• اپریل
2004
عاصم عبداللہ قریوتی
ماہِ اپریل کی وجہ تسمیہ
اپریل April انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے جو تیس دن پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ قدیم رومی کیلنڈر کے ایک لاطینی لفظ Aprilis 'اپریلیس' یا Aperire سے مشتق ہے۔ وہ لوگ یہ لفظ موسم بہار کے آغاز، پھولوں کے کھلنے اور نئی کونپلیں پھوٹنے کے موسم کے لئے استعمال کرتے تھے۔ (دائرۃ معارف القرآن الرابع عشر: 1/20)
  • فروری
2001
ادارہ

مذہب اور ثقافت ایک دوسرے پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اثر پذیر بھی۔ ہمارے ہاں عام طور پر مذہب اور ثقافت کو دو الگ الگ تہذیبی دائروں کے طور پر زیربحث لایا جاتا ہے، یہ زاویہٴ نگاہ قطعاً درست نہیں۔ سیکولر طبقہ اپنے مذہب بیزار رویے کی وجہ سے ثقافتی اُمور میں مذہب کے کردار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، لہٰذا جہاں کہیں مذہب اور ثقافت کے درمیان رشتوں کی بات ہوتی ہے،

  • اپریل
2010
محمد عمران صدیقی
ہرتہذیب و نظریہ جہاں مختلف اَہداف ومقاصدکا حامل ہوتا ہے، وہاں ان مقاصد کے لئے اپنے نعروں اور لائحۂ عمل کو خوشنما اور دیدہ زیب نام بھی دیتا ہے۔ ان اصطلاحات اور نعروں میں ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کے مفہوم ومدعا اور معنویت میں وہ فرق پوری تاثیر سے موجود ہوتا ہے جو ہر دو نظریات میں درحقیقت پایا جاتا ہے۔
  • اکتوبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
چند ماہ پہلے۔۔۔وحشی قاتل جاوید مغل کی  طرف سے سو معصوم بچوں کے قتل کی بہیمانہ واردات نے پورے عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے وحشت وبربریت کے اس عدیم النظر واقع کو غیر معمولی کوریج دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج جناب اللہ بخش رانجھا نے چند ماہ قبل اس مقدمہ کے متعلق سزا سنائی کہ" جاوید کومغل کو سو بار پھانسی دی جائے" اور اس کے جسم کےٹکڑے کرکے انہیں تیزاب میں اسی  طرح ڈالا جائے جس طرح کہ اس نے سو بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر موت کے گھاٹ اُتارا تھا اور یہ کہ ا س سزا پر عملدرآمد مینار پاکستان گراؤنڈ میں عام پبلک کے سامنے کیا جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔"
فاضل جج کی جانب سے اس سزا کے متعلق عوام الناس کا رد عمل نہایت مثبت تھا۔البتہ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراضات بھی وارد کئے گئے۔ یہودی لابی کی تنخواہ وار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اورHRCPکے ڈائیرکٹر آئی اے رحمان قادیانی نے اس سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئےبیان دیا کہ اس سے بربریت میں اضاہوگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہونے دی گی۔بعض دینی حلقوں کی جانب سے بھی اس سزا کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے  گئے۔
  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔
  • نومبر
2004
محمد آصف احسان
اسلام کے واضح اور پاکیزہ احکام مصائب و آلام سے دوچار انسانیت کے لئے راحت وسکون اور فرحت و انبساط کا باعث ہیں۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں ان میں پوشیدہ ہیں۔ اسلام کی یہ عظمت و رِفعت ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے دل و دماغ میں نوکدار کانٹوں کی مانند چبھن پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ اس اذیت سے نجات حاصل کرنے اور اپنے اصل مقصدکی بجاآوری کے لئے شیطان کا گروہ ہروقت اس جدوجہد میں مگن ہے
  • اکتوبر
1990
لطیف الدین
مشورہ کے لغوی معنی:
عربی زبان میں مشورہ "اور شوریٰ" کا استعمال رائےدینے کے لئے کیا جاتا ہے۔مشاورت (باہم رائ زنی کرنا) اوراستشارۃ(رائے طلب کرنا) ایسے الفاظ ہیں جو خاص طور پر انھیں موقع پر بولے جاتے ہیں۔ایک اور لفظ جس کا استعمال مخصوص اس بارے میں نہیں ہے بلکہ صلہ کے بدلنے سے اس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔اور وہ لفظ اشارہ کے صلہ میں"الیٰ"آتا ہے۔تو اس کے معنی محض کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اوراگر علی آتا ہے تو اس کے معنی مشورہ دینے کے ہوجاتے ہیں۔یہ پانچوں الفاظ اگرچہ باعتبار صیغوں اور باب کے مختلف ہیں مگر ماخذ اور موضع اشتقاق ان کا ایک ہے ان سب کی اصل شور ہے۔
  • اگست
2009
محمود احمد غازی
فرد کی تربیت کی جب بھی بات ہوئی ہے تو ایک سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فرد کی تربیت کا مقصود اصلی کیا ہے؟ مسلمان کی نظر میں تو مقصود اصلی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے کہ جہاں یہ ایمان ہوکہ یہ زندگی عارضی ہے اور بالآخر ایک نئی زندگی آنی ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کے نتائج سامنے آئیں گے وہاں منزل مقصود کاسوال متعین ہے اور واضح ہے۔ لیکن جن اقوام میں آخرت کاکوئی تصور نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ فرد کی تربیت کا محرک کیا ہو؟
  • فروری
2000
عبدالجبار شاکر
قانون وراثت۔۔۔اسلام سے قبل:۔
انسانی تمدن کے احیاء بقا اور استحکام کاتعلق طریق وراثت کے ساتھ وابستہ ہے۔دنیا کے مختلف ممالک اور اقوام  میں انتقال جائیداد یا حصول جائیداد کے مختلف طریقے رہے ہیں۔جن میں وصیت کے ذریعے وراثت کا حصول ایک قدیم ترین طرز عمل ہے۔وصیت کے ان طریقہ ہائے کار میں عموماً یہ فرض کر لیا گیاتھا کہ جائیداد کا مالک خود بہتر سمجھتاہے۔کہ اس کے مرنے کے بعد اسے کس طور پر اور کن کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔یوں اس طریق کار سے ظلم اور بے انصافی کی روایت مدتوں مختلف زمانوں میں جاری وساری ہیں۔اسلامی قانون سے قبل اہل  روما کے قانون وراثت کو بہت شہرت حاصل ہے۔اور آج بھی بہت سے یورپی ممال کے قوانین کا مآخذ یہی اہل روما کا قانون ہے۔قانون  روما میں بھی بنیادی طور پر وصیت کے طریق کار کو اپنایا گیا لیکن اگر کوئی فرد بغیر وصیت کئے دنیا سے ر خصت ہوجاتا تو ایسی صورت حالات میں اس کاترکہ جدی اشخاص کو منتقل ہوتاتھا۔ان میں حقیقی اولاد کو فوقیت ہوتی تھی۔
  • دسمبر
1998
ثریا بتول علوی
پاکستان ، دنیا کی عظیم ترین اسلامی مملکت کےطورپر 1947ء کونقشہ عالم پرنمودار ہوئی آج پاکستان کوعروس آزادی سےہمکنار ہوئے 51 برس بیت چکے ہیں ۔ترقی اورعروج حاصل کرنے کے لیے اوراپنی منزل مراد تک پہنچے کےلیے نصف صدی کاعرصہ بہت ہوتا ہےمگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اہل پاکستان آزادی کی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہیں کرسکے ۔ صرف 25 برس بعد مملک خداداد کا آدھا بازو کاٹ کربنگلہ دیش کانیا ملک وجود میں آگیا مگر ہمارا احساس زیاں پھر بھی بیدار ہوا ۔ اسلام کےنام پروجود میں آنے والی مملکت میں اسلامی شریعت ہی کا نفاذ نہ ہوسکا ۔ اور آج تک مختلف حیلے بہانوں سےیہ کام پس پشت ڈالا جاتا رہا ۔
  • اگست
2009
محمد بشیر
عربی زبان دین اسلام کی پہچان اور شعار ہے کیونکہ اس میں ہماری آخری اور ابدی کتاب 'قرآنِ کریم' نازل ہوئی، اور ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی زبان یہی تھی۔ آپ اور ان کے صحابہ عرب تھے۔ قرآنِ کریم کی طرح ان کی تمام احادیث کا ذخیرہ اور آپ کی سیرتِ مبارکہ اسی زبان میں ہے۔
  • فروری
1973
منظور احسن عباسی
غیر مسلم اقوام کی مادی، صنعتی اور طبیعیاتی ترقیات اور ان کی محیرّ العقول ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر بعض مسلم اقوام سخت حیران ہیں بلکہ ایک تحت الشعوری احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اسلاف کے واقعی یا فرضی کارناموں کے بوسیدہ دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ روش بجائے خود اسلام کے منافی ہے۔
  • جنوری
1998
ام عبدالرب
موجودہ دور میں پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ وہ بہت سے ایسے مسائل سے دوچار ہے، جن میں دو ٹوک فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سرفہرست پاکستان کا موجودہ اقتصادی بحران ہے۔
پاکستان کی معیشت مدتِ دراز (1960ء) سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے اور آج ان قرضوں کے بڑھتے ہوئے جال نے صورت حال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے فورا بعد 1948ء میں تو پاکستان اس قابل تھا کہ وہ جرمنی کو غلہ برآمد کر سکتا۔ مگر حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی کی بدولت جلد ہی وہ مرحلہ بھی پیش آیا کہ پاکستان میں گذائی بحران پیدا ہو گیا اور امریکہ سے گندم درآمد کرنا پڑی۔
  • اکتوبر
2001
عبدالعزیز حنیف
حلق پھاڑ کر نعرے لگانا کتنا آسان ہے لیکن ان نعروں کے پس پردہ حقائق اور کار فرما خفیہ عزائم کا سراغ لگانا اور ان کا اِدراک کرنا بڑا مشکل ہے۔حقوقِ انسانی کا نعرہ بھی اسی طرح کا ایک دلکش، خوبصورت اور پر فریب نعرہ ہے جس کی چمک بڑی مسحور کن ہے اور جوبظاہرہر انسان کے عزت و احترام پر ابھارتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نعرہ کا علمبردار کسے ہونا چاہے؟
  • مئی
2000
ادارہ
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد جب مصطفیٰ کمال پاشا المعروف اتاترک (ترکوں کا باپ) کو اپنا قومی ہیرو قراردیا تھا۔ تو اسی وقت ہی دائیں بازو کے اہل بصیرت کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں کہ کہیں نواز شریف کی کرپٹ حکومت کے خاتمہ کے بعد برپا ہونے والا فوجی انقلاب درحقیقت لادینی انقلاب کی صورت اختیار نہ کرلے ۔مگر شروع شروع میں فوجی حکومت کا ایک تورعب ودبدبہ ہی اتنا تھا کہ کو ئی ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہ کرسکتاتھا دوسرے لوگ نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہی اس قدر خوش تھے۔کہ وہ باقی نتائج کے متعلق غور وفکر کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔
جنرل پرویز مشرف کے مذکورہ بیان کے خلاف قاضی حسین احمد کی نحیف سی آواز اٹھی تھی جس میں انھوں نے پاکستان میں کمال ازم کے نفاذ کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔اس وقت تو جنرل پرویز مشرف نے بھی وضاحت میں بیان دیا تھا –کہ ان کے بیان کا وہ مقصد نہیں ہے ۔جو سمجھا گیا ہے مگر گزشتہ 6/ماہ کے دوران جنرل پرویز مشرف نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان پر غور کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ جوبات انھوں نے اتاترک کے بارے میں کی تھی وہی ان کے دل کی آوازتھی ۔
  • مئی
2017
صلاح الدین یوسف
انسدادِ سود کی کوششوں کی ناکامی کی المناک کہانی
10 ؍اپریل 2017 ءکے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے موجودہ چیف جسٹس جناب ریاض احمد خاں (خىال رہے اس بىان كے چند روز بعد موصوف رىٹائر ہوگئے) کے یہ ریمارکس شائع ہوئے ہىں کہ
  • دسمبر
2007
محمد رفیق چودھری
اسلام واحد دین ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے اور اُن کے بارے میں کامل رہنمائی د ی ہے۔ دین اسلام کے سوا دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی تعلیمات کے لحاظ سے اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہو کہ اس میں روحانیت، اخلاق، معاشرت، معیشت اور سیاست سے متعلق مکمل تعلیم و رہنمائی پائی جاتی ہو۔
  • مئی
2011
عذرا شفیع
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلما ن خواتین نے اپنے دین کے لیے بڑ ی قربانیاں دیں۔ اس کے لیے اُنھوں نے قریب ترین تعلقات اور رشتوں کی بھی پروا نہ کی۔خاندان اور قبیلہ سے جنگ مول لی۔مصیبتیں سہیں، گھر با ر چھوڑا ۔غرض یہ کہ مفادِدین سے اُن کا جو بھی مفاد ٹکرا یا، اُسے ٹھکرانے میں اُنہوں نے کوئی تامل اور پس و پیش نہیں کیا
  • اپریل
1999
عبدالجبار شاکر
اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے، اس میں حسن توازن، تناسب اور اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چونکہ اشرفُ المخلوقات ہے، اس باعث اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں بھی عدل کا پہلو نمایاں ہے۔ انسان کو اس جہاں رنگ و بو میں جو تمیز اور ارادہ کی قوتیں اور اختیارات بخشے گئے ہیں، عدل کا تقاضا ہے کہ اس کائنات کی صفوں کو لپیٹ کر ایک ایسا دن برپا کیا جائے جہاں اور جب انسانی اعمال کی جزاوسزا کا فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جا سکے۔
  • اکتوبر
2001
عبدالرحمن کیلانی
معاشرہ سے فتنہ و فساد کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام کے لئے معاشرہ کے افراد کے حقوق وفرائض کی تعیین نہایت ضروری چیز ہے، اور یہ تعیین دو طرح سے ہوتی ہے :
ایک صورت یہ ہے کہ معاشرہ کے کچھ سمجھدار لوگ اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ایسے حقوق و فرائض باہمی مشورہ سے طے کرلیتے ہیں۔
  • نومبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
اکیسویں صدی کے آغاز میں امت مسلمہ مختلف النوع مسائل کاشکار ہے۔مسلمان دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ان مسائل کا معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کی جدو جہد میں امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزکا سامناکرنےکے لیے مؤثر عقلی فکری اور عملی قیادت کا اہم فریضہ بھی انجام دیں۔ملت اسلامیہ کو اس وقت جن چیلنجزکاسامنا ہے ان میں سے نمایاں ترین کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بیشترمسلمان ملکوں کو یورپ کی سیاسی استعماریت سے توآزادی ملی مگراس سیاسی غلامی سے نجات پانے کے باوجود ابھی تک مغرب کی فکری محکوی کا طوق اتارپھینکنےمیں کامیاب نہیں ہوئے ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یورپی استعمارنے جانے جاتے ایک بات کو یقینی بنایا کہ آزاد کردہ مسلمان ملکوں میں اقتداراس طبقہ کے حوالے کر گئےجو مغربی تہذیب کے پروردہ اور ستارتھے انھوں نے ان ملکوں میں قرآن و سنت کے نفاذ کی بجائے نو آبادیاتی قوانین کو جاری رکھا ۔وہ جس نظام تعلیم کی خود پیداوار تھے اسی کو انھوں نے جو ں کا توں برقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کی نئی نسل کی ذہن کوسازی مغربی سانچوں کے مطابق کی، ان مسلم ممالک کا برسر اقتدار طبقہ اگر چہ نسلی طور پر تو مسلمان ہی تھا مگر ان کی فکر سیکولر(لادینی )تھی۔
  • اپریل
1999
نصیراحمد اختر
نظامِ اسلامی کی آفاقیت و وسعت کو دیکھا جائے تو جہاں وہ مسلم افراد کے لیے وسائل انتاج (پیداواری وسائل) کی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، وہاں پر اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم افراد کے لیے بھی وسائل انتاج کی انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اہل الذمہ کے مذہب و ملت کی آزادی کو اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ ایک مسلمان تو اسلام کی حرام کردہ اشیاء کا مالک ہی نہیں بن سکتا لیکن اگر اسلام کی حرام کردہ کوئی شے غیر مسلم کے ہاں قابل انتفاع اور جائز ہے تو اسلام اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلموں کو ان اشیاء کی ملکیت کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم صادر فرمایا کہ "جزیہ کی وصولی میں شراب و خنزیر وصول نہ کیا جائے بلکہ اہل الذمہ ان اشیاء کو فروخت کر کے اس کی رقم جزیہ میں ادا کریں۔"
  • اپریل
2006
عبد الرحمن مدنی
خطبہ مسنونہ کے بعد... اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَذَكِّرْ‌ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ‌ۭ ﴿٢١﴾ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ‌ ﴿٢٢...سورۃ الغاشیہ
''پس آپؐ نصیحت کرتے رہئے، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہی ہیں ، نہ کہ ان پر چھا جانے والے (داروغہ)۔''
  • جولائی
2000
عبدالمالک سلفی
(دنیامیں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی عمر ہے۔اگر انسان نے اس کو آخرت کی بھلائی کےلیے استعمال کیا ،تویہ تجارت اس کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔اور اگر اسے فسق وفجور میں ضائع کردیا اور اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہے وہ شخص دانش مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے  حساب لینے سے پہلے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرلے اور اپنے گناہوں سے ڈر جائے قبل اس کہ کے وہ گناہ ہی اسے ہلاک اور  تباہ وبرباد کردیں۔
زیر نظر مضمون میں بڑے خاتمہ کے اسباب کاتذکرہ  پیش خدمت ہے۔یہ موضوع مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اعمال کادارومدارخاتمہ پر ہے اور انسان جس حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ اور جس حالت میں انسان کی موت واقع ہوگی اسی حالت میں وہ قیامت کے دن قبر سے اٹھایا جائے گا۔حضرت  رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ" (رواہ الحاکم)
  • جنوری
1989
حافظ ثناء اللہ مدنی
انبیاء علیہم السلام کی شہادت یا دشمن کے ہاتھوں قتل کے بارے میں علماء میں دو مختلف آراء مشہور ہیں:
1۔ دشمن کے ہاتھوں رسول کا قتل ناممکن ہے۔
2۔ دشمن کے ہاتھوں نبی یا رسول کا قتل ممکن ہے۔
جیسا کہ متعدد قرآنی آیات سے ظاہر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ ہذا کچھ وضاحت ک متقاضی ہے۔
اولا لفظ قتل کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
قتل کے حقیقی معنی ہیں (موت فطری کے علاوہ کسی اور طریقے سے) روح کو جسم سے جدا کر دینا خواہ ذبح کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اب تفصیل اس اجمال کی ہوں کہ رُسُلُ اللہ دو طبقوں میں منقسم ہے۔
ایک وہ جن کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے وہ جو محج مبلغ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کے مامور نہ تھے۔