• جنوری
1999
عطاء اللہ صدیقی
مضبوط جلد میں درمیانے سائز کے 456 صفحات/قیمت: 180
سفید کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب کمپوزنگ
ملنے کا پتہ: ادارہ خواتین میگزین، چیمبرلین روڈ، لاہور
 
گذشتہ چار صدیوں کے دوران مغرب کے چشمہ ظلمات سے ضلالت اور گمراہی کے جتنے بھی فتنہ پرور فوارے پھوٹے ہیں ان میں "آوارگی نسواں" کا فتنہ اپنی حشر سامانیوں اور تہذیبی ہلاکتوں کی وجہ سے سب فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاش ازم جیسے باطل نظریات نے مغرب کی مذہبی اساس کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا لیکن ان کی یلغار سے خاندانی اقدار اور سماجی قدریں بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ مردوزن کے سماجی رشتوں کی وجہ سے قائم خانگی توازن خاصی حد تک قائم تھا لیکن "عورت ازم" (Feninism) کے ہوش ربا فتنہ نے خاندانی نظام کی عمارت کو اس قدر زمین بوس کر دیا ہے کہ مغرب میں سماجی ادارے کے طور پر خاندان کا تصور تک معدوم ہوتا جا رہا ہے۔
  • جنوری
1996
محمد بلال حماد
مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی رہنما میاں فضل حق 12-13 جنوری کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون

میاں فضل حق کا نام تاریخ پاکستان میں سنیرہ حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑی جوانمردی کے ساتھ بھرپور خدمات سرانجام دیں۔
  • جنوری
1996
ام عبدالرب
زیر نظر مضمون مرحوم کی سب سے چھوٹی صاجزادی (زوجہ مولانا عبدالقدوس سلفی، جو طالبات کی معروف دینی درسگاہ "مدرسہ تدریس القرآن و الحدیث" کی مدیرہ ہیں کے آپ کی وفات پر فوری تاثرات و جذبات پر مشتمل ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ مضمون کچھ ذاتی حوالوں اور یادوں پر مبنی ہے، قارئین کے لئے بصیرت افروز ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے تفصیلی حالات، کتب کا تعارف، معمولات زندگی اور دینی و جماعتی خدمات کا تعارف "مستقل نمبر" میں ملاحظہ فرمائیے۔
  • نومبر
1999
ادارہ
من أبی عبد اللہ خالد بن أحمد العلاونة إلی أخیه الدکتور؍حافظ عبد الرحمٰن مدنی     حفظه الله ورعاه

                        السلام علیکم ورحمة اللّه وبرکاته ، أمابعد:

            فإننی أحمد اللہ إلیکم وأصلی وأسلم وأبارک علی نبینا محمد وعلی آله وصحبه أجمعین وعلی من تبعهم بإحسان إلی یوم الدین۔
  • اکتوبر
2003
میاں انواراللہ
معاشرے میں بڑھتی بے اطمینانی اور لادینیت کی روک تھام کے لئے علماء کرام سرگرم ہیں لیکن مقابل میں اس قدر زیادہ منظم طورپر اور غیرمعمولی وسائل کے ساتھ عریانی ، اِباحیت پسندی اور دین بیزاری کو فروغ دیا جارہا ہے کہ علما کی کوششیں کامیاب نہیں ہوپارہیں۔عالمی سطح پر بھی اسلام کی دعوت کو درپیش مسائل اس پر مستزاد ہیں۔
  • جون
2003
محمد علی قصوری
مولانامحمد علی قصوریؒ اس خاندان کے چشم و چراغ ہیں جن کے اکثر افراد نے برصغیر میں اسلام اور ملک وملت کی خدمت اورجدوجہد ِآزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مولانا عبدالقادر قصوری(سابق صدر انجمن اہلحدیث پنجاب) کے صاحبزادے، معین قریشی (سابق نگران وزیراعظم) کے چچا اور موجودہ وفاقی وزیر خارجہ (خورشید محمود قصوری) کے تایا تھے۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
کچے پکے سیاست دانوں او رکچھ مذہبی رہنما بھی اپنے بیانات میں اس بات کا برملا اظہار کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ فی الحال اسلامی تعزیرات کو نافذ نہ کیا جائے۔ عبوری حکومت نےجب کوڑوں کی سزا کا آغاز کیاتو ملک میں ایک شور برپا ہوگیا۔ایک دہائی اور پکار تھی ۔ غریب مارے گئے! سرمایہ دار بچ گئے جب تک معاشرے کے حالات سازگار نہیں ہوجاتے، ملک سے غربت کاخاتمہ نہیں ہوجاتا۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
ثناء اللہ بلتستانی
فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ و صدر اعلیٰ مشاورتی کمیٹی یونیورسٹی ہذا کی دعوت پر یونیورسٹی کی اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کا چھٹا اجلاس ہوا، اجلاس کی کاروائی نو روز تک چلتی رہی ہر روز ایک نشست ہوئی۔ تمام تر اجلاس چانسلر یونیورسٹی کی صدارت میں ہوا، اس اجلاس میں حسبِ ذیل ماہرین تعلیم، ممتاز علماء اور مفکرین نے شرکت کی۔
  • مارچ
1971
ادارہ
ألحمد لله رب العالمین، والصلاة والسلام علی نبینا محمد وعلی آله و صحبه ومن تبع سنته إلی یوم الدین۔ وبعد ، یخطیٔ کثیرا من یظن أن الرأسمالیة والإشتراکیة نظامان إقتصادیان فحسب، ویحسب أنھما لا یبحثان أو لا یتعرضان للنواحی الأخری، کالنواحی الاجتماعیة والسیاسیة والدینیة ۔۔۔۔ الخ۔ والإشتراکیة شئیأ، لأن حقیقة کل منهما غیر مخفیة أو مستورة۔ فهی ظاهرة بل واضحة کل الوضوح فی الکتب ألتی ألفها أصحاب هذین المذهبین، فبینوا حقیقة کل منهما مفصلا وموضحا۔
  • مئی
1972
عبدالمنان راز
''بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی اسی نقطہ پر مرکوز نظر آتی ہے کہ عالم اسلام میں افتراق و تشتّت کے رجحان کو تقویت دے کر مغربی استعمار کا اُلّو سیدھا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے عجیب عجیب ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ پہلی عالمی جنگ نے انہیں موقع دیا کہ عربوں کی علاقائی عصبیت کو اُبھار کر ریاستِ ترکیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے جائیں اور اس طرح اسے کمزور کر دیا جائے۔
  • مارچ
1980
طالب ہاشمی
پاکستان مین مسیحیت

تالیف :ڈاکٹر محمد رضا صدیقی
ناشر :مسلم اکادمی ۔ 18/29 محمد نگر لاہور 
قیمت :چالیس روپے صفحات :520
برصغیر پاک وہند میں مسیحیت کا پھیلاؤ ایک عبرت انگیز داستان ہےجس کی طرف بہت کم توجہ دی گ‘ی ہے ۔جناب امدادصابیری صاحب کی تالیف ’’فرنگیوں کا جال ‘‘ اس موضوع پر پہلی قابل ذکر کتا ب ہے ۔ انہوں نے برصغیر میں جلال الدین اکبر کےزمانے سے لے کر برطانوی عہد اقتدار تک مسیحت کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا ہے ۔ اس تالیف کے بعد مسحیت کے بارے میں مناظر انہ اور تحقیقی انداز کی کتابیں تو شائع ہوتی رہیں مگر کسی نے مسیحی تبلیغی اداروں کی راز دارانہ اور کھلم کھلا سرگرمیوں کا  جائزہ نہیں لیا حتی  کہ 1952 ء میں ایک مسیحی پرچے ’’ ‘‘ نے اشاعت مسیحیت پر ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ سے پاکستان میں بھی ہلچل پیدا ہوئی ۔ چند کتابچے منظر عام پر آئے جناب حافظ نذر احمد صاحب نے پاکستان میں فروغ مسحیت پر اعد اد وشمار کی زبان میں گفتگو کی اور اہل نظر کو پاکستان میں راتداد کی تشویشناک صورت حا ل کی طرف توجہ دلائی ۔
  • جنوری
1996
بدیع الدین راشدی
ابھی استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود صاحب محدث جلال پور پیروالہ رحمة اللہ علیہ کی جدائی کا غم تازہ ہی تھا کہ اچانک مورخہ 8-جنوری بروز پیر برادر مکرم الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے فون پر اطلاع دی کہ شیخ العرب والعجم زبدة المحدثین العالم الربانی اور دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی، طیب اللہ ثراہ وجعل الجنة منواہ، بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ انا لله وانا اليه راجعون
  • دسمبر
1970
ادارہ
مادری زبان میں بات: صدر ناصر انگریزی اور فرانسیسی بھی جانتے تھے لیکن غیر ملکی رہنمائوں سے بات ''عربی'' میں ہی کرتے تھے۔ ترجمانی کے لئے ترجمان رکھتے تھے (روزنامہ امروز)

اِدھر یہ حال ہے کہ:
  • مارچ
  • اپریل
1976
ادارہ
ماہنامہ ''محدث'' اپنی زندگی کے چھٹے سال سے گزر رہا ہے اور اس عرصے میں سیرتِ رسول ﷺ پر کئی مضامین کے علاوہ ایک خصوصی اشاعت ''رسول مقبول نمبر'' (حصہ اوّل) اور اس کا ضمیمہ پیش کر چکا ہے۔ رسولِ مقبول نمبر ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر مقوبل ہوا۔ اہل قلم دانشوروں نے اپنی قلمی تعاون سے حوصلہ افزائی کی۔ احباب نے پرخلوص مشورے دیئے اور قارئین نے ''محدث'' کی پذیرائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ اس نے ہماری بے مایہ کوششوں کو قبول عام بخشا۔
  • مارچ
  • اگست
1981
انور طاہر
اسلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔
  • مئی
  • جون
1973
ادارہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ! ''محدث'' کا حالیہ شمارہ ہم حسبِ اعلان ''رسول مقبول ﷺ نمبر'' کی صورت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس خاص نمبر کے اعلیٰ معیار سے متعلق کسی قسم کا دعویٰ تو جرأت ہو گی کیونکہ اس کا موضوع ہی سیّد المرسلین، امام المتّقین محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی بحیثیتِ رسول ہے۔ تاہم یہ چند حروف بطور اظہارِ تشکر و امتنان تحدیثِ نعمت کی غرض سے عرضِ خدمت ہے۔
  • فروری
1972
ادارہ
سقوطِ مشرقی پاکستان اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد عوام میں حضرت شاہ نعمت اللہ صاحبؒ بخاری کی طرف منسوب فارسی زبان میں پیش گوئیوں کا بہت چرچا ہوا۔ مختلف جرائد و رسائل اور ملک کے مشہور روزناموں نے ان کو باترجمہ شائع کیا اور بازاروں میں بھی ان پیش گوئیوں کے پمفلٹ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ اس طرح سے تاجروں نے خوب فائدہ اُٹھایا۔
  • مئی
1973
اختر راہی
مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف اپنے دور کے عظیم انسان ہیں بلکہ برصغیر ہند و پاک کے علمائیں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دیگر متعدد خوبیوں کے علاوہ اُن کی خوش بیانی اور مناظرہ کی مہارت کے تو غیر بھی معترف ہیں، تقسیم ہند سے قبل تقریباً نصف صدی تک غیر مسلموں اور گمراہ فرقوں سے ان کی ٹھنی رہی اور مہارت فن اور عظیم الشان کامیابیوں کی بنا پر رئیس المناظرین اور شیر پنجاب کے لقب سے معروف ہوئے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے:
  • اپریل
1972
عظیم الدین
مغربی ممالک کے قانون کے مطابق ۱۸ برس کی عمر سے پہلے کسی مرد یا عورت کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ جونہی یہ مدت پوری ہوئی، ایک امریکن خاتون نے اپنی عمر کے انیسویں سال اسلام قبول کر لیا۔ اس خاتون کا اسلام محض زبانی حد تک نہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اس آخری ضابطۂ حیات کے مطابق ڈھالنے کا عزم کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پردہ کی شدت سے پابندی کرتی ہیں۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
عزیز زبیدی
مولانا انوری لائل پوری مرحوم نے ایک دفعہ یہ انکشاف کیا تھا کہ:

ایک دفعہ رائے پور میں (یعنی حضرت رائے پوری سے) عرض کیا کہ 'الحزب الاعظم' کا ورد رکھتا ہوں! فرمایا:

دلائل الخیرات کو بھی اس کے ساتھ ملا لو!
  • جولائی
1972
عبدالرشید اظہر
ہمارے دینی مدارس کے نصاب پر کسی تبصرہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جن علوم و فنون پر اس کا خاکہ مشتمل ہے ان کی عصری خصوصیات کا ایک مختصر جائزہ پیش کر دیا جائے جس سے ان علوم کی صحیح افادیت اور حقیقی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا کہ ہماری مروجہ نصابی کتب طلباء کی کیسی ذہنی ربیت کر رہی ہیں اور ایسی کتابیں کس حد تک اپنے فنی مقاصد پورے کر سکتی ہیں؟
  • اپریل
1972
ثناء اللہ بلتستانی
لغوی تشریح:

لفظِ ''رحلت'' رَحِلَ۔ يَرْحَلُ رَحْلًا۔ تَرْحَالًا۔ رِحْلَةً سے ہے جس کا مادہ ر، ح، ل یعنی رحل ہے جس کے معنی سفر اور کوچ کرنے کے ہیں، جب اس کا صلہ ''عن'' آئے تو معنی کسی جگہ سے روانہ ہونے، کوچ کرنے، چلے جانے، ترکِ وطن کرنے، ہجرت کرنے اور نقل مکانی کے ہوتے ہیں ۔
  • مئی
1972
ثناء اللہ بلتستانی
قارئین کرام اسوۂ انبیاء کے ذکر کے سلسلہ میں تین جلیل القدر انبیاء کے رحلات علم کا بیان پڑھ چکے ہیں۔ اب جن اسلافِ امت نے اس ورثہ انبیاء کی حفاظت کرتے ہوئے علمی سفر کئے ان میں سے چند ایک کا حال سنیئے:
  • جون
1972
ثناء اللہ بلتستانی
قارئین کرام محدثین کے چند رحلات علم کے ذکر سے ان کی مشقتوں کا اندازہ فرما چکے ہیں۔ تاریخ امم میں مسلمانوں کے اس عظیم کارنامہ کی مثال نہیں ملتی جس کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے۔ واقعی کسی انسان کی پوری زندگی کے اقوال و افعال کا اس طرح جمع ہونا ایک معجزہ ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ہاتھوں قرآن مجید کی طرح اس کی تفسیر و تعبیر یعنی حدیث بھی محفوظ فرما دی۔