• مارچ
1996
ادارہ
جب بھی کوئی مورخ دنیا کی مختلف اقوام کے عروج و زوال کا تجربہ کرنے بیٹھتا ہے تو اسے جو چیز سر فہرست نظر آتی ہے وہ کسی قوم کی محنت اور جانفروشی ہے۔ جس قوم میں محنت ، جانفروشی اور اپنے فرائض کی خوش اسلوبی سے بجا آوری کا احساس جتنا زیادہ جاگزین ہوتا ہے اسی تناسب سے وہ عروج و اتدار کے زینوں پر چڑھتی ہے اور بعد میں جوں جوں اس میں فرائض سے پہلو تہی اور ذمہ داری سے فرار کا رجحان بڑھتا ہے۔ توں توں اس کے زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔
  • اپریل
2014
عبدالحنان کیلانی
گذشتہ چار پانچ صدیوں کے اندر یورپ میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہمہ گیر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیر بھی ہیں۔ ان کی لپیٹ میں حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ اور ہر فرد آیا ہے۔ مشرقی اور مسلم ممالک نےدانستہ اور نادانستہ اُن کے اثرات کو قبول کیا ہے۔ اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو اُن تبدیلیوں کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ دور ِجدید میں ہر فکری تعبیر کےپس منظر میں اُنہیں دیکھا جا سکتا ہے
  • جنوری
1986
اکرام اللہ ساجد
مارشل لاء رخصت ہوا اور جمہوریت بحال ہوگئی ہے۔ 30 دسمبر 1985ء کے سورج کی رو شنی میں قوم نے اپنی ''کھوئی ہوئی منزل'' کو اپنے سامنے یوں اچانک مسکراتے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب کے بقول ''جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا، لیکن جب ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہوچکا تھا''اور روزنامہ ''جنگ '' کے مطابق :''گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارشوں، شدید سردی اور کُہر آلود موسم کی لپیٹ 
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
کیا انصار و مہاجرین سیاسی جماعتیں تھیں؟

مہاجرین و انصار میں خلافت کے معاملہ پر سقیفہ بنی ساعدہ میں چند لمحات کے لئے نزاع پیدا ہوئی جو اسی مقام پر ختم ہو گئی۔ تو اس واقعہ کی بنا پر مہاجرین و انصار کو آج کل کی سیاسی پارٹیوں کے مماثل قرار دینا، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جمہوریت نواز دوستوں کی بہت بڑی جسارت ہے۔ جب یہ مہاجرین اولین مکّہ کی گلیوں میں پِٹ رہے تھے اور کفّار کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہوئے تھے تو کیا یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا تھا کہ ہم کسی نہ کسی وقت کاروبارِ حکومت پر قابض ہوں جیسا کہ موجودہ دور کی سیاسی پارٹیوں کا بنیادی مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر خلافت کے انعقاد کے لئے بیعت سقیفہ بنو ساعدہ میں ہوئی۔ پھر دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکرؓ نے نامزد کیا۔ نامزدگی کے متعلق گفتگو آپ کے گھر پر ہوتی رہی۔ لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔ اسی طرح حضرت عثمان کی خلافت سے متعلق مشورے تو حضرت مسور بن مخرمہ کے گھر پر ہوتے رہے لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔
  • نومبر
2004
محمد اسماعیل قریشی
قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
  • مئی
2002
ظفر علی راجا
۱۲/اکتوبر۱۹۹۹ء کو افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو اپنی تقاریر میں یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں حادثاتی طور پر یہ ذمہ داری بہ امر مجبوری قبول کرنا پڑی ہے اوریہ کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اس پس منظر میں اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا پسند کیا۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
ادارہ
پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہ

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔
  • نومبر
2004
تقی الدین ہلالی
قرآنِ كريم كى تعليمات اور رسولِ كريمﷺ كى ہدايات سے كسى ادنىٰ شبہ كے بغير يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ درحقيقت انسانى زندگى دو مختلف شعبوں پر منقسم ہے، ايك گهر كے اندر كا شعبہ ہے اور ايك گهر كے باہر كا- يہ دونوں شعبے ايسے ہيں كہ ان دونوں كو ساتھ لئے بغير ايك متوازن اور معتدل زندگى نہيں گزارى جاسكتى- گهر كا انتظام بهى ضرورى ہے اورگهر كے باہر كا انتظام،يعنى كسب ِمعاش اور روزى كمانے كا انتظام بهى ضرورى۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
محمد یوسف خان
سیاسی آزادی کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کے باعث عیسائی مبشرین کی ہمت کتنی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ کویت میں پہلی بار ایک بڑا گرجا تعمیر ہو رہا ہے، جس کا مینار تمام مساجد کے میناروں سے اونچا ہے۔ اس سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہنوز مغربی قوموں کے غلام ہیں اور قدرتی ذخیرے جو ان کے حصے میں آئے ہیں
  • اکتوبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔
  • اکتوبر
1992
ادارہ
حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔
  • فروری
2008
حسن مدنی
آج پانچ برس گزرنے کے بعد پاکستانی قوم ایک بار پھر انتخابات کے اہم ترین قومی مرحلے کا سامنا کررہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے یہ انتخاب جہاں ایک طرف انتہائی متنازعہ حیثیت کے حامل ہیں ، شکوک وشبہات اور وسوسوں ،اندیشوں کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں وہاں اس کے نتائج بھی نوشتہ دیوار کی طرح ثبت ہیں ۔ اس کے باوجود خواہی نخواہی ہر آنے والا دن انتخابات کی طرف ہمارے قدم بڑھا رہا ہے۔
  • فروری
1982
اکرام اللہ ساجد
وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت (قرآن مجید) کا بغور مطالعہ کیا
  • اگست
  • ستمبر
1978
ادارہ
مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عیاده الذین اصطفیٰ۔ امابعد
  • دسمبر
1985
عبد الرحمن مدنی
(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
  • اگست
1993
شیخ ابراہیم محمد العقیل
مفتی اکبر شیخ محمد بن ابراہیم بن عبدالطیف کی شخصیت عالم عرب میں محتاج تعارف نہیں۔دینی علوم میں جو آپ کامقام ومرتبہ ہے ۔ اس کے تعارف کی چنداں ضرورت نہیں۔آپ مملکت سعودی عرب کے مایہ ناز محقق عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے تھے،سرکاری عہدہ کے کے لحاظ سے مفتی اعظم اور علم وتحقیق کے اعتبار سے امام کے درجہ پر فائز رہے ہیں۔
  • اکتوبر
1971
ادارہ
مؤقر معاصر ''زندگی'' نے اپنے شمارے (۲۷ستمبر تا ۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء) کے ادارتی کالموں میں جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے والوں کی تائید اور جمہوریت کو اسلام سے علیحدہ نظام قرار دینے والوں کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور اس کے استحکام کا انحصار صرف جمہوریت پر ہے اور جمہوریت اسلام ہے اور اسلام تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بھی۔ ملخصاً
  • اگست
1993
ادارہ
اس وقت دنیا بھر میں"اسلامی انتہا پسندی" کا مسئلہ بڑی شدت سے اچھالاجارہاہے۔

بالخصوص عرب ممالک میں مغربی میڈیا اسے شہ سرخیوں سے شہرت دے رہا ہے۔ چنانچہ سربراہی ملاقاتوں اور چوٹی کی کانفرنسوں میں اسے ایک خوفناک صورتحال قرار دے کر اس پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے تاکہ وہ وجوہ اور اسباب بھی سامنے آسکیں جو اس وقت اس کا ڈھنڈوراپیٹنے کا باعث بنے ہیں ۔
  • ستمبر
2006
نور محمد غفاری
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے جو اپنے تمام شہریوں کی حاجات و ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غیرمسلم اسلامی ریاست میں دوسرے درجہ کے شہری ہوں گے اور اسلامی ریاست پر ان کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی جبکہ یہ بات محض مغالطہ ہے کیونکہ اسلام کا نظامِ کفالت ِعامہ اسلامی ریاست کے تمام شہریوں کے لئے بلا تمیز مذہب ونسل ہے۔ اس کی شرط صرف اسلامی ریاست کا وفادار شہری بن کر رہنا ہے۔
  • جولائی
1971
ادارہ
صدرِ پاکستان جناب آغا محمد یحییٰ خان نے ۲۸ جون ۱۹۷۱؁ء کی اپنی نشری تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کا جو لائحہ عمل پیش کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:۔

''ملک کا آئین بنانے کا کام ماہرین کی ایک کمیٹی کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی مسودہ تیار کر کے صدرِ مملکت کو پیش کرے گی اور وہ مختلف راہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے مشورہ کے بعد اسے آخری شکل دیں گے۔''
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے اور بعد اس کانفرنس سے لمبی چوڑی توقعات اور جائزے و تبصرے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اتنی کثیر تعداد میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں یانمائندہ وفود کے اسلام کے نام پر ایک جگہ جمع ہونے کو بڑی اہمیت دی گئی اور مختلف شخصیتوں، اداروں یا جماعتوں کی طرف سے زیر بحث مسائل کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کیے گئے۔
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
حکومت اور اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کی طرف سے تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے بعض اقدامات کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جیسے وزیراعظم بہ اصرار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں فوجی عدالتیں فوری طور پر عدل و انصاف مہیا کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے قائم کی تھیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ اس کی واضح مثال ہے جو اس نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر صدرِ مملکت کی نظر ثانی کے سلسلے میں دیا ہے جس پر ابھی مزید گفتگو عدالت میں ہو گی۔ جو یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے ایک شخص محمد طارق پیرزادہ کے حق میں ایک فیصلہ 17 اکتوبر 1993ء کو دیا تھا۔
  • اگست
1999
صلاح الدین یوسف
کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا، جن اُصولوں پر متحدہ ہند کی تقسیم عمل میں آئی تھی، ان میں ایک اُصول یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ لیکن اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ راج نے اس اصول کے برخلاف بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان کا بننے والا یہ حصہ ایک متنازعہ صورت میں قائم چلا آ رہا ہے۔
اس مسئلے پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قابض ملک بھارت کا وہ رویہ ہے جو عدل و انصاف کے مسلمہ اُصولو ں اور بین الاقوامی ضابطوں کے سراسر خلاف ہے۔ دوسرے، استعمال ملکوں کے مفادات ہیں جو اس وقت قوت کے نشے میں مخمور دنیا کے چودھری بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ تیسرے، بھارت جو نسبتا پاکستان سے بڑا ملک ہے اور کافر ہے، بینُ الاقوامی طاقتیں اسے ناراض کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ اس کی ناز برداری میں لگی رہتی ہیں۔ چوتھے، خود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ بھی اس میں رکاوٹ چلا آ رہا ہے، جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
ہمارے پاکستانی حکمران بدقسمتی سے جہاد کی اہمیت اور جذبے سے عاری ہی رہے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1981
حافظ محمد سعید
پندرھویں صدی ہجری امت مسلمہ کے سامنے فکر و عمل کی ایک دعوت پیش کر رہی ہے۔ آج امت کے ہر فرد کو اپنے نصب العین مقاصد اور فرائض کا شعور اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ اپنی منزل کا تعین کر کے اس تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں صرف کر دینا ہے اور نتیجتا دنیا کے سیاسی اور فکری افق پر اسلام کو غالب نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ موجودہ حالات اسی کا تقاضا کرتے ہیں اور امت کی بقاء اور عروج کا انحصار اسی بات پر ہے۔
اسلام زمان و مکان کی تمام بندشوں سے بالا ایک دین ہے۔ جو بنی نوع انسان کے سامنے امن و سلامتی کی دعوت پیش کرتا ہے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام کے اندر وہ فطری اور استدلالی قوت ہے کہ جب بھی اس کے اپنے رنگ میں کوششیں کی گئیں یہ غالب نظام کے طور پر ابھرا۔ دنیا کے ہر نظام اور قوتِ پر غالب آنا اس کی نیچر ہے کیونکہ حق کی شان ہی یہ ہے کہ (ألحق  يعلو ولا يعلى عليه) یعنی حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عالمگیر حقیقت کو دعوتِ اسلام کے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا۔ جب "لا اله الا اللہ" کو پیش کیا تو اس کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی:
(هى كلمة واحدة  تعطونيها  تملكون بها العرب  وتدین لکم بها  العجم)
یعنی بظاہر تو یہ ایک کلمہ ہے۔ لیکن اس پر ایمان و عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ تم عرب کے مالک ہو گے اور پورا عجم تمہارے زیرنگیں ہو گا۔