• جون
2015
حسن مدنی
بعض نمازی حضرات علاقائی سطح پر مساجد میں زکوٰۃ جمع کرنے کی کمیٹیاں بنا لیتے ہیں اور اس کو نادار وفقرا میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایسے ہی بعض کاروباری لوگ بھی زکوٰۃ کا ایک مشترکہ نظام تشکیل دیتے ہیں اور اپنی زکوٰۃ کے ثمرات کو وسیع تر کرنے کے لیے اس مال سے سرمایہ کاری کرکے، اس سے نیکی کے بڑے کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوسری صورت کے بارے میں ایک سوال نامہ شرعی رہنمائی کے لیے موصول ہوا، جس میں دریافت کیا گیا کہ
  • فروری
1999
نصیراحمد اختر
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں زراعت کو بہت اہمیت حاصل تھی بلکہ زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی تھی۔اس دور میں نہ  تو صنعت وحرفت اور تجارتی مراکز کاوہ عالم تھا جو آج ہے۔اور حکومتی بجٹ عشر وخراج ،فئی،غنیمت اور معدودے چند تجارتی محاصل سے مکمل کیاجاتا تھا۔عمومی معیشت کادارومدار زراعت پرتھا۔بعض فقہاء نے تو زراعت کو فرض کفایہ قرار دیا ہے۔(1)
اور خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد بھی ہے۔
" اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَبَايَا الأَرْضِ "(2)
"زمین کی تہہ میں رزق تلاش کرو"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زراعت کو نفع بخش عظیم مال قرار دیا۔ایک دفعہ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال ہوا:
" أي المال أفضل ؟
"زیادہ بہتر کونسا مال ہے؟تو ارشاد فرمایا:
"زرع زرعه صاحبه وأصلحه وأدّى حقّه يوم حصاده"(3)
"وہ زمین جس سے غلہ حاصل ہو،اس کامالک اسے قابل کاشت رکھے اور غلہ کے حصول پر اس کا فریضہ ادا کرے"
  • اکتوبر
2007
حسن مدنی
پاکستانی معاشرے میں جوں جوں دین سے تعلق کمزور پڑتا جارہا ہے، توں توں لوگوں کے رجحانات میں بعض غیرمعمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ ہم اپنے گرد وپیش ایک نئی چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اندر ہی اندر اس کو عجیب سمجھتے ہوئے اجنبیت محسوس کرتے ہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ نیارویہ درست نہیں ، اس میں کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ضرور پائی جاتی ہے