاریخی خطاب فرمایا: جس کے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
  • فروری
2002
صلاح الدین یوسف
سوویت یونین کے بکھر جانے اوررُوس کے بحیثیت ِسپر طاقت زوال کے بعد،امریکہ واحد سپر طاقت رہ گیا ہے۔ جس سے اس کی رُعونت میں اضافہ اور پوری دنیا کو اپنی ماتحتی میں کرنے کا جذبہ توانا، بالخصوص عالم اسلام میں اپنے اثر و نفوذ اوراپنی تہذیب وتمدن کے پھیلانے میں خوب سر گرم ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) اس کے اِسی جذبے کا مظہر اور عکاس ہے۔
  • اپریل
2002
محمد آصف احسان
اسلام دین فطرت ہے جو اپنے واضح احکام وفرامین کی کشش کے باعث قلب ِانسانی میں گھر کرتا ہے، فطرتِ بشری کی تجزیہ کاری اس کے متنوع علوم ومعارف کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی افادیت کی مظہر ہے۔ درحقیقت اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسان کو کائنات کے سربستہ اَسرار معلوم کرنے کی دعوت دیتاہے تاکہ اس کے ماننے والے محض نام کے مسلمان نہ کہلائیں
  • نومبر
1972
ثریا بتول علوی
تعلیم کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ تعلیم نہ صرف انسان کو مہذب بناتی اور اس کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے بلکہ زندگی کے دشوار گزار اور پر پیچ راستوں پر چلنے کے لئے اس کے اندر حوصلہ اور جرأت بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کو احساسِ سود و زیاں عطا کرتی ہے اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کا شعور بخشتی ہے۔
  • جولائی
1976
محمد سلیمان اظہر
مدرسہ رحیمیہ دھلی برصغیر کے ان مدارس میں شامل ہے جو اگرچہ کسی حکومت کی سرپرستی کے بغیر قائم ہوا لیکن علوم قرآن و سنت کی ترویج میں دنیا بھر کے ممتاز مدارس میں شمار ہوا۔ آج دنیائے اسلام کا شاید ہی کوئی عالم ایسا ہو جو کسی نہ کسی واسطے سے اس مدرسہ کاخوشہ چین نہ ہو۔ حضرت شاہ عبدالرحیم ، حضرت شاہ ولی اللہ ، حضر ت شاہ عبدالعزیز، حضرت شاہ رفیع الدین، حضرت شاہ عبدالقادر، حضرت شاہ عبدالغنی، حضرت شاہ اسماعیل شہید، حضرت شاہ محمد اسحاق اور شیخ الکل سید محمد نذیر حسین محدث اس مدرسہ میں مسند درس و افتاء کی زینت بنے۔