• اکتوبر
1994
عبدالقوی لقمان
فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾...آل عمران
"  بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا)ہے "
  • جولائی
1996
عطاء اللہ صدیقی
مغرب کے فکری دستر خوان کے خوشہ چین عجب تضادات کا شکار ہیں:
سواد اعظم کے دباؤ کے زیراثران میں اتنی اخلاقی جرات تو نہیں کہ وہ کھلم کھلا اسلام کے کامل دین ہونے کے خلاف کچھ کہہ سکیں۔لیکن ان کی فکر کے تمام دھارے اسلام کی مخالفت سمت میں بہہ رہے ہیں تاہم انہیں اصرار ہے کہ انہیں بہرحال مسلمان سمجھا جائے۔
2۔ان کو تاہ فکرفرنگ زدہ دانشوروں سے اگر دریافت کیا جائے کہ آخر مغرب کے پیش کردہ بلند بانگ انسانی حقوق کی طولانی فہرست کا وہ کونسا گوشہ ہے جو اسلام کے عالمگیر معاشرے کی تشکیل کے وسیع دائرے میں شامل نہیں ہے تو وہ کسی ایک بھی نکتے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔
3۔اگرچہ وہ مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔لیکن اسلام کے نام پر شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک میں شرکت کا داغ اپنے اوپر لینے کو تیار نہیں۔اسلام میں انسانی حقوق کاجو وسیع نظام موجود ہے۔مغرب کے انسانی حقوق کاخاکہ اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔لیکن"کل"کوچھوڑکر"جزو" کو محض زعم باطل میں مبتلا ہوکر اختیار کیے ہوئے ہیں کہ  ترقی پسندی اورروشن خیالی کے حصول کا ان کے نزدیک واحد راستہ یہی ہے۔
4۔درحقیقت وہ فکری اعتبار سے نہ تو وہ صحیح معنوں میں ترقی پسند ہیں اور نہ روشن خیال،ان کے فکر کی ہر تان وعظمت آدم اور شرف انسانیت کے تصورسے متصادم ہے ان کی سرگرمیوں کا سار محور عظمت  انسانی سے زیادہ مغربی آقاؤں کے سامنے اپنے آپ کو ترقی پسند کے روپ میں پیش کرنا ہے۔
5۔ان کے ذہن مغربی ژولیدگی سے مزین ہیں۔اور ان کی زبانوں کو مغرب کے زہریلے پروپیگنڈے کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ان کے ذہن ہر اس ہتک آمیز فلسفے ،اصطلاح اور لفظ کی جگالی کرتے رہتے ہیں جو انہیں مغرب کے ذرائع ابلاغ سے ملتاہے۔اسلام پسندوں کی تضحیک وتوہین میں وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو چار ہاتھ آگے ہیں۔
  • دسمبر
2000
محمد علی الصابونی
(غیر مسلموں کی بہتان تراشیوں اور اعتراضات کاجواب)


ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں اور درودوسلام بھیجتے ہیں اللہ کے برگزیدہ پیغمبر آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی پر،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آل رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  پر اوران ہستیوں پر جنھوں نے قیامت تک کے لیے   آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دامن کو مضبوطی سےتھامے رکھا۔
درود وسلام کے بعد! میں آ پ   کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اسلام جیسی  پاکیزہ اور بے پایاں نعمت سے سرفراز فرمایا اور اللہ سے اس کی محبت اور خوشنودی کا خواستگار ہوں۔دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں گفتار اور کردار کا غازی بنائے،ہمیں ایمان کامل اور صدیق یقین کی دولت سے مالا مال فرمائے۔یقیناً وہی دعاؤں کا سننے والا قبول کرنے والا ہے۔