• مارچ
  • اپریل
1976
فلپ کے ہٹی
(ڈاکٹر ہٹی (PHILIP K. HITTI) عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہونے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرقِ قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مختلف انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اور ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔
  • نومبر
2000
ظفر اللہ خان
اسلام اور مغرب

اہل مغرب اپنے سیکولر،روشن خیال،جمہوری معاشرے کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کو پسماندہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔اسلام صرف ایک مذہب نہیں،بلکہ ایک تہذیب ہے اور رحم دل تہذیب ہے یہ صحیح ہے کہ بعض  پہلوؤں سے اسلامی معاشرے مغربی معاشرے سے چند دہائیاں  پیچھے ہیں لیکن ترقی کی جو شاہراہ مغرب نے اختیار کی ہے وہ بھی سارے انسانی مسائل کا حل  پیش نہیں کرسکتی۔اصل سوال یہ ہے  کہ ایسا کون ساراستہ ہے جو بدترین نتائج کے بغیر عام انسان کو اعلیٰ زندگی دے سکتا ہے؟اس ضمن میں اسلامی اقدار پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
مغربی معاشرہ میں بھی اقدار مستقل نہیں ہیں بلکہ تیزی سے بدل رہی ہیں۔مثال کے طور 1960ء سے پہلے ہم جنس پرستی غیرقانونی تھی اب اس کی اجازت ہے۔اسی طرح یورپ میں سزائے موت ختم کردی گئی ہے جبکہ امریکہ میں اس کا دائرہ وسیع ہورہاہے لیکن جلد ہی امریکہ میں بھی اسے حقوق انسانی کے خلاف قرار دے دیا جائے گا۔
  • مارچ
1986
اکرام اللہ ساجد
یوں تو افسوسناک واقعات و حوادث اس ملک میں روز مّرہ کا معمول بن گئے ہیں، لیکن 13 فروری 1986ء کو لاہو رمیں جو حادثہ رونما ہوا، اس نے ملک کے اسلام پسند طبقہ کو بجا طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں خود اسلام کامستقبل کیا ہوگا؟ کھلے سر اور کھلے چہروں کے ساتھ، (اور ماسوائے معدودے چند) دوپٹے سے بے نیاز کچھ ''خواتین'' نے، جنہیں خواتین کہنا خودخواتین کی بھی توہین ہے،
  • جولائی
1996
زاہد الراشدی
عربی کے کسی رسالے میں ایک کہاوت پڑھی تھی  کہ ایک مصور دیوار پر نقش ونگار بنا رہا تھا اور تصویر میں ایک انسان اور ایک شیر کو اس کیفیت میں دکھا رہا تھا کہ انسان شیر کاگلا گھونٹ رہا ہے۔اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے تصویر کو  ایک نظر دیکھا۔مصور نے تصویر میں شیر کی دلچسپی دیکھ کر اس سے پوچھا سناؤ میاں!  تصویر اچھی لگی؟شیر نے جواب دیا کہ میاں!اصل بات یہ ہے کہ قلم تمھارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے چاہے منظر کشی کرو،ہاں اگر قلم میرے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً تصویر کا منظر اس سے مختلف ہوتا۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو آج مغربی میڈیا کے ہاتھوں کرنا پڑ رہا  ہے ۔ابلاغ کے تمام تر ذرائع پرمغرب کا کنٹرول ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹڈ میڈیا دونوں کے سرچشمے اس کی تحویل میں ہیں۔متعصب یہودی کا دماغ اورسیکولر عیسائی دنیا کے وسائل اکھٹے ہوچکے ہیں۔
سیکولر لابیاں انسانی معاشرے میں مذہب کی دوبارہ اثراندازی سے خائف ہوکر مذہب کا ر استہ روکنے کے لئے سیاست،معیشت،میڈیا لابنگ اورتحریف وتحریص کےتمام ذرائع استعمال کررہی ہیں اور مسیحی دنیا کا مذہبی عنصر بھی مرعوبیت کے عالم میں بالادست سیکولر عیسائی قوت کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت محسوس کررہا ہے۔
مغرب کی سیکولر لابیوں کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے کہ انسانی معاشرہ دو  صدیوں میں مذہب سے بغاوت کےتلخ نتائج بھگت کر اب مذہب کی طرف واپسی کے لئے ٹرن لے رہا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سواکسی اور قوم کے پاس مذہب کی بنیادی تعلیمات(آسمانی وحی اور پیغمبر کی تعلیمات وسیرت) اصلی حالت یں موجود ومحفوظ نہیں ہیں۔اس لئےاسلام منطقی طور پر ا ن کی معاشرہ کے مستقبل کی واحد امید بنتا جارہاہے۔چنانچہ یہودی دماغ اور سیکولر قوتوں کی  صلاحیتیں اور وسائل اب صرف اس مقصد کے لئے صرف ہورہے ہیں کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کے علمبردار مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے زور سے نفرت کی ایسی فضا قائم کردی جائے جو اسلام کی طرف انسانی معاشرہ کے متوقع رجوع میں رکاوٹ بن سکے۔
  • جولائی
2008
محمد سرور
موجودہ دور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فکری یلغار کا دور ہے۔ ہمارے حریف نے جب ہمیں میدانِ جنگ میں ناقابلِ تسخیر پایا تو اس نے نظریاتی محاذ پر ہمیں فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کا یہ وار کارگرثابت ہوا اور وہی قوم جوشمشیر و سناں کے میدان میں ناقابلِ شکست تھی فکری محاذ پر دشمن کے سامنے نیم بسمل آہو کی طرح ہوکر رہ گئی۔
  • ستمبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
''مین حلفا ً بیان کرتا ہوکہ میں نے اس عورت (مونیکا ) کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ میں نے کبھی کسی کو جھوٹ کے لئے نہیں کہا ،کبھی نہیں ۔یہ میرے خلاف جھوٹا الزام ہے ،جس کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچا نا ہے''سی این جی پر(27جنوری ) امریکی صدر بِل کلنٹن کو جب راقم نے تفتیشی کے سامنے یہ الفاظ بے حد خشو خضو سےادا کرتے سنا تو دنیا کے طاقتور ترین شخص کی اس بے بسی اور لا چارگی پر افسوس اور امریکی سماج کی منافقت پر مبنی اخلاق قدرو ں کے دو ہرے معیارات پر سخت تعجب ہوا ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ریاض الحسن نوری
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جاری سود کیس کی سماعت کے دوران بنکاری نظام کے طرفداروں نے جو متضاد اورحیران کن باتیں کی ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف سودی کاروبار میں ملوث بلکہ ان کے طرفدار بھی مخبوط الحواس ہوجاتے ہیں۔

سود کے حامیوں نے اس سوال پر بڑی بحثیں کی ہیںلیکن انٹریسٹ اور یوژری مترادف ہوں
  • اپریل
1995
مسعود عبدہ
ہر علم وفن کی اپنی مخصوص اصطلاحات terminogies ہوتی ہیں علامتی symbolicalنام ہو تے ہیں جن پر نگاہ پڑھتے ہی یا جنھیں سنتے ہی ان کے پس پردہ متعین مقاصد و افکار فوراً ہمارے ذہن میں اُبھر آتے ہیں کسی کتاب یہ لکھا ہو ا"ریاضی " ہمارے ذہن میں عشاری نظام کے خدوخال ابھاردیتا ہے تو " معاشیات "ہمارے معاشی مسائل کی قطار ہمارے سامنے کھڑی کر دیتا ہے
  • اکتوبر
2014
زاہد الراشدی
اسلام آبادکے دھرنوں کے اثرات پاکستان اور اس خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا، لیکن یمن کے دار الحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا دھرنا کامیاب ہو گیا ہے اور 17؍اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو 21؍ستمبرکے روز اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔
  • مئی
2005
محمد اسماعیل قریشی
فرسودہ خيالات اور دقيانوسى روايات كى دورِ جديد ميں قطعى كوئى گنجائش نہيں-عرصہ دراز ميں زمانہ ترقى كى منزليں طے كرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گيا ہے كہ ماضى سے اس كا رشتہ كٹ چكا ہے- سائنس، ٹيكنالوجى اور معاشى ترقى كى تيز رفتار دوڑ ميں مذہب زمانہ كا ساتھ نہيں دے سكتا- چادر، چارديوارى، حجاب، اسكارف اور داڑهى ملا كا دين اور پسماندگى كى نشانى ہے-
  • فروری
2007
شیخ احمد فہمی
زير نظر مضمون سلفيّت كو در پيش عالمى صورتحال بالخصوص عرب ممالك ميں در پيش حالات كے تناظر ميں تحرير كيا گيا ہے- اس مضمون ميں سلفيت كو 'اُصول پسند اسلام' يا 'اپنے مسائل كے حل كيلئے كتاب وسنت تك براہ راست رسائى' كے مفہوم ميں استعمال كيا گيا ہے جس كے ايك اہم مظہر كے طورپر اہل مغرب سعودى عرب اور اس كے بعض عرب ممالك ميں پائى جانے والى دينى لہركو پيش كرتے اور اسے 'وہابيت' سے موسوم كرتے ہيں -
  • فروری
2015
محسن فارانی
''پشاور میں سول سوسائٹی کے نام پر'شغل سوسائٹی'کے کارندے آپے سے باہر ہو گئے۔ احتجاج کی کوریج کے دوران نشے میں دُھت افراد نے دنیا نیوز کی ٹیم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔''

خبر کی تفصیل میں بتایا گیا کہ
  • اگست
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولرازم  ایک وسیع الجہات اور سریع الارثر نظر یہ ہے جو اپنے معتقدین کی فکر میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔تصور کائنات یعنی انسان کے کائنات میں مقام سے لے کر زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے خیالات  یکسر بدل جاتے ہیں چونکہ یہ نظریہ مسیحی یورپ کی دینی آمریت کے خلاف رد عمل کے طور پر پروان چڑھا اسی لیے سیکولرافراد میں مذہب کے خلاف شدید نفرت اور عمومی بغاوت کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ اگر کسی بات کو درست بھی سمجھتے ہوں جونہی انہیں معلوم  ہو جائے کہ اس بات کا سر چشمہ مذہب کی تعلیمات ہیں تو وہ اس سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو جنوبی انداز میں مسترد کر دیتے ہیں ان کے اندر مریضانہ عقل پرستی بلکہ الحاد پرستی کا نفسیاتی مرض پیدا ہو جا تا ہے ذرا معتدل مزاج کے سیکولرافراد خدا کے باوجود سے تو کلیۃ انکار نہیں کرتے مگر یوم آخرت  جنت اور دوزخ کے معاملات  انہیں محض علامتی باتیں لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے (نعوذ باللہ)
  • ستمبر
1973
محمد یوسف خان
دوسرا موضوع تھا ''الوحدۃ الاسلامیہ'' یعنی اتحاد عالم اسلامی۔ اس موضوع پر بہت کم مقالے پڑھے گئے۔ ایک مقالہ دکتور عبد العزیز کامل کا قابل توجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو چیزوں میں تشابہ یا تباین دیکھنا بڑی حد تک دیکھنے والے کے نقطۂ نظر کی بات ہے۔ عالم اسلامی کے قلب میں وہ قوم ہے جو سب سے پہلے اسلام کا جھنڈا لے کر نکلی اور جس کی زبان قرآن کی زبان ہے۔
  • اپریل
1972
ادارہ
عالمِ اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ صرف اس لئے ہیں کہ وہ بیرونی خطرات کے نرغہ میں ہے بلکہ اس اعتبار سے کہ اس نے خود بھی ایسے حالات پیدا کر لئے ہیں جو نزولِ مصائب اور خارجی فتنوں کے لئے اپنے اندر بلا کی کشش رکھتے ہیں۔ اس لئے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس کردار اور ذہنیت کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد اسے کسی بھی غیر کی ستم ظریفی کا شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔
  • جولائی
1976
ادارہ
بہتر اور اچھے حکمرانوں کی علامات:

22۔ عن عوف بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال:

خیارائمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم و یصلون علیکم و تصلون علیہم ۔ و شرارا ئمتکم الذین تبغضونہم و یبغضونھم و تلعنونھم و یلعنونکم(رواہ مسلم)
  • اپریل
1973
ادارہ
ملکی دستور کی تدوین میں ہر جگہ اور اس کے ہر پہلو سے بحث کی جاتی ہے، کیونکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے مگر افسوس! اگر اس کا کوئی پہلو تشنہ رہتا ہے تو وہ صرف ملک کے سیاسی سربراہ کی اخلاقی اور دینی حیثیت کا پہلو ہے۔ دوسری اقوام کے لئے تو ممکن ہے، یہ ایک غیر ضروری اور غیر سرکاری بات ہو، لیکن ملتِ اسلامیہ کے لئے اس کی حیثیت دینی اور سرکاری ہے
  • فروری
1973
ادارہ
خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے خلافت کے استحقاق کی بات چلی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«کان خلیفة رسول اللہ اللہ ﷺ فی الصلوٰۃ رضیه لدیننا فرضیناہ لدنیانا»

نماز میں وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلیفہ اور جانشین رہے حضور نے ان کو ہماری دینی قیادت کے لئے ناپسند فرمایا تو ہم نے ان کو اپنی دنیوی قیادت کے لئے پسند کر لیا۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
ادارہ
جن اور انسانوں کی تخلیق سے غرض یہ تھی کہ وہ مخالف عواطف اور میلانات کے باوجود خدا کی غلامی اور عبدیت کا ثبوت پیش کریں﴿ما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ ﴿٥٦﴾... سورة الذاريات" یہ مقصد نہیں تھا کہ رنگ، نسل اور ارضی اختلافات کے ترازو میں تلتے اور لڑتے رہیں لیکن جب انسانوں نے اپنے اس 'پس منظر' کو بھلا دیا تو وہاں آرہے جہاں عزتِ نفس، وقار اور حق خود اختیار کے نام پر، ابن آدم کی تذلیل کا اتمام ہو رہا ہے۔
  • جون
2013
ثروت جمال اصمعی
جدید مغربی تہذیب کا مولد اور اوّلین پیشوا انگلستان یا برطانیہ ہے۔ امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود مغرب کی تہذیبی اقدار کی نمائندگی کے حوالے سے آج بھی برطانیہ کا ہم پلّہ نہیں۔ اس لئے مغرب میں عورتوں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے برطانیہ کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ مساواتِ مرد و زن کا نعرہ برطانیہ ہی میں سب سے پہلے بلند ہوا
  • اپریل
1999
عطاء اللہ صدیقی
دیکھ کر رنگِ چمن نہ ہو پریشان مالی!!
شبِ تاریک کی طوالت اپنی جگہ ہے، نورِ سحر کا امکاں ابھی باقی ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کو دَوام نہیں ہوتا۔ خورشید کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کا سینہ چیز کر کائنات کے لیے ضوفشانی کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ تپتے ہوئے صحرا کی وسعتیں دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہئے، مسافر عزم و ہمت سے کام لیں تو اُمید کا نخلستان مل ہی جایا کرتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا شجر اگر آج خزاں گزیدہ ہے تو کیا ہوا، اسلام دشمن لابیاں اپنے زہریلے اور اعصاب شکن پراپیگنڈہ سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت ایسے نفسانی امراض ہیں جو قوموں کو ایک دفعہ گر کر دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو﴿ لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّـهِ ...﴿٥٣﴾...الزمر  کا درس دیتا ہے۔
  • دسمبر
2014
عبدالجبار سلفی
اگر اسلام اور مسلمانوں کے ضعف اور اضمحلال کی تشخیص کے لیے اہل علم ودانش کا نمائندہ بورڈ بیٹھے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اسلام اور مسلمانوں کے ضعف و اضمحلال کا سبب 'نفاق' کا کینسر ہے ، جو روز بروز اسے کمزور سے کمزور تر کرتا جا رہا ہے۔
  • اکتوبر
2003
ظفر علی راجا
۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو پاکستان کے پُرفضا دارالحکومت اسلام آباد پر اُترنے والی خنک سہ پہر، وطن عزیز میں دہشت گردوں کے حوالے سے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی، یہ پیر کا دن تھا۔ سیاسی اور دینی جماعت ملت ِ اسلامیہ کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جھنگ سے روانہ ہوئے اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جب اسلام آباد میں داخل ہوئے
  • اگست
1971
آباد شاہ پوری
جناب آباد شاہ پوری صاحب کا یہ مقالہ ان کی ایک زیر طبع کتاب ''سوشلزم اور اسلامیان روس'' کا ایک باب ہے۔ اس باب میں انہوں نے مستند کتابوں اور خود یہودی مآخذ کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ سوشلزم کا نہ صرف تانابانا یہودیوں نے بنا تھا۔ بلکہ روس، یورپ اور امریکہ میں سوشلسٹ تحریک کے علمبرداروں اور رہنماؤں کی بھاری اکثریت بھی یہودیوں ہی پر مشتمل تھی، آباد شاہ پوری ایک اہلحدیث علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل ملک کے مشہور ماہنامے اردو ڈائجسٹ میں مدیر و معاون ہیں۔ (ادارہ)
  • ستمبر
1971
آباد شاہ پوری
صنعتی انقلاب سے یورپ کا اقتصادی نظام جو زرعی بنیادوں پر قائم تھا، تلپٹ ہو گیا تھا۔ عقلیت پرستی اور لبرلزم کی تحریک نے یورپ کے عیسائی معاشرے کی مذہبی و اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر ڈالا۔ انقلاب فرانس نے اس کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ نظام جاگیرداری پر استوار مطلق العنان بادشاہتیں ہر جگہ ڈولنے لگیں، صنعتی انقلاب اپنے جلو میں گوناگوں خرابیاں لے کر آیا۔