• اکتوبر
2000
ناصر الدین البانی
(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)
  • اپریل
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
اللہ تعالیٰ سے جو آدمی سوال نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں: ''عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم یسأل اللہ یغضب علیہ۔'' ''حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں،آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ سے سوال نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔'' یہ اس لیے کہ تکبر اور لاپرواہی کے سبب سوال نہ کرنا ناجائز ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں او رکون ہے جو اللہ تعالیٰ
  • مئی
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
دعاء کے بہت سے آداب ہیں۔دعاء کو بہتر او رکامل بنانے کے لیے دعاء میں ان آداب کوملحوظ رکھنا چاہیے: 1۔ دُعاء سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا اور آنحضورﷺ پر درود پڑھنا:چونکہ دُعاء میں اللہ تعالیٰ سے اس کے انعامات، احسانات ، رحمت اور مغفرت طلب کی جاتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ دعاء سے پہلے اللہ رب العزت کے شایان شان اس کی تعریف و تمجید کی جائے۔''
  • جون
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
3۔ گناہ کا اعتراف :انسان جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو آداب دعاء کا تقاضا ہےکہ اپنے گناہوں، خطاؤں اور تقصیروں کا اقرار بھی کرے۔اسی میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا کمال اور اس کا انتہا ہے۔''عن ابی ہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان اوفق الدعاء ان یقول الرجل: اللھم انت ربی وانا عبدک، ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی یارب فاغفرلی ذنبی انک انت ربی ، انہ لا یغفر الذنوب الا انت''
  • اگست
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
11۔ لیلة القدر میں دعاء کرنا:یہ رات انتہائی بابرکت اور افضل راتوں اور اوقات میں سے ہے۔ اس میں دعاء کرنے والوں او راللہ سے مانگنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کا ذو ق و شوق دیکھیں کہ انہوں نے کہا : ''اے اللہ کے رسولؐ، اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو کیا دعاء کروں؟'' آپؐ نے فرمایا: یہ دعاء کرنا :''اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی''
  • جولائی
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
1۔ رات کو دُعاء کرنا:رات کو جبکہ ہر طرف سکون، اطمینان اور فضا میں سناٹا طاری ہوتا ہے، تمام لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں، صرف وہ آنکھیں بیدار ہوتی ہیں جو آسمان کی طرف متوجہ ہوکر اس بے پایاں کائنات میں چلتی ، پھرتی،تیری اللہ کی مخلوقات کے بارہ میں سوچ بچار کر رہی ہوتی ہیں۔ اس پر سکون ماحول میں انسان اپنے آپ کو ایک کمزور او ربے حقیقت شے تصور کرتا ہے۔ تب اس کے قلب میں خلاق کی عظمت
  • ستمبر
1987
شیخ عبداللہ الحضری
1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘ 
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘
  • مارچ
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
فضیلۃ الشیخ عبداللہ الخضری نے عربی زبان میں دعاء کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، جسے الدار السلفیہ کویت نے شائع کیا ہے۔ افادہ عام کی غرض سے حضرت مولانا سعید مجتبیٰ السعیدی نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ امید ہے قارئین محدث اس سلسلہ کو پسند فرمائیں گے۔ (ادارہ)...........................جب انسان کے تمام دنیاوی اسباب منقطع ہوجائیں، جب انسان کے سارے حیلے عاجز رہ جائیں، جب انسان کے تمام
  • جنوری
2007
کامران طاہر
نماز دین کا ستون،جنت کی کنجی، مؤمن کی معراج، آنکھوں کی ٹھنڈک، قلبی سکون اور جسمانی شفا ہے۔ اس کے ذریعے انسان جملہ مصائب و آلام، غموم و ہموم، اور ہمہ قسم کے حزن و ملال سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ ربّ ِذوالجلال نےوَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ‌ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ۚ...﴿٤٥﴾...سورۃ البقرۃکا ارشاد فرماکر اس حقیقت کو آشکاراکردیا اورحَـٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَ‌ٰتِ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَـٰنِتِينَ ﴿٢٣٨﴾...سورۃ البقرۃ
  • جنوری
2006
عبداللہ دامانوی
محترمی جناب حافظ حسن مدنی صاحب السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاتہ
آپ کا خط ملا، یاد آوری کے لئے تہہ دل سے شکرگزار ہوں ۔ آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے :
''محترم حافظ صلاح الدین یوسف نے محدث جنوری 2005ء میں آپ کے شائع شدہ مضمون میں ایک امر کی نشاندہی فرمائی ہے ،جس کی وضاحت میں بھی ضروری سمجھتا ہوں :
محدث میں صفحہ 45 پر، 13 نمبر نکتہ کے تحت آپ نے جس حدیث کو ذکر فرمایا ہے، اس کے ترجمہ میں آپ نے دو اضافے ایسے فرمائے ہیں ، جن کا اصل عربی عبارت میں کوئی وجود نہیں ۔ آپ کے ترجمہ میں بریکٹ میں اضافہ '(ہر نما زکے بعد)' اور بریکٹوں کے بغیر ترجمہ کے آخر میں 'ہر نماز کے بعد' کا ترجمہ یا اس کا مفہوم عربی عبارت میں موجود نہیں ۔
  • جولائی
1995
غازی عزیر
تسویۃ الصفوف کا معنی:۔
"تسویۃ الصفوف"کا معنی امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  یو ں فرما تے ہیں ۔
"تسویۃالصفوف،یعنی صفوں کو برا بر اور سیدھی کرنے سے مراد "اتمام الاول فالاول " صفوں میں جو خلا یا شگا ف ہوں،انہیں بند کرنا اور نماز کے لیے صف میں کھڑے ہو نے والوں کی اس طرح محاذات (برا بری)ہے کہ کسی فرد کا سینہ یا کو ئی دوسرا عضو اس کے پہلو میں کھڑے دوسرے نمازی سے آگے نہ بڑھنے پا ئے۔اسی طرح جب تک پہلی صف پوری نہ ہو ،دوسری صف بنانا غیر مشروع ہے اور جب تک اگلی صف مکمل نہ ہو جائے کسی نمازی کا پچھلی صف میں کھڑے ہو نا بھی درست نہیں ہے۔(5)حافظ بن حجر  عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں ۔
  • نومبر
2010
آباد شاہ پوری
'محدث' جنوری ۲۰۱۰ء میں مشہور سعودی داعی شیخ سلمان بن فہد العودہ کی تحریر 'افعل ولا حرج' کا اُردو ترجمہ شائع ہوا تھا جس میں موصوف نے عصر حاضر میں حجاجِ کرام کی مشکلات اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت میں موجود عمومی سہولیات اور رخصتوں کو کتاب وسنت کی نصوص پر غلبہ دیتے ہوئے حج کے اُمور میں بہت سی پابندیوں کو اُٹھا دینے کا عندیہ دیاتھا۔
  • اگست
2008
کامران طاہر
زیر تبصرہ کتاب فاضل مصنف ڈاکٹر حافظ محمد اسحق زاہد حفظہ اللہ کی نئی علمی کاوش ہے جسے اُنہوں نے جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کی لجنۃ القارۃ الہندیۃ کے ایما پر کمیٹی کی طرف سے برصغیر میں مبعوث اُن دعاۃ اور مبلغین کے لیے ترتیب دیا ہے جو اُردو بول چال کے علاقوں میں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
  • مئی
1999
عطاء اللہ صدیقی
عاصمہ جہانگیرکی طرف سے اسلامی شعائر کی تضحیک
اسلامی شعائر اور معروفات کی پاسداری مسلمانوں میں اسلام سے محبت اور قلبی وابستگی میں اضافہ کرتی ہے اسی لیے اسلام دشمن قوتوں کے مذموم پراپیگنڈہ کا یہ مؤثر ہتھیار رہا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کی تضحیک و تحقیر کے گھناؤ نے فعل کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں داڑھی رکھنا اسلامی شعائر میں داخل ہے باریش مسلمانوں کو جس استہزاء اورکیک حملوں کا نشانہ بنایا جا تا ہے وہ محتاج بیان نہیں پردہ اسلامی حکم کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر کا حصہ بھی ہے۔ اس کے متعلق جس طرح لادین اور اسلام دشمن عناصر ہر زہ سرائی کرتے ہیں وہ اس مذموم پراپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے۔ ولیٰ ہذاالقیاس ۔
  • جنوری
2008
کامران طاہر
تمام تعریف اللہ تبارک و تعالیٰ کو سزاوار ہے جس نے اپنے صالح بندوں کو ایسے مواقع عطا کئے جن میں کثرت کے ساتھ نیک اعمال بجا لاتے ہیں اور موت تک اُنہیں یہ مہلت اور موقع فراہم کیا کہ نیکیوں کے ان مختلف موسموں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دن اور رات کی مبارک گھڑیوں میں بھلائیوں کے وافر ثمرات اپنے دامن میں سمیٹ سکیں ۔
  • اپریل
2007
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال: بارہا دفعہ مختلف مکاتب ِفکر کی مساجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ہر مسلک کے ائمہ کرام 'سجدئہ سہو' مختلف انداز سے اَدا فرماتے ہیں ۔ براہِ کرام'سجدئہ سہو' کس وقت اور کیونکر کیا جاتا ہے؟ اس میں کیا پڑھا جاتا اور سلام کس وقت پھیرتے ہیں ؟ (محمد صدیق طارق، راولپنڈی) جواب: سجدئہ سہو احادیث میں جس طرح وارد ہے، ویسے ہی کرنا چاہئے۔
  • جون
2007
حافظ ثناء اللہ مدنی
گزارش ہے کہ ہمارے محلے کی مسجدکے امام جب نماز پڑھاتے ہیں تو جلسہ استراحت کرنا بہت ضروری سمجھتے ہیں جس سے تقریباً آدھے نمازی اُن کی آواز 'اللہ اکبر' سنے بغیر ہی اُن سے پہلے ہی کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ امام صاحب کو دیکھتے رہتے ہیں تاکہ وہ اُن کے اُٹھنے کے بعد کھڑے ہوں جو کہ خشوع و خضوع کے خلاف محسوس ہوتا ہے چونکہ ہمارے ہاں احناف اور اہل حدیث سب قسم کے نمازی ہوتے ہیں اور سب لوگ اتنا لمبا جلسہ استراحت ضروری نہیں سمجھتے جس سے نماز کی ہیئت ایک عجب شکل اختیار کرجاتی ہے۔
  • اکتوبر
2004
محمد سرور
محترم و مکرم جناب مفتی دارالعلوم دیوبند السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ'
آپ کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ اور مسجد ِنبوی میں نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے افتاء سے متعلق علماء ِکبار کی ایک مستقل کمیٹی کافتویٰ ہفت روزہ 'اہلحدیث' لاہور میں ۷ ؍فروری ۱۹۸۶ء کو چھپا تھا، اس کا اقتباس حاشیہ میں ملاحظہ کریں۔
  • اپریل
2008
صہیب حسن
ایک سائل پوچھتے ہیں : کیا فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دُعا مانگنا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؟ جیسا کہ اکثر علماے کرام فرض نمازوں کے بعد کچھ عربی میں اور کچھ اپنی زبان میں دُعا کرتے ہیں اور مقتدی حضرات ساتھ ساتھ آمین کہتے ہیں ۔ کیا یہ طریقہ سنت ِ رسول ؐ ہے یا بدعت؟ اگر یہ سنت ہے تو حدیث کا حوالہ ضرور دیں ۔
  • ستمبر
1984
عبدالرؤف ظفر
قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی کی اصل حقیقت متعین کرنے کے لئے ضروری ہے۔پہلے قرآن مجید پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ائمہ پر غور کریں۔اور پھر تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں۔اس سے قربانی کے متعلق منشاء الٰہی اسوہ حسنہ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا علم ہوگا۔اوراس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
قرآن مجید اورقربانی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾...(الحج:34)
" اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی مقرر کردی  تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ نے اُن کوعطافرمائے ہیں۔"
  • فروری
2004
ابو الکلام آزاد
دنيا كے تمام مذاہب ميں اسلام كى ايك مابہ الامتياز خصوصیت يہ ہے كہ اس نے تمام عبادات و اَعمال كا ايك مقصد متعین كيااور اس مقصد كو نہايت صراحت كے ساتھ ظاہر كرديا- نماز كے متعلق تصريح كى: ﴿إنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنكبوت:٤٥)
"نماز ہر قسم كى بداخلاقيوں سے انسان كو روكتى ہے-"
  • فروری
1999
منیر قمر
نماز میں سجدے میں جانے کی کیفیت
اونٹ کی مجموعی کیفیت اختیار کرنے کی ممانعت
رکوع وقومہ اور ان کے افکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جا تا ہے جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مروج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے از روئے دلیل کون ساقوی و صحیح تر ہے اس امر کا جائزہ لینے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائز ہ لینا ضروری ہے۔
پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل:۔
پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل ہیں۔
(1)التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ،ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،نسائی رحمۃ اللہ علیہ ،مشکل الآثاروشرح معانی الآثار ،دارمی رحمۃ اللہ علیہ ،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ، محلی لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ،شرح السنۃ للبغوی الإعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمى و مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما یا۔"إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه"(1)
"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔"
  • دسمبر
1998
ثنااللہ مدنی
٭ نماز کےحوالے سےچنداہم سوالات 
٭ مسجد کی دان کاکرایہ لیا جائے یا نہیں ؟ 
٭ حجام کی کمائی ، حلال ہےیا حرام ؟ 
٭ خائن اورفریب کارکوامام بنانا جائز نہیں !! 
٭ حالتِ حمل میں بیک وقت تین طلاق کاحکم ؟ 
٭ کیافرماتےہیں علماء کرام قرآن وسنت کی روشنی میں ان مسائل کی باتب:
(1) اگرنماز عشاء کےساتھ ہی وتر پڑھ لیے جائیں توآخررات نفل پڑھنے کاکیا طریق کارہے؟ کیا ایک رکعت پڑھ کرسجدہ کرے یا نوافل ادا  کرے؟
(2) ایک اذان کاجواب دینے کی صورت میں دوسری طرف سےاذانیں ہورہی ہوں ، کیا ان کا بھی جواب دینا چاہیے یا ایک ہی اذان کاجواب کافی ہے؟ 
(3) کیا ( إن الينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم ) کےجواب میں ’’ اللهم حاسبنى  حسابا يسيرا ،، کا ثبوت ہے؟ اوراگر ہے تو صرف امام جواب دے یامقتدی بھی جواب دیں ؟ 
(4) نمازی کےآگے سترہ نہ ہونے کی صورت میں چارپانچ صفیں چھوڑکرگزرناجائز ہے؟ آیا ا س کی دلیل میں کوئی حدیث ہے؟
  • جون
2011
کامران طاہر
نمازِ پنجگانہ کی رکعات کی صحیح تعداد کے متعلق عام طور پر عامۃ الناس میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں جیسے عشاء کی نماز کی ١٧ رکعات وغیرہ اور پھر ان رکعات کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ نوافل کے تعین کامسئلہ بھی زیر بحث رہتاہے۔ذیل میں افادۂ عام کے لیے نمازِ پنجگانہ کے مؤکدہ اور غیرمؤکدہ نوافل اور فرائض کی صحیح تعداد کو دلائل کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔
  • جنوری
1989
غازی عزیر
ہندوستان و پاکستان سے تشریف لانے والے اکثر حجاج و زائرین اور مملکت سعودیہ میں مقیم برصغیر سے متعلق تارکین وطن کی اکثریت کو عموما یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جو شخص مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازیں کسی بھی نماز کو قضا ہوئے بغیر (مسلسل) باجماعت پڑھ لے تو اس کے لیے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی رہنمائی کرنے والی بعض اردو کتابوں میں بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مسلسل پڑھنے کا ذکر بتاکیدِ شدید ملتا ہے۔ لہذا ہر مرد و زن حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا ہے یہ تینوں بیش قیمت پروانے اس کو بہرصورت حاصل ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے مدینۃ منورۃ کے بیشتر زائرین وہاں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرتے ہیں تاکہ مسجد نبوی میں چالیس (40) نمازیں باجماعت ادا کرنے کی شرط پوری کر کے اس پروانہ نجات کو حاصل کر سکیں۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے ان کی کوئی نماز چھوٹ جاتی ہے تو مزید ایک ہفتہ اس کی تکمیل کے لیے وہاں قیام کیا جاتا ہے۔