• اپریل
1971
حماد بن محمد الانصاری
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ''سرمایہ داری'' اور ''اشتراکیت'' زندگی کے صرف معاشی پہلو سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان کی سماجی، سیاسی اور دینی زندگی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان دونوں نظاموں سے واقف نہیں، کیوں کہ سرمایہ داروں اور اشتراکیوں نے اپنی اپنی کتابوں اور اعلانات کے ابتدائی صفحات میں ہی ان تمام باریک نکات کو واضح کر دیا ہے
  • جولائی
1971
ریاض الحسن نوری
مسعود صاحب نے ۲۰ فروری کی قسط میں بخاری کی ایک حدیث بیان کی ہے ۔ اس میں اپنی طرف سے اضافے کئے ہیں اور اس طرح رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، مثلاً مسعود صاحب نے نبی ﷺ کی طرف یہ فقرہ منسوب کیا جو زمین کی کاشت سے متعلق ہے۔ ''یعنی اس کے کسی حصہ کو بغیر کاشت کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔''
  • دسمبر
1988
پروفیسر محمد دین قاسمی
پاکستان کی مذہبی فضا  میں غلام احمد پرویز ایک ایسی شخصیت واقع ہوئے ہیں جس نے اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں مغربی افکار و کردار کو اصل قرار دے کر قرآن کے نام پر اجتہاد کی قینچی سے اسلام کی کتربیونت میں وہ کچھ کیا ہے جو پاکستان میں کوئی اور شخص نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ اشتراکیت کو من و عن قبول کر کے، اسے عین اسلام ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کو جس طرح عمر بھر تکتہ مشق بنائے رکھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پرویز صاحب نے مارکسزم کو قرآن کریم کے جعلی پرمٹ درآمد کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں اور جو اشتراکیت کو بہا لانے کے لئے قرآنی تعلیمات میں مسخ و تحریف کی راہ میں جو کوہ کنی کی ہے، پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب نے اس کا خوب جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس طویل جائزے میں اس امر کو بے نقان کر دیا ہے کہ پرویز صاحب نے کس طرح تصریفِ آیات کے نام پر صرفِ آیات سے کام لیا ہے اور محاورات عرب کی پابندی کے التزام کا دعویٰ کر کے کس طرح اس سے گریز کیا ہے اور قرآنی الفاظ کے قطعی ہونے کی دہائی دے کر کس طرح ان الفاظ میں اپنے خود ساکتہ معانی داخل کئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ جائزہ منکرینِ حدیث کی مخصوص ذہنی ساخت کے پیشِ نظر صرف قرآن کریم کی روشنی میں لیا ہے۔ اس ماہ سے ہم ماہنامہ "محدث" میں اس جائزے لے کر بالاقساط پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادارہ
  • جون
1971
ریاض الحسن نوری
''یہ سمجھنا محض سادگی ہے کہ حضرت عمرؓ کو ان کے ملازم نے محض ذاتی عناد کی نا پر شہید کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ ثانی مال داروں کی سازش کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ اور وہ اس لئے کہ حضرت عمرؓ سماجی معاہدے کے تحت مال داروں کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ان پر سختی کی روش کے قائل تھے۔''
  • مئی
1971
ریاض الحسن نوری
چند سال قبل پنڈی میں مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دیگر اہلِ علم و فضل حضرات کے علاوہ یادش بخیر جناب مسعود صاحب نے بھی جو اس وقت محکمۂ اوقاف کے ناظمِ اعلیٰ تھے، ایک مقالہ پڑھا تھا۔ مسعود صاحب کے معتقدات ڈھکے چھپے نہیں، وہ اشترا کی ذہن کے حامل اور تجدد پسند ہیں۔