• اگست
2003
محمد علی قصوری
عبادات: توحید ِحقیقی کو ذہن نشین کرنے سے انسان کے تعلقات اپنے خالق سے درست ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ان تعلقات کو قائم و دائم رکھنے کے لئے چند آئین و قوانین ہونے چاہئیں کہ ایک دفعہ توحید ِکامل کا سبق پڑھ کر انسان اِسے بھول نہ جائے؛ انہیں اصطلاحِ شرع میں 'عبادات' کہتے ہیں۔ عبادات میں محاکمہ کے لئے ایک مبسوط بحث کرنے کی ضرورت ہے
  • مارچ
1973
منظور احسن عباسی
قرآنِ حکیم نے انسانی زندگی کے دو شعبے قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک کو ہم تقاضائے حیات سے اور دوسرے کو مقاصدِ حیات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ فکری الجھنیں محض اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم نے ان تقاضا ہائے حیات کو مقاصدِ حیات تصور کر لیا ہے۔ کھانے پینے کی خواہش، جنسی میلانات، عیش و آرام کی طلب، خوب سے خوب تر کی تلاش، جمالیاتی ذوق، مکارہ سے بے زاری، حادثات سے تحفظ، زندگی سے محبت، مرض اور موت سے نفرت اور ہمہ جہتی ارتقائی رجحانات انسانی زندگی کے لوازمات یا تقاضوں میں سے ہیں۔
  • جولائی
1996
غزل کاشمیری
غیر مسلم اقوام میں انسانی حقوق کی مختصر تاریخ:۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ سب سے پہلے بایل کے بادشاہ حمورابی 2130ھ تا2088ق م) کے کوڈ آف لاء میں ملتا ہے۔یہ صرف دعویٰ ہے کہ کیونکہ جس قانون کی زبان صفحہ ہستی سے نابود ہوچکی ہو۔اور جس کے خالق کے حالات زندگی کا کچھ پتہ نہ ہو اس کے بارے میں یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ حقوق انسانی کا پہلا علمبردار تھا۔خود اس کوڈ آف لاء کے بعض حصے اتنے ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں کہ ان سے بنیادی حقوق کے تصور کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
اس طرح رومی سلطنت کے کچھ قوانین ملتے ہیں۔جس کی رو سے ان حقوق سے صرف  رومی شہری ہی مستفید ہوسکتے تھے،غیر رومی بہر اندوز نہیں ہوسکتے تھے بعد میں انہی رومی قوانین کو یورپی اقوام نے اپنایا۔(1) چنانچہ اٹھارویں صدی کے آخر عشروں  میں انہیں فرانس میں"Droito Del Homme " کے نام سے مدون کیا گیا۔اسی صدی میں برطانیہ میں چند مبہم اور غیر واضح قوانین کا نشان ملتا ہے۔انیسویں صدی میں امریکہ نےانہی قوانین کو اپنے دستور میں شامل کیا :بیسوی صدی کو انہی قوانین کو افریقہ اور ایشیا کے ممالک نے اختیار کیا،وہ بھی صدیوں کی انسانی جدوجہد اور کئی خونی انقلابات کے بعد۔ان قوانین میں زیادہ  تر شادی،خاندان،عدل ،تکریم انسانیت اور کچھ سیاسی وشخصی قوانین شامل تھے۔1917ء میں روسی دستور میں انسانی حقوق کو شامل کیا گیا مگر وہ زیادہ تر مزدورطبقہ کے معاشی وسیاسی حقوق کی یکطرفہ آواز تھی۔
  • مارچ
1999
عطاء اللہ صدیقی
بیسویں صدی محیر العقول سائنسی ایجادات، علمی تحقیقات و اکتشافات کے بے نظیر کارناموں کی صدی ہے۔ اس صدی کے ایک ایک عشرے کے دوران انسانی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں جو تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، وہ معلوم انسانی تاریخ کے پورے عرصہ کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ لیکن سیاسی اور اخلاقی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچی روشن خیال یک قطبی دنیا اٹھارویں اور انیسویں صدی کی استعماری ظلمتوں میں ابھی تک محصور دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، مساوات، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے ضخیم دفاتر کی روشنائیاں، وحشت و بربریت، ظلم و ناانصافی، جارحیت و بہیمیت کی سیاہیوں کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسکتی انسانیت آج بھی ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ سائنسی ایجادات نے زماں و مکاں کے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو "انسانی بستی" کی شکل تو عطا کر دی ہے لیکن وائے افسوس! انسانی قلوب کے فاصلوں کو ختم نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ "عالمی بستی" بھی عملا ایک روایتی بستی سے مختلف نہیں ہے، اس میں بھی طاقت و وسائل پر قابض وڈیرے موجود ہیں اور ذلت و پستی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے ہاری بھی باقی ہیں۔ عالمی وڈیرہ سائنسی ترقی کے تکبر میں اندھا ہو کر کمزور ہاریوں کو جب چاہے، وحشت و بربریت کا نشانہ بنا ڈلے، مگر اس کے ظالم ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
  • مئی
2000
ادارہ
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد جب مصطفیٰ کمال پاشا المعروف اتاترک (ترکوں کا باپ) کو اپنا قومی ہیرو قراردیا تھا۔ تو اسی وقت ہی دائیں بازو کے اہل بصیرت کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں کہ کہیں نواز شریف کی کرپٹ حکومت کے خاتمہ کے بعد برپا ہونے والا فوجی انقلاب درحقیقت لادینی انقلاب کی صورت اختیار نہ کرلے ۔مگر شروع شروع میں فوجی حکومت کا ایک تورعب ودبدبہ ہی اتنا تھا کہ کو ئی ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہ کرسکتاتھا دوسرے لوگ نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہی اس قدر خوش تھے۔کہ وہ باقی نتائج کے متعلق غور وفکر کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔
جنرل پرویز مشرف کے مذکورہ بیان کے خلاف قاضی حسین احمد کی نحیف سی آواز اٹھی تھی جس میں انھوں نے پاکستان میں کمال ازم کے نفاذ کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔اس وقت تو جنرل پرویز مشرف نے بھی وضاحت میں بیان دیا تھا –کہ ان کے بیان کا وہ مقصد نہیں ہے ۔جو سمجھا گیا ہے مگر گزشتہ 6/ماہ کے دوران جنرل پرویز مشرف نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان پر غور کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ جوبات انھوں نے اتاترک کے بارے میں کی تھی وہی ان کے دل کی آوازتھی ۔
  • مارچ
2013
طالب ہاشمی
روزمرّہ گفتگو میں ہم کہتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا یا فلاں کام کو میرا جی چاہ رہا ہے۔ شروع سے مختلف تہذیبوں میں انسان کا یہی طرزِ تکلم چلا آرہا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کے متعدد فرامین اسی سیاق میں موجود ہیں مثلاً سورة الحج میں ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجاتیں بلکہ وہ دل (بصیرت سے) اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ ایک اور مقام پر یوں ہے
  • مارچ
2007
صالح بن حسین
قرآنِ كريم نے اس سلسلہ ميں يہ عظيم اور اساسى اُصول بيان كيا ہے كہ غير مسلموں كے ساتھ برتاوٴ اور لين دين ميں اصل يہ ہے كہ ان كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا جائے اور ان كے ساتھ نيكى اور احسان كرنے ميں اس وقت تك ہاتھ نہ كهينچا جائے جب تك ان كى طرف سے صريح دشمنى اور عہد شكنى كا كوئى عملى مظاہرہ نہيں ہوتا
  • جنوری
2007
صالح بن حسین
انسان کے وہ بنیادی حقوق جو تمدنی زندگی میں انتہائی ضروری ہیں اور معاشرہ کا کوئی فرد بھی اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا، وہ یہ ہیں ؛ انسانی جان کا تحفظ، خون کا تحفظ، مال کا تحفظ، عزت کا تحفظ اور عقل کا تحفظ۔ اسلام نے انتہائی مؤثر تعلیمات کے ذریعے اور عملاً جس طرح انسان کے ان تمدنی حقوق کا تحفظ کیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اس کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
  • ستمبر
2006
صالح بن حسین
چند صدیوں سے 'ریاست' کے ادارہ نے غیرمعمولی ترقی حاصل کرکے زندگی کے ہر پہلو تک اپنے دائرئہ کار کو وسعت دے لی ہے۔ ریاست کا ایک تصور تو مغرب کا دیا ہوا ہے جس کی بنیاد وطنیّت یعنی کسی خطہ ارضی سے وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے ایک خطہ ارضی میں بسنے اور کسی ملک کی سرحدوں میں رہنے والے تمام افراد کے حقوق مساوی ہیں،اسی تصور پر پاسپورٹ اور آمد ورفت کے قوانین بنائے جاتے اور ملکی لکیروں کو تقدس دیا جاتا ہے
  • نومبر
2006
صالح بن حسین
(3) اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق
اسلام کا اپنے ہم وطن مخالفین کے ساتھ رواداری کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے اُنہیں اپنے شرعی احکام کا پابند نہیں بنایا۔ زکوٰة جو اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، سب غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی مسلمان زکوٰة کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے زکوٰة دینے سے انکار کردے تواسلام اسے مرتد قرار دے کر اس کے خلاف جہادکا حکم دیتا ہے۔
  • نومبر
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال۔رضاعی ماں اور اس کے شوہر کوامی /ابو کہنا،بچے کو صحیح صورتحال سےمطلع کرنا۔
سوال۔2۔سالہا سال تک بیوی سے دور رہنے اور اطلاع /نفقہ وغیرہ نہ دینے والا شوہر۔
سوال۔رضیہ بیگم نے اپنے شوہر اقبال احمد کی ہمشیرہ زہرہ بیگم کو اپنا چار ماہ کا بیٹا اللہ واسطے سے کر یہ کہا کہ آج سے یہ آپ کابیٹا ہے۔اقبال احمد نے اپنی بیوی رضیہ بیگم سے کہا کہ اگرزندگی میں کبھی بھی تم نے اس کی واپسی کامطالبہ کیا تو میں تمھیں طلاق دے دوں گا۔زہرہ بیگم نے اس بچے کو بیس یا بائیس دن باقاعدہ اپنا دودھ پلایا،اس کے بعد وہ کبھی زہرہ بیگم کا دودھ  پیتا تھا اور کبھی نہیں۔زیادہ تر بازاری دودھ ہی پیتا رہا۔
اس بچے جاوید اقبال سے پہلے بھی زہرہ بیگم کی ایک بیٹی تھی جس کی عمر اس وقت دس سال تھی۔جاوید اقبا ل کے بعداللہ تعالیٰ نے زہرہ بیگم کو  دوراور بیٹے بھی عطا کردیے۔اب جاوید اقبال اپنے باقی بہن بھائیوں کی طرح اپنے حقیقی ماں باپ کو مامی اور ماموں کہہ کر بلاتاہے۔آج تک جاوید اقبال اور اس کے دو چھوٹے بھائیوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جنھیں ہم ماموں اور مامی کہتے ہیں،وہ جاوید اقبال کے حقیقی ماں باپ ہیں۔باقی تمام خاندان کو بچوں سمیت یہ معلوم ہے
  • مئی
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال:۔ شوہر کے مرتد ہوجانے کی صورت میں تجدید نکاح کیا جائے گا یانہیں؟
جواب:۔اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے۔اور راجح مسلک وہ ہے جس کو حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زاد المعاد (3/15) اور حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے البدایہ والنھایۃ(3/359)میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
"اس صورت میں قصہ زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا      میں اس امر کی دلیل ہے کہ عورت جب مسلمان ہوجائے اور اس کا خاوند تاخیر سے مسلمان ہو یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے تو صرف اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہوگا(کہ اس کا خاوند غیر مسلم ہے) بلکہ اس میں اختیار ہے اگر عورت چاہےتو دوسرے سے نکاح کرلے اور اگرچاہے تو اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کے انتظار میں بیٹھی رہے کہ کب وہ اسلام لاتاہے اور تب تک عورت اس کی بیوی سمجھی جائے گی جب تک آگے نکاح نہ کرلے۔"
  • جون
1972
ادارہ
ملک و ملت کی صحیح خدمت اور ان کے سلسلہ میں کوئی سنجیدہ کوشش صرف دو ہی طرح پر ممکن ہوتی ہے کہ یا تو سچا جذبۂ مسلمانی اور خدا خوفی کا احساس غالب ہو اور یا قوم پرستوں کی طرح ملک اور قوم کے سلسلہ میں سچی خیر خواہی اور دل سوزی ان میں پائی جاتی ہو۔ ان دونوں کی نشاندہی یہ ہے کہ: