• اگست
  • ستمبر
2002
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کے متعلق تبيانا لکل شيئ اور تفصيلا لکل شيئ والی آیات پیش کی جاتی ہیں۔ جن کا مطلب توڑ مروڑ کر اور غلط ملط بیان کرکے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ کی تفصیل موجود ہے۔
صفی الرحمن مبارک پوری
  • اگست
  • ستمبر
2002
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے :
''لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمری مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدری، ما وجدنا فی کتاب الله اتبعناه '' (۱)
عبداللہ عابد
  • اپریل
2009
جناب غامدی صاحب نت نئے طریقوں سے حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں :کبھی وہ حدیث اور سنت میں تفریق پیدا کرتے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حدیث دو الگ الگ اور مختلف چیزیں ہیں ۔کبھی فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ، عمل اور حکم ثابت نہیں ہوتا۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ سنت، خبر واحد (اخبارِ آحاد) سے ثابت نہیں  ہوسکتی اس کے لیے تواتر شرط ہے۔ اس طرح وہ مختلف حیلوں بہانوں سے حدیث کی اہمیت گھٹانے اور اسے دین اسلام
محمد رفیق چودھری
  • اکتوبر
1989
الحمد لله وحده والصلاة والسلام عى من لا نبى بعده، اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم

﴿إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدونَ أَن يُفَرِّقوا بَينَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَنَكفُرُ بِبَعضٍ وَيُريدونَ أَن يَتَّخِذوا بَينَ ذ‌ٰلِكَ سَبيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ حَقًّا وَأَعتَدنا لِلكـٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَم يُفَرِّقوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم أُولـٰئِكَ سَوفَ يُؤتيهِم أُجورَهُم وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿١٥٢﴾... سورة النساء
عبدالقدوس سلفی
  • اگست
1986
انکار حدیث کا پس منظر:انسانی فطرت دو حصوں میںمنقسم ہوئی۔ فطرت سلیمہ اور غیر سلیمہ۔ اوّل الذکر اپنے خالق کے احکامات کو زاویہ ایمان سے دیکھتی او رحلقہ اسلام میں داخل ہوتے وقت کئےگئے عہد و پیمان کو ایفاء کرنےکی کوشش کرتی ہے جبکہ دوسری قسم کی فطرت اپنے ناجائز مقاصد اور خبث باطن کے معیار سے ان احکامات الٰہیہ کو پرکھتی اور غلط جذبوں کی تسکین کی خاطر خاک چھانتی ہے۔
عبدالاعلیٰ بن حماد
  • اگست
1986
ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں چھپنے والے درود ''صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم'' پر رسالہ ''طلوع اسلام''کو بڑی دیرسے اس لیےاعتراض ہے کہ اس دورد میں ایک نحوی قاعدے کی مخالفت کی جارہی ہے۔کیونکہ اس میں حرف جر ''علیٰ'' کو دہرائے بغیر اسم ظاہرکاضمیر مجرور پر عطف ڈالنافحش غلطی ہے۔ ''اہلحدیث'' نے لکھا بھی کہ دراصل بات آپ نہیں سمجھے، اس لیے جس درود کو آپ نےغلط بتایاہےوہ درست ہے۔لیکن طلوع اسلام نے بعنوان
رمضان سلفی
  • جنوری
1988
تھوڑا عرصہ پیشتر مجھے ادارہ "الاعتصام" کی وساطت سے ایک خط، جناب نذیر احمد صاحب بٹ (صدر مرکزِ تحقیق مسیحیت، 15-اے رحیم سٹریٹ نمبر 58 محلہ سردار پورہ، اچھرہ، لاہور) کا لکھا ہوا موصول ہوا۔ موصوف نے لکھا ہے کہ:

"مجھے "طلوعِ اسلام" لاہور کے ماہ جون سئہ1983ء کے شمارہ میں شائع شدہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کا اسلامی نقطہ نظر سے جواب درکار ہے۔
عبدالرحمن کیلانی