• ستمبر
1985
عبدالرحمن عاجز
بنت ملت کو نہ بے پردہ پھرائے کوئی                       دین اسلام پرچرکا نہ لگائے کوئی
خود جو پھرتی ہو نقاب اپنا اٹھائے کوئی             اس کوفتنوں سے بھلا کیسے بچائے کوئی
لاتبرجن سے واضح ہے مقام پردہ                   رسم فرسودہ نہ پروے کو بتائے کوئی
  • اگست
2008
فاروق احمد حسینوی
سوال: عورت کا گھریلو ملازمین اور ڈرائیوروں کے سامنے آنا کیسا ہے اور کیا ان کو اجنبی سمجھا جائے گا۔ میری والدہ مجھے ان کے سامنے آنے سے قبل سر پر سکارف رکھنے کا کہتی ہیں، کیا ایسا کرنا دین میں جائز ہے جو ہمیں اللہ کے احکامات کی اطاعت کا حکم دیتا ہے؟
جواب: گھریلو ملازم اور ڈرائیور کا وہی حکم ہے جو باقی مردوں کاہے۔ اگر وہ محرم نہ ہوں تو ان سے پردہ کرنا واجب ہے
  • فروری
1999
مریم مدنی
(((ملک میں نفاذ شریعت کے حوالے سے بعض اسلام دشمن لابیوں کے پردہ کے بارے میں کیے جانے والے پروپیگنڈہ کے تناظر میں روزنامہ جنگ نے گذشتہ دنوں چند سوالات ترتیب دیے اور ادارہ محدث سے ان کی بابت شرعی رائے طلب کی۔ان سوالات کی نوعیت ان سے مختلف ہے۔جن میں شرعی رائے معلوم کرنے کا مقصد عموماً اس پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔بلکہ یہ سوالات اس مغرب ذدہ ذہن کی عکاسی کرتے ہیں جن سے بعض اوقات تو اسلام پر تنفیذ کے نئے دروازے کھولنا اور بعض اوقات صرف نظری بحث تک ہی کفایت کرنا مقصود ہوتاہے۔پردہ اور اسلامی ستر وحجاب کی حقیقت اور نوعیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔سوال صرف اس ایمانی غیرت وجذبے کاہے جس کی بنا پر مسلمان کے لیے اس صریح حکم اسلامی کی بجالائے بنا چارہ نہ رہے۔۔۔علاوہ ازیں ان سوالات کا زیادہ تر تعلق اصل موضوع کی بجائے دعوت دین کی حکمت عملی سے بھی ہے جس کو بجالانا دور جدید کے مخصوص تناظر میں ازحد ضروری بلکہ دینی تقاضاہے ۔اسی کے پیش نظر در ج ذیل جوابات دئے گئے ہیں۔(ادارہ)))
  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
پرو فیسر وارث میر،معرفت روز نامہ "جنگ کے نام!
اوپرآزاد عورت اور لونڈی کے احکام ستر وحجاب  میں فرق کے جو دلائل ہم نے ذکر کئے ہیں ۔ان سب میں اس  فرق کے علاوہ،آزاد عورت کے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کا ثبوت بھی واضح اور بین ہے!۔۔۔ اب ہم وہ دلائل نقل کرتے ہیں جن کا تعلق براہ راست اسی مسئلہ سے ہے ۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر جلد 3صفحہ518،اور تفسیر جا مع البیان للطبری 33/22 طبع مصر پر ہے:
"حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا "اللہ تعا لیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف )ایک آنکھ کو ظاہر کر یں۔"
  • اپریل
2009
محمد زبیر
ماہنامہ 'اشراق' مارچ 2009ء کے شمارے میں پروفیسر خورشید صاحب کا مضمون'چہرے کا پردہ احادیث و آثار کی روشنی میں' میں شائع ہوا۔ ایک زمانے میں جبکہ پروفیسر صاحب چہرے کے پردے کے موضوع پر ماہنامہ 'اشراق' میں لکھ رہے تھے، ہم نے اُنہیں یہ مشور ہ دیا تھاکہ اگر واقعتا وہ اس موضوع پر کوئی سنجیدہ اور علمی کام کرناچاہتے ہیں تو وہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں: جلباب المرأۃ المسلمۃ اور الردّ المفحم کا ترجمہ کر دیں۔