• جنوری
1993
ثریا بتول علوی
موجودہ دور میں عالمی میڈیا پر صیہونیت کی حکمرانی ہے۔ ان کے ناپاک عزائم میں اُمت مسلمہ کو جہاں ہر محاذ پر نیچا دکھانا ہے وہاں مسلمانوں کے قلوب میں ان کے دین کی بابت بدگمانی راسخ کرنا بھی ایک بھرپور مشن ہے۔ ''حدود اسلامی'' کے ضمن میں بین الاقوامی میڈیا کافی عرصہ سے یہ پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ ''اسلامی سزائیں وحشیانہ اور دور ظلم کی یادگار ہیں۔''حال ہی میں پاکستان میں بھی اس پراپیگنڈہ کی بازگشت سنائی دی، اور بعض طبقات اس آواز سے متاثر ہوکر اس نظریہ کی اشاعت میں بھی
  • ستمبر
2006
محمد آصف احسان
اس حقیقت سے ہر صاحب ِفہم و ذکالازمی طور پراتفاق کرے گاکہ اخلاقی بے راہ روی اور مادر پدر آزادی حضرت انسان کو 'اشرف المخلوقات' کے رتبہ ٔ عالی شان سے گرا کر عقل و شعور سے عاری حیوانات کی صف میں لاکھڑا کرتی ہیں اور انسان کی سماجی زندگی کے ان گوناگوں محاسن و محامد کو پیوند ِخاک کردیتی ہیں جو جملہ بشریت کا اندوختہ گراں مایہ اور اثاثہ ٔ بے مثل ہیں ۔
  • جون
2006
عبد الرحمن مدنی
انصاف: حدود اللہ اور حدود آرڈیننس میں آپ کیا فرق سمجھتے ہیں ؟
مولانا مدنی:حدود اللہ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہیں تاکہ معاشرے سے بدکاری اور بے حیائی ختم ہو اور لوگ امن و امان اور عزت سے زندگی گزار سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کل انسانیت کے خالق ہیں اور اللہ کو ہی بہتر علم ہے کہ انسانی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا طریق کارکیا ہے؟ وہ علاج اللہ نے کتاب و سنت کی شکل میں ہمیں دیا ہے جس میں حدود اللہ بھی شامل ہیں ۔ 
  • اگست
2006
عبد الرحمن مدنی
1979ء میں نفاذِ شریعت کے پیش نظرپانچ آرڈیننس جاری کئے گئے تھے جن میں سے آرڈیننس نمبرVIIجرمِ زنا سے متعلق ہے اور جرمِ قذف (تہمت ِزنا) وغیرہ سے تعلق رکھنے والا آرڈیننسVIIIہے۔ اس وقت جرمِ زنا آرڈیننس نمبرVIIزیر بحث ہے اور کسی قدر جرمِ قذف آرڈیننس VIII...جو مستقل قانون ہے... کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔
  • ستمبر
2006
حسن مدنی
آخر کارحدود آرڈیننس میں اس 'روشن خیال 'ترمیم کے چہرے سے پردہ اُٹھ ہی گیا جس کے بارے میں تمام ذمہ داران کو اسمبلی میں باقاعدہ پیش ہونے سے قبل مخفی رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اور اس ترمیمی بل کے لئے فضا کو ساز گار بنانے کے غرض سے 3 ماہ سے قوم کو مضحکہ خیز اور یک طرفہ پروپیگنڈ ے کے بخار میں مبتلا کیا گیا تھا جس پر بظاہر تو ایک اخباری گروپ نظر آرہا تھا لیکن اس کی پشت پناہی کے لئے حکومت کی پوری ابلاغی مشینری متحرک تھی۔
  • جنوری
2004
ظفر علی راجا
2003ء میں وطن ِعزیز کو جہاں آئین اور جمہوریت کے حوالے سے گونا گوں صدمات برداشت کرنا پڑے، وہاں پاکستان میں 1980ء کی دہائی میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین پر بھی مغرب نواز حلقوں کی جانب سے حکومتی سطح پر نفوذ کرنے اور ان قوانین کو ختم کروانے کی مؤثر کوششیں کی گئیں ۔
  • جون
2006
حسن مدنی
پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور اسلام کی رو سے کسی مملکت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں بنیادی اہمیت اس امر کو حاصل ہے کہ وہاں اللہ کا قانون نافذ ہو اور عدل وانصاف کے لئے اللہ کی قائم کردہ میزان پر فیصلے کئے جاتے ہوں۔ قیامِ پاکستان کے کئی عشروں بعد اسلامیانِ پاکستان کو اس امر کی توفیق ملی کہ وہ مملکت ِخداداد میں بعض اسلامی قوانین کا نفاذ (گو بظاہرہی) کرسکیں۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کو لاگو کرنے کے لئے اب تک تین آرڈیننس نافذ کئے جا چکے ہیں
  • اکتوبر
2007
صلاح الدین یوسف
وطنِ عزیز کے حالیہ المناک حالات بلاشبہ بداعمالیوں اور کوتاہیوں کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ جن دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنوں کو بے دردی سے ہلاکت وبربادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، آج وہی عراق وافغانستان کی طرح اُسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے ہم پر حملہ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔
  • دسمبر
2007
صلاح الدین یوسف
زیر نظرمضمون محترم حافظ صاحب نے چند ماہ قبل ادارۂ محدث کو اشاعت کے لئے دیا تھا جس میں گذشتہ برس پاس ہونے والے تحفظِ حقوق نسواں بل کے خطرناک پہلوئوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آج ہم بحیثیت ِقوم وملت جن مسائل کا شکار ہیں ، اس تک پہنچنے میں ہماری ماضی کی المناک غلطیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔
  • دسمبر
2006
محمد رفیق چودھری
اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے ۔اس حد کو بدلنے کا کسی کو اختیار نہیں ۔اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سفارش کرنا بھی نا پسندیدہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانی پر رجم یعنی سنگساری کی سزا نافذ فرمائی ہے۔کبھی مجرم کے اعتراف (Confassion) پر اور کبھی چار گواہوں کی شہادت(Witness) دینے پر یہ حد جاری کی گئی۔ اب جولو گ اس حد شرعی کو اپنے طور پر یا کسی بیرونی اشارے سے بدلنا یا منسوخ کرنا یا تعزیر میں تبدیل چاہتے ہیں ، وہ در اصل اسلامی شریعت کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کا کھلونا بنانا چاہتے ہیں ۔
  • دسمبر
2006
حسن مدنی
نبی آخر الزمان سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دارِ فانی سے رحلت فرما جانے کے بعد اللہ کا وہ دین 'اسلام' اور عطا کردہ ضابطہ حیات پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا۔ اس دین میں جو کمی بیشی اور اس طرزِ حیات میں جو تبدیلی ہونا تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتمام وکمال اسے جبریل امین ؑسے وصول کرکے اپنی اُمت تک پہنچا دیا، اور اس کے بعد اس دین میں ترمیم کرنے کا کسی کو کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہونے والی آیات میں تکمیل دین کا اعلان کردیا گیا ۔(المائدة: 3)
  • جنوری
1982
محمد ابراہیم الہویش
حکومتِ سعودی عرب کو شریعتِ اسلامی کے نتیجہ میں امن و استحکام کی جو نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ جو شخص اس مملکت کے محلِ وقوع سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس مملکت کے اجزاء بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس کے شہروں میں ربط و نظم کا سلسلہ تقریبا ناممکن تھا اور موجودہِ رسل و رسائل کے وسائل مفقود تھے ۔۔۔ علاوہ ازیں یہاں کے عربی قبائل، کہ جاہلی عصبیت اور انتقام وغیرہ کبھی جن کا طرہ امتیاز تھا، اب بھی ان عادات سے متاثر ہیں۔۔۔ ان حالات کو دیکھئے اور اس خطہ کے پر امن موحول کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ اس مملکت پر اللہ رب العزت کا یہ فضل و احسان محض اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی حکومت نے سیست و انتظام، احوالِ شخصی، مالی معاملات اور معاشرتی تعلقات وغیرہ، غرضیکہ ہر پہلو سے شریعتِ اسلامیہ سے تطبیق کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کا ہر باشندہ امن و سکون کی دولت سے مالا مال اور اپنی جان، مال اور عزت کو پوری طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
  • اپریل
2007
حسن مدنی
اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک'پاکستان' کی تاریخ میں گذشتہ سال اس لحاظ سے بدترین ہے کہ اس سال 15؍ نومبر کو قومی اسمبلی اور 22؍ نومبر کو سینٹ آف پاکستان نے قرآن وسنت سے صریح متصادم ایسے قانون کو منظور کرکے ملک بھر میں رائج کردیا جس کے خلاف ِاسلام ہونے پر پاکستان بھر کے دینی حلقے یک آواز تھے۔
  • دسمبر
2006
حسن مدنی
حدود قوانین کے خلاف حکومتی مہم کے سلسلے میں 'محدث' کا ابتداسے ہی نمایاں کردار رہا ہے۔ زیر نظربل کے تین مرحلے ہیں: اگست2006ء کے آغازمیں مختلف لوگوں نے اخبارات میں اس بل کا مجوزہ خاکہ پیش کیا تو اس وقت ان مجوزہ ترامیم پر ایک تفصیلی مضمون محدث کے شمارئہ اگست میں شائع ہوا۔ بعد ازاں 21؍اگست کو قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کردیاگیا تو پیش کردہ بل کا شرع وقانون کی روشنی میں تفصیلی جائزہ محدث کے شمارئہ ستمبر میں لیا گیا۔۔
  • ستمبر
2006
ادارہ
''حکومت کی دعوت پر آنے والے علماء کرام نے آغاز میں ہی یہ طے کرلیا تھا کہ دو تین اُصولی اور اہم اُمور کو پہلے زیر بحث لایا جائے، اگر حکومت ان کے بارے میں ہماری بات قبول کرنے کو تیارہو تو باقی اُمور پر بات کی جائے ورنہ مسودۂ قانون پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں تین باتیں ہمارے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ہیں
  • اگست
2006
حسن مدنی
حدود قوانین کے حوالے سے پاکستان کے ایک بڑے ابلاغی گروپ کی طرف سے شروع کی گئی مہم بڑی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تین ماہ سے اس گروپ کے ذرائع ابلاغ لگاتار حکومت کو اس امر کی یاددہانی کروا رہے ہیں بلکہ دوسرے لفظوں میں اس پر دبائو بڑھاتے جارہے ہیں کہ ''پارلیمنٹ آخر کب سوچے گی؟''