• مارچ
2013
عثمان صفدر
دنیا کے گلوبل ولیج بننے سے معیشت، تجارت اور معاہدات میں پیدا ہونے والی نت نئی صورتوں کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینے، عوام الناس کو جدید معاشی مسائل سے متعلق شرعی آگاہی دینے ، خصوصاً اسلامی بینکنگ میں رائج مرابحہ ، مشارکہ اور مضاربہ وغیرہ کی شرعی حیثیت جاننے،ان مسائل کا شرعی متبادل پیش کرنے اورملکی معیشت کو شرعی خطوط پر استوار کرنے کے لئے،
  • اپریل
1971
حماد بن محمد الانصاری
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ''سرمایہ داری'' اور ''اشتراکیت'' زندگی کے صرف معاشی پہلو سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان کی سماجی، سیاسی اور دینی زندگی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان دونوں نظاموں سے واقف نہیں، کیوں کہ سرمایہ داروں اور اشتراکیوں نے اپنی اپنی کتابوں اور اعلانات کے ابتدائی صفحات میں ہی ان تمام باریک نکات کو واضح کر دیا ہے
  • نومبر
2003
مبشر حسین
'زکوٰۃ' اسلام کے ارکان خمسہ میں شامل ایک اہم رکن ہے جس کا تارک و منکر بلا شبہ کافر و مرتد ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں کافر و مشرک لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ...١١﴾... سورة التوبة ''اگر وہ (کفر و شرک سے) توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تووہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔''
  • دسمبر
2003
مبشر حسین
نصابِ زکوٰۃ کے حوالے سے شریعت دو پہلوؤں سے گفتگو کرتی ہے :ایک تو یہ کہ کون کون سا مال موجب ِزکوٰۃ ہے اور دوسرا یہ کہ اس مال کی کتنی مقدار پرکس قدر زکوٰۃ اداکرنا ہوگی۔ آئندہ سطور میں ان دونوں پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی جائے گی۔
  • اپریل
2009
ذوالفقار علی
چونکہ لوگوں کے ما بین لین دین کے تمام معاملات میں مرکز و محور زَر ہی ہوتاہے، اس لئے ہر معاشی نظام میں زر اور اس کے متعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ زَر کی اس اہمیت کے پیش نظر علماے اسلام نے بھی اپنی تحریری کاوشوں میں اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اسلام کے قرونِ اُولیٰ میں قانونی زر سونے،چاندی کے سکوں (دنانیر و دراہم) کی شکل میں ہوتاتھا مگر دورِ حاضر میں تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی اساس کاغذی کرنسی ہے، سونے چاندی کے سکے پوری 
  • نومبر
2012
شاہد حسن صدیقی
سورۃ البقرۃ کی آیتوں 278 اور 279 سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہےکہ اسلام میں سُود کی ہر شکل قطعی ممنوع ہے اور سُود اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ ظلم اور استحصال کا سبب بنتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سُودی نظام کےمتبادل کے طور پر اسلامی بینکاری کا جو بھی نظام وضع کیا جائے، اوّل: اس نظام میں سُود کا شائبہ بھی نہیں ہوناچاہیے۔
  • اکتوبر
2001
ادارہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، اس میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ عالمی منظر پر تیزی سے رونما ہونے والے واقعات و حالات نے پاکستان کی سا لمیت اور وقار کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ شاید ہی کوئی دو پاکستانی ایسے ہوں جو وطن عزیز کے تحفظ کو یقینی نہ دیکھنا چاہتے ہوں۔
  • فروری
2001
شیخ صالح العثیمین
اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد، شریعت ِالٰہیہ کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں عدل کا لحاظ رکھا گیا ہے تاکہ ہر صاحب ِحق کو کسی کمی بیشی کے بغیر اس کا حق دیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدل کے ساتھ ہی رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور عدل سے ہی دنیا و آخرت کے اُمور قائم ہیں۔
  • اکتوبر
2010
شفیق کوکب
1۔اسلامی بینکاری اور مروّجہ بینکاری کی خرابیاں
ماہنامہ محدث،لاہور
ڈی ایم قریشی بلاسود بینکاری [اسلامی بینک کا ماڈل] ستمبر؍اکتوبر۹۹ء ۲۰۰-۲۳۲
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ڈی ایم قریشی
سود کامسئلہ اس وقت ہماری سوسائٹی میں عجیب صورت اختیار کرگیا ہے، اس کی مثال سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی سی ہو کر رہ گئی ہے، نہ تو تھوکی جاسکتی ہے اور نہ نگلے ہی بن پڑتی ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کی بات ہو یا اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی تجویز، بات سود پر آکر رکتی ہے۔ اسلام اِسے حرام قرار دیتا ہے لیکن ہمارے اقتصادی نظام اور معیشت کی رگوں میں یہ زہر مسموم ایسا سرایت کرگیا ہے
  • ستمبر
2008
ذوالفقار علی
بعض اسلامی بینکوں میں تمویلی سرگر میو ں کے لئے بیع سلم کا استعمال بھی جاری ہے۔ سَلَم ایک معروف شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد لین دین اور خرید وفروخت کی وہ قسم ہے جس میں ایک شخص یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ مستقبل کی فلاں تاریخ پر خریدار کو ان صفات کی حامل فلاں چیز مہیا کرے گا ۔
  • اگست
1971
محمد زکریا عمرانی
حضور ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ:

آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ قابلِ ستائش اور قابلِ رشک اور آپﷺ کا ہر قول و فعل رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ایک ہی وقت میں ہادی بھی تھے اور مرسل بھی، غازی بھی تھے اور تاجر بھی، آپ ﷺ کی ساری زندگی اس لحاظ سے قابلِ صد افتخار ہے
  • نومبر
2009
ذوالفقار علی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی معاشرہ کے معاشی اور مالی معاملات مناسب اُصول و ضوابط کے پابند نہ ہو ں ، تب تک اس معاشرہ کی منصفانہ تشکیل ممکن نہیں ۔ اسلام چونکہ منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کا داعی ہے، اس لیے اسلام نے لین دین اور تجارتی تعلقات کے متعلق نہایت عمدہ اور جامع اُصول عطا کئے ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی معیشت کوصحت مند بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں ۔
  • فروری
  • مارچ
2010
ذوالفقار علی
یہ بات تو مسلم ہے کہ بیع اسی صورت میں منعقد ہوگی جب مشتری فروخت کنندہ کو بدلے میں کوئی قیمت ا داکرے گا، اس کے بغیر بیع وجود میں نہیں آسکتی تاہم شریعت ِ مطہرہ نے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کے متعلق بھی ہماری مکمل رہنمائی کی ہے۔
1.اس سلسلہ میں پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ معاوضہ کرنسی کی شکل میں ہوناضروری نہیں بلکہ ہر اس چیز کی بنیاد پر لین دین ہو سکتاہے جو شریعت کی رو سے جائز اور معاشرہ میں بطورِ معاوضہ قبول کی جاتی ہو۔
  • جنوری
2010
ذوالفقار علی
5.عیب نہ چھپائیں

دین اسلام خیر خواہی کا دین ہے، اس لیے مسلمان تاجر پر لازم ہے کہ لین دین کے وقت سچائی سے کام لے اور خریدار پر حقیقت ِحال واضح کرے،مال کے نقص کو نہ چھپائے اور ملاوٹ، مکر وفریب،جھوٹ اوردھوکہ دہی سے مکمل اجتناب کرے۔
  • اپریل
2010
ذوالفقار علی
بعض اوقات انسان غور وفکر کے بغیر بیع کر لیتا ہے مگر اسے جلد ہی یہ احساس ہو جاتاہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی،یا اسے کسی ماہر سے مشورہ کرنے اور چیز کی جانچ پڑتال کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، یا بیع کی شرائط پوری نہ ہونے،یا چیزاورقیمت کے متعلق مکمل معلومات نہ ہونے، یادھوکے اور فراڈکی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑتاہے،اسلامی شریعت نے اس کا حل قانونِ خیار کی شکل میں متعارف کرایا ہے ۔خیار کا معنی ہے :
  • ستمبر
1976
عزیز زبیدی
واضرب لھم مثلا رجلین جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب و حفقنھما بنخل وجعلنا بینھما ندعا۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا وفجرنا خللھما نھرا۔ وکان لہ ثمر فقال لصحاحبہ وھو یحاورہ انا اکثر منک مالاوا عزنفرا۔ ودخل جنتہ وھوظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرا منھا منقلبا۔ قال الہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلا۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
عَنْ عَائِشَة رضی الله تعالٰی عنها قالت: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَخْبِرْنِیْ عَنِ ابْنِ عمر ابن جدعان قال النبی ﷺ وَمَا کَانَ؟ قَالَتْ کَانَ یَنْحَرُ الْکَوْمَآءُ وَیُکْرِمُ الْجَارَ وَیُقْرِی الضَّیْفَ وَیَصْدُقُ الْحَدِیْثِ وَیُوَفِّیْ بِالذِّمَةِ وَیُصِلُّ الرِّحْمَ وَیَفْسَکُ الْعَانِیْ وَیُطْعِمُ الَّعَامَ وَیُؤَدِّیْ الْاَمَانَة۔

قَالَ ھَلْ قَالَ یَوْمًا واحدا اللهم انی اعوذک من نارِ جهنم؟
  • دسمبر
2013
ذوالفقار علی
۱۴؍ نومبر ۱۹۹۱ء کو پاکستان کی فیڈرل شریعت کورٹ نے ہر قسم کے سودی کاروبار کو حرام قرار دےکر ملکی معیشت کو اس سے جلد پاک کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا اور ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ءکو سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ نے بھی اس کی توثیق کی تھی لیکن ۲۴ جون ۲۰۰۲ء کو سپریم کورٹ نےUBLکی نظر ثانی کی اپیل پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا جہاں اب اس کیس کا از سر نو جائزہ 1لیاجارہاہے۔یہ مضمون اسی تناظر میں لکھا گیا ہے ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
عبدالرحمن کیلانی
(غیر مطبوعہ تفسیر تیسیر القرآن سے انتخاب)
مولانا کیلانی ؒ محدث کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے۔ ۱۸ ؍دسمبر ۱۹۹۵ء ؁کو عشاء کی نماز میں عین سجدہ کی حالت میں آپ کی وفات سے محدث میں آپ کے قیمتی تحقیقی مضامین کی اشاعت کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ!
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
حسن مدنی
گذشتہ دنوں جب والد ِگرامی مولانا عبد الرحمن مدنی سپریم کورٹ کے معاون کی حیثیت سے عدالت میںپیش ہوتے رہے تو سود کے بارے میں مختلف مجالس میں شرکت کاموقعہ ملا، مختلف اعتراضات اور ان کی وضاحتیں سامنے آئیں۔ محدث کے مضامین کی تیاری اور ایڈیٹنگ کے دوران بھی اس موضوع پر سوچنے کا موقعہ میسر آیا۔
  • جولائی
2002
ظفر علی راجا
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایامِ گذشتہ کا منظرنامہ دیکھئے تو 'وطن عزیز کی آئینی تاریخ' اور 'حرمت ِسود' کا مسئلہ روزِ اوّل ہی سے پہلو بہ پہلو سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے پہلا آئین ۱۹۵۶ء میں نافذ ہوا اور دوسرا ۱۹۶۲ء میں تشکیل دیا گیا۔ ان دونوں دساتیر میں صاف اور غیر مبہم طور پر یہ بات درج تھی کہ حکومت، پاکستان کے نظامِ معیشت سے سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے بھرپور مساعی کرے گی۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ظفر علی راجا
سودی نظام کے خلاف موجودہ قانون، حکومت ، جدید معاشیات اور اسلامی شریعت کے محاذ پر ایک طویل عدالتی جنگ کئی ماہ مسلسل جاری رہنے کے بعد جولائی ۱۹۹۹ء؁ میں اختتام پذیر ہوئی۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ''سود کا مقدمہ'' کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا
  • ستمبر
  • اکتوبر
1998
صلاح الدین یوسف
سوال: ربا کی حقیقت، تعریف اور معنویت کیا ہے؟
جواب: رِبا عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآنِ کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتری، اضافے کے ہیں۔ لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد مطلق اضافہ اور زیادتی نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص قسم کی زیادتی ہے
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
عبد الرحمن مدنی
سپریم کورٹ آف پاکستان (شریعت اپلیٹ بنچ)
اپیل برخلاف فیصلہ مسئلہ سود از وفاقی شرعی عدالت پاکستان مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۱ء
درخواست ڈاکٹر محمود الرحمن فیصل وغیرہ بنام سیکرٹری وزارتِ قانون، انصاف اورپارلیمانی اُمور حکومت ِپاکستان وغیرہ: ۱۱۸ مسؤل الیہان