• جنوری
1999
عطاء اللہ صدیقی
مضبوط جلد میں درمیانے سائز کے 456 صفحات/قیمت: 180
سفید کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب کمپوزنگ
ملنے کا پتہ: ادارہ خواتین میگزین، چیمبرلین روڈ، لاہور
 
گذشتہ چار صدیوں کے دوران مغرب کے چشمہ ظلمات سے ضلالت اور گمراہی کے جتنے بھی فتنہ پرور فوارے پھوٹے ہیں ان میں "آوارگی نسواں" کا فتنہ اپنی حشر سامانیوں اور تہذیبی ہلاکتوں کی وجہ سے سب فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاش ازم جیسے باطل نظریات نے مغرب کی مذہبی اساس کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا لیکن ان کی یلغار سے خاندانی اقدار اور سماجی قدریں بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ مردوزن کے سماجی رشتوں کی وجہ سے قائم خانگی توازن خاصی حد تک قائم تھا لیکن "عورت ازم" (Feninism) کے ہوش ربا فتنہ نے خاندانی نظام کی عمارت کو اس قدر زمین بوس کر دیا ہے کہ مغرب میں سماجی ادارے کے طور پر خاندان کا تصور تک معدوم ہوتا جا رہا ہے۔
  • جنوری
2007
زینب الغزالی
میں ایک اہم موضوع پر اظہار خیال کرنے اُٹھی ہوں ۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ معاشرہ کی تعمیر میں عورت کا کیا کردار ہوناچاہئے؟ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے...!بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوچھا جارہا ہے کہ کیامعاشرے کی تعمیر میں مسلمان عورت کا کوئی عمل دخل اور ذمہ داری ہے؟
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
بیرون ملک کھیل کے میدانوں میں مسلمان بہو بیٹیوں کو روانہ کر کے ’’ پورے ملک اور قوم کے وقار ‘‘ کا ’’ تحفظ ‘‘ کرنے کے بعد پروفیسر صاحب اب خود تحقیق و تنقید کی جو لانگاہ میں قدم رنجہ فرماتے ہیں ۔۔۔ وضاحتوں والے مضمون کی دوسری قسط کی ابتداء ہی میں ارشاد ہوتا ہے :
’’ حضرت شاہ عبد القادر نے پردے کے حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں ، بی بی ہے صاحب ناموس ، بد ذات نہیں نیک بخت ہے ‘‘
ہمارے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر و ترجمہ کرنے والی تمام شخصیتیں محترم ہیں اور شاید ہم گنہگار ہی قرآنی احکام کی تفسیروں میں پوشیدہ اس قسم کی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جن کی رو سے کنیز اور لونڈی کو ایک قابل احترام اور مکمل عورت یا انسان تسلیم کرنے میں آج بھی تامل کیا جاتا ہے ۔
  • اگست
1971
عزیز زبیدی
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بری ہوتی ہیں اور برائی کا سبب بنتی ہیں، لیکن یوں عام ہوتی ہیں، جیسے شرعاً ان میں کوئی قباحت ہی نہ ہو۔ اس لئے اصلاحِ حال کی طرف نہ ذہن جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس فرصت میں ہم اس سلسلے کے صرف وہ چند امور سامنے رکھیں گے، جو مستورات سے تعلق رکھتے ہیں، جو حد درجہ خطرناک ہیں مگر حد درجہ عام بھی ہیں۔
  • اگست
2007
عمرفاروق سعیدی
اللہ کے بندے محمد بن ابراہیم __ اللہ اس پر رحم فرمائے __کی طرف سے، اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے نام، جو اسے ملاحظہ فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اُسے راضی کرنے والے ہوں ، اور ہمیں ایسے اعمال و اسباب سے محفوظ رکھے جو اُس کی نافرمانی اور ناراضگی کا سبب ہوسکتے ہوں ۔
  • اپریل
2002
اعجاز حسن
خواتین کو اسلام نے پردہ کا پابند اس لئے کیا ہے کہ ان کی عزت و عفت پر کوئی حرف نہ آئے۔ جس طرح ملک کی اعلیٰ شخصیات کوبلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستہ دے کر ان کو قید کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے، اسی طرح ان گراں قدر موتیوں (خواتین) کو پردہ کے حفاظتی قلعہ میں قید نہیں کیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کا سامان کیا گیاہے ۔
  • جولائی
  • اگست
2015
حسن مدنی

اسلامی نظریاتی کونسل کی تازہ سفارش کا ناقدانہ جائزہ

انسانی معاشرے میں سب سے اہم سوال مرد وزَن کے باہمی فرائض وحقوق اور تعلقات کاہے۔ کیونکہ نسل انسانی کو دو صنفوں میں پیدا کیا گیا ہے، اور ان دونوں کا باہمی ارتباط اور ضابطہ ونظام کیا ہونا چاہیے؛اس پر ہی انسانی زندگی کے بنیادی پہلوؤں کا انحصار ہے۔ اسلام کا عظیم احسان یہ ہے کہ اس اہم ترین مسئلہ پر وہ ایک بڑا معتدل ومتوازن نظام پیش کرتا ہے، جس پر عمل پیرا ہوکر ہر دو صنفیں سکون واطمینان کے ساتھ حیاتِ مستعار کے ایام گزار سکتے اوردنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز ہوسکتے ہیں۔

  • فروری
1989
غازی عزیر
اپنے مسلم معاشرہ میں یہ بات عام طور پر کہی اور سنی جاتی ہے کہ:
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔"
بعض علماء واعظین اور خطباء بھی "(ألجنة تحت أقدام الأمهات)" (جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے) کا تذکرہ اپنی تصانیف اور پُر نصائح وعظ و تقاریر میں بلاتکلف کرتے نظر آتے ہیں گویا یہ اَمرِ ثابت ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرذج و مشہور الفاظ کسی جید اور قابلِ اعتماد اسناد کے ساتھ مرفوعا ثابت ہی نہیں ہیں۔ اس موضوع کی جتنی روایات ذخیرہ احادیث میں موجود ہیں۔ شارحینِ حدیث نے ان کا کیا معنی و مطلب متعین کیا ہے اور ان روایات کا محدثین کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ ہے۔ یہ واضح کرنے کے لئے یہ مختصر مضمون ہدیہ ناظرین ہے۔
  • فروری
1986
مسرت جبین
یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم آج اپنے اطراف پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں مخلوط نظام کے تحت رواں دواں نظر آتے ہیں اور خیال عام یہ ہے کہ یہ نظام اور اس کے نتائج لڑکیوں میں اعتماد کی قوت پیدا کرتے ہیں۔ لیکن ہماری عقل اس بات پر ہمارا ساتھ ضرور دے گی کہ اگر کسی چیز کو ایک غیر فطری ماحول میں رکھ دیا جائے تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں؟ اگر آج ایک لڑکی اپنے گھر سے بے دھڑک