• مارچ
1971
عبدالقیوم
ہمارے حالات اور ہماری ضروریات کے پیشِ نظر علمِ حدیث کی نشر واشاعت اور ترویج وخدمت کے تین اہم ذرائع ہیں:
٭ درس و تدریس
٭ تالیف و تصنیف و ترجمہ
  • جولائی
1996
عبدالحمید خاں عباسی
اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہو نے کی حیثیت سے تفہیم وا دراک اور اسے اعتقاد وعملاً اپنا نے کے لیے قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف رجوع کرنا نہا یت ضروری ہے کیونکہ ان دو نوں سے اعتقادی اور عملی مسائل و احکا م کے چشمے پھوٹتے  ہیں اسی وجہ سے دو نو ں کے احکا م کو اسلا می شریعت کا بنیا دی مصدر و منبع ہو نے کی حیثیت حاصل ہے قرآن مجید ان احکا م کا اجما ل اور احا دیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تفصیل و تو ضیح اورشارح و ترجمان ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کے لیے لا زم و ملزوم ہیں ۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں ۔
1۔"علم القرآن اگر اسلامی علوم میں دل کی حیثیت رکھتا ہے تو حدیث شہ رگ کی ۔ یہ شہ رگ اسلامی علوم کے تمام اعضاء وجو ارح تک خون پہنچا کر ہر آن ان کے لیے تا زہ زندگی کا سامان پہنچاتا رہتا ہے آیت کا شان نزول اور ان کی تفسیر احکا م القرآن کی تشریح و تعین اجمال کی تفصیل عموم کی تخصیص مبہم کی تعیین سب علم حدیث کے ذرریعہ معلوم ہو تی  ہے"(1)
2۔"اسی طرح حامل قرآن محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت حیا ت طیبہ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اخلا ق و عادات مبا رکہ اقوال و اعمال سنن و مستحبات اور احکا م واشادات اسی علم حدیث کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں "(2)
3۔اسی طرح خود اسلام کی تا ریخ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین کے احوال اور ان کے اعمال و اقوال اور اجتہادات وااستنباطات کا خزانہ بھی اسی (علم حدیث ) کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے "(3)
4۔علامہ رحمۃ اللہ علیہ   آخر میں فر ما تے ہیں :"اس بنا پر اگر یہ کہا جا ئے تو صحیح ہے کہ اسلام کے عملی پیکر کا صحیح مرقع اسی علم کی بدولت مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے قائم ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت رہے گا ۔
لیکچر اراداراہ علوم اسلا میہ یو نیو رسٹی آف آزادجموں و کشمیر میر پو ر کیمپس آزاد کشمیر علامہ جعفر الکتانی رحمۃ اللہ علیہ   فر ما تے ہیں :
"یقیناً وہ علم جو ہر ارادہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے اور ہر عالم و عابد کو اس کی ضرورت پڑتی ہے وہ یہی علم حدیث و سنت ہے یعنی جو بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی امت کے لیے مشروع ومسنون قرار دیا "(15)
اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ   نے عربی اشعار نقل کئے ہیں جن کا ترجمہ ہے ۔
  • مارچ
1989
غازی عزیر
(ماہنامہ محدث کے دو (2) قریب شماروں[1] میں راقم الحروف کا ایک مضمون زیرعنوان "حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" بالاقساط شائع ہوا تھا۔ مضمون ہذا پر عصرِ حاضر کے ایک فاضل محقق محترم جناب ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب (پیرس) حفظہ اللہ نے حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" (کے اسانید) کی تحقیق" کے عنوان کے تحت تعاقب فرمایا ہے جو ماہنامہ "محدث" لاہور کے تازہ شمارہ [2]میں شائع ہوا ہے۔ ذیل میں آں محترم کے اس تعاقب کے بعض پہلو کو، جو قابل جواب یا وضاحت طلب محسوس ہوئے ہیں انہیں ترتیب دے کر پیش کر رہا ہوں)
اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فاضل تعاقب نگار محترمی ڈاکٹر صاحب نے تعاقب کا عنوان اس طرح مقرر فرمایا ہے: "حدیث " أطلبوا العلم ولو بالصین"  (کے اسانید) کی تحقیق" مگر پورے تعاقب کو پڑھ کر راقم کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ پورے تعاقب میں حدیث مذکورہ کی اسانید کی تحقیق تو کجا سرے سے کہیں ان کا تذکرہ تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون کی کسی عبارت یا روایت پر کوئی نقد و جرح یا بحث کی ہے۔ البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آں محترم نے اپنے تعاقب کی پوری عمارت چند شبہات احتمالات اور مفروضوں کی بنیاد پر کھڑی کی ہے اور انہیں اسانید کی تحقیق سے ممنون کیا ہے۔ اس کی وضاحت ان شاءاللہ آگے پیش کی جائے گی۔ کاش محترم ڈاکٹر صاحب زیر مطالعہ حدیث پر کوئی ٹھوس علمی بحث پیش فرماتے یا ان نقائص کی نشاندہی فرماتے۔ جو آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون میں محسوس فرمائیں۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبد الرحمن مدنی
منکرین حدیث کی طرف سے اکثر وبیشتر اس سوال کا اعادہ و تکرار کیا جاتا ہے کہ'' احادیث چونکہ آنحضرت ﷺ کے دور میں لکھی نہ گئی تھیں، اس لئے یہ قابل حجت نہیں۔ کیونکہ جب کوئی چیز ضبط ِکتابت میں آجائے تو وہ محفوظ ہوجاتی ہے جبکہ ضبط ِکتابت سے محروم رہنے والی چیز آہستہ آہستہ محو ہوکر اپنا وجودکھوبیٹھتی ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
علی احمد چودھری
اللہ تعالیٰ نے یوں تو انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن قوتِ حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کرکے کام میں لاتا ہے۔ انسان کا قدیم ترین اور ابتدائی طریق حفاظت 'حفظ' تھا۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد نعیم
حدیث ِنبوی کے بارے میں عموماً یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ احادیث تو نبی اکرمﷺکے ڈیڑھ صدی بعد لکھی گئی ہیں، اس لئے ان میں غلطی کے امکانات بہت زیادہ ہیں لہٰذا احادیث سے استدلال کرنے اور اس کو ماخذ ِدین سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے شبہات پیدا کرکے حدیث ِنبوی کو مشکوک بنانے کی جسارت
  • اگست
1984
عبدالرحمن کیلانی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس جہاں سے رحلت فرمائی تو عرب کا تقریباً تمام علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو افراد اسلام قبول کرچکے تھے ان کی تعداد چار لاکھ بیان کی جاتی ہے ۔لیکن ایسے مسلمان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یافتہ ہوئے ایسے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اصحاب رضوان اللہ عنھم اجمعین جن سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہیں۔
  • اگست
1984
عبدالرحمن کیلانی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس جہاں سے رحلت فرمائی تو عرب کا تقریباً تمام علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو افراد اسلام قبول کرچکے تھے ان کی تعداد چار لاکھ بیان کی جاتی ہے ۔لیکن ایسے مسلمان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یافتہ ہوئے ایسے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اصحاب رضوان اللہ عنھم اجمعین جن سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہیں۔