• دسمبر
1989
ادارہ
آجکل اسلامی معاشرے میں جب بھی کسی برائی کے خلاف آوازاٹھتی ہے۔تو خود نام نہاد دانشور کتاب وسنت سے ایسی دلیلیں تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔جن سے مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس سے اُن کا مقصد تو مسلمانوں کو شک میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔تاکہ وہ مغرب سے آمدہ برائی کو اپنے ہاں فروغ دینے میں رکاوٹ نہ بنیں۔لیکن حیرت ان مغرب زدہ برائی کے علم برداروں  پر ہوتی ہے۔جو مسلمان کہلانے کے باوجود اس طرح دیدہ دلیری سے اسلامی اقدار واخلاق کا مذاق اُڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے،بالخصوص پاکستان جسے اسلام کے نام پر حاصل کرکے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ قرار داد  پاس کی کہ یہاں کے باشندوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے مطابق زندگیاں گزرانے کی مواقع مہیا کئے جائیں گے۔مگر جب حکومت وقت کی سرپرستی میں ایسے کام ہوں،اور ا س کے برجمہران کی ہمنوائی کریں تو پھر الامان والحفیظ کی صدائیں ہی بلند کی جاسکتی ہیں۔اس سلسلے میں پچھلے دنوں اسلام آباد میں بین الاقوامی کھیلوں کے مناظر میں عورتوں کی شرکت سے جو نمائش کی گئی۔اس پر ملک وملت کے خیر خواہ سرپیٹ کررہ گئے لیکن بات یہاں تک بس نہ ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام میں تجدد  کے علمبردار خم ٹھوک کر میدان میں  آگئے۔
  • دسمبر
1988
غازی عزیر
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ... ٣٠﴾...النور
"اور آپ مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔"
قرآن کریم کی یہ آیت اصحاب سماع کے تسامح اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح مخالفت پر دلیل ہے۔ اس آیت کے آگے ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ... ٣٠﴾...النور"اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
لیکن جو شخص پہلے حکمِ ربانی کی مخالفت کا ارتکاب کرے۔ اس کے لئے دوسرے حکم کی خلاف ورزی بالفعل عین ممکن ے۔ پس یہ امور انسانوں کے لئے باعث تزکیہ نفس کیونکر ہو سکتے ہیں؟ جو ان برائیوں میں مبتلا ہو چکا  ہو، اس کے لئے راہِ نجات صرف یہ ہے کہ:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...النور
"اور اے مومنو! (اگر تم سے احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو) تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
اس نظر میں جو خطرات اور مفردات پوشیدہ ہیں ان کے پیش نظر بعض تابعین نے فرمایا ہے:
"میں کسی نو عمر زاہد کے متعلق جس کے پاس امرد لڑکا بیٹھتا ہو سات گنا زیادہ ڈرتا ہوں۔"
  • نومبر
2000
عبدالعزیز حنیف
اہم معاشرتی برائی کے سد باب کی ایک جھلک

معاشرتی برائیوں میں سے بڑی برائی"مردوزن کے ناجائز تعلقات" ہیں۔سورہ بنی اسرائیل میں اس مسئلہ کی بابت احکام نازل ہوئے ہیں جس میں خالق کائنات نے ارشاد فرمایا:"زنا کے قریب مت جاؤ،یہ بے حیائی کی دعوت ہے اور نہایت برراستہ ہے"اس سے منع کرنے کی دو وجوہات ہیں:
اول:۔
یہ حیا کی ضد ہے جبکہ اسلام حیا کاعلمبردار ہے اور وہ حیا کو ایمان کا جزو عظیم قرار دیتاہے۔ جب بے حیائی کافتنہ کسی انسان کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیتا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی قسم کے جرم کے ارتکاب میں  ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر تا۔پیغمبر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"جب حیا  کاجذبہ تمہارےاندر سے ختم ہوجائے تو پھر تم جو چاہے کرتے پھرو،تمھیں کوئی روکنے والا نہیں"
جہاں حیا کےخاتمے سے انسان کا ضمیرمردہ ہوجاتا ہے ،وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہوجاتی ہیں۔انسان کے افعال اسکے کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں۔نتیجۃً تباہی اور بربادی اسکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
دوم:۔
وجہاس کی یہ ہے کہ قبیح فعل معاشرے میں فساد اوربگاڑ کاباعث ہے۔یہی فساد بسا اوقات قبیلوں اورقوموں کی تباہی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔