• دسمبر
2014
محمد نعمان فاروقی
اتحاد، اتفاق، وحدت اور یکجہتی بڑے مؤثراورمعنیٰ خیز الفاظ ہیں۔ ان کا ایک مفہوم تو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے، تودوسری طرف ان کا ایک مفہوم عوام میں بھی رائج ہے۔ زیر نظر مضمون میں دونوں میں فرق پیش کرنے کے بعد،اتحاد کا اصل مفہوم اور اسکے ثمرات کا ذکر کیا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ
  • مئی
1976
حفیظ الرحمان احسن
اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے۔
  • اکتوبر
1982
حکیم محمد یحیٰ
پانچویں صدی ہجری میں باطنیوں کی ایک تنظیم
از قلم ، جنا ب حکیم محمد یحیی فال صاحب
ماہنامہ ’’ محدث ،، لاہور کی جلد 12 کےنویں شمارہ میں جناب ڈاکٹر جبیب الرحمٰن الہی علوی کایک مضمون ’’ تاریخ کی روشنی میں تصو ف کی حقیقت ، ، کےنام سےشائع ہوا ہے۔اس میں تحقیق وتنقید کےانداز میں یوسف سلیم چشتی کےمقابلہ ’’ ہندوستان میں بھگتی تحریک ،، مطبوعہ ’’ میثاق ،، اکتبور 1980ء کےبعض حصوں پربڑی مفید اوربصیرت افروز گفتگو کی گئی ہےاورمروجہ تصوف کی غیر اسلامی ، عجمی اوردیدانتی اساس کی خوش اسلوبی سےاجاگر کیا گیا ہے۔ 
اتے اچھے مضمون میں ڈاکٹر علوی صاحب کےذھول یاتغافل کی بناء پربعض تسامحات،بھی راہ پاگئے ہیں جو،یوں توہرانسانی کا م میں ممکن الوقوع ہیں اورخطاونسیان کےاس مرکب کی چند درچند معذور یوں کی بنا ء پراس کےکام کااہمیت ونوعیت پران کا چنداں اثر نہیں پڑتا، تاہم ایسی قیمتی اوراصلاحی تحریر میں ان کاوجود علم وفکر اورتحقیق وتاریخ کی نگاہوں میں کھٹکتاہے۔
  • اگست
2003
محمد علی قصوری
عبادات: توحید ِحقیقی کو ذہن نشین کرنے سے انسان کے تعلقات اپنے خالق سے درست ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ان تعلقات کو قائم و دائم رکھنے کے لئے چند آئین و قوانین ہونے چاہئیں کہ ایک دفعہ توحید ِکامل کا سبق پڑھ کر انسان اِسے بھول نہ جائے؛ انہیں اصطلاحِ شرع میں 'عبادات' کہتے ہیں۔ عبادات میں محاکمہ کے لئے ایک مبسوط بحث کرنے کی ضرورت ہے
  • اکتوبر
1998
خورشید احمد
اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----
  • اکتوبر
1992
عابدہ خواجہ
معاشرتی تحفظ:۔

جس طرح اسلام کے اخلاقی نظام میں عورت کے حقوق کو تحفظ دیاگیا ہے۔اس طرح اسلام کے معاشرتی نظام میں بھی عورت ک حقوق کا تحفظ ہے،چنانچہ اسلام جہاں دیگر مقہور ومظلوم طبقات انسان کے لئے رحمت بن کر آیا،وہاں وہ دیرینہ ،مجبور،لاچار، بے کس اور ظلم وستم کی چکی میں پسنے والی اس صنف نازک کے لئے
  • دسمبر
2003
حسن مدنی
قومیں اپنے مضبوط تہذیب وتمدن سے پہچانی جاتی ہیں اور تہذیب کے نشو وارتقا میں مذہبی تصورات کے ساتھ ساتھ مذہبی تہواروں کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ زندہ قومیں اپنے تہوار بڑی گرم جوشی اور جوش وخروش سے مناتی ہیں کیونکہ یہ تہوار ان کی ثقافتی وحدت اور قومی تشخص کا شعار سمجھے جاتے ہیں۔ اسلامی تہواروں میں جہاں عید الفطر کو ایک غیر معمولی تہوار کی حیثیت حاصل ہے،
  • جنوری
1998
چودھری عبدالحفیظ
حد کی جمع حدود ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں چودہ مقامات پر آیا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾...(البقرة)
"یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ جانا"
﴿إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ﴾... (البقرة: 229)
"ہاں اگر میاں بیوی کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ...(البقرة: 229)
"اگر تم ڈرتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾... (البقرة: 229)
"یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں (احکامات) ان سے باہر نہ نکلنا"
  • جنوری
  • فروری
1971
محمد حنیف
نبی ﷺ کے خطہ حجۃ الوداع اور خلفائے راشدین کے عہد کے آئینے میں

اسلام نے معاشرتی تنظیم کے لئے جو اصول وضع ہیں اصولِ مساوات ان میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسی بنیاد پر معاشرے کا باقی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے اور معاشرتی قانون بنائ گئے ہیں۔
  • اکتوبر
1992
طاہر شیخ
انسانی فطرت ہے کہ اپنے خیالات ومحسوسات کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور خوددوسروں کے حالات سے آگاہی حاصل کی جائے۔باخبر رہنا انسان کی بنیادی خواہش ہے۔چنانچہ نسل انسانی کی ابتداء سے ہی"ابلاغ" سے مراد دوسروں سے بات چیت،ان پر اپنا مطلب واضح کرنے اور اپنے خیالات وتصورات دوسروں تک پہنچانا ہے۔انسان نے ابلاغ کے عمل کو موثر بنانے کےلئے تہذیب کے مختلف ادوار میں ابلاغ کے مختلف ذرائع استعمال کئے ہیں۔
  • اگست
1972
اکرام اللہ ساجد
فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں، جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح معاشرہ سے افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور معاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لئے اسلام نے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔
  • مارچ
1973
منظور احسن عباسی
قرآنِ حکیم نے انسانی زندگی کے دو شعبے قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک کو ہم تقاضائے حیات سے اور دوسرے کو مقاصدِ حیات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ فکری الجھنیں محض اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم نے ان تقاضا ہائے حیات کو مقاصدِ حیات تصور کر لیا ہے۔ کھانے پینے کی خواہش، جنسی میلانات، عیش و آرام کی طلب، خوب سے خوب تر کی تلاش، جمالیاتی ذوق، مکارہ سے بے زاری، حادثات سے تحفظ، زندگی سے محبت، مرض اور موت سے نفرت اور ہمہ جہتی ارتقائی رجحانات انسانی زندگی کے لوازمات یا تقاضوں میں سے ہیں۔
  • اپریل
1973
منظور احسن عباسی
مادی ناز و نعم اور دنیوی ترقیات کو ایمان و اسلام کا ثبوت یا اس کے مقاصد میں سے تصور کرنا اسلام کی توہین ہے۔ اسی طرح یہ خیالات کہ کسی فرد یا جماعت کا ترفع یا حکومت و سلطنت، مال و جاہ، ایجادات و اختراعات اور علم و ہنر میں برتری حاصل کر لینا ہی اس کے مذہبی عقائد یا اخلاقی نظریات کے برحق ہونے کی دلیل ہے اور یا یہ خیال کرنا کہ جو لوگ مادی تفوّق کے اس مقام پر فائز ہیں
  • اکتوبر
1971
خالد علوی
فکر و نظر کا بگاڑ:

انسانی زندگی چونکہ بنیادی طور پر نظریات پر استوار ہے، اس لئے نظریات و افکار میں بگاڑ انسان کی پوری سیرت و کردار کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی معاشرے کا تجزیہ اس پہلو سے کرتے ہیں تو اس میں افراد کی نظریاتی و فکری کیفیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1971
خالد علوی
معاشرہ:

معاشرہ عاشر یعاشر کا مصدر ہے۔ اس کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں۔ اصلاح کا مادہ ص۔ ل۔ ح۔ ہے عربی میں صلح صلاحاً کے معنی فساد زائل کرنا ہے۔ اصل شیئاً کے معنی اس نے کسی چیز کو درست کیا چونکہ معاشرہ کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں اس لئے معاشرہ سے مراد افراد کا وہ مجموعہ ہے جو باہم مل جل کر رہے۔
  • دسمبر
2015
حسن مدنی
مسلم دنیا کی نامور سیاسی و علمی شخصیت ، ڈاکٹر عبد اللّٰہ عبد المحسن الترکی جو چندسال سے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کے فرائض انجام دے رہے ہیں، 22 نومبر 2015ء کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوت پر اسلام آباد تشریف لائے۔ اس موقع پر اُنہوں نے بین المذہبی مکالمہ کے موضوع پر UNITE کی بین الاقوامی کانفرنس کے علاوہ اپنے اعزاز میں دیے گئے
  • مارچ
2013
محبوب عالم فاروقی
اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے بلکہ مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و منبع مسجد ہی تھی۔ اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ پیغمبر اسلام جناب محمدﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری 'مسجدنبوی' بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات کی شروعات کیں۔
  • دسمبر
1970
عبدالرؤف
اسلام نے ترکہ ''وراثت'' ''صدقہ و زکوٰۃ'' وغیرہ نظام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے درجاتِ معیشت میں گو تفاوت ہے مگر ایک ساتھ زندگی گزارنے کا حق سب کو یکساں ہے آج اگر کوئی رات کی روٹی اور جسم کے کپڑا کے لئے محتاج ہے اور کوئی ہزارہا یا لکھو کہا کا مالک ہے تو یہ محض اس لئے ہے کہ حق معیشت کی جو ذمہ داری کتاب و سنت نے ہم پر ڈالی ہے، اسے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے۔ صدقات واجبہ عشر و زکوٰۃ کی ادائیگی آج مسلمانوں میں بند ہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿١٠٤﴾... سورةآل عمران

''اور تم میں ایسے منظم لوگ بھی ہونے چاہئیں جو (لوگوں کو) نیک کاموں کی طرف بلائیں اور اچھے کام (کرنے) کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں، اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔''
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
ایک استفتاء آیا ہے کہ:

اگر انتخاب کا متداول طریقہ صحیح نہیں ہے تو اس کی صحیح اور شرعی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ یہ سوال راقم الحروف کے کسی سابقہ تحریر کے مطالعہ سے پیدا ہوا ہے۔
الجواب

کتاب و سنت اور علماء کے افکار کے مطالعہ سے جو امور سامنے آئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
  • جنوری
1992
فضل الرحمن بن محمد
واجب الاحترام وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد ۔لاہور

شریعت درخواست نمبر 11/ایل/1990ء

فضل الرحمان بن محمد ،ایم اے اسلامیات ۔ایم اے عربی (گولڈ میڈلسٹ) شریعۃ کورس جامعہ الازہر (قاہرہ) 53۔نشتر روڈ (براندرتھ روڈ) لاہور۔درخواست دہندہ بنام۔فیڈریشن آف پاکستان بذریعہ سیکرٹری۔
  • مئی
2011
عبدالولی خان
تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1973
حافظ محمد سعید
ذیل میں ہم رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث کی تشریح دے رہے ہیں، جس میں آنحضرت ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور پھر عذاب کی مختلف شکلوں کی پیش گوئی فرمائی۔ گذشتہ چند سالوں میں رب العالمین سے بے اعتنائی اور عدمِ تعلق کی بنا پر ہمارے اندر جن بے شمار اخلاقی اور روحانی خرابیوں نے گھر کیا آج ہماری الفراوی اور اجتماعی مشکلات اور مصائب انہی کا نتیجہ ہیں۔
  • جولائی
1989
ادارہ
دوسروں پر نکتہ چینی صرف آسان ہی نہیں ۔انسان کا بڑا ہی دلچسپ اور مرغوب مشغلہ بھی ہے خاص کر کمزوروں کی ،الان والحفیظ اگر وہ شے بے زبان بھی ہو تو اس وقت انسان کی نکتہ چینی اور "تنقید کا طوفان خیز عالم تو اور ہی دیدنی ہو تا ہے کیونکہ بے زبان جواب دے سکتا ہے نہ بول سکتا ہے۔اس کے پاس وکیل ہے نہ کو ئی یارائے دلیل ۔پھر نقاد کو کھٹکا کا ہے کا ۔اس لیے اس کی زبان کترنی کی طرح کترتی چلی جا تی ہے ۔مثلاً کہے گا:
  • جنوری
  • فروری
1971
عبدالسلام کیلانی
زیرِ نظر مقالہ ''الحرکۃ السلفیۃ ودفع الشبہات عنہا'' پاک و ہند کی جماعتِ اہل حدیث کے عقیدہ، عمل اور علمی خدمات کا ایک مختصر تعارف ہے جو ''مجلس التحقیق الاسلامی'' لاہور کے فاصل رکن مولانا عبد السلام کیلانی مدنی نے جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورۃ میں پڑھا تھا، جس سے جامعہ کے طلبہ بہت محظوظ ہوئے اور اساتذہ نے تحسین و تبریک کے کلمات کہے۔