• جولائی
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
ادارہ
پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہ

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
محمد یوسف خان
سیاسی آزادی کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کے باعث عیسائی مبشرین کی ہمت کتنی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ کویت میں پہلی بار ایک بڑا گرجا تعمیر ہو رہا ہے، جس کا مینار تمام مساجد کے میناروں سے اونچا ہے۔ اس سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہنوز مغربی قوموں کے غلام ہیں اور قدرتی ذخیرے جو ان کے حصے میں آئے ہیں
  • اکتوبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔
  • اکتوبر
1992
ادارہ
حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔
  • فروری
1982
اکرام اللہ ساجد
وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت (قرآن مجید) کا بغور مطالعہ کیا
  • اگست
  • ستمبر
1978
ادارہ
مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عیاده الذین اصطفیٰ۔ امابعد
  • دسمبر
1985
عبد الرحمن مدنی
(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
  • اکتوبر
1971
ادارہ
مؤقر معاصر ''زندگی'' نے اپنے شمارے (۲۷ستمبر تا ۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء) کے ادارتی کالموں میں جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے والوں کی تائید اور جمہوریت کو اسلام سے علیحدہ نظام قرار دینے والوں کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور اس کے استحکام کا انحصار صرف جمہوریت پر ہے اور جمہوریت اسلام ہے اور اسلام تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بھی۔ ملخصاً
  • اگست
1993
ادارہ
اس وقت دنیا بھر میں"اسلامی انتہا پسندی" کا مسئلہ بڑی شدت سے اچھالاجارہاہے۔

بالخصوص عرب ممالک میں مغربی میڈیا اسے شہ سرخیوں سے شہرت دے رہا ہے۔ چنانچہ سربراہی ملاقاتوں اور چوٹی کی کانفرنسوں میں اسے ایک خوفناک صورتحال قرار دے کر اس پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے تاکہ وہ وجوہ اور اسباب بھی سامنے آسکیں جو اس وقت اس کا ڈھنڈوراپیٹنے کا باعث بنے ہیں ۔
  • جولائی
1971
ادارہ
صدرِ پاکستان جناب آغا محمد یحییٰ خان نے ۲۸ جون ۱۹۷۱؁ء کی اپنی نشری تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کا جو لائحہ عمل پیش کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:۔

''ملک کا آئین بنانے کا کام ماہرین کی ایک کمیٹی کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی مسودہ تیار کر کے صدرِ مملکت کو پیش کرے گی اور وہ مختلف راہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے مشورہ کے بعد اسے آخری شکل دیں گے۔''
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے اور بعد اس کانفرنس سے لمبی چوڑی توقعات اور جائزے و تبصرے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اتنی کثیر تعداد میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں یانمائندہ وفود کے اسلام کے نام پر ایک جگہ جمع ہونے کو بڑی اہمیت دی گئی اور مختلف شخصیتوں، اداروں یا جماعتوں کی طرف سے زیر بحث مسائل کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کیے گئے۔
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
حکومت اور اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کی طرف سے تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے بعض اقدامات کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جیسے وزیراعظم بہ اصرار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں فوجی عدالتیں فوری طور پر عدل و انصاف مہیا کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے قائم کی تھیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ اس کی واضح مثال ہے جو اس نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر صدرِ مملکت کی نظر ثانی کے سلسلے میں دیا ہے جس پر ابھی مزید گفتگو عدالت میں ہو گی۔ جو یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے ایک شخص محمد طارق پیرزادہ کے حق میں ایک فیصلہ 17 اکتوبر 1993ء کو دیا تھا۔
  • جون
2015
محمد نعمان فاروقی
كسی بھی کامیاب ملك یا علاقے كی دو خصوصیات ہوتی ہیں:

1 ۔امن 2 ۔ خوش حالی

دنیا نے ترقی و عروج كی جس قدر بلندیوں كو چھوا تو بالآخر انہی دو چیزوں كو بنیاد تسلیم كیا، اور ترتیب بھی یہی ركھی كہ پہلے امن، پھر خوش حالی۔
  • اکتوبر
1995
ام قاسم
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چین کے شہر بیجنگ میں چوتھی عالمی بیجنگ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 85 ممالک سے تقریبا 35000 ہزار خواتین اس میں شرکت کر رہی ہیں جن میں 21800 غیر سرکاری تنظیمیں (این۔جی ۔اوز) بھی شامل ہیں۔ کانفرنس کا ابتدائی اجلاس 30 اگست سے 8 ستمبر تک چلے گا جس میں این۔جی۔اوز بھی شرکت کریں گی۔ پھر اس کا باقاعدہ اجلاس 8 ستمبر سے 15 ستمبر تک چلے گا۔
  • نومبر
1995
محمد اسحٰق زاہد
ابھی حال ہی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خواتین کی عالمی کانفرنس ہوئی تاکہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ایک ایسا معاہدہ طے پایا جائے جو بعد میں دنیا بھر کے ملکوں کے لئے بین الاقوامی قانون کی شکل اختیار کر لے، بیجنگ کانفرنس اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی اس طرح کی چوتھی کانفرنس ہے، اس سے پہلے تین کانفرنسیں اِسی موضوع پر ہو چکی ہیں۔
  • دسمبر
1987
اکرام اللہ ساجد
گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو گویا اچانک، ملک بھر میں شرافت، خلوص، دیانتداری، حسنِ اخلاق، ہمدردی اور خدمتِ عوام کا ایک سیلاب امڈ آیا جو روکے نہ رکتا اور تھامے نہ تھمتا تھا۔۔۔گلیوں، بازاروں، چوراہوں میں لہریں لیتا ہوا جب یہ سیلاب مکانوں، کوٹھیوں اور رہائش گاہوں کے دروازوں پر بھی رات گئے تک دستک دیتا سنائی دیتا تو ان رہائش گاہوں کے مکین جہاں نیندیں حرام ہونے پر شکوہ کناں ہوتے،
  • جولائی
2017
حسن مدنی
28 جولائی 2017 ء کو سپریم کورٹ نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کواس فیصلہ کی بنا پر اپنے عہدے سے معزول کردیا کہ وہ آئین پاکستان کی دفعہ 62 کے مطابق صادق اور امین نہیں رہے:
’’نواز شریف نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنے اثاثوں کو 2013ء میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے
  • جنوری
1977
ادارہ
ہر عوامی حکمران کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دورے کرے، عوام کے حالات سے باخبر رہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ ان کے کیا مسائل ہیں۔؟ اس قسم کے دورے سرکاری حیثیت کے دورے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے کے جتنے مصارف ہوتے ہیں سرکاری خزانے کے ذمے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ مصارف مسرفانہ نہ ہوں۔ ورنہ ضرورت سے زیادہ جو اخراجات ہوتے ہیں، شرعا سرکاری بیت المال ان کا ذمہ دار نہیں ہوتا،
  • مئی
1973
ادارہ
خدا خدا کر کے ملک کو وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور مل گیا۔ اور یہ 'بے آئین سر زمین' دستور سے ہمکنار ہو گئی۔ لیکن شروع سے جو چیز ہمارے لئے وجہ حٰرت بنی رہی۔ وہ یہ تھی کہ جو پارٹی، وفاقی، جمہوری اور اسلامی نعرے لگاتی رہی جب وقت آیا تو وہ اس کے لئے بآسانی تیار کیوں نہ ہو سکی اور سب سے بڑھ کر جس بات نے اس کو فاش کر دیا وہ یہ تھی کہ روٹی، کپڑا اور مکان اس پارٹی کا گمراہ کُن اور بنیادی نعرہ تھا۔
  • اپریل
1977
ادارہ
ان کے نام اسلام کا پیام

﴿لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾... سورة يونس

صحیح انتخابات وہ ہوتے ہیں جب لوگ آپ اپنی مرضی سے کسی کو انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن مغربی جمہوریت کے اس دورِ انتخاب میں تلوار کی نوک اور ڈنڈے کی چوٹ کے ذریعے لوگوں سے جبرا کہلوایا جاتا ہے کہ: کہو! میں اچھا، میری پارٹی اچھی، میرے امیدوار اچھے، میرا منشور اچھا۔
  • جنوری
2003
عطاء اللہ صدیقی
خالق کائنات نے انسانوں کی راہنمائی اور اپنی کمال رحمت ورافت کے اظہار کے لئے جو نظام تجویز فرمایا، اس جادۂ حق کو'اسلام' کا عنوان عطا فرمایا۔ یہی وہ 'صراطِ مستقیم' ہے جو درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سرورِ انبیاء حضرت محمدﷺ تک کے سلسلۂ ہادیانِ برحق کی بعثت کا باعث و حقیقی سبب ہے۔ یہی وہ دین حق ہے جو ﴿لِيُظهِرَ‌هُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ﴾ کا مصداق اصلی ہے۔ یہی وہ فیضانِ حق تھا
  • اگست
1972
ادارہ
صدرِ پاکستان مسٹر بھٹو ۲۸؍ جون کو تقریباً گیارہ بجے قبل وپہر لاہور سے چندی گڑھ، پھر وہاں سے ''پاک بھارت سربراہی کانفرنس'' میں شمولیت کے لئے ۸۷ افراد کی ٹیم کے ہمراہ شملہ پہنچے جہاں موصوف کا استقبال نہ صرف نہایت سرد مہری سے کیا گیا بلکہ فاتحانہ خمار کے ساتھ، کم ظرف ہندو نے اپنی کم ظرفی کی نمائش بھی ضروری سمجھی۔
  • جولائی
1996
ظفر علی راجا
گزشتہ دنوں "اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے ایک اجلاس میں پچاس سے زائد علماء ووکلاء اور اہل دانش حضرات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی مسلمان عورت کسی اقراری اور مصدقہ قادیانی کی قانونی بیوی نہیں بن سکتی اور اگر کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی کے ساتھ اسلامی نکاح پر اصرار کرتی ہے تو ایسے نکاح کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایسا عمل نہ صرف یہ کہ حدود آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے بلکہ"امتناع قادیانیت آرڈیننس" کے تحت بھی جرم  تصور ہوگا۔
"اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے اس فتویٰ کا  روئے سخن در اصل عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی جانب تھا،عاصمہ جہانگیر صاحبہ بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ایک تنظیم"ہیومن رائٹس کمیشن"کی چئیر پرسن ہیں اور ایک عرصہ سے  بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے متاثرہ شہریوں کو قانونی تحفظ مہیا  کرنے کے چمپئن کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی جدوجہد عمومی طور پر متنازعہ نہیں رہی۔ان کی ذات اور جدوجہد کے خلاف شدید رد عمل اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں "قانون توہین ر سالت" کانفاذ کیا گیا اور بعد ازاں اسلامی حلقوں کی طویل قانون جنگ کے بعد توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی۔عاصمہ جہانگیر ان لوگوں میں شامل تھیں۔جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سے اس قانون کی مخالفت کی۔اس دوران میں جن لوگوں کے خلاف"قانون توہین رسالت" کے تحت مقدمات دائر ہوئے۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے، معصوموں کی دل دوز اور جگر سوز چیخیں ہیں، لہو کے چھینٹے ہیں، گوشت کے ٹکڑے ہیں، عصمتوں کے خون ہیں۔ اور ان سب کی قیمت ایک وحشیانہ قہقہے سے زیادہ نہیں۔ آہ یہ چیزیں اتنی سستی تو نہ تھیں۔ مسلمان تو ان کی حفاظت کی خاطر ہزاروں میل کا سفر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کر سکتا تھا مگر آج کوئی محمد بن قاسم موجود نہیں، کوئی طارق بن زیاد نہیں، کوئی موسیٰ بن نصیر نہیں، کوئی قیتبہ بن مسلم باہلی نہیں،
  • دسمبر
2009
مصطفیٰ راسخ
۶؍اکتوبر ۲۰۰۷ء کو جنرل پرویز مشرف کا جاری کردہ نام نہاد 'قومی مفاہمتی آرڈیننس' NRO ملکی حلقوں کی گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ اس سے قبل ۳؍نومبر ۲۰۰۷ء کو اعلیٰ عدلیہ کے ۵۵ کے قریب جج حضرات کو فارغ کرکے جنرل مشرف نے جس نئی عدلیہ کو متعین کیا تھا، عدالتی حلقوں میں گذشتہ چند ماہ سے ان جج حضرات سے باز پرس بھی کی جارہی ہے
  • اپریل
2015
حسن مدنی
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، اِمکانات اور پاکستان کا کردار

یمن میں جاری خانہ جنگی کا پس منظر طویل ہے ، خدانخواستہ یہ ایک عالمی جنگ کی طرف نہ بھی بڑھے تو مستقبل میں عالم اسلام میں اس کے اثرات بڑے دور رَس دکھائی دیتے ہیں۔ اصل صورتِ واقعہ کیا ہے اوراس کا درست حل کیا ہونا چاہیے، پاکستان کو اس میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے، ذیل میں ان پہلوؤں پرہماری معروضات پیش خدمت ہیں :
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
ادارہ
مختصر تعارف:

حضرت امام ابن تیمیہؒ ۷۶۸ھ / ۱۳۲۸ء) آٹھویں صدی کے ''مجاہد مجدد'' ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۴ء) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
  • دسمبر
1970
عزیز زبیدی
سیاست: سیاست کو لوگ ''دنیا داری'' تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ''سیاست'' دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

«کانت بنو إسرائیل تسوسهم الأنبیاء کلما ھلك بنی خلفه بنی وإنه لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون الحدیث» (بخاری، ابو ھریرہؓ)
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
ملک میں سرد جنگ کی ایک غیر مختتم صورت۔ مغربی جمہوریت کا حاصل

اقتدار کی گدی، کانٹوں کی سیج ہے۔ اس سے بھی آزار دہ مرحلہ انتقال اقتدار کے لئے جنگ اقتدار کا مرلہ ہے۔ اس دوران جو اشتعال، بدمزگی، کدورت، حسد، بعض و عناد، رقابت گردہی تلخی اور مسابقت کی آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے ہیں، وہ اب دائمی شکل اختیار کر لیتے ہیں ''جو کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے'' پر منتج ہوتے ہیں۔
  • جنوری
1992
جسٹس گل محمد خاں
نفاذ شریعت ایکٹ نمبر (10) آف 1991ء نے 18 جون 1991ء کو صدر پاکستان کی طرف سے توثیق پاکر"بل" کے بجائے"ایکٹ"کی شکل اختیار کی تو اس پر موجودہ حکومت کی تعریف میں بڑے قصدے پڑھے گئے۔اگرچہ 19 مئی کے اخبارات میں اس ایکٹ کا جوانگریزی اور اردو متن شائع کرایا گیا تھا وہ اس سے جا بجا مختلف تھا۔جو بعد میں سرکاری گزٹ کی صورت شائع ہوا گویا اس وقت بھی یہ کوشش کی گئی کہ کسی طرح تجزیہ نگاروں کی تنقید سے بچا جاسکے
  • مارچ
  • اپریل
1988
اکرام اللہ ساجد
بلی بالآخر تھیلے سے باہر آ گئی

13 جولائی سئہ 1985ء کو سینٹ کے دو ارکان مولانا سمیع الحق اور قاضی عبدالطیف نے سینٹ میں نفاذِ شریعت بل پیش کیا۔۔۔اس بِل میں شریعت کی تعریف یوں کی گئی تھی کہ:
  • ستمبر
1973
ادارہ
مملکت پاکستان میں سب سے اہم اور اونچے عہدے اور منصب تین ہیں۔ صدر، سپیکر اور وزیر اعظم جو مستقل آئین کے تحت پہلی بار بالآخر ملک کو مل ہی گئے ہیں۔ اس لئے ہم بھی ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کو منتخب کر کے عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے عوام کی جائز اور بجا توقعات کی لاج بھی رکھ سکتے ہیں۔
  • مئی
2003
صہیب حسن
صلیب و ہلال کی کشمکش کا آغاز حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بیت المقدس کی فتح (۶۳۶ء) سے ہوگیا تھا کہ جس وقت نہ صرف فلسطین بلکہ مصر و شام کا پورا علاقہ مسلمانوں کے تصرف میں آچکا تھا اور بازنطینی حکومت اپنے جبر و استبداد کی داستانیں تاریخ کے صفحات پر رقم کرکے اس علاقے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہورہی تھی۔
  • جنوری
2013
عبدالجبار سلفی
طاہر القادری کس مقصد کے حصول کے لئے واپس آئے ہیں...؟ وہ معاشرے میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں...؟ کینیڈا سے وہ کس کا ایجنڈا پورا کرنے آرہے ہیں...؟ طاہر القادری کونسا انقلاب لانا چاہتے ہیں...؟ ان تمام اُمور کو مروّجہ سیاسی معیارات پر پرکھنے کے بجائے ہم طاہر القادری کے عقائد ونظریات کی ایک جھلک ذیل میں پیش کررہے ہیں جس سے یہ تمام اُمور خود بخود واضح ہوجائیں گے:
  • اپریل
1982
عبدالرحمن کیلانی
نو تشکیل شدہ اسلامی نظریاتی کونسل نے صدرِ مملکت کے استصواب پر مورخہ 13 جون سئہ 1981ء کو "اسلامی نظامِ مملکت متعلقہ عام انتخابات" پر غور کیا اور اس سلسلے میں وقتا فوقتا کونسل کے جو اجلاس منعقد ہوئے، ان میں اس موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال کے بعد بعض مقدمات بطور راہنما اصول طے کئے گئے ۔۔۔ بعد ازاں اس سلسلہ میں حسب ذیل سوالات مرتب کیے گئے:
  • مارچ
2013
حسن مدنی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اپنے غیرمعمولی ترقیاتی کاموں کی بدولت پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی صف میں ممتاز حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ لاہور میں میٹرو بس اور شاہراہوں کی تعمیر، امن وامان کی دیگر صوبوں کے مقابلے میں معیاری صورتحال، ڈینگی وائرس کے خاتمہ کی کامیاب جدوجہد، دانش سکولز،میرٹ سکالر شپس اور طلبہ میں لیپ ٹاپس کی اہلیت کی بنا پر تقسیم اُن کے قابل ذکر کارنامے ہیں۔
  • جنوری
  • فروری
1976
ادارہ
قسط نمبر:1

فروری 1972 میں عالم اسلامن کےسیاسی رہنما اور حکمران پاکستان میں تشریف لائے تو ملک کے اطراف واکناف سے ان کے نام پیغامات تہنیت کے ہدیے پیش کیے گئے تھے۔
  • جون
1976
ادارہ
دعوت اسلام

(12) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَيْهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.......... فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى،أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ(صحیح البخاری:حدیث7)
  • مئی
1976
عزیز زبیدی
بادشاہ نبی نہیں، عبد رسول:

7. عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ:

یَا عَائِشَۃُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِیَ جِبَالُ الذَّھَبِ، جَاءَنِیْ مَلَکٌ ...... فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَام وَیَقُوْلُ اِنْ شِئْتَ نَبِیًّا عَبْدًا وَاِنْ شِئْتَ نَبِیًّا مَلِکًا؟ فَنَظَرْتَ اِلٰی جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَاَشَارَ اِلَیَّ اَنْ ضَعْ نَفْسَکَ۔
  • اگست
2003
عطاء اللہ صدیقی
چار ممالک کے بیس روزہ دورے سے وطن واپسی پر صدر پرویز مشرف نے اپنی پریس کانفرنس میں تقریباً تمام اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
  • اکتوبر
1995
عطاء اللہ صدیقی
رکن صوبائی اسمبلی جناب عبدالرشید بھٹی نے گذشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں پنجاب کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے قومی زبان اور قرآن کی زبان، عربی کی جس طرح مذمت فرمائی، اس سے عام پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں مثلا اسرائیلی، بلوچی، پشتو، وغیرہ کی ترویج و اشاعت کے حق میں آواز اٹھانا کوئی غیر مستحسن بات نہیں ہےلیکن کیا ضروری ہے
  • جون
1976
ادارہ
دنیا شروع سے دو انتہاؤں کی طرف چلی گئی ہے۔ایک نےزندگی کےاخلاق اورباطنی پہلو کی اصلاع اور روشنی پر نظر مرکوز رکھی جیسے عیسائیت اور بدھت مدمت اور اجتماعی زندگی کو جمہور کی خواہشات کےتابع بناکر رکھ دیا ۔ دوسرے نےاخلاقی نظام اورباطنی پہلو سے آزادرہ کرزندگی کے خارجی پہلو گنےچنے امور کو سامنے رکھا جیسے مغربی اقوام کا حال ہے یہی وجہ ہےکہ دونوں کےہاں فرداور جماعت یافرد اورحکومت کےتعلقات متعین نہیں ہیں اورجتنے ہیں بس یک طرفہ ہیں۔
  • اگست
2003
محمد آصف احسان
اسلام کے اساسی اوصافِ جمیلہ اور خصائل ِحمیدہ میں سے یہ ایک بنیادی خصوصیت ہے کہ اس کے اَحکام و قوانین حیاتِ انسانی کے جملہ پہلوؤں کا بطریق ِاحسن احاطہ کرتے ہیں۔ انسانی زندگی کی کوئی جہت بھی ... انفرادی ہو یا اجتماعی... ایسی نہیں کہ جس کا اپنی اصل کے اعتبار سے شریعت ِاسلامیہ میں تذکرہ موجود نہ ہو۔
  • مارچ
  • اپریل
1975
ادارہ
پاکستان بن گیا، بن کر پھر ٹوٹ گیا اور ٹوٹ کر کچھ حصہ پھر غلام بن گیا۔ مگر دونوں جگہ 'نعرہ آزادی' کے اس ڈھونگ سے متاثر ہو کر عوام کالانعام بھی یہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ واقعی ہم آزاد ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دنیا میں 'آزادی اور حریت' کا مفہوم اور مضمون یہی ہو، جس کی نشان دہی وہ لوگ کر رہے ہیں لیکن 'بندۂ مسلم' کے ہاں حریت اور آزادی کا یہ مفہوم، حریت پر ایک الزام، تہمت اور افتراء ہے جس کو سیاسی شعبدہ بازوں نے گھڑ کر لوگوں کو اپنی غلامی میں پختہ اور مخلص بنانے کے لئے ایک بھونڈی سازش کے طور پر اختیار کیا ہے۔
  • جون
1971
عبدالغفار اثر
نام نہاد ترقی یافتہ اقوام کی تقلید میں ہمارے ہاں جس تعلیم و تہذیب کا دور دورہ ہے اور نوجوان نسل جس طرح اس کا شکار ہو رہی ہے۔۔ اس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مشرقی روایات کو ایسی بری طرح سے ڈائنا سیٹ کیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہماری سوسائٹی یورپ کی ذہنی غلام ہو گئی ہے۔
  • مئی
  • جون
1975
ادارہ
فساد فی الارض ''نوع انسانی'' کی سب سے بڑی بد نصیبی بلکہ کائنات کی ہر چیز کی سیاہ بختی کی بات ہے، کیونکہ تخریب اور تخریب کاری انسان کی سیاہ کاری کا نتیجہ ہوتی ہے اور بطور سزا اور قہرِ الٰہی کے پھلتی پھولتی اور پھیلتی ہے۔

ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا (پارہ۲۱۔ الروم۔ ع۵)
  • اپریل
1971
ادارہ
پچھلے شمارہ میں ہم نے لکھا تھا کہ:۔

''ہم اس وقت جس داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا واحد سب ہماری وہ کوتاہی ہے جو ہم سے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے اس ملک میں اِس کے نظریے کو عملی صورت نہ دینے کی صورت میں سرزد ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ الخ ''
  • مئی
1971
عبدالغفار اثر

﴿وَقالَ الرَّ‌سولُ يـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هـٰذَا القُر‌ءانَ مَهجورً‌ا ٣٠﴾.. سورة الفرقان

یہ بات کس قدر المناک اور باعثِ تعب ہے کہ قرآنِ کریم جیسی جامع و مانع اور فصیح و بلیغ کتاب ہمارے پاس ماجود ہے اس کی فصاحت و بلاغت کے غیر مسلم بھی معترف ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں اس کے شایانِ شان اہتمام نہیں کیا گیا۔

  • جنوری
1994
ادارہ
(سطور ذیل میں ہم اپنے محترم دوست ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل کی طرف سے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے نام ایک کھلا خط معمولی کانٹ چھا نٹ سے شائع کر رہے ہیں جس میں پاکستان کو درپیش سیاسی مسائل کا ایک جا مع مگر مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔یہ ایک درد مند دل کی آواز ہے امید ہے کہ اسے اسی جذبہ سے پڑھا جا ئے گا ۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے ۔آمین!)
  • جنوری
2000
عطاء اللہ صدیقی
۱۲؍ اکتوبر کو غیر معمولی حالات میں عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل مشرف کو پہلی مرتبہ جس بات پر مخالفانہ بیانات کا سامنا کرنا پڑا، وہ میاں نوازشریف کی حکومت کی معزولی کا معاملہ نہیں تھا، میاں صاحب کی حکومت کے خاتمہ پر سکوت تو خود جنرل پرویز مشرف کے لئے بھی ایک تعجب انگیز امر تھا۔
  • فروری
2014
عبداللہ حسن
پاکستان کا حالیہ سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور ظاہر ہے کہ اسلام کسی بھی صورت مسلم معاشروں میں ایسی صورتحال گوارانہیں کرتا۔ جب تک مسئلہ کو صحیح طور پر اپنی اساسات سے حل نہ کیا جائے، تشدد وانتہاپسندی کا دائمی خاتمہ ہونا ناممکن ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کا یہ سارا منظر نامہ چند مہینوں اور سالوں کی بجائے کم وبیش تین عشروں پرمحیط ہے۔ اس مسئلہ کے کسی ایک پہلو کو پیش کرکے اس مسئلہ کی صحیح اور مکمل نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
ادارہ
پاکستان کی قومی اسمبلی کی نمائندہ کمیٹی کا 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ اور دونوں ایوانوں کی 'مہر تصدیق' پاکستانی قوم بلکہ کل عالمِ اسلام کے لئے ایک عظیم 'نوید مسرت' تھی جس پر حکومت پاکستان اور عوامی رہنماؤں کو دل کھول کر 'دادِ تحسین' بھی ملی۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس اعلان سے سیاسی سطح پر 'حزبِ اقتدار' کی کافی عرصہ سے گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا ملا تو غلط نہ ہو گا لیکن۔۔۔۔
  • جنوری
2010
خلیل الرحمان
اربابِ علم و دانش اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کا قبلہ روز اوّل سے ہی درست نہیں رہا اور کم وبیش ہمارے تمام حکمران کسی نہ کسی درجے میں امریکہ کی کاسہ لیسی پر مجبور رہے ہیں لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں قومی خود مختاری کا سودا کیا، اس کی مثال ہماری ملکی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔
  • ستمبر
2008
عبدالواحد اعوان
ادارہ محدث میں مروّجہ' اسلامی بینکاری' کے شرعی جائزے کے لئے جملہ مکاتب ِفکر کے جلیل القدر علما اور بینکاری ماہرین کا ایک وسیع اوربھرپور اجلاس 20؍ جولائی 2008ء کو منعقد ہوا تھا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس اجلاس میں نمائندہ علما اور اسلامی بینکاری کے ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کردی گئی تھی جس کے بعد ازاں دفتر محدث میں باضابطہ طورپر مزید دو طویل اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔
  • اپریل
2003
ادارہ
عراق کا مسئلہ انتہائی گھمبیر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی معائنہ ٹیمیں گزشتہ چارماہ کی تلاشِ بسیار کے باوجودعراق میں کسی مہلک ہتھیار کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ عراق پر ممکنہ حملے کے خلاف ہر نسل اور ہر قوم کے کروڑوں افراد نے بھرپور صداے احتجاج بلند کی ہے۔
  • اپریل
1973
عبدالقیوم
آج ہم ملکی و ملّی سطح پر جن سنگین مسائل سے دو چار ہیں۔ وہ اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے قومی سطح پر غور و خوض کر کے کوئی متفقہ اور ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی تمام اجتماعی اور انفرادی قوتوں اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ صرف اس طرح ہم اس بہت بڑے چیلنج سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں جو آج ہمیں ملکی و ملی سطح پر در پیش ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1973
محمد یوسف خان
۱۰ تا ۲۳؍ جولائی الجزائر میں علماء کا اجتماع ہوا جسے ''الملتقی السابع للتعرف علی الفکر الاسلامی'' کہا جاتا ہے یعنی ساتواں اجتماع اسلامی فکر کی نشاندہی کی غرض سے۔ ایسا اجتماع ہر سال حکومت الجزائر کی ''وزارۃ التعلیم الاصلی والشوؤن الدینية'' اپنے اہتمام سے اور اپنے خرچ پر منعقد کیا کرتی ہے۔

(التعلیم الاصلی سے مراد دینی تعلیم ہے)۔ امسال ساتواں اجتماع تھا۔
  • مئی
2003
الیاس ندوی
اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے بالعموم یہ کہا جارہا ہے کہ آج کل وہ عالمی سطح پر جن آزمائشوں سے گذر رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، لیکن ان کا یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک سچا مؤمن و مسلم آنے والے مسائل و مصائب کو ہمیشہ دینی و اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ دعوتی نظر سے دیکھا جائے تو ان حالات نے ان میں پہلے سے زیادہ خود اعتمادی اور دینی جوش و ولولہ پیدا کردیا ہے۔
  • اکتوبر
2003
عبدالمجیب
سب سے پہلے تاریخ ِپاکستان پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تاریخی جھلکیاں پیش کرنے سے پہلے ایک بات کی پیشگی وضاحت مناسب ہوگی۔ اگرچہ سیاسی نظام کے متعلق علماء و زعما ئے ملت کا اُصولی موقف یہ رہاہے کہ اسلامی مملکت میں مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت جائز نہیں، تاہم انہوں نے ماضی میں اضطراراً و مجبوراً نافذ شدہ نظام کو عارضی طور پر جاری بھی رکھا، صرف اس لئے کہ کہیں ملک ِعزیز اغیار کے کسی بڑے شر کا شکار نہ ہوجائے۔
  • مئی
1972
ادارہ
ملک کو جو در پیش سیاسی مصائب ہیں۔ اس لحاظ سے زیادہ آزار دِہ ہیں کہ ان کو ہم خود بھی چیلنج نہیں کر سکتے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔ کیونکہ وہ اس سر زمین میں خود ہماری ہماری دعوت پر آئے ہیں اور ابھی تک ہمارا اپنا اصرار ہے کہ وہ یہاں سے نہ جائیں اور جب تک بھی آپ پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ان کو جواب نہیں دیں گے، نہیں جائیں گے۔
  • اگست
1971
عبدالغفار اثر
ملتِ اسلامیہ کے عظیم فرزندو!

کاش کوئی ایسا آفاقی آلہ نشر الصوت ہوتا جس کے ذریعے وطنِ عزیز کی ہر بلندی و پستی، ہر کوہ و دامن اور ہر بستی و قریہ تک یہ آواز پہنچائی جا سکتی کہ اے ہوشمندو! خدا کے لئے سنبھلو! وہ دیکھو! صورِ اسرافیل پھونکا ہی جانے والا ہے اور قیامت سے پہلے قیامت آیا ہی چاہتی ہے،
  • اکتوبر
  • نومبر
2002
جان پلِگر
مغرب اوربرطانیہ کا قومی اور سیاسی کردار منافقت اور خود غرضی کا شاہکارہے۔ دنیا میں امن کے ان سفیر وں کا اندر سے کردار اتنا گھنائونا ہے کہ انسانیت کے خون سے اِن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ وہی انسانیت کے ماتھے پر ایسا بدنما داغ ہیں جو موت کا بیوپار کرتے ہیں اور چند ٹکوں، پرتعیش زندگی کی خاطر دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔
  • جولائی
1988
ادارہ
شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

اہل حدیث مدارس لاہور کے اساتذہ اور طلباء پر مشتمل اجتماع سے مدیر محدث کا خطاب

اسلام کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہری، انتہائی مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
ادارہ
اقتدار کا نشہ بڑا ظالم اور اس کا چسکا بڑا اندھا ہوتا ہے۔ بہ قائمیٔ ہوش و حواس وہ کمبخت یوں جیتے ہیں جیسے عقل و خرد کی ان کو ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سُجھانے کے باوجود بات ان کے خانے میں نہیں اُترتی۔
  • نومبر
1984
محمد افضل ربانی
بندہ اتحادِ اسلامی مجاہدین افغانستان کی اصلاحی کمیٹی کا ممبر ہے۔ دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کے بارے میں چند استفسارات پیشِ خدمت ہیں۔ آپ ازراہ نوازش ان کے جوابات عنایت فرمائیں۔ شکریہ

سوال نمبر 1:
  • نومبر
1989
ادارہ
عوامی نمائندگی کے بعض قوانین میں اصلاحات کی تجاویز

مورخہ 16 اکتوبر 1989ء کو وفاقی شرعی عدالت پاکستان نے بعض انتخابی قوانین کے بارے میں ایک اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے۔جس کی رو سے صدر مملکت کو آئین پاکستان کی دفعہ 63۔اور63 کی اساس پر عوانی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976ء کی دفعات 13۔14۔49۔50۔52۔اوردفعہ 38 (4)(سی) (11) میں 31دسمبر 1989ء تک بعض ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
  • نومبر
1987
ادارہ
پانچواں اور آخری نقطہ، نویں آئینی ترمیم اور شریعت بل کے حوالے سے پارلیمنٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے اختیار کے تقابل کا ہے۔

دراصل پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت کی حالیہ بحث کا محرک یہی دونوں بل ہیں۔ جن کا تعلق نفاذِ شریعت کے طریقہ کار سے ہے۔۔ان میں سے نویں آئینی ترمیم کا بل حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا، جو ایوان بالا (سینٹ) سے پاک ہو کر قومی اسمبلی (ایوان زیریں) میں آ چکا ہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
عبد الرحمن مدنی
پاکستان میں ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے نتیجہ میں 5 جولائی 1977ء کو موجودہ عوامی حکومت برسراقتدار آئی تو اس کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان نے اسلامی نظام حکومت کے بارے میں اپنے خطابات او ربیانات میں بڑے مخلصانہ اور حوصلہ مندانہ خیالات کا اظہار فرمایا جس سے مسلمانوں کو عموماً اور ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خصوصاً امید پیدا ہوئی کہ تیس سال کے شدید انتطار کے بعد اب وہ سعید گھڑی آنے کو ہی ہے جب پاکستان میں سرکاری سطح پر اسلام کا دور دورہ ہوگا۔
  • فروری
2015
حسن مدنی
16دسمبر، اہل پاکستان کے لیے پہلے ہی ایک الم ناک یادگار رکھتا تھا۔یہی دن تھا جب عالمِ اسلام کی سب سے بڑی ریاست، پاکستان دو لخت ہوئی، اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے سقوطِ ڈھاکہ کروایا اور کہا کہ ہم نے آج تقسیم ہند کا بدلہ لے لیا۔ برسہا برس بعد پھر اسی دن، امن دشمن قوتوں کی طرف سے پشاور آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر وحشت ناک ظلم و بربریت کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
عبدالرحمن کیلانی
1977ء میں قومی اتحاد نے نظام مصطفیٰ کے نام پر جو تحریک چلائی، عوام نے اس تحریک کو اپنے خون سے سینچا او رپروان چڑھایا۔ بالآخر یہ تحریک اللہ کے فضل و احسان سے بار آور ہوئی اور مسلمانوں کوان کی توقعات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے انعامات سے نوازا۔اس وقت قائدین تحریک کے دو مطالبات تھے۔اسلامی نظام کا نفاذ اور سابقہ بوگس انتخابات کےبجائے دوبارہ انتخابات کا انعقاد۔ تحریک کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی۔
  • مئی
2010
حسن مدنی
ایک تاریخی مطالعہ

اِن دنوں دستورِ پاکستان کی۱۸ ویں ترمیم کا چرچا ہے، قانونی تقاضے پورے کرکے اس کے مطابق دستور میں ترمیم کی جاچکی ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے موجودہ ابتر حالات کا ایک پس منظر حکومت کے نفاذِ شریعت کے اقدامات سے اسلام پسند عوام کا اعتماد اُٹھ جانا بھی ہے،
  • اپریل
2004
حسن مدنی
وطن عزیز ان دنوں شدید سیاسی مشکلات سے دوچار ہے۔ حکمرانوں کا قبلہ و کعبہ اور ہے اور عوامی فکر کے دھارے اور سمت بہتے ہیں۔ بالخصوص چند ماہ سے پاکستانی منظر نامے میں ایسی تبدیلیاں لگاتار آ رہی ہیں، جن سے محب وطن اور اسلام پسند حضرات شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک بحران ابھی نہیں ٹلتا کہ دوسری آفت آن وارد ہوتی ہے۔ پے در پے ان اُلجھے حالات سے عجیب بےچینی اور مایوسی کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ حکمران جو بیرونی طاقتوں کے سہارے ملک پر مسلط ہیں،
  • جولائی
1972
ادارہ
شاید ہر ملک میں ایسا ہوتا ہو، بہرحال ہمارے ملک میں تو یہ رِیت بن گئی ہے کہ جو صاحب بر سرِ اقتدار آتے ہیں وہ ملک کی تعمیر اور استحکام کی طرف کم توجہ دیتے ہیں اور ان کا سارا پیریڈ اپنی کرسی کو تحفظ دینے، حواریوں کو تعاون کی قیمت چکانے اور آنے والے انتخابات کے لئے مزید زمین ہموار رکھنے میں صرف ہو جاتا ہے۔
  • مارچ
1977
ادارہ
﴿قَد أَفلَحَ مَن زَكّىٰها ﴿٩﴾ وَقَد خابَ مَن دَسّىٰها ﴿١٠﴾... سورة الشمس

الیکشن اور انتخابات کی ریت کب پڑی اور کہاں پر اس کی بسم اللہ ہوئی؟ یہاں اس سے بحث نہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ حکمران طبقہ کے سلسلہ کی بدگمانی اس کا سبب بنی اور سیاسی شاطروں نے اس سے کھل کر فائدہ اٹھایا، ستائے ہوئے عوام کا استحصال کیا اور باہمی منافرت اور رقیبانہ مناقشت میں الجھا کر پوری قوم کو نقصان پہنچایا، جو ہاتھ سماج دشمن عناصر اور آمر حکمرانوں کے گریبانوں کی طرف بڑھ سکتے تھے، وہ اب ایک دوسرے کے جیب و دامن اور گریبانوں پر اٹھنے لگے۔
  • جولائی
  • اگست
1975
ادارہ
14 اور 15۔ اگست کی درمیانی شب کو تقریباً 3 بجے بنگالی میر جعفر اور غدار قوم شیخ مجیب کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوج نے اس کو تختہ دار پر لٹکا دیا ہے۔ کہتےہیں کہ اس کے پورے خاندان میں ایک بچے کے سوا او رکوئی نہیں بچ سکا۔

مسلم بنگال خوش ہے کہ بنیا کے ایک غلام سے چھٹکارا نصیب ہوا، مزدور مسرور ہے کہ روٹی کے سبز باغ دکھانے والے جھوٹے مجیب سے خلاصی ہوئی، خدا پرستوں نے چین کا سانس لیا ہے کہ ایک بے خدا شخص کے اس منحوس دور سے نجات ملی جس میں صدا یہ سماں طاری رہتا تھا۔
  • دسمبر
1972
ادارہ
ملکی صدارت کا منصب بہت اہم ذمہ داری ہے۔ صدرِ مملکت کا ایک ایک حرف، اس کا ایک ایک جملہ اور اس کی ایک ایک بات، مملکت کی پالیسی کی جان، ملکی دستور کی روح، ملک کے لئے ایک قانون، قوم کی ایک تاریخ اور اس کے لئے ایک لائحۂ عمل کا درجہ رکھتی ہے۔ جہاں وہ عوام کے قریب ہوتا ہے وہاں اس کا ریزرو رہنا بھی ملکی مفاد میں ہوتا ہے۔
  • دسمبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
یاد رہے کہ آج کی مسجداقصیٰ وہ 'مسجد ِاقصیٰ' نہیں ہے جس سے آقائے دوجہاں، امام الانبیا 1نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہ درحقیقت وہ مسجد ہے جس کی تعمیر اُموی خلیفہ عبدالملک کے دور میں ۶۸۸ء میں ہوئی تھی۔ اس کا اعتراف اشراقی مصنف کو بھی ہے۔ دوسری بات جان لینے کی یہ ہے کہ قبۃ الصخرۃ اور مسجد ِاقصیٰ بھی ایک نہیں ہیں جیسا کہ مصنف کی ان سطور سے ظاہر ہوتا ہے