• اکتوبر
2000
ناصر الدین البانی
(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)
  • ستمبر
1983
ناصر الدین البانی
استاذ ناصر الدین البانی علمی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا اسلوب تحریر او رطرز استدلال صرف کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ پر مبنی ہے او ریہی مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے۔زیر نظر مقالہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!واجبات مریض :مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ہرمریض کے لیے انتہائی ضروری ہے:1۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے
  • جنوری
2007
کامران طاہر
نماز دین کا ستون،جنت کی کنجی، مؤمن کی معراج، آنکھوں کی ٹھنڈک، قلبی سکون اور جسمانی شفا ہے۔ اس کے ذریعے انسان جملہ مصائب و آلام، غموم و ہموم، اور ہمہ قسم کے حزن و ملال سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ ربّ ِذوالجلال نےوَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ‌ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ۚ...﴿٤٥﴾...سورۃ البقرۃکا ارشاد فرماکر اس حقیقت کو آشکاراکردیا اورحَـٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَ‌ٰتِ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَـٰنِتِينَ ﴿٢٣٨﴾...سورۃ البقرۃ
  • دسمبر
1987
محمد بن صالح العثیمین
زیر نظر مضمون فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین کا ایک فتویٰ ہے، جو آپ نے تارک الصلوۃ کے بارے میں جاری فرمایا ہے۔

موصوف کا پورا نام محمد بن صالح بن محمد بن عثیمین الوہیبی التمیمی ہے۔ اور آپ بمقام عنیزہ، سئہ 1347ھ میں رمضان شریف کے آخری عشرہ میں پیدا ہوئے۔۔۔مزید مختصر تعارف درج ذیل ہے:
  • اگست
2008
کامران طاہر
زیر تبصرہ کتاب فاضل مصنف ڈاکٹر حافظ محمد اسحق زاہد حفظہ اللہ کی نئی علمی کاوش ہے جسے اُنہوں نے جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کی لجنۃ القارۃ الہندیۃ کے ایما پر کمیٹی کی طرف سے برصغیر میں مبعوث اُن دعاۃ اور مبلغین کے لیے ترتیب دیا ہے جو اُردو بول چال کے علاقوں میں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
  • دسمبر
2014
محمد بن صالح العثیمین
'سجدہ سہو' ایسے دو سجدوں کو کہتے ہیں جنہیں ایک نمازی بھول چوک کی وجہ سے اپنی نماز میں پیدا ہونے والے خلل کو پورا کرنے (نقص کی تلافی) کے لیے کرتا ہے۔ اس کے اسباب تین ہیں: 1۔زیادتی 2۔کمی اور 3۔شک

ذیل میں ہر صورت کے احکام ومسائل علیحدہ علیحدہ پیش کیے جاتے ہیں:
  • اکتوبر
2004
محمد سرور
محترم و مکرم جناب مفتی دارالعلوم دیوبند السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ'
آپ کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ اور مسجد ِنبوی میں نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے افتاء سے متعلق علماء ِکبار کی ایک مستقل کمیٹی کافتویٰ ہفت روزہ 'اہلحدیث' لاہور میں ۷ ؍فروری ۱۹۸۶ء کو چھپا تھا، اس کا اقتباس حاشیہ میں ملاحظہ کریں۔
  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
استاد محترم! جناب مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب حفظہ اللہ! السلام علیکم
ماہنامہ "محدث" کی جلد 17 شمارہ 8 میں آپ کا ایک مضمون بعنوان "مسنون نمازِ جنازہ" شائع ہوا۔
اس میں آپ نے نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے ثبوت میں صحیح بخاری کے حوالہ سے یہ روایت لکھی ہے:
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»
مگر اس روایت سے آپ کا استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ احمد یار گجراتی نے اپنی تصنیف "جاء الحق' کی دوسری جلد کے صفحہ 242 پر یہی روایت ذکر کر کے مندرجہ ذیل اعتراضات کئے ہیں:
1۔ اس روایت میں یہ نہیں آیا کہ جناب ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ کے اندر سورہ فاتحہ پڑھی۔
بلکہ ظاہر یہ ہے کہ نماز کے بعد میت کو ایصالِ ثواب کے لئے پڑھی ہو۔ جیسا کہ " فَقَرَأَ " کی "ف" سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ "ف" تعقیب کی ہے۔
  • فروری
1999
منیر قمر
نماز میں سجدے میں جانے کی کیفیت
اونٹ کی مجموعی کیفیت اختیار کرنے کی ممانعت
رکوع وقومہ اور ان کے افکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جا تا ہے جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مروج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے از روئے دلیل کون ساقوی و صحیح تر ہے اس امر کا جائزہ لینے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائز ہ لینا ضروری ہے۔
پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل:۔
پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل ہیں۔
(1)التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ،ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،نسائی رحمۃ اللہ علیہ ،مشکل الآثاروشرح معانی الآثار ،دارمی رحمۃ اللہ علیہ ،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ، محلی لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ،شرح السنۃ للبغوی الإعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمى و مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما یا۔"إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه"(1)
"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔"
  • دسمبر
1998
ثنااللہ مدنی
٭ نماز کےحوالے سےچنداہم سوالات 
٭ مسجد کی دان کاکرایہ لیا جائے یا نہیں ؟ 
٭ حجام کی کمائی ، حلال ہےیا حرام ؟ 
٭ خائن اورفریب کارکوامام بنانا جائز نہیں !! 
٭ حالتِ حمل میں بیک وقت تین طلاق کاحکم ؟ 
٭ کیافرماتےہیں علماء کرام قرآن وسنت کی روشنی میں ان مسائل کی باتب:
(1) اگرنماز عشاء کےساتھ ہی وتر پڑھ لیے جائیں توآخررات نفل پڑھنے کاکیا طریق کارہے؟ کیا ایک رکعت پڑھ کرسجدہ کرے یا نوافل ادا  کرے؟
(2) ایک اذان کاجواب دینے کی صورت میں دوسری طرف سےاذانیں ہورہی ہوں ، کیا ان کا بھی جواب دینا چاہیے یا ایک ہی اذان کاجواب کافی ہے؟ 
(3) کیا ( إن الينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم ) کےجواب میں ’’ اللهم حاسبنى  حسابا يسيرا ،، کا ثبوت ہے؟ اوراگر ہے تو صرف امام جواب دے یامقتدی بھی جواب دیں ؟ 
(4) نمازی کےآگے سترہ نہ ہونے کی صورت میں چارپانچ صفیں چھوڑکرگزرناجائز ہے؟ آیا ا س کی دلیل میں کوئی حدیث ہے؟
  • اپریل
2003
نجیب الرحمن کیلانی
چند روز قبل ایک جامع مسجدمیں قاری صاحب مغرب کے بعد درسِ حدیث دے رہے تھے کہ انہوں نے بلوغ المرام سے مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

«عن أبي برزة الأسلمي... وکان يستحب أن يوخر من العشاء، وکان يکره النوم قبلها والحديث بعدها» (متفق علیہ)