• جون
2009
ثروت جمال اصمعی
القاعدہ کی قیادت کی تلاش کے بہانے امریکا خطے میں اپنے ہاتھ پائوں مسلسل پھیلا رہا ہے۔ سات سال میں افغانستان کو کھنڈر بنادینے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقوں کی باری آئی اور اب بلوچستان کو بھی اسی بہانے ہدف بنانے کے اعلانات کیے جارہے ہیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت بلوچستان میں روپوش ہے،
  • جولائی
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔
  • مئی
1999
حسن مدنی
((زیر نظر موضوع جو اصلاً تو"اسلامی علم و تحقیق میں کمپیوٹر کے استعمال"کےموضوع پر روشنی ڈالنے کے لیے شروع کیا گیا،اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے قدرے وسیع دائرہ کار میں مختلف دیگر اعتبار سے بھی کمپیوٹر کے استعمالات کو حاوی ہوگیا ہے۔چونکہ محدث کا مخصوص قاری کمپیوٹر کے بارے میں خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتا چنانچہ کسی حوالےسے بات شروع کرنے سے قبل اس موضوع کے مجموعی خاکے کی وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے۔یہی صورتحال آپ درج ذیل مضمون میں بھی محسوس کریں گے کہ بعض اوقات اپنے موضوع کے تقاضے پورے کرتے ہوئےبات قدرے وسعت اختیار کرجاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود مضمون کی افادیت متاثر نہیں ہوئی۔اور پڑھنے لکھنے والے حلقوں کو کمپیوٹر سے آشنا کروانے اور اس کے حیرت انگیز استعمالات سے روشناس کروانے میں یہ ایک اچھی کاوش ہے۔۔۔اس سلسلہ کی ابتداء میں ہی اس تکنیکی پہلو کی ضرورت کو پیش کردیا گیا تھا۔
  • اکتوبر
1994
عبدالقوی لقمان
فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾...آل عمران
"  بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا)ہے "
  • نومبر
2000
ظفر اللہ خان
اسلام اور مغرب

اہل مغرب اپنے سیکولر،روشن خیال،جمہوری معاشرے کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کو پسماندہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔اسلام صرف ایک مذہب نہیں،بلکہ ایک تہذیب ہے اور رحم دل تہذیب ہے یہ صحیح ہے کہ بعض  پہلوؤں سے اسلامی معاشرے مغربی معاشرے سے چند دہائیاں  پیچھے ہیں لیکن ترقی کی جو شاہراہ مغرب نے اختیار کی ہے وہ بھی سارے انسانی مسائل کا حل  پیش نہیں کرسکتی۔اصل سوال یہ ہے  کہ ایسا کون ساراستہ ہے جو بدترین نتائج کے بغیر عام انسان کو اعلیٰ زندگی دے سکتا ہے؟اس ضمن میں اسلامی اقدار پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
مغربی معاشرہ میں بھی اقدار مستقل نہیں ہیں بلکہ تیزی سے بدل رہی ہیں۔مثال کے طور 1960ء سے پہلے ہم جنس پرستی غیرقانونی تھی اب اس کی اجازت ہے۔اسی طرح یورپ میں سزائے موت ختم کردی گئی ہے جبکہ امریکہ میں اس کا دائرہ وسیع ہورہاہے لیکن جلد ہی امریکہ میں بھی اسے حقوق انسانی کے خلاف قرار دے دیا جائے گا۔
  • جون
2004
حسن مدنی
محترم جناب عزیز الرحمٰن کے مضمون کی محدث میں اشاعت کے دوران چند نکات ذہن میں پیدا ہوئے جنہیں تحریر کرتے ہوئے زیر نظر مضمون بن گیا۔ اس مضمون سے قبل جناب عزیز الرحمٰن کے مضمون کا مطالعہ بھی مناسب رہے گا۔ اُمید ہے قارئین اس بے ساختہ تبصرہ کو فائدہ سے خالی نہیں پائیں گے۔
زندگی کے مختلف اُمور کے بارے میں اسلام اور مغرب میں جداگانہ نقطہ نظر پایا جاتا ہے، جس کی بنا پر دونوں کے نتائج اور رجحانات میں بھی بہت زیادہ فرق ہے۔
  • جولائی
2007
خالد حمید قریشی
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے قلم کے ذریعے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا اور صلوٰۃ و سلام ہوں اس عظیم ہستی پر جو ہمارے آقا اور نبی اکرم محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپؐ کی آل اور صحابہ کرام ؓ پر اور اُن لوگوں پر جنہوں نے آپؐ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور آپؐ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی... اما بعد!
  • جولائی
2007
کامران طاہر
الحمد ﷲ رب العٰلمین وأصلِّی وأسَلِّم علی أشرف الأنبیاء والمرسلین سیدنا ونبینا محمَّد بن عبد اﷲ وعلی آلہ وأصحابہ ومن دعا بدعوتہ واھتدٰی بھداہ ...
ہر قسم کی تعریف اللہ ربّ العالمین کو سزاوار ہے۔ اور درود و سلام ہو اَشرف الانبیا والمرسلین ہمارے آقا اور نبی محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی آلؓ و اصحابؓ پر اوران تمام لوگوں پرجنہوں نے آپؐ کی دعوت کو قبول کیا اور آپؐ کے راستے کی پیروی کی۔
  • اپریل
2008
کامران طاہر
صعید ِمکہ معظمہ سے بلند ہونے والی یہ آواز ہر سال مسلم ممالک کے سیاسی مفادات اور سرکاری جکڑ بندیوں سے بالا تر ہوکر کلمہ اسلام کے نام پر ملت ِاسلامیہ کو مخاطب کرتی ہے۔ مسلمانوں کے عالمی اجتماع سے بلند ہونے والی یہ صدا اسلام کا ایک جامع نقشہ کھینچتے ہوئے مسلم اُمہ کو درپیش حالات پر ایک جامع تبصرہ پیش کرتی اور ان کی مشکلات کا ایسا حل سامنے لاتی ہے
  • مارچ
1986
اکرام اللہ ساجد
یوں تو افسوسناک واقعات و حوادث اس ملک میں روز مّرہ کا معمول بن گئے ہیں، لیکن 13 فروری 1986ء کو لاہو رمیں جو حادثہ رونما ہوا، اس نے ملک کے اسلام پسند طبقہ کو بجا طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں خود اسلام کامستقبل کیا ہوگا؟ کھلے سر اور کھلے چہروں کے ساتھ، (اور ماسوائے معدودے چند) دوپٹے سے بے نیاز کچھ ''خواتین'' نے، جنہیں خواتین کہنا خودخواتین کی بھی توہین ہے،
  • جولائی
1996
زاہد الراشدی
عربی کے کسی رسالے میں ایک کہاوت پڑھی تھی  کہ ایک مصور دیوار پر نقش ونگار بنا رہا تھا اور تصویر میں ایک انسان اور ایک شیر کو اس کیفیت میں دکھا رہا تھا کہ انسان شیر کاگلا گھونٹ رہا ہے۔اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے تصویر کو  ایک نظر دیکھا۔مصور نے تصویر میں شیر کی دلچسپی دیکھ کر اس سے پوچھا سناؤ میاں!  تصویر اچھی لگی؟شیر نے جواب دیا کہ میاں!اصل بات یہ ہے کہ قلم تمھارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے چاہے منظر کشی کرو،ہاں اگر قلم میرے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً تصویر کا منظر اس سے مختلف ہوتا۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو آج مغربی میڈیا کے ہاتھوں کرنا پڑ رہا  ہے ۔ابلاغ کے تمام تر ذرائع پرمغرب کا کنٹرول ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹڈ میڈیا دونوں کے سرچشمے اس کی تحویل میں ہیں۔متعصب یہودی کا دماغ اورسیکولر عیسائی دنیا کے وسائل اکھٹے ہوچکے ہیں۔
سیکولر لابیاں انسانی معاشرے میں مذہب کی دوبارہ اثراندازی سے خائف ہوکر مذہب کا ر استہ روکنے کے لئے سیاست،معیشت،میڈیا لابنگ اورتحریف وتحریص کےتمام ذرائع استعمال کررہی ہیں اور مسیحی دنیا کا مذہبی عنصر بھی مرعوبیت کے عالم میں بالادست سیکولر عیسائی قوت کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت محسوس کررہا ہے۔
مغرب کی سیکولر لابیوں کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے کہ انسانی معاشرہ دو  صدیوں میں مذہب سے بغاوت کےتلخ نتائج بھگت کر اب مذہب کی طرف واپسی کے لئے ٹرن لے رہا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سواکسی اور قوم کے پاس مذہب کی بنیادی تعلیمات(آسمانی وحی اور پیغمبر کی تعلیمات وسیرت) اصلی حالت یں موجود ومحفوظ نہیں ہیں۔اس لئےاسلام منطقی طور پر ا ن کی معاشرہ کے مستقبل کی واحد امید بنتا جارہاہے۔چنانچہ یہودی دماغ اور سیکولر قوتوں کی  صلاحیتیں اور وسائل اب صرف اس مقصد کے لئے صرف ہورہے ہیں کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کے علمبردار مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے زور سے نفرت کی ایسی فضا قائم کردی جائے جو اسلام کی طرف انسانی معاشرہ کے متوقع رجوع میں رکاوٹ بن سکے۔
  • مارچ
2001
اقبال کیلانی
اللہ کی راہ میں مقدس جنگ 'جہاد فی سبیل اللہ ' کاایک حصہ ہے کیونکہ 'جہاد' غلبہ اسلام کے لئے 'مقابلے کی محنت' کو کہتے ہیں خواہ وہ علمی ہو، بدنی یا مالی۔ جہاد فی سبیل اللہ شریعت کی ایک جامع مانع اصطلاح ہے لیکن کچھ ہماری کم فہمی اور کچھ غیروں کی سازشوں سے اس کا مفہوم اتنابگڑا کہ جہاد کو صرف جنگی کاروائیوں کے لئے ہی بولا جانے لگاجس کا نتیجہ یہ ہوا
  • اپریل
2004
ظفر علی راجا
نائن الیون ((11/9 کے بہانے امریکہ کو مسلمان ملکوں پر چڑھ دوڑنے کا جو موقع ملا، اس سے مسلم حکمران تو سپر انداز ہو ہی رہے ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے عوام میں مغرب (نام نہاد عالمی اتحاد) کے خلاف ردِ عمل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ سیکولر قوتوں نے اس کا توڑ یہ سوچا ہے کہ ثقافتی اثر و نفوذ کے لئے مسلم معاشروں میں کچھ بزعم خویش ترقی پسندوں کی خدمات حاصل کر لی جائیں، دوسری طرف مغرب میں آباد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر سرکاری دباؤ بڑھا دیا جائے۔
  • جولائی
1971
ریاض الحسن نوری
مسعود صاحب نے ۲۰ فروری کی قسط میں بخاری کی ایک حدیث بیان کی ہے ۔ اس میں اپنی طرف سے اضافے کئے ہیں اور اس طرح رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، مثلاً مسعود صاحب نے نبی ﷺ کی طرف یہ فقرہ منسوب کیا جو زمین کی کاشت سے متعلق ہے۔ ''یعنی اس کے کسی حصہ کو بغیر کاشت کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔''
  • جولائی
2008
محمد سرور
موجودہ دور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فکری یلغار کا دور ہے۔ ہمارے حریف نے جب ہمیں میدانِ جنگ میں ناقابلِ تسخیر پایا تو اس نے نظریاتی محاذ پر ہمیں فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کا یہ وار کارگرثابت ہوا اور وہی قوم جوشمشیر و سناں کے میدان میں ناقابلِ شکست تھی فکری محاذ پر دشمن کے سامنے نیم بسمل آہو کی طرح ہوکر رہ گئی۔
  • جولائی
2007
حسن مدنی
حرمین شریفین کی سرزمین اسلام کا مرکز ہے، نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مولد ومسکن اور مہبطِ وحی ہونے کے ناطے تمام مسلمان اس سرزمین سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔ حرمینِ شریفین میں اہم ترین حیثیت مسجد ِحرام کو حاصل ہے جس میں کعبہ مشرفہ کے نام سے اللہ تعالیٰ کا مبارک گھر ایستادہ ہے۔
  • اکتوبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
۱۱/ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں وقوع پذیرہونے والے ہولناک طیارہ بموں کے دھماکوں نے امریکی قیادت کوبالخصوص اور اہل مغرب کوبالعموم شدید غم و غصہ اور جنونیت میں مبتلا کردیاہے۔ ان کے دلوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے ہیں اوران کی زبانیں لفظوں کی بجائے انگارے برسا رہی ہیں۔
  • نومبر
2012
مولانا محمد یوسف
تہذیب و ثقافت، محض چند رسوم و رواج اور افکار وخیالات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ تہذیب و تمدن میں حقیقی طور پر مذہبی عنصر غالب ہے۔ کسی بھی تہذیب میں پائے جانے والے نظریات و خیالات او راس میں موجود رسوم ورواج کا سلسلہ، کسی نہ کسی طرح مذہب سے ضرور ملتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ وہ رسوم و رواج مذہب کی نظر میں صحیح ہیں یا غلط، ہمارے ارد گرد ہونے والے رسوم ورواج نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔
  • ستمبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
''مین حلفا ً بیان کرتا ہوکہ میں نے اس عورت (مونیکا ) کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ میں نے کبھی کسی کو جھوٹ کے لئے نہیں کہا ،کبھی نہیں ۔یہ میرے خلاف جھوٹا الزام ہے ،جس کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچا نا ہے''سی این جی پر(27جنوری ) امریکی صدر بِل کلنٹن کو جب راقم نے تفتیشی کے سامنے یہ الفاظ بے حد خشو خضو سےادا کرتے سنا تو دنیا کے طاقتور ترین شخص کی اس بے بسی اور لا چارگی پر افسوس اور امریکی سماج کی منافقت پر مبنی اخلاق قدرو ں کے دو ہرے معیارات پر سخت تعجب ہوا ۔
  • اکتوبر
2010
عطاء اللہ صدیقی
امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوجس انداز میں ۸۶ سال کی سزا سنائی ہے، اس پر پاکستان میں اسلامی حلقوں کے علاوہ تمام قومی اور سیکولر طبقوں کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے، وہ اسے بجاطور پر انصاف کاقتل قرار دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے بیان دیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو اس فیصلہ کے بعد امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کردیتے۔
  • مارچ
2011
حسن مدنی
امریکی 'نمک خواروں'کے ایک مخصوص ٹولے کے بس میں نہیں کہ کس طرح فوری طور پر دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے کردیا جائے۔بےغیرتی کی موٹی کھال اوڑھے ہوئے یہ طبقہ کس طور امریکا کو ناراض کرنےکے لیے تیار نہیں او رپاکستانی قوم اور حکومت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ چاہے قانون جو مرضی کہے، جرم کتنا سنگین کیوں نہ ہو
  • مارچ
2001
محمد اسلم صدیق
خانہٴ کعبہ کے اِمام اور خطیب(۱) شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے ۱۶/ محرم ۱۴۳۱ھ بمطابق ۲۱/اپریل ۲۰۰۰ء کو بیت اللہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا موضوع تھا ... حقوق الانسان !
سب تعریفیں اس اللہ کو سزاوار ہیں جس نے انسان کوپیدا فرمایا۔ اسے نک سک سے درست کیا پھر اس کے باطنی وظاہری قویٰ میں اِعتدال و تناسب ملحوظ رکھا۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ریاض الحسن نوری
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جاری سود کیس کی سماعت کے دوران بنکاری نظام کے طرفداروں نے جو متضاد اورحیران کن باتیں کی ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف سودی کاروبار میں ملوث بلکہ ان کے طرفدار بھی مخبوط الحواس ہوجاتے ہیں۔

سود کے حامیوں نے اس سوال پر بڑی بحثیں کی ہیںلیکن انٹریسٹ اور یوژری مترادف ہوں
  • جولائی
1987
اکرام اللہ ساجد
و طن عزیز میں مسلم معاشرہ آج جس تنزل ، انحطاط اور پستیوں کا شکار ہے، زبان قلم اس کو کسی ایک ، یا کئی نشستوں میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں مگر جس کی نت نئی اور خونچکاں داستانیں روزانہ اخبارات کے ہزاروں لاکھوں صفحات پر جا بجا بکھری پڑی ہیں اور جن کو پڑھ سن کر اس معاشرہ میں رہنے بسنے والوں کے طرز زندگی کے جملہ پہلوؤں کا رخ معین ہوجاتا ہے۔