• اگست
  • ستمبر
2002
منظور احسن عباسی
جو لوگ 'ادارئہ طلوعِ اسلام' کے اغراض و مقاصد اور مسٹرغلام احمدپرویز کے متعلق کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں، ان کو یقینا ادارئہ مذکور کے شائع کردہ پمفلٹ موسومہ 'اطاعت ِرسول 'کے نام سے بڑی حیرت ہوگی۔ لیکن یہ حیرت اسی قسم کی حیرت ہے جو مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت ِاحمدیہ کے ترجمان اخبار 'الفضل'کی ایک خصوصی اشاعت موسومہ 'خاتم النّبیین نمبر' کے نام سے ہوئی تھی۔
  • مارچ
2006
محمد دین قاسمی
ایک زمانہ تھا جب پرویز صاحب علماے سلف و خلف کی ہم نوائی میں قرآن و سنت کے سرچشمہ اسلام ہونے کے قائل تھے۔ دونوں کو (یعنی قرآن کو بھی اور سنت ِ رسول کو بھی) اَدلہ شرعیہ مانتے تھے اور ہر چیز کو کتاب و سنت ہی کی کسوٹی پر پرکھنے کے دعوے دار تھے، اور اثبات ِ دعویٰ کے لئے خود اپنے آپ پر بھی، اور دو سروں پربھی کتاب و سنت ہی سے دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
  • اگست
2009
محمد دین قاسمی
شیطان اس حقیقت سے خود واقف ہے کہ وہ اپنی دعوتِ ضلالت کو ضلالت کے نام سے اگر پیش کرے گا تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگی، چنانچہ وہ ہمیشہ یہ حربہ اختیارکرتا رہا ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت کے روپ میں پیش کرے۔ جھوٹ کو لباسِ صدق پہنائے، بے دینی کو دین کے بھیس میں سامنے لائے اور خلقِ خداکو دھوکہ دینے کے لئے فریب ِکار کی بجائے ناصحِ درد مند کا بہروپ اپنائے۔
  • نومبر
2009
محمد دین قاسمی
'مفکر قرآن' جس قدر قرآن، قرآن کی رٹ لگایا کرتے، اسی قدر وہ قرآنِ کریم سے گریزاں اور کتاب اللہ سے کنارہ کش تھے۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ وہ اپنے مقابلے میں جملہ اہل علم کو قرآن سے بے خبر اور جاہل قرار دیا کرتے تھے جس کی تفصیل پہلی قسط میں گزر چکی ہے۔ مفکر قرآن کے ایمان بالقرآن کی حقیقت ذلک قولہم بأفواہہم سے زیادہ نہیں ہے۔
  • جنوری
2006
محمد دین قاسمی
چوتھی مثال (واقعہ ذبح ِبقرہ اور قیاسی تفسیر)
سورة البقرة میں، ذبح ِبقرہ کے واقعہ کے ضمن میں قتل ِنفس کا واقعہ بایں الفاظ مذکور ہے :
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَ‌أْتُمْ فِيهَا ۖ وَاللَّـهُ مُخْرِ‌جٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ﴿٧٢﴾ فَقُلْنَا اضْرِ‌بُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّـهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِ‌يكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٧٣...سورۃ البقرۃ
''اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں باہم جھگڑے اور قتل کا الزام تھوپنے لگے او راللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے وہ کھول کر رکھ دے گا، اس وقت ہم نے یہ حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو، اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو، یوں اللہ لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور یوں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔''
  • دسمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
محدث اگست 1983ء کے شمارہ میں ہمارا ایک مضمون بعنوان ''یوم آزادی کا اعلان.... ہمارا دستور قرآن ہے!'' فکر و نظر کے صفحات میں شائع ہوا تھا۔جس کا ماحصل یہ تھا کہ موجودہ دور کی اسلامی تحریکوں اور مسلمان لیڈروں کا بنیادی نعرہ یہی ہوتا ہے کہ ''قرآن ہمارا دستور ہے!'' لیکن یہ بات صرف نعرہ کی حد تک ہے، جبکہ ان کے سیاست و ریاست کے نظریات میں قرآن مجید کواسلامی مملکت کا دستور تسلیم نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا
  • مئی
2007
محمد دین قاسمی
پریسٹ ہڈ(Priesthood) یعنی 'مذہبی پیشوائیت'اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے علاوہ دیگر ادیان، مثلاً نصرانیت، ہندومت اور یہودیت کا تصور ہے۔ لیکن ہمارے 'مفکر ِقرآن' جناب چوہدری غلام احمد پرویز صاحب نے مذاہب ِباطلہ سے اس کا تخم لے کر، اسے سرزمین اسلام میں کاشت کیا، اور پھر اس کا ترجمہ'مُـلَّا اِزم' کرتے ہوئے علماے امت، محدثین ِکرام اور فقہاے عظام کو مطعون کرنے کا ذریعہ بنایا۔
  • جون
2007
محمد دین قاسمی
پاکستان بن جانے کے بعد جب اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا جس کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا تو مسلم لیگ کے لئے نفاذِ اسلام ایک مسئلہ بن گیا، کیوں؟ اور کیسے؟ یوں اور اس طرح کہ اگرچہ مسلم لیگی حکمرانوں نے اسلام کا نعرہ لگا کر پاکستان بنا لیا تھا، لیکن وہ اس میں اسلام کو اس لئے نافذ نہیں کرسکتے تھے کہ وہ خود مغربی افکار و نظریات کا دودھ پی پی کر یورپ کے فاسد تمدن کی گود میں پرورش پائے ہوئے تھے۔
  • اگست
2007
محمد دین قاسمی
پاکستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو زیادہ تر دو شخصیات نے متاثر کیا ہے ۔ جن میں ایک جناب سیدابوالاعلیٰ مودودی ہیں اور دوسرے جناب غلام احمد پرویز۔ مؤخر الذکر کے نزدیک سید مودودی اور ان کی جماعت ہی 'مُلّا' ہیں، جو اگرچہ اقامت ِدین کا نام لیتے ہیں، لیکن ان کے پیش نظر مذہبی پیشوائیت کا نظام قائم کرنا ہے
  • جولائی
2007
محمد دین قاسمی
پانچواں واقعہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے، اُنہیں مسئلہ خلقِ قرآن کے سلسلہ میں انتہائی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اُنہوں نے اربابِ اقتدار کے ہاتھوں مصائب میں مبتلا ہونا قبول کرلیا لیکن ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ معلوم نہیں 'مفکر قرآن' صاحب کی وہ مذہبی پیشوائیت کہاں تھی جو اربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملایا کرتی تھی :
  • اگست
1987
محمد دین قاسمی
دورِ نزول قرآن سے لے کر اب تک عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی، اُمت مسلمہ میں ایک مجمع علیہ اور متفق علیہ عبادت کی حیثیت سے تواتر کے ساتھ قائم رہی ہے۔ معتزلہ، جو ابتدائی زمانہ میں حدیث اور سنت نبوی سے گریزاں رہے ہیں، بھی قربانی کاانکار نہ کرپائے۔ لیکن ہمارے زمانے میں غلام احمد پرویز نے عیدالاضحیٰ کے مواقع پر کی جانے والی قربانی کی شدید مخالفت کی او راسے خلاف قرآن عمل قرار دیاہے، البتہ حج کے موقع
  • مارچ
1987
رمضان سلفی
سطوربالا سے ظاہر ہے کہ طلوع اسلام کے ''باباجی پرویز مرحوم '' قرآن مجید سے بھی مخلص نہیں تھے۔ورنہ وہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تصاویر تیار کرانے کے ذکر سے ، اگر ''تصویر کے جواز'' پر استدلال کرسکتے ہیں، تو بالکل اسی طرز استدلال کے مطابق، قرآن مجید میں حضرت ہارون علیہ السلام داڑھی کے ذکر سے، ''داڑھی کی شرعی حیثیت '' بھی واضح ہورہی ہے۔پھر قرآن مجید گود میں رکھ کر اس ''مفسر قرآن'' کا
  • مئی
1987
محمد رمضان سلفی
4۔ ''قریش کے لوگو، ایسانہ ہو کہ خدا کےحضور تم اس طرح آؤ کہ تمہاری گردنوں پرتو دنیاکا بوجھ لدا ہو، اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لے کر آئے ہوں، میں خدا کے سامنےتمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔''دنیا کی زیب و زینت کوآخرت کی دائمی زندگی پر ترجیح دینے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:''ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَو‌ٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍ ﴿٣...سورۃ ابراھیم
  • اپریل
1987
رمضان سلفی
8۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ :''اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔''ارشاد باری تعالیٰ:''انی عذة الشہور عنداللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ۔ الآیة'' (التوبة:36)''قوانین خداوندی کی رو سے مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔'' 9۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ :''تمہاری عورتوں پر تمہارا ایک حق ہے اور تم پر ان کا ایک حق ہے، وہ تمہارا بستر کسی کے لیے نہ لگائیں او رفحاشی اختیار نہ کریں، وگرنہ تمہیں اجازت ہے کہ تم انہیں بستر میں چھوڑ
  • جنوری
1987
رمضان سلفی
''طلوع اسلام'' جون 1986ء کے شمارے میں ایک مضمون بعنوان ''خطبہ حجة الوداع اور مقام حدیث ''شائع ہوا ہے۔ جس میں حجة الوداع کے خطبہ کو زیر بحث لاکر یہ تاثر دینے کی مذموم اور ناکام کوشش کی گئی ہے کہ ذخیرہ حدیث پورے کا پورا غیر معتبر ہے۔کیونکہ ...... طلوع اسلام لکھتا ہے:''احادیث میں لٹریچر میں سب سے مستند حدیث حجة الوداع کا خطبہ ہے۔جو رسول اللہ ﷺ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے سامنے
  • فروری
1987
رمضان سلفی
''طلوع اسلام'' جون 1986ء کے شمارے میں ایک مضمون بعنوان ''خطبہ حجة الوداع او رمقام حدیث'' شائع ہوا تھا۔ جس میں یہ بے پرکی اُڑائی گئی کہ خطبہ حجة الوداع کی روایات غلط ہیں۔ طلوع السام چونکہ احادیث رسول اللہ ﷺ کی صحت کے لیے، ان کی قرآنی تعلیمات سےمطابقت ، کی شرط لگاتا ہے، اس لیے فاضل مضمون نگار حضرت مولانا محمد رمضان سلفی صاحب نے خطبہ حجة الوداع کے ایک ایک جملہ کی صحت ثابت کرنے
  • جنوری
1983
عبدالرحمن کیلانی
3۔ تیسری آیت یہ ہے:''وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارً‌ا ﴿١٤...سورۃ نوح''(1) ''حالانکہ اسی نے تم کو مختلف حالات میں پیدا کیاہے۔'' 1(2) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) میں پیدا کیا ہے۔'' 2(3) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے۔''3.........اور اس سے مولانا مودودی نے وہی تخلیقی مراحل مراد لیے ہیں جو رحم مادر میں ہوتے ہیں۔پرویز صاحب اس آیت سے ارتقائے زندگی کے مراحل مراد لیتے ہیں۔ لیکن کوئی
  • جولائی
2006
محمد دین قاسمی
سالِ رواں کے پہلے ماہ کے پہلے دن، میری ایک تصنیف ... جناب غلام احمد پرویز، اپنے الفاظ کے آئینے میں... منظر عام پر آئی۔ 31؍ مارچ2006ء کو ہفت روزہ 'فرائیڈے اسپیشل'(کراچی) نے،اور 16تا31؍مارچ کے پندرہ روزہ 'انکشاف' (اسلام آباد)نے اس کتاب پر تبصرہ کیا۔ اِن دونوں کے علاوہ کسی اخبار او ررسالہ میں اس پر تبصرہ تاحال پیش نہیں ہوا۔
  • مئی
2006
محمد دین قاسمی
وحیصرف قرآن ہی میں ہے یا قرآن کے علاوہ بھی پیغمبر علیہ الصلوٰة والسلام پر وحی آیا کرتی تھی؟ اس پر علماے کرام نے قرآن کریم کی روشنی میں بہت کچھ لکھا ہے، لیکن منکرین حدیث کے ہم نواؤں میں سے مولوی ازہر عباس صاحب ، فاضل درسِ نظامی فرماتے ہیں :''لیکن جو اصل موضوع ہے، اور سب منکرین حدیث کا اصل الاصول اور عروة الوثقیٰ ہے کہ حدیث وحی نہیں ہے اور 'وحی صرف قرآن میں ہے۔' اس موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے ہمارے علماے کرام ہمیشہ بچتے رہے اور اجتناب کرتے رہے ہیں۔''
  • مارچ
2007
محمد دین قاسمی
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ مسلمانانِ برصغیر كى عظیم فكرى شخصیت ہیں اور آپ نے شاعرى كے ذریعے مسلم اُمہ میں بیدارى كى لہر پیدا كى- اثرآفرینى اور ملى افكار كى بدولت آپ كى شاعرى ممتاز حیثیت كى حامل ہے-لیكن ان غیر معمولى خصائص كا یہ مطلب نہیں كہ آپ كے جملہ افكار اور شاعرى كو مقامِ عصمت اور تقدس حاصل ہے۔
 
  • اپریل
2006
محمد دین قاسمی
ہر جعل ساز کو یہ علم ہے کہ اس کے کھوٹے سکے صرف اُسی وقت قابل قبول ہوں گے، جب اُنہیں اصلی اور کھرے سکوں کے رُوپ میں پیش کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر ابلیس، اپنے فساد کو اِصلاح کے لباس میں، اور ہر شیطان اپنے جھوٹ کو سچ کے بھیس میں پیش کرنے پر مجبور ہے اور اِس کے ساتھ ہی یہ ابالیس و شیاطین یہ پراپیگنڈا بھی شروع کردیتے ہیں کہ افکار ونظریات کے یہ سکے فلاں فلاں قابل ِاحترام بزرگوں کے ہاں مقبول و مسلّم رہے ہیں۔