• نومبر
2004
حسن مدنی
پاكستان ميں غيرت كے جرائم كا مسئلہ پانچ برس قبل اپريل ١٩٩٩ء ميں، قومى پريس ميں اُس وقت نماياں ہوا تها جب سمیعہ عمران نامى پشاور كى ايك عورت نے اپنے شوہر كى غير موجودگى ميں گهر سے فرار ہوكر عاصمہ جہانگير كے ادارہ دستك ميں پناہ لى تهى جس كے نتيجے ميں اس عورت كو ماں باپ كے ہمراہ موجود باڈى گارڈ نے گوليوں سے دستك كے د فتر ميں قتل كرديا تها-
  • دسمبر
2014
حسن مدنی
کیا غیرت کے نام پر ہونے والے ہر قتل کی سزا قصاص ہے؟

اسلام اور اس کی جدید تجربہ گاہ کے نام پر سینۂ ارضی پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان اپنے قیام کے 65 برس بھی تشخص اورشناخت کے بحران میں مبتلا ہے۔ عظیم اکثریت کا نمائندہ طبقۂ اہل علم اس ملک کو اس کی اصل بنیاد اور اسلامی تقاضوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے
  • جون
1999
عطاء اللہ صدیقی
جنسی آوارگی کو انسانی جبلت قرار دینے والا مغرب، اسلامی اور ایشیائی معاشروں میں غیرت و حمیت کے تصور کے معروضی اِدراک سے اگر معذور ہے تو یہ امر تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رویپ کی زبانوں میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں ہے جسے صحیح معنوں میں "غیرت" کا مترادف قرار دیا جا سکے۔ لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کے انتھک منادوں کی طرف سے "غیرت کے نام پر قتل" کے لئے سزائے موت کا اگر مطالبہ کیا جاتا ہے تو یقینا اسے ان کی مریضانہ مغرب زدگی سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔
گذشتہ کئی برسوں سے مغرب کے سرمائے سے پاکستان میں چلائی جانے والی انسانی حقوق کی علمبردار NGOs کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے لئے سزائے موت کا قانون تشکیل دیا جائے۔ اگست 1997ء میں سپریم کورٹ کے معزز جج اسلم ناصر زاہد کی سربراہی میں قائم کردہ "خواتین حقوق کمیشن" نے مفصل سفارشات پیش کیں تو اس میں ایک سفارش یہ کی گئی:
"غیرت کے مسئلہ پر قاتلانہ واردات کو قانون کے تحت "قتل عمد" قرار دیا جائے اور اس کے لئے مناسب قانون بنایا جائے" (رپورٹ، باب نمبر 6)
  • نومبر
2004
ظفر علی راجا
پاكستان كى تاريخ ميں سال ٢٠٠٤ء كو 'اسلامى تشدد پسندى' كے خلاف حكومتى سرگرمى اور مسلح مہم جوئى كے علاوہ حدود قوانين اور توہين ِرسالت سے متعلق ضوابط كے خلا ف وفاقى حكومت اور بعض مغرب زدہ اين جى اوز كى تحريك كے حوالے سے ايك خاص اہميت كا حامل قرار ديا جاسكتا ہے- اس سال كے دوران پاكستان كے قبائلى علاقوں، پاك افغان سرحد كے ساتھ ساتھ اور وطن عزيز كے اندر فوجى كارروائى ميں سينكڑوں 'اسلامى جنگجووٴں' كو 'ہلاك' كياگيا اور يہ كارروائى دمِ تحرير بهى پورے زور و شور سے جارى ہے-