• دسمبر
1999
طاہرہ بشارت
(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))
  • ستمبر
2006
نور محمد غفاری
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے جو اپنے تمام شہریوں کی حاجات و ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غیرمسلم اسلامی ریاست میں دوسرے درجہ کے شہری ہوں گے اور اسلامی ریاست پر ان کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی جبکہ یہ بات محض مغالطہ ہے کیونکہ اسلام کا نظامِ کفالت ِعامہ اسلامی ریاست کے تمام شہریوں کے لئے بلا تمیز مذہب ونسل ہے۔ اس کی شرط صرف اسلامی ریاست کا وفادار شہری بن کر رہنا ہے۔
  • اپریل
1973
منظور احسن عباسی
مادی ناز و نعم اور دنیوی ترقیات کو ایمان و اسلام کا ثبوت یا اس کے مقاصد میں سے تصور کرنا اسلام کی توہین ہے۔ اسی طرح یہ خیالات کہ کسی فرد یا جماعت کا ترفع یا حکومت و سلطنت، مال و جاہ، ایجادات و اختراعات اور علم و ہنر میں برتری حاصل کر لینا ہی اس کے مذہبی عقائد یا اخلاقی نظریات کے برحق ہونے کی دلیل ہے اور یا یہ خیال کرنا کہ جو لوگ مادی تفوّق کے اس مقام پر فائز ہیں
  • جنوری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
  • اگست
1999
صلاح الدین یوسف
کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا، جن اُصولوں پر متحدہ ہند کی تقسیم عمل میں آئی تھی، ان میں ایک اُصول یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ لیکن اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ راج نے اس اصول کے برخلاف بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان کا بننے والا یہ حصہ ایک متنازعہ صورت میں قائم چلا آ رہا ہے۔
اس مسئلے پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قابض ملک بھارت کا وہ رویہ ہے جو عدل و انصاف کے مسلمہ اُصولو ں اور بین الاقوامی ضابطوں کے سراسر خلاف ہے۔ دوسرے، استعمال ملکوں کے مفادات ہیں جو اس وقت قوت کے نشے میں مخمور دنیا کے چودھری بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ تیسرے، بھارت جو نسبتا پاکستان سے بڑا ملک ہے اور کافر ہے، بینُ الاقوامی طاقتیں اسے ناراض کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ اس کی ناز برداری میں لگی رہتی ہیں۔ چوتھے، خود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ بھی اس میں رکاوٹ چلا آ رہا ہے، جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
ہمارے پاکستانی حکمران بدقسمتی سے جہاد کی اہمیت اور جذبے سے عاری ہی رہے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1981
حافظ محمد سعید
پندرھویں صدی ہجری امت مسلمہ کے سامنے فکر و عمل کی ایک دعوت پیش کر رہی ہے۔ آج امت کے ہر فرد کو اپنے نصب العین مقاصد اور فرائض کا شعور اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ اپنی منزل کا تعین کر کے اس تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں صرف کر دینا ہے اور نتیجتا دنیا کے سیاسی اور فکری افق پر اسلام کو غالب نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ موجودہ حالات اسی کا تقاضا کرتے ہیں اور امت کی بقاء اور عروج کا انحصار اسی بات پر ہے۔
اسلام زمان و مکان کی تمام بندشوں سے بالا ایک دین ہے۔ جو بنی نوع انسان کے سامنے امن و سلامتی کی دعوت پیش کرتا ہے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام کے اندر وہ فطری اور استدلالی قوت ہے کہ جب بھی اس کے اپنے رنگ میں کوششیں کی گئیں یہ غالب نظام کے طور پر ابھرا۔ دنیا کے ہر نظام اور قوتِ پر غالب آنا اس کی نیچر ہے کیونکہ حق کی شان ہی یہ ہے کہ (ألحق  يعلو ولا يعلى عليه) یعنی حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عالمگیر حقیقت کو دعوتِ اسلام کے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا۔ جب "لا اله الا اللہ" کو پیش کیا تو اس کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی:
(هى كلمة واحدة  تعطونيها  تملكون بها العرب  وتدین لکم بها  العجم)
یعنی بظاہر تو یہ ایک کلمہ ہے۔ لیکن اس پر ایمان و عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ تم عرب کے مالک ہو گے اور پورا عجم تمہارے زیرنگیں ہو گا۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
ادارہ
مملکت پاکستان، پاکستانی ملت اسلامیہ کے حسین اور مبارک خوابوں کی ایک مبارک تعبیر تصور کی گئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ بات کچھ بے جا توقع بھی نہیں ہے، اگر علامہ اقبال، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور بانیٔ پاکستان جناب محمد علی جناح، اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے! کو مہلت ملتی تو متوقع تھا کہ مسلمانانِ پاک و ہند اپنی آنکھوں سے وہ پاکستان ضرور دیکھ لیتے جس کا روزِ اول نعرہ لگایا گیا تھا، کیونکہ یہ عظیم لوگ تھے، وہ اسلامی ریاست کے تقاضوں اور اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ؎           قولِ مرداں جاں دارد۔
  • اگست
2008
عبدالرشید ارشد
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خفیہ فوجی ایجنسی ISIآج کل اپنے پرایوں کے تابڑ توڑ حملوں کی زد میں ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا، جب کوئی پھلجھڑی نہ چھوڑی گئی ہو۔ آئی ایس آئی کا وزارتِ داخلہ کے ماتحت جانا ہو، اُلٹے پاؤں اُس کی واپسی ہو یاطالبان کیساتھ 'محبت کی پینگیں ' یا اس سے بھی آگے عالمی سطح پر ہونے والی ہرطرح کی دہشت گردی ہو، آئی ایس آئی کا نام سرفہرست ہے۔
  • جنوری
1996
ادارہ
جناب صدر! ملک و ملت کی تڑپ رکھنے والا ہر ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ پاکستان جو دور جدید میں اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرض وجود میں آیا، اس پر نصف صدی گزرنے کو ہے اور تعمیر وطن میں سب سے ضروری کام تعلیم و تربیت کا ہے، وہ تعلیم و تربیت جو قوم کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے، جو "اقرا" کے حکم کی صورت مسلمانوں کے لئے وحی الہیٰ کا پہلا ابدی پیغام ہے اور جو ماضی کے شاندار ورثہ اور درخشاں مستقبل تک پہنچانے کی ضامن ہے۔ اسی تعلیم کو پاکستان میں مسلسل کیوں اکھاڑ پچھاڑ کا شکار بنایا جا رہا ہے؟
  • فروری
2011
حسن مدنی
4 جنوری 2011ء کی شام 5 بجے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں قتل کردیا گیا۔قتل کے فوراً بعد گرفتار ہونے والے ممتاز قادری کا موقف یہ تھا کہ اس نے یہ قتل خالصتاً ذاتی نیت اور اِرادے سے کیا ہے، اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے 'قانونِ امتناع توہین رسالت' کو 'کالا قانون' کہا اور توہین رسالت کے مجرموں کی تائید اور پشت پناہی کی۔
  • جنوری
1998
حمیداللہ عبدالقادر
ابو محمد کنیت ہے۔ احمد بن سعید بن حزم بن غالب بن صالح نام ہے۔ (1) پیدائش: 384ھ (2) جبکہ وفات: 456ھ (3) کی ہے۔
ان کے متعلق علماء کی آراء
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی جلالتِ علمی اور عظمت ذات کا اعتراف کیا ہے۔ (4) ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ علوم حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ (5) اخلاق فاضلہ کے مالک تھے" سعید الافغانی اور منتصر الکتانی کے نزدیک "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھا" (6) خیرالدین الزرکلی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کتاب و سنت کے ماہر تھے۔ حق گو اور بے باک تھے" انہی کے بارے میں یہ مقولہ بھی منقول ہے لسان ابن حزم و سيف الحجاج شقيقان (7) کہ "ابن حزم کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار سگی بہنیں ہیں"
امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں "ابن حزم بہت بڑے عالم اور مجتہد تھے" (8) عمر رضا کحالہ لکھتے ہیں: "ابن حزم فقیہ، ادیب، ماہر اصول، محدث، حافظ اور تاریخ دان تھے" (9)
  • مارچ
2012
حسن مدنی
'مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان' کے زیر اہتمام 'پیغام ٹی وی' نے 25؍فروری 2012ء سے اپنی باقاعدہ نشریات کا آغاز کردیا ہے۔ پیغام ٹی وی نے مدیر 'محدث' سے پاکستانی سیاست کو درپیش مذکورہ بالا اہم مسئلہ پر انٹرویو کیا جسے بعد میں ایک سے زائد بار چینل پر نشر کیا گیا۔ مذکورہ انٹرویو ضروری اصلاح کے بعد ہدیۂ قارئین ہے۔
  • اپریل
1972
ادارہ
صدر بھٹو کو روس جا کر مسٹر کو سیجن سے اور پاکستان میں بلا کر برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر ڈگلس ہیوم سے جو کچھ سننا پڑا ہے اس سے ہمیں بڑی مایوسی ہوئی ہے۔ یہ دونوں لیڈر باتوں باتوں مین جس طرح بھارت اور نام نہاد بنگلہ دیشی کی ثنا خوانی کرتے رہے ہیںِ وہ ان کے دشمنانہ اور غیر منصفانہ رویہ کی ایک بد ترین مثال ہے۔ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ ط
  • ستمبر
2006
عطاء اللہ صدیقی
موجودہ دورِ حکومت میں بالخصوص 'پاکستان میں اسلام یا سیکولرازم؟' کو مختلف پہلوئوں سے زیر بحث لایا جارہا ہے۔ وطن عزیز میں بعض لوگ ایسے ہیں جو قیامِ پاکستان کی اساس اور نظریۂ پاکستان سے ہی منحرف ہیں ۔ اپنے مزعومہ مقاصد کے لئے وہ تواتر سے قائد اعظم کے بیانات کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں ۔ ذیل میں اس حوالے سے قائد اعظم کے بیانات اور موقف کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے مقصود محض تاریخی حقائق اور امرواقعہ کی درستگی ہے۔ 
  • جولائی
1990
عبد الرحمن مدنی
آج کل نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جو چند  مسائل اہمیت سے ملک و ملت کو در پیش ہیں اُن کے بارہ گذشتہ شمارہ میں ہم اجمالی تبصرہ کر چکے ہیں ۔آج کی صحبت  میں ہم سپر یم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے 5/جولائی۔1989ء،کے ایک فیصلہ کی روشنی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی پچاس سے کچھ اُوپر دفعات کے کالعدم قرار پانےسے بظاہر جو قانونی خلاء باور کرا یا جا رہا ہے اس پر اپنی گذارشات پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ قبل ازیں یہی خلاء حق شفع کے قانون مجریہ 1913،کی کئی دفعات کو عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بنچ کی طرف سے غیر اسلامی قرار دینے سے بھی پیدا ہوا تھا جو 31/جولائی 1986ءتا 29/مارچ 1990ءتقریباً3سال آتھ ماہ قائم رہا ۔حتیٰ کہ حکومت پنجاب نے نیا حق شفع کا قانون نافذ کر دیا۔ جسے پھر دوبارہ احکا م اسلامی کے خلاف ہو نے کی بناء پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے ۔
  • جنوری
1998
ادارہ
سید وصی مظہر ندوی صاحب کا مضمون بعنوان "خواتین کی نشستیں کیوں اور کیسے؟" کچھ عرصہ قبل قومی اخبارات میں شائر ہوا۔ ندوی صاحب کے خیالات سے ہمیں اصولی طور پر اتفاق ہے۔ اس مسئلے کے متعلق کچھ مزید باتیں غور طلب ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز بھی ہے؟ ہمارے خیال میں اس مطالبے کا کوئی معقول جواز سامنے نہیں آیا۔ اگر اس کو "عورت دشمنی" کے زمرے میں شمار نہ کیا جائے تو درج ذیل نکات پیش خدمت ہیں
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
10اکتوبر1998ءکو قومی اسمبلی نے آئین میں 15ویں ترمیم کا بل،دو تہائی اکثریت سے منظور کر دیا ہے۔یہ وہی شریعت بل ہے جو28اگست کو اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور جس پر اب تک بحث ونظر اور نقد واعتراض کا سلسلہ جاری ہے۔اس بل میں آئین کی239ویں شق میں ترمیم کرنا بھی شامل تھا،جس پر سب سے زیادہ یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ اس سے سینٹ کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔حکومت نے اس بل سے اس ترمیم کو حذف کردیا ہے۔اس اعتبار سے سیاسی جماعتوں کا جو سب سے بڑا اعتراض تھا،اسے ختم کردیا گیا ہے،حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہےکہ اس نے اپنی بات پر اصرار نہیں کیا،حالانکہ وہ اپنے اس موقف پر بہت زور دے رہی تھی،لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے موقف سے ہٹ کر معترضین کا ایک بڑا اعتراض دور کردیا ہے۔
لیکن دینی واسلامی جماعتوں کی طرف سے ایک بات یہ کہی جا رہی تھی کہ اس بل میں ایسے الفاظ کا اضافہ ضرور کیا جائے،جس سے قرآن وسنت کی بالادستی یقینی ہو جائے اور ہمارے آئین کا وہ تضاد دور ہو جائے،جو اسلامی نظام کے نفاذ سے بچنے کے لیے عمداًاس میں رکھا گیا ہے تاکہ حکمران آئین کی بعض خوش نماشقوں سے عوام کو بھی بہلاتے رہیں اور دوسری شقوں کی رو سے وہ نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات سے پہلو تہی بھی کرتے رہیں۔ہمیں شدید خطرہ ہےکہ جب تک آئین کے اس تضاد کو دور نہیں کیا جائے گا،موجودہ شریعت بل کے پاس کر لینے سے بھی کچھ نہیں ہوگااور حکومت بدستور نفاذ شریعت سے گریزاں رہے گی،
  • اپریل
1992
ادارہ
اکثر دانشور اس دنیائے ہست وبود میں رونما ہونےوالے واقعات کو کسی نہ کسی سبب یا شخص سے ملحق کردیتے ہیں۔اور اپنی ہمہ دانی کے غرور میں وہ اس حقیقی مدبر الامور،احکم الحاکمین وحدہ لاشریک کے اختیار و تصور کو اپنے ذہن سے یکسر خارج کردیتے ہیں کہ ہر "سبب" اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔اور ہر شخص کی حیات وموت،عقل و ہوش اسی کے اختیار مطلق میں ہے جس کو خدائے عزوجل نے اپنے کلام میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ارشاد ہے۔
﴿وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴿١٠٩﴾...آل عمران
"اور جو کچھ آسمانوں میں اور جوزمین میں ہے۔ اللہ ہی کا ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
  • ستمبر
1987
ادارہ
فکر و نظر                                                                                                                                            (گزشتہ سے پیوستہ)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پارلیمنٹ او رتعبیرِ شریعت
(بسلسہ اقبال اور اجتہاد)
علامہ اقبال کے حوالے سے ’’پارلیمنٹ اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر جو مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کئے جارہے ہےیں، ان پر محض دماغ سوزی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ بات تو وہی  قابل قبول ہوگی جس کے پیچھے قوی دلائل موجود ہوں گے۔ چنانچہ سابقہ گزارشات میں اس سلسلہ کی تمام تر تفصیلات سمیت ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر ائمہ سلف (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تقلید بُری شے ہے، تو یہی شے علامہ اقبال کا نام آجانے سے قابل تعریف کیونکر ہوجائے گی؟ کیا خود علامہ اقبال، جوتقلید کے بجائےاجتہاد پر زور دیتے رہے، اپنی تقلید پر راضی ہوسکتے تھے؟
بہر صورت پارلیمانی اجتہاد کے موضوع پر مذکورہ نظریات (جن کی تفصیل شمارہ اگست کے فکرونظر کی ابتدائی سطور میں دیکھی جاسکتی ہے) کی صحیح تنقیح بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر زیر بحث میں درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ!
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالرحمن کیلانی
16 اکتوبر 1979 ء کو صدر پاکستان نے تمام  سیاسی  پارٹیوں کو  کالعدم قرار دے کر اور انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر کے ایک دفعہ  پھر ملک و قوم کو تباہی سے بچا لیا ہے ۔ ہم اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور جہاں تک ہمارا مطالعہ ہے عوام کی اکثریت صدر موصوف  کے اس فیصلے پر نہایت خوش اور تہ دل سے مشکور ہے ۔
ویسے تو مغربی جمہوری نظام کا یہ خاصہ ہے کہ اس کے زیر سایہ بہت  سی سیاسی جماعتیں معرض وجود میں آجاتی ہیں ،لیکن  پاکستان کی سر زمین اس معاملے میں ضرورت سے کچھ  زیادہ ہی زرخیز ثابت ہوئی ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جب انتخابات کے انعقاد کا دور دورہ ہو تو کئی نئی جماعتیں  اس سرعت  سے نمودار ہونے لگتی ہیں ۔ جیسے  موسم برسات میں ’’حشرات الارض    ‘‘ جولائی 1977 ء میں جب موجودہ حکومت  نے عنان حکومت  سنبھالی تو اس وقت صدر موصوف کے بیان کے مطابق ان جماعتوں کی تعداد 46 کے لگ بھگ تھی ۔ظاہر ہے کہ کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد کبھی خوشگوار  نتائج پیدا نہیں کر سکتی  لہذا صدر موصوف نے کئی بار  انتباہ کیا کہ ان جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد قوم و ملک کے لئے تباہ کن ہے
  • دسمبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
پاکستانی این جی اوز کے راہنماؤں پر اچانک یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت غیر آئینی وغیر قانونی ہے پاکستان این جی اوز فورم کے مرکزی راہنماؤں نے ،سنگی فاؤنڈیشن کے راہنماؤں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این جی اوز میں کام کرنے والے افراد جو وزیر بن گئے ہیں ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا کیونکہ ملک کی تین ہزار نمائندہ این جی اوزاس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت غیر آئینی ہے جسے عوام کا کوئی ،مینڈیٹ ،حاصل نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے این جی اوز کے خلاف دباؤ بہت بڑھ گیاہے۔(روز نامہ نوائے وقت : یکم ستمبر 2000ء)
جنرل پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں این جی اوز کی اچھل کود اور آؤ بھگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔فوجی حکومت نے آتے ہی وفاقی اور صوبائی کابینہ میں این جی اوز کے متحرک افراد کو وزارتیں دے دیں عمر اصغر خان عطیہ عنایت اللہ جاوید جبار زبیدہ جلال شاہین عتیق الرحمٰن اور چند دیگرخواتین و حضرات دیکھتے ہی دیکھتے فوجی حکومت کے نفس ہائے ناطقہ بن گئے حکومت کے دیگر روشن خیال وزراء کی رفاقت سے این جی اوزبرانڈ  وزراکو مزید روحانی تقویت ملی۔
  • نومبر
2006
ڈاکٹر سعد بن ناصر
ہیئة کبار العلماء سعودی عرب کے ممتاز علما پر مشتمل ایک کونسل ہے جو سرکاری سطح پر مصروفِ عمل ہے اس کونسل سے سعودی عوام اپنے مسائل کے حل کے سلسلے میں رجوع کرتے ہیں۔ سعودی معاشرے میں علما کی اس سپریم کونسل کو انتہائی وقیع حیثیت حاصل ہے اور شرعی موضوعات پر ان کی رائے حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے۔ یہ مایہ ناز اہل علم دیگر عالم اسلام میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں بھی اُمت ِمسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ زیر نظرتحریر اسی کونسل کے معزز رکن جناب ڈاکٹر سعد بن ناصر شَثری کی ہے۔
  • نومبر
2006
حسن مدنی
گذشتہ دنوں برطانیہ کے ولی عہدپرنس چارلس اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان کے پہلے دورہ پر آئے۔ شہزادے کی والدہ ملکہ الزبتھ نہ صرف برطانوی ریاست کی سربراہ ہیں بلکہ وہ چرچ آف انگلینڈ اور چرچ آف سکاٹ لینڈ کی صدر ہونے کے ناطے مقتدرروحانی پیشوا بھی ہیں۔ ولی عہد ہونے کے اعتبار سے پرنس چارلس کے بھی یہی دونوں بنیادی دائرہ کارہیں