• فروری
1972
ادارہ
ماہنامہ ''فکر و نظر'' اسلام آباد جنوری ۱۹۷۱ء:

جماعتِ اسلامی کی مجلس التحقیق الاسلامی کا یہ پہلا شمارہ ہمیں برائے تبصرہ موصول ہوا ہے اداریہ عزیز زبیدی نے لکھا ہے، جس کا موضوع ہے: ''مسلک اہل حدیث کا ماضی اور حال'' یہاں ضمناً اتنا بتا دینا مفید رہے گا کہ جماعت اہل الحدیث خود کو صرف قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کا پابند سمجھتی ہے۔ اس کا نعرہ ہے: «الدّین قال اللہ وقال رسوله»
  • جون
2003
ادارہ
اِدارہ کو محدث کے بارے میں اکثر وبیشتر تعریفی خطوط اور بیش قیمت مشورے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ فتنۂ انکار حدیث کی اشاعت کے موقع پر ہمیں بڑی تعداد میں یہ خطوط موصول ہوئے۔ بعض اہم شخصیات کے خطوط کیعلاوہ معاصر دینی جرائد میں بھی محدث اور اس کے خاص شمارے کے بارے میں تبصرے کئے گئے۔قارئین کی آرا اور معاصر جرائد کے نیک جذبات آپ کے پیش خدمت ہیں۔ (ادارہ)
  • مارچ
1971
ادارہ
اذان ''تأذین'' (باب تفعیل) کا حاصل مصدر ہے جس کے معنی ''اعلان'' کے ہیں۔ نمازوں کے لئے جو اذان کہی جاتی ہے۔ اس سے بھی مقصد اعلان ہی ہے۔ لیکن شریعت میں جو کام دوسری عبادات کا وسیلہ ہیں وہ خود بھی عبادت ہیں جن پر ثواب ملتا ہے جیسا کہ وضو وغیرہ۔ اس لئے اگر اعلان کے لئے الفاظِ مسنونہ کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کئے جائیں تو وہ عبادت نہ ہوں گے
  • جنوری
  • فروری
1974
ثناء اللہ بلتستانی
سنگ بنیاد

جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی)کاسنگ بنیاد 1381ھ، 1961ء میں مدینہ طیبہ میں رکھا گیا۔

جامعہ اسلامیہ کے اغراض و مقاصد

یہ جامعہ تمام دنیاکے مسلمان طالبان علوم دینیہ کے لیے قائم کی گئی ہے او راس کے مقاصد درج ذیل ہیں:
  • اکتوبر
2000
حسن مدنی
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح العبید نے امسال حج کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں  رابطہ کی چوتھی سالانہ کانفرنس سے اظہار موافقت کرنے پر خادم الحرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی دعوت کو  پھیلانے اور بین الریاستی وبین الاسلامی بنیادوں پر اسلامی مشن کی مالی ومعنوی سرپرستی کرنے جیسے نمایاں کارناموں پر مبارکبار کی مستحق ہے۔سیکرٹری جنرل نے ولی عہد مملکت سعودی عرب شہزادہ عبداللہ بن عبد العزیز اور نائب وزیر اعظم وزیر دفاع شہزادہ  سلطان بن عبدالعزیز کی اس ضمن میں کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔
  • جون
1980
عبدالرحمن کیلانی
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ’’میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا‘‘ (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴) 
2. ثم قال اِن مِتُّ فاقتلوہ وان شتُ فانا اعلم کیف اصنع به۔‘‘ فقال جندب بن عبد الله ’’یا امیر المومنین! ان مت نبایع الحسن؟‘‘ فقال ’’لا امرکم ولا انھا کم، انتم اَبْصَدُ۔‘‘ (البدایہ والنہایہ ص ۳۲۷، ج۷) 
پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں مر گیا تو اس (قاتل) کو قتل کر دینا اور اگر میں زندہ رہا تو میں جانوں میرا کام۔‘‘ حضرت جندب بن عبد اللہ نے کہا۔ ’’اے امیر المؤمنین! اگر آپ فوت ہو جائیں تو ہم حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ فرمایا: ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ تم خود بہتر سمجھتے ہو۔‘‘ 
3. بُوْیَعَ للحسن بن علی علیه السلام بالخلافة وقیل ان اوّل من بایعه قیس بن سعد قال له ابسط یدک ابا یعک علٰی کتاب الله عزوجل وسنة نبیه (طبری ج ۵ ص ۱۵۸) 
حضرت حسنؓ بن علیؓ کی خلافت پر بیعت ہوئی اور کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے بیعت کی وہ قیس بن سعد تھا۔ اس نے کہا اپنا ہاتھ اُٹھائیے۔ میں آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر بیعت کرتا ہوں۔‘‘
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔عن محمد بن عبد الله بن سوار بن نویرہ، و طلحة بن الاعلم، و ابو حارثه وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینة بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنه خمسة ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونه۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیة، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرة بعد مرة۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونه فارسلوا الیه حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم ویطلب المصریون طلحة فاذا لقیھم باعَدَھم وتیرا من مقالتھم مرة بعد مرة، وکانوا مجتمعین علٰی قتل عثمان، مختلفین فیمن یَتوون، فلما لم یجدوا مما لثا ولا مجیبًا جمعھم الشر علی اَولِ من اجابھم وقالوا: لا نُولّی احدا من ھؤلاء الثلاثۃة فبعثوا الی سعد بن ابی وقاص وقالوا انک من اھل الشورٰی فرایُنافیک مجتمع، فَاقَدِم نبایعک۔ فبعث الیھم: اِنِّی واین عمر فرضا منھا فلا حاجة لی فیھا۔ ثم انھم اتوا ابن عمر عبد الله، فقالوا: انت ابن عمر فقم لھذا الامر: فقال: ان ھذا الامر انتقاماً والله لا اتعرض به فالتمسوا غیری۔‘‘ فَبَقُوا حَیَارٰی لا یدرون ما یستون والامر امرھم (ص ۲۳۴) 
محمد بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن سوار بن نویرہ، طلحہ بن الاعلم، ابو حارثہ اور ابو عثمان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں شہادتِ عثمان کے بعد پانچ دن تک غافقی بن حرب امارت کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ یہ لوگ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو امارت قبول کرے لیکن ناکام رہے۔ مصری لوگ حضرت علیؓ کے پاس آئے تو وہ ان سے غائب ہو گئے اور مدینہ کی ایک فصیل میں پناہ لی۔ جب یہ ان سے ملے تو حضرت علیؓ نے ان سے اور ان کے مطالبہ سے بار بار بیزاری کا اظہار کیا۔ اور کوفی لوگ حضرت زبیر کو امام بنانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے حضرت زبیر کو کہیں نہ پایا۔ تو ان کی تلاش کے لئے آدمی بھیجے۔ حضرت زبیرؓ نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اور بصری لوگ حضرت طلحہؓ کو امیر بنانا چاہتے تھے۔ جب یہ ان سے ملے تو انہوں نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ یہ شر پسند حضرت عثمان کو شہید کر دینے پر متفق تھے مگر نئے امام کے تقرر میں اختلاف رکھتے تھے۔ پھر جب ان لوگوں کو کوئی بھی ایسا آدمی نہ ملا جو ان کے مطالبہ کو قبول کرتا یا جھوٹے وعدہ سے...
  • جنوری
2001
شفیق کوکب
ابوالکلام آزاد،مولانا دسمبر رمضانُ المبارک اورتین قسم کے لوگ ۲ تا ۱۳
ثریا علوی، پروفیسر جولائی بیجنگ پلس فائیو کانفرنس ۲ تا ۱۲
ڈاکٹر ظفر علی راجا فروری سود کی عدالتی ممانعت کے بعد...! ۲تا 4
  • دسمبر
2001
محمد شاہد حنیف
اکبر ربانی،ڈاکٹر محمد تفسیر ابن کثیر...منہج اور خصوصیات ستمبر ۹ تا ۲۸
عبدالرحمن کیلانی ،مولانا تعددِ ازواج،متعہ اور حق مہر نومبر ۱۹ تا ۳۵
عبدالغفار حسن،مولانا تفسیرسورة العادیات جون ۱۲ تا ۱۶
  • دسمبر
2013
حسن مدنی
کسی بھی ادارے، اس کے بانیان ومنتظمین اورمنسوبین کے لئے حقیقی مسرّت کے لمحات وہ ہوتے ہیں جب وہ ادارہ اپنے پیش نظر مقاصد کی طرف احسن انداز میں پیش قدمی کرے اور اس میں ترقی ہوتی نظر آئے۔ ایسے ہی خوشی کے لمحات جامعہ لاہور الاسلامیہ میں بھی آئے جب اس ادارے میں علوم اسلامیہ کے ایسے اعلیٰ تعلیمی مراحل کا آغاز ہوا جو سرکاری طور پر منظور شدہ ہیں اور یہ اعزاز برصغیر پاک وہند کی کسی بھی اسلامی درسگاہ کو سب سے پہلے حاصل ہوا ہے...!!
  • نومبر
0
ادارہ
زیر نظر مقالہ مختلف حلقوں کی طرف سے ''اسلام کے سیاسی نظام'' کے بارے میں پیش کردہ افکار کا ایک جائزہ ہے مقالہ کی تیاری میں جو نکات پیش نظر رہے ان کی طرف اشارہ ضروری ہے تاکہ بعض مشہور شخصیتوں کا باہمی مختلف نکتہ نظر قارئین کے لیے تشویش کا باعث نہ ہو۔جناب انور طاہر صاحب نے ''اسلام کے سیاسی نظام '' کے بارے میں جملہ پیش کردہ افکار کو کتاب و سنت پر پیش کرکے ، اس سے مطابقت یا عدم مطابقت کو معیار بنایا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مقولہ ہی ان کی منہاج فکر ہے۔
  • جون
1981
انور طاہر
سلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔ جس کے نتیجے میں دورِ حاضر کے مسلمان اسلام کو دین کامل قرار دینے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ان تصورات پر کامل یقین کو بھی جزوِ ایمان سمجھ بیٹھے ہیں، جن پر ایمان لانے کے بعد اسلام کی اساس (توحید و رسالت) کم از کم عمل کی جان نہیں بنتی۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے: 
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔ 
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں: 
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔ 
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔ 
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1:امامت قریش میں ہو گی
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے[1]۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ’’الامراء من قریش‘‘ (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ 
$11.الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لِمُسْلِمِھم وکافرھم تبع کافرھم (مسلم، کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافة فی قریش) 
’’موجودہ صورت حال یہ ہے کہ لوگ قبیلہ قریش ہی کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جو مسلمان ہیں وہ مسلمان قریش کی اور جو کافر ہیں وہ کافر قریش کی۔‘‘ 
گویا امر خلافت کو فیصلہ قریش سے منسوب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی دوسرے فیصلہ کی اطاعت گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔ 
آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد خلفا قبیلہ قریش سے ہوں گے اور ۱۲ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا اور یہ سب قبیلہ قریش سے ہوں گے۔ 
$12.عن جابر بن سمرة یقول سمعت النبی ﷺ یقول: لا یزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا۔ فقلت لابی ما قال؟ فقال کلھم من قریش (مسلم، ایضا) (بخاری کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے: 
$11.      اسلام ہمارا دین ہے۔ 
$12.      سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ 
$13.      جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ 
$14.      طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ 
عوام میں دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ نعرہ خاصا مقبول ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نعرہ کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور ہر ایک جزو دوسرے جزو کو حاصل قرار دیتا ہے۔ 
اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے لہٰذا اسے سیاست اور معیشت کے لئے دوسرے نظاموں سے کچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ہمارا دین فی الواقعہ سوشلزم  اور مغربی جمہوریت کا محتاج ہے تو پھر ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین نامکمل ہے۔ 
پھر جس طرح اسلام ایک دین یعنی مکمل ضابطۂ حیات ہے اسی طرح سوشلزم کا دائرہ بھی معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دنیاوی عقائد اور سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گویا سوشلزم بھی بذاتِ خود ایک دین ہے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر کی بنیاد خدا کی حاکمیت اور آخرت میں اعمال کے جزا و سزا کے عقیدہ پر اٹھتی ہے۔ جب کہ ثانی الذکر ان عقائد کا یکسر منکر ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ملتی۔ مصلحتِ وقت اور حالات سے زیادہ سے فائدہ اُٹھانا ہی ان کے نزدیک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1971
ادارہ
نیا عیسوی سال اپنے جلو میں کئی مسائل لیے ہوئے آیا ہے، جنہیں گذشتہ سال کی سہ ماہی نے بہت اہم بنا کر ملک و ملت کے کندھوں پر عظیم بوجھ رکھ دیا ہے۔ خصوصاً مشرقی پاکستان میں ہولناک سمندری طوفان کی ناقابلِ تلافی تباہ کاریاں، انتخاب میں لادین اور سوشلسٹ عناصر کی غیر متوقع کامیابی اور مشرقی وسطی میں شاہ حسین اور حریت پسندوں کی خانہ جنگی پاکستان اور عالم اسلام کے لئے ایسے مسائل ہیں جن سے کوئی انسان دوست، محب وطن مسلمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔
  • فروری
  • فروری
1971
ادارہ
قارئین کرام نے ''محدث'' کی پہلی اشاعت کے بعد ہمیں جس طرح تحسین و تبریک کے کلمات سے نوازا ہے ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے احباب اسی طرح خصوصی توجہ اور نیک دعاؤں سے ہمیں یاد رکھیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہمارے شاملِ حال نہ ہوتا تو ہم ''محدث'' کو اِس صورت میں پیش نہ کر سکتے۔ ہم اپنی کوتاہ ہمتی کے بلا تامل اعتراف کے ساتھ بعون اللہ کوشش کریں گے
  • اپریل
2003
ادارہ
(1) محدث کے سائز میں تبدیلی :۳۰، ۳۵ برس سے ماہنامہ 'محدث'جس سائز میں شائع ہوتا رہا ہے، طباعتی رجحانات میں تبدیلی کے باعث اس سائز کاحصول اَب مشکل ہوگیا ہے۔ 26/8×20 سائز کا کاغذ جہاں چند سالوں سے مارکیٹ میں آنا بند ہوگیا ہے، وہاں اس سائز پر اُٹھنے والی طباعت اور جلد بندی کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں کیلئے بھی یہ سائزمتروک ہو گیا۔
  • جون
1976
ادارہ
حرمین شریفین کےاماموں کے دورہ پاکستان سے فی الواقع نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں اماموں نے ﷾ ۔واپس آکر وطن عزیز کے متعلق انتہائی اچھے جذبات کا اظہار کیا اور ان شاء اللہ یہ رویہ پاک سعودی روابگ کے ضمن میں خصوصا ااور اتحاد عالم اسلامی کے مطابق تنگ نظر اور ناعاقب اندیش عناصر نے ان مقدس ومعزز مہانوں کےبارے میں یہ ہتک آمیز فتویٰ جاری کیا ہے کہ ان کی اقتداء میں نماز ناجائز ہے اور جن لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان پر اعادہ واجب ہے۔
  • اکتوبر
1995
حسن مدنی
زبان صرف اظہار خیالات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ ہر زبان کے پیچھے ایک تہذیب و ثقافت بھی ہوتی ہے عربی زبان تو قرآن و حدیث کی زبان ہے، اسی لئے وہ خالق کائنات کی معرفت اور دین فطرت کی ترجمانی کا ایک مخصوص مزاج بھی رکھتی ہے اس لئے یہ مسلمانوں کی بین الاقوامی زبان ہے۔ چونکہ اسلامی شریعت کے نہ صرف تمام بنیادی ماخذ عربی زبان میں ہیں بلکہ یہی زبان مسلمانوں کے روشن ماضی اور علمی ورثہ کی امین بھی ہے،
  • جنوری
2012
شفیق کوکب

محمدزبیر ،ڈاکٹر حافظ کیا صفاتِ الہیہ میں ائمہ اربعہ 'مفوضہ'ہیں ؟ مارچ 11۔38
محمداسحٰق طاہر،حافظ صحابہ کے متعلق اہل السنّہ والجماعہ کا عقیدہ اپریل 10۔25 محمدزبیر ،ڈاکٹر حافظ برصغیر کے عام حنفی علما کا عقید ہ قرآن اپریل 26۔36 ابوعبداللہ طارق ملتِ اسلامیہ میں شرکِ اکبر کا وجود جون 13۔

  • جنوری
2011
شفیق کوکب
ابوالجلال ندویؒ، مولانا        حب ِمال اور قرآنی دعوت اپریل۱۹-۳۰
ابوالجلال ندویؒ، مولانا        حب مال اور قرآنی دعوت جون۲۱-۳۲
محمدسعد شیخ                           عیسائیوں کا تیار کردہ جعلی قرآن جولائی ۵۶-۶۶
  • فروری
2014
شفیق کوکب
جنوری 2012ء تا دسمبر2013ء ... جلد44،45 ... عدد353تا363... 11شمارے

ایمان وعقائد

ابوعبداللہ طارق اہل السنّہ اور مرجئہ کون ہیں ؟[قسط1] جنوری12 20۔33
  • مارچ
1989
عبد الرحمن مدنی
قارئین کرام!
ماہنامہ "محدث" کے گزشتہ تین شماروں میں جناب پروفیسر محمد دین قاسمی کا مضمون بعنوان "اشتراکیت کی درآمد قرآن کے جعلی پرمٹ پر" شائع کیا گیا۔ جس کے ردِعمل میں ناظم ادارہ "طلوعِ اسلام" لاہور کی طرف سے مدیرِ اعلیٰ "محدث" کو خط موصول ہوا جس میں جناب قاسمی صاحب کے مضمون کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس پر ادارہ نے یہ خط براہِ راست صاحب مضمون کو ارسال کر دیا، جس کے جواب میں جناب موصوف نے ایک مفصل خط بنام ادارہ طلوعِ اسلام لکھا اور اس کی ایک نقل ہمیں بھی ارسال فرمائی۔
ہم اپنی سابقہ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی فراخدلی کے ساتھ ادارہ "طلوعِ اسلام" کا خط ان کی خواہش کے مطابق اور جناب قاسمی صاحب کا جواب شائع کر رہے ہیں اور اپنے معاصر "طلوعِ اسلام" سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ہماری طرح وہ بھی ان دونوں خطوط کو شائع کرے گا کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔۔۔۔ادارہ
  • دسمبر
  • جنوری
1972
ادارہ
ماہنامہ ''سیارہ'' لاہور نومبر ۱۹۷۱ء

''یہ فلمی رسالوں اور ائجسٹوں کا دور ہے۔ فلم اور سنسنی خیز ڈائجسٹوں نے مل کر ملت کے مذاق و مزاج پر جو شبخون مارا اور ایمان و عقائد کو جس طرح خراب کیا ہے وہ ہم سب پر اظہر من الشمس ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس دور میں دینی جرائد کا اجراءکیے ہوئے ہیں