• اپریل
1980
نظریانی لگن اور بقاء واحیاء ملی 
ہر باشعور انسان اور ہرمتمدن معاشرے کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ،کوئی نہ کوئی نظریہ حیات ضرور ہوتا ہے ۔ اگر نظریہ حیات پورے شعور و شدت سے فکرو عمل کو گرماتاہو تو افراد اور معاشرے کے تمام مسائل بطریق احسن پورے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے سامنے  علم وعرفان ،سیادت و قیادت اور تسخیر و تسلط کے رموز و نکات  کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اس نظریاتی لگن سے عاری افراد اور ادارے ذاتی نقصان اٹھانے کے علاوہ بسا اوقات پورے معاشرے کو بھی لے ڈوبتے ہیں ۔ افراد اور ملتوں کی تعمیر و تخلیق کے لیے نظریاتی لگن کی حرارت ناگزیر ہے ۔
نظریاتی لگن کی بالا دستی 
بین الاقوامی  منڈی میں اس وقت کئی ایک نظریے کشمکش اشاعت و اقتدار میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان کے نظریہ حیات کے خدو خال قرآن حکیم میں وضع کر دیے گئے ہیں ۔ اس عظیم اسلامی مملکت کے قیام کے لیے ایک دلولہ انگیز جہاد بھی اسی لیے ہوا تھا کہ مسلمانان برصغیر اپنی زندگی قرآن و سنت کے تابع کرسکیں ۔ چنانچہ اس اسلامی ریاست کی اساس ان شہدائے کرام کے مقدس لہو پر  رکھی گئی جنھوں نے ہمیں قرآن وسنت کی روشنی سے معمور ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی داؤ پر لگا دی تھی ۔ اب ہمارے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس مقدس نظریے کو دل سے لگائے رکھیں اور اپنی  زندگی کے تمام شعبوں میں اسی سے رشدوہدایت لیتے رہیں ۔
  • جولائی
2012
امین اللہ پشاوری
جامعہ لاہور اسلامیہ کی جوہر ٹاؤن، لاہور میں واقع برانچ البیت العتیق میں مؤرخہ 2؍جون 2012ء کو مشکوٰۃ المصابیح کے اختتام کے مبارک موقع پرمشکوٰۃ کی آخری حدیث پر درس کے لئے پشاور کے نامور عالم اور مفتی مولانا امین اللہ ﷾ کودعوت دی گئی۔مولانا موصوف نے اپنے درسِ حدیث میں اس فرمان نبویؐ کے حوالے سے وقیع اور اہم نکات بیان فرمائے۔
  • دسمبر
1998
ارشاد الحق اثری
’’ اسلامی تعلیم وتحقیق انسٹیٹیوٹ ،، کےزیراہتمام مورخہ 30؍ نومبر98؁ء کوایک عظیم تعلیمی سیمنار منعقد ہو ا جس میں قدیم وجدید نصاب ہائے تعلیم کاتقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اسی سیمینار میں زیرنظر مقالہ بھی پڑھا گیا جوہم ادارتی صفحات میں شائع کررہے ہیں۔ مجلس تحقیق اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ اس سیمینار کےاہم مقالات وتقاریر محدث کےشمارہ بابت فروری 99؁ء میں شامل ہوں گی ۔ ان شاء اللہ ! (ادارہ )
پاکستان میں آج جن حالات سےہم گزر رہے ہیں ، ان حالات میں اس موضوع کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہماری حکومت پندرھویں دستوری ترمیم کےذریعے ملک میں کتاب وسنت کی بالا دستی منظور کرانے کےلیے کوشاں ہے۔ اس بل کےمضمرات کیا ہیں ، اس کی کوئی ضرورت ہےیا نہیں ، یہ میری گفتگو کا موضوع نہیں تاہم اس تحریک اور ترمیمی بل کےآنے کا یہ فائدہ ضرور ہواہےکہ سنجیدہ فکر علمائے کرام سےلےکر عام مسلمان بھی اسلام کےلیے سوچنے ،
  • اکتوبر
1992
محمد افضل ربانی
اسلام نے روز اولین سے اسلام کی برتری اور ضرورت کا اعلان کیا،کیونکہ علم کے بغیر نہ دین کا کوئی معاملہ سنور سکتا ہے۔نہ دنیاکا اسلام سے پہلے حصول علم کا حق ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوتا تھا۔عام آدمی اس نعمت سے محروم تھا۔اسلام ہی پہلا مذہب ہے جس نے یہ اعلان کیا کہ حصول علم ہر انسان کا مسلم حق ہے خواہ امیر ہو یا غریب،عربی ہو یاعجمی ،ارشاد ہے:۔
  • اکتوبر
2007
محمد بن صالح العثیمین
لغت میں 'علم' جہالت کی ضد ہے، اور اس سے مراد 'کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر پالینا' ہے۔اصطلاح میں بعض علما کے نزدیک 'علم' سے مراد وہ معرفت ہے جو جہالت کی ضد ہے۔جبکہ دیگر اہل علم کا کہنا ہے کہ 'علم' اس بات سے بالاترہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ مطلب یہ کہ لفظ 'علم' خود اتنا واضح ہے کہ اس کی تعریف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
  • جولائی
2012
حسن مدنی
اسلام اللہ کا آخری دین ہے جس میں دین ودنیا کی تمام خوبیاں جمع کردی گئی ہیں۔دین کے بارے میں یہ تصور مغربی تہذیب نے دیا ہے کہ وہ صرف اللہ اور بندے کے باہمی تعلق کا احاطہ کرتا ہے اور دنیا کے دیگر معاملات کو ہمیں انسانی عقل ودانش اور تجربے کی روشنی میں بروے کار لانا چاہئے۔ دین کا یہ محدود تصور ایک طرف سیکولر نظریہ کو پیدا کرتا ہے