• مارچ
2013
عثمان صفدر
دنیا کے گلوبل ولیج بننے سے معیشت، تجارت اور معاہدات میں پیدا ہونے والی نت نئی صورتوں کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینے، عوام الناس کو جدید معاشی مسائل سے متعلق شرعی آگاہی دینے ، خصوصاً اسلامی بینکنگ میں رائج مرابحہ ، مشارکہ اور مضاربہ وغیرہ کی شرعی حیثیت جاننے،ان مسائل کا شرعی متبادل پیش کرنے اورملکی معیشت کو شرعی خطوط پر استوار کرنے کے لئے،
  • اپریل
2004
عاصم عبداللہ قریوتی
ماہِ اپریل کی وجہ تسمیہ
اپریل April انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے جو تیس دن پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ قدیم رومی کیلنڈر کے ایک لاطینی لفظ Aprilis 'اپریلیس' یا Aperire سے مشتق ہے۔ وہ لوگ یہ لفظ موسم بہار کے آغاز، پھولوں کے کھلنے اور نئی کونپلیں پھوٹنے کے موسم کے لئے استعمال کرتے تھے۔ (دائرۃ معارف القرآن الرابع عشر: 1/20)
  • اپریل
2010
محمد عمران صدیقی
ہرتہذیب و نظریہ جہاں مختلف اَہداف ومقاصدکا حامل ہوتا ہے، وہاں ان مقاصد کے لئے اپنے نعروں اور لائحۂ عمل کو خوشنما اور دیدہ زیب نام بھی دیتا ہے۔ ان اصطلاحات اور نعروں میں ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کے مفہوم ومدعا اور معنویت میں وہ فرق پوری تاثیر سے موجود ہوتا ہے جو ہر دو نظریات میں درحقیقت پایا جاتا ہے۔
  • نومبر
2003
مبشر حسین
'زکوٰۃ' اسلام کے ارکان خمسہ میں شامل ایک اہم رکن ہے جس کا تارک و منکر بلا شبہ کافر و مرتد ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں کافر و مشرک لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ...١١﴾... سورة التوبة ''اگر وہ (کفر و شرک سے) توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تووہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔''
  • دسمبر
2003
مبشر حسین
نصابِ زکوٰۃ کے حوالے سے شریعت دو پہلوؤں سے گفتگو کرتی ہے :ایک تو یہ کہ کون کون سا مال موجب ِزکوٰۃ ہے اور دوسرا یہ کہ اس مال کی کتنی مقدار پرکس قدر زکوٰۃ اداکرنا ہوگی۔ آئندہ سطور میں ان دونوں پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی جائے گی۔
  • اپریل
2009
ذوالفقار علی
چونکہ لوگوں کے ما بین لین دین کے تمام معاملات میں مرکز و محور زَر ہی ہوتاہے، اس لئے ہر معاشی نظام میں زر اور اس کے متعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ زَر کی اس اہمیت کے پیش نظر علماے اسلام نے بھی اپنی تحریری کاوشوں میں اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اسلام کے قرونِ اُولیٰ میں قانونی زر سونے،چاندی کے سکوں (دنانیر و دراہم) کی شکل میں ہوتاتھا مگر دورِ حاضر میں تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی اساس کاغذی کرنسی ہے، سونے چاندی کے سکے پوری 
  • ستمبر
1998
محمد اصغر اسد
(ایک جائز تجارتی سکیم )

اسلام دین رحمت ہے اس نے زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ایسے اصول وضوابط مقرر کیے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیے جائے تو مسلمان زندگی کی دوڑمیں کبھی بھی پیچھے نہیںرہ سکتے۔ تجارت زندگی کا اہم ترین اور بہت با عزت پیشہ ہے،
  • دسمبر
1998
ثریا بتول علوی
پاکستان ، دنیا کی عظیم ترین اسلامی مملکت کےطورپر 1947ء کونقشہ عالم پرنمودار ہوئی آج پاکستان کوعروس آزادی سےہمکنار ہوئے 51 برس بیت چکے ہیں ۔ترقی اورعروج حاصل کرنے کے لیے اوراپنی منزل مراد تک پہنچے کےلیے نصف صدی کاعرصہ بہت ہوتا ہےمگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اہل پاکستان آزادی کی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہیں کرسکے ۔ صرف 25 برس بعد مملک خداداد کا آدھا بازو کاٹ کربنگلہ دیش کانیا ملک وجود میں آگیا مگر ہمارا احساس زیاں پھر بھی بیدار ہوا ۔ اسلام کےنام پروجود میں آنے والی مملکت میں اسلامی شریعت ہی کا نفاذ نہ ہوسکا ۔ اور آج تک مختلف حیلے بہانوں سےیہ کام پس پشت ڈالا جاتا رہا ۔
  • اگست
1972
اکرام اللہ ساجد
فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں، جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح معاشرہ سے افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور معاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لئے اسلام نے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔
  • اپریل
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
  • دسمبر
1970
عبدالرؤف
اسلام نے ترکہ ''وراثت'' ''صدقہ و زکوٰۃ'' وغیرہ نظام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے درجاتِ معیشت میں گو تفاوت ہے مگر ایک ساتھ زندگی گزارنے کا حق سب کو یکساں ہے آج اگر کوئی رات کی روٹی اور جسم کے کپڑا کے لئے محتاج ہے اور کوئی ہزارہا یا لکھو کہا کا مالک ہے تو یہ محض اس لئے ہے کہ حق معیشت کی جو ذمہ داری کتاب و سنت نے ہم پر ڈالی ہے، اسے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے۔ صدقات واجبہ عشر و زکوٰۃ کی ادائیگی آج مسلمانوں میں بند ہے۔
  • مئی
1985
اکرام اللہ ساجد
حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہیے:
11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلام کے نام پر ایک انقلاب برپا ہوا۔کیونکہ اس سے قبل ایران میں شاہی نظام رائج تھا۔ اور اس انقلاب سے اب یہاں بحالی جمہوریت کی امید پیدا ہوئی تھی۔اس لئے برصغیر  کی بعض سیاسی تنظیموں نے،جن کے نزدیک جمہوری پروگرام شریعت کی عمل داری کےتقاضوں سے بڑھ کر اہم اور موجب خیر وبرکت ہے۔اس انقلاب کا باقاعہد خیر مقدم کیا اور انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کو مبارک باد کے پیغام روانہ کئے۔چنانچہ پاکستان کے ایک روزنامہ جسارت (کراچی) نے اپنی 13 فروری 1979ء کی اشاعت میں ایک خبر کی سرخی یوں  جمائی کہ:
"خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کی مدد  اور ر اہنمائی فرمائے۔ہم عظیم الشان کامیابی پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔خمینی کو مولانا مودودی اور میاں طفیل کا  پیغام!"پھر اس کے تحت تفصیلی خبر میں اس پیغام کے یہ الفاظ بھی نقل کیے کہ:
"ایران کےہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کےلئے جو قربانیاں دی ہیں،وہ پورے عالم اسلام کے مشعل ِراہ ہیں۔۔۔۔
  • جنوری
1992
فضل الرحمن بن محمد
واجب الاحترام وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد ۔لاہور

شریعت درخواست نمبر 11/ایل/1990ء

فضل الرحمان بن محمد ،ایم اے اسلامیات ۔ایم اے عربی (گولڈ میڈلسٹ) شریعۃ کورس جامعہ الازہر (قاہرہ) 53۔نشتر روڈ (براندرتھ روڈ) لاہور۔درخواست دہندہ بنام۔فیڈریشن آف پاکستان بذریعہ سیکرٹری۔
  • جولائی
  • اگست
1973
حافظ محمد سعید
ذیل میں ہم رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث کی تشریح دے رہے ہیں، جس میں آنحضرت ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور پھر عذاب کی مختلف شکلوں کی پیش گوئی فرمائی۔ گذشتہ چند سالوں میں رب العالمین سے بے اعتنائی اور عدمِ تعلق کی بنا پر ہمارے اندر جن بے شمار اخلاقی اور روحانی خرابیوں نے گھر کیا آج ہماری الفراوی اور اجتماعی مشکلات اور مصائب انہی کا نتیجہ ہیں۔
  • فروری
1973
ایم- ایم- اے
آج ملتِ اسلامیہ اپنی تاریخ کے انتہائی نازک ترین دَور سے گزر رہی ہے۔ طاغوتی طاقتیں اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت اسے فہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کے لئے صف آراء ہو رہی ہیں۔ آج قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ کے فرزندوں میں نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر ان کی ملّی وحدت کے عظیم الشان قصر میں نقب لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ علاقائی عصبیتوں کو اچھال اچھال کر انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا جا رہا ہے۔
  • اپریل
2010
ابو الجلال ندوی
فاضل مضمون نگار نے ۱۹۱۴ء میں ندوۃ العلما، لکھنؤ سے سند ِفراغت حاصل کی، دارالمصنّفین کے جریدے 'معارف' کی مجلس ادارت کے رکن رہے اور متعدد موضوعات پر تحقیق کی۔ آپ قدیم زبانوں کے عالم تھے جن میں عبرانی، سریانی، حمیری، سبائی قابل ذکر ہیں۔ متداول علوم اسلامیہ کے علاوہ توارۃ وانجیل پر بھی عبور حاصل کیا۔۱۹۸۴ء میں کراچی میں وفات پائی۔
  • نومبر
2009
ذوالفقار علی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی معاشرہ کے معاشی اور مالی معاملات مناسب اُصول و ضوابط کے پابند نہ ہو ں ، تب تک اس معاشرہ کی منصفانہ تشکیل ممکن نہیں ۔ اسلام چونکہ منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کا داعی ہے، اس لیے اسلام نے لین دین اور تجارتی تعلقات کے متعلق نہایت عمدہ اور جامع اُصول عطا کئے ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی معیشت کوصحت مند بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں ۔
  • اپریل
2010
ذوالفقار علی
بعض اوقات انسان غور وفکر کے بغیر بیع کر لیتا ہے مگر اسے جلد ہی یہ احساس ہو جاتاہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی،یا اسے کسی ماہر سے مشورہ کرنے اور چیز کی جانچ پڑتال کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، یا بیع کی شرائط پوری نہ ہونے،یا چیزاورقیمت کے متعلق مکمل معلومات نہ ہونے، یادھوکے اور فراڈکی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑتاہے،اسلامی شریعت نے اس کا حل قانونِ خیار کی شکل میں متعارف کرایا ہے ۔خیار کا معنی ہے :
  • جولائی
1976
عزیز زبیدی
1۔ (الف) قرآن مجید اور سنت کی روشنی میں ربا کا صحیح مفہوم کیا ہے او رقبل از اسلام اس سے کیا مراد لی جاتی تھی؟

تخصیصاً کیا ربا سے مراد ایساسُود ہے جو اصل زر کو دوگنا اور سہ گنا (اضعافا مضعفۃ) کردیتا ہے یا اس میں قرض خواہ کی

طرف سے وصول کیاجانے والا رائج الوقف سُود مفرد اور سُود مرکب بھی شامل ہے؟
  • مئی
  • جون
1973
ثریا بتول علوی
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
  • جون
1972
ریاض الحسن نوری
ان کالموں میں یہ مضمون درس قرآن، جس کی ابتدا ہم نے اپریل ۷۲ء سے کی تھی، کی قسط نمبر ۲ کی جگہ شائع کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے ہم ان شاء اللہ ''اسلامی معیشت نمبر'' میں مسئلہ معیشت کی شرعی حیثیت سے ایک مستقل مضمون کی شکل میں ہدیۂ قارئین کریں گے۔نیز خاص نمبر تک ہم نے درسِ قرآن کو ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اس وقت کئی دیگر مضامین کی فوری اشاعت (جس کا ہم اعلان کر چکے تھے) بھی ہمارے پیش نظر ہے۔
  • جولائی
1972
ریاض الحسن نوری
قتلِ جنین (Abortion) کا رائج العام ہونا نہ صرف کسی معاشرے کے جنسی فساد کا ثبوت ہوتا ہے، بلکہ فطرت سے یہ طریقِ تصادم بتاتا ہے کہ انسایت کے اعلیٰ جذبات اور قیمتی اقدار کی تباہی ہو چکی ہے۔ مغربی معاشروں میں قتلِ جنین ایک کھیل بن چکا ہے۔ وہاں ادارہ ہائے اسقاط کو لفظ ''مِل'' (Mill) بہ معنی کارخانہ سے موسوم کیا جاتا ہ۔ یعنی کارخانہ ہائے قتلِ انسانِ نامولود۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
عَنْ عَائِشَة رضی الله تعالٰی عنها قالت: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَخْبِرْنِیْ عَنِ ابْنِ عمر ابن جدعان قال النبی ﷺ وَمَا کَانَ؟ قَالَتْ کَانَ یَنْحَرُ الْکَوْمَآءُ وَیُکْرِمُ الْجَارَ وَیُقْرِی الضَّیْفَ وَیَصْدُقُ الْحَدِیْثِ وَیُوَفِّیْ بِالذِّمَةِ وَیُصِلُّ الرِّحْمَ وَیَفْسَکُ الْعَانِیْ وَیُطْعِمُ الَّعَامَ وَیُؤَدِّیْ الْاَمَانَة۔

قَالَ ھَلْ قَالَ یَوْمًا واحدا اللهم انی اعوذک من نارِ جهنم؟
  • اگست
2008
ذوالفقار علی
کچھ عرصہ سے بعض مالیاتی ادارے اسلامی بینکوں کی طرز پر سود ، غرراور قمار پر مشتمل انشورنس کا متبادل نظام بڑے زور وشور سے متعارف کرا رہے ہیں جس کو 'تکافل' کا نام دیا گیا ہے۔ جو ادارہ اس کا انتظام وانصرام کر تا ہے، اس کو تکافل کمپنی کہا جا تا ہے جیسے 'پاک کویت جنرل تکافل کمپنی' یا 'پاک قطر فیملی تکافل کمپنی' وغیرہ۔
  • جنوری
  • فروری
1971
محمد زبیر
صدر ناصر کی وفات کے بعد قاہرہ کی قومی اسمبلی کے ۳۵۳ ممبروں نے وائس پریذیڈنٹ انوار السادات کو رسمی طور پر ملک کا نیا صدر چن لیا۔ مصری دستور کے مطابق یہ انتخابات ۶۰ دنوں کے اندر اندر ہونا تھا مگر یہ انتخاب ۹ دِنوں میں کر لیا گیا۔ اس عجلت کی وجہ خواہ کچھ ہی ہو یہ بات تو عیاں ہے کہ حکومت کا کوئی اہل کار اس نازک وقت پر ایسی رائے نہیں دینا چاہتا تھا جو ایک طرف تو ان کے باطنی جذبات نفرت کی غماز ہو اور دوسری طرف اس مخالفت کی پاداش میں انہیں جن حالات کا سامنا کرنا ممکن تھا،