• جون
1988
غازی عزیر
اس مشہور روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے یوں ذکر فرمایا ہے:

«انبانا محمد بن ناصر قال انبانا محمد بن على بن ميمون قال انبانا محمد بن على العلوى قال انبانا على بن محمد بن بيان قال حدثنا احمد بن خالد المرهبى قال حدثنا محمد بن على بن حبيب قال حدثنا العباس بن اسماعيل قال حدثنا الحسن بن عطية الكوفى عن ابى عاتكة عن انس قال قال رسول اللهﷺ : اطلبوا العلم ولو بالصين»
  • اکتوبر
1992
رمضان سلفی
بعض لوگ یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری ہے۔لیکن بقول ان کے حدیث قرآن کریم کی طرح قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے۔جس میں محدثین کی امکانی کوشش بھی داخل ہے۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بات کی نسبت کی تحقیق کرتے ہیں۔اور سلسلہ سند کے اشخاص نیز محدثین خطا سے پاک نہیں ہیں۔اور ہوسکتا ہے انہوں نے حدیث کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہو۔لہذا حدیث،قرآن مجید کی طرح قطعی نہیں ہوسکتی۔
  • جولائی
2006
محمد اسلم صدیق
ماہنامہ 'محدث' کے فروری 2004ء کے شمارہ میں محترمہ خالدہ امجد کا مضمون 'عائشہ صدیقہؓ اُسوۂ حسنہ' کے صفحہ63، سطر 11 پر یہ عبارت ''پاک و طاہر بیٹی کا نصیب صاحب ِلولاک کا نور کدہ ہی ہوسکتا ہے۔'' میں لفظ لَوْلَاکَجو ایک موضوع روایت کاجملہ ہے، غلطی سے نظر انداز ہوگیا تھا۔ محدث کے قاری جناب نثار احمد کھوکھر اور چند دیگر حضرات نے اس غلطی پر نشاندہی کی اور حدیث کی مکمل تحقیق شائع کرنے کی استدعا کی۔
  • جولائی
1988
غازی عزیر
حدیث کی تحقیق

اب اس باب کی باقی ماندہ روایات کے تمام طریق اسناد اور ان کے جملہ رواۃ کا محدثین و ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک مرتبہ و مقام کا جائزہ بھی لیتا چلوں جو حضرات علی بن ابی طالب ، ابن مسعود، ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔
  • جنوری
1996
زبیر علی زئی
نور اور ظلمت کے اختلاط کو عربی لغت میں "الدلس" کہتے ہیں (نخبة الفكر ص71 وغيره) اور اس سے دلس کا لفظ نکلا ہے جس کا مطلب ہے:

كتم عيب السلعة عن المشتري

"اس نے اپنے مال کا عیب گاہک سے چھپایا" (المعجم الوسيط ج١ص2293،و عام کتب لغت)
  • جولائی
  • اگست
2015
ابن بشیر حسینو ی
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں سے اپنے دین حنیف کی خدمت کا کام لیا اور بعض کو اپنے دین کے لئے خاص کر لیا جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا قرآن وحدیث کو عام کرنا تھا ۔اُنھی چنیدہ افراد میں سے ایک ہمارے ممدوح امام طبرانی﷫ بھی ہیں۔ ان کے حالات اور ان کی کتب حدیث کا تعارف واُسلوب (منہج )پیش خدمت ہے ۔امام طبرانی﷫ کے حالات کے لیے تاریخ اصبہان ،جزء فیہ ذکر الامام الطبرانی ،سیر اعلام النبلاء، تذکرۃ الحفاظ اورالمعجم الصغیر وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔
  • مارچ
1972
ریاض الحسن نوری
سابق ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان مسعود احمد سی۔ ایس۔ پی کے دور میں محکمہ اوقاف نے ایک کتابچہ چھپوا کر تقسیم کیا تھا جس کا نام تو ''اسلامی پاکٹ بک '' رکھا گیا تھا لیکن در پردہ اس میں سوشلزم کی تبلیغ مقصود تھی۔ اس میں بہت سی دیگر غلط بیانیوں کے ساتھ جس دیدہ دلیری اور بے باکی سے بعض موضوع احادیث نبی اکرم ﷺ سے منسوب کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ حد درجہ افسوس ناک ہے۔
  • اکتوبر
1992
غازی عزیر
"اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور الله,

"مومن کی فراست سے ڈرتے رہو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے د یکھتا ہے"

نمبر 4۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث کاجائزہ:
  • نومبر
1994
غازی عزیر
زیر عنوان حدیث کو امام ابن ابی حاتمؒ اور ابن مردویہ ؒ نے قرآن کریم کی آیت ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ .... ﴿٤٥﴾...العنكبوت
(ترجمہ :بیشک نماز فحش باتوں اور منکرات سے روکتی ہے)
کی تفسیر میں بطریق (محمد بن هارون المخرزمي الفلاس حدثنا عبد الرحمن بن نافع ابو زياد حدثنا عمر بن ابى عثمان حدثنا الحسن عم عمر أن بن الحصين قال : سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى:﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾قال فذكره
(یعنی حضرت عمران بن الحصین رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی شخص نے اللہ تعا لیٰ کے اس ارشاد کہ نماز بے شک تمام فحش باتوں اور منکرا ت سے روکتی ہے کہ متعلق سوال کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا :پھر یہ حدیث بیان کی )روایت کیا ہے مشہور مفسر قرآن امام ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر (6)میں اور ابن عروہؒ نے کو کب الدراری (3)میں اس حدیث کو وارد کیا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں کئی امور محل نظر ہیں پہلی چیز یہ کہ آئمہ کے نزدیک حضرت عمران بن الحصین ؒسے حضرت  حسن بصریؒ کا سماع مختلف فیہ ہے اگرچہ امام بزار ؒنے اپنی "مسند "(4) میں اور امام حاکم ؒ نے اپنی مستدرک علی الصحیحین "(5)میں حسن بصری ؒکے عمران بن الحصین ؒ سے سماع کی صراحت کی ہے لیکن علامہ مار دینی ؒ فر ما تے ہیں ۔
  • اپریل
1989
غازی عزیر
اس کے آگے محترم ڈاکٹر صاحب نے نفسِ مضمون سے ہٹ کر، کذب کی اقسام، کذب بصورتِ اکراہ، توریہ، قانونی مشیر، طبیب اور زہر و تریاق کی غیر متعلق [1]بحثوں کو چھیڑ کر خلطِ مبحث کرنا چاہا ہے، ہم غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے اس حصہ پر کلام کرنے سے قصدا گریز کرتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
"زیرِ بحث، حدیث کے مطعون راوی عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی نسلوں بلکہ کئی صدیوں بعد کے لوگ ہیں، اگر آئندہ خوش قسمتی سے اُن سے پہلے کے راویوں (صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم، تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ) کی کتابیں دستیاب ہو جائیں (اور الحمدللہ ہو رہی ہیں) اور ان میں یہ حدیث بھی مل جائے تو ظاہر ہے کہ متاخر زمانے کے کسی ضعیف یا جھوٹے راوی نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہو تو اس سے اصل حدیث کی صحت متاثر نہ ہو سکے گی۔"
  • جنوری
1996
غازی عزیر
مجلس التحقیقی الاسلامی لاہور کا مؤقر علمی مجلہ ماہنامہ "محدث" مجریہ ماہ سوال/ ذوالقعدہ 1410ھ بمطابق مئی/جون 1990ء پیش نظر ہے۔ کتاب و حکمت کے تحت سلسلہ وار شائع ہونے والی نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی مشہور اردو تفسیر "ترجمان القرآن" کی جاری قسط میں "رعد" اور "صاعقہ" کی تفسیر و معانی بیان کرتے ہوئے ایک حدیث یوں نقل کی گئی ہے:
  • مارچ
1996
غازی عزیر
بعض روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اس سے فارغ ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے سر پر مسح فرماتے، اور یہ دعا معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ وارد ہوئی ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ، اپنی کتاب الاذکار میں ابن السنی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس طرح نقل فرماتے ہیں:
  • اکتوبر
1989
محمد رفیق اثری
حدیث مصراۃ اور ا بوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

ابو ہر یرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

"لا تصروا الابل والغنم فمن ابتاعها بعد فانه بخير النظرين بعد ان يحلبها ان شاء امسك وان شاء ردها وصاح تمر"
  • اگست
1996
مولانا محمد عبدہ الفلاح
اثنائے تدریس میں کتب صحاح ستہ کے متعلق بعض فنی اور اصولی مباحث جمع ہوتے رہے جو ایک مسودہ کی صورت مین مستقل کتاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں اب خیال آتا ہے کہ اگر ان مباحث کو مقالات کی شکل میں شائع کر دیا جا ئے تو یہ مواد محفوظ ہو سکتا ہےاور آئندہ بھی اس سے استفادہ ممکن ہو سکے گا ۔(راقم الحروف )

حدیث معلق کے معنی :۔
  • فروری
1978
محمد شفیع
محدث کے پچھلے کسی شمارہ میں راقم الحروف نے ''حدیث نور کی تحقیق'' کےسلسلے کے ایک استفتاء کے جواب میں کچھ گزارشات عرض کی تھیں، مندرجہ ذیل مضمون گویا کہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر قارئین اس سے اُسے ملاکر پڑھیں گے تو مزید شرح صدر ہوگی۔ ان شاء اللہ

نور والی حدیث مقطوع السند ابتک نقل ہوتی آرہی ہے، اس لیے ہم ایک مسلم کی حیثیت سے اس کا مطالعہ کرنے کے مکلت نہیں ہیں،
  • اگست
1989
غازی عزیر
شیعہ مبلغین اپنی مجالس وعظ میں بڑی شدومد کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس امر کی دلیل ہے  کہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے افضل وبرتر ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے متعلق ایسا فرما کر انھیں اپنے نفس سے قراردیا ہے۔جب کہ یہ سعادت اور مقام ومرتبہ کسی دوسرے صحابی کا مقدر نہ  بن سکا۔"[1]
شیعہ علماء کے ان تمام دعاوی کا جائزہ ان شاء اللہ آگے پیش کیا جائے گا۔
  • نومبر
1995
زبیر علی زئی
زیر نظر مضمون میں ہم مشہور حدیث "خلافة النبوة ثلاثون سنة..." الخ کی تحقیق و تخریج اور اس کا مفہوم پیش کر رہے ہیں تاکہ اس کا صحیح مفہوم طالبان علم دین پر واضح ہو سکے۔

امام داؤد سجستانی نے كتاب السنن (ج2ص290: كتاب السنة باب في الخلفاء) میں، امام ابو عیسی ترمذی نے كتاب السنن (ج2ص46:
  • اگست
2009
عمرفاروق سعیدی
ایک موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک عجیب اور منفرد انداز سے وحی ہوئی کہ ایک نوجوان، خوبرو، گبھرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوتا ہے۔ آپ ؐسے چند سوالات کرتا ہے، آپؐ ان کے جواب ارشاد فرماتے ہیں تو وہ سائل ہوتے ہوئے ان کی تصدیق کرتاہے۔
  • جولائی
2012
عبدالرحمن ضیا
جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھا، خواہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخفی نہیں رہنے دیا، بلکہ اس کا حال لوگوں کے سامنے ضرور واضح کر دیا۔ آپ ﷺپر جھوٹ باندھنے کی بدترین صورت آپﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرنا ہے۔
  • اپریل
2015
محب اللہ قاسمی
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا...﴾

دنیا میں تمام انسان صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہیں۔کسی میں کوئی صلاحیت ہوتی ہے تو کسی میں کوئی اور،کسی میں کم توکسی میں زیادہ ۔ اسی وجہ سے دنیاکا ہرکام ہرانسان بخوبی انجام نہیں دے سکتا اورنہ وہ تنہا اجتماعی اہداف کے حصول میں کامیاب ہوسکتاہے۔
  • اگست
1993
عبدالعزیز القاری
ایک زبان جب مختلف علاقوں اور قبائل میں پھیلی ہوتو بسااوقات اس کے بعض الفاظ کے استعمالات اور لہجوں میں اتنا فرق واقع ہو جا تا ہے کہ ایک جگہ کے رہنے والوں کے لیے دوسری جگہ والوں کے لہجوں میں بات کرنا بڑا مشکل محسوس ہو تا ہے جیسا کہ دہلی کی اردو اور لکھنؤکی اردو کا حال ہے ۔جب قرآن مجید دور نبوت کے مشہور قبائل ۔۔۔قریش ہذیل ،تمیم،ربعیہ ،ہوازن اور سعد بن بکر میں پھیلا تو ان کی زبان عربی میں کئی فرق پا ئے جاتے تھے ۔
  • اپریل
1971
صدیق حسن خان
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری، جو اعمالِ حسنہ عام طور پر کئے جاتے ہیں وہی اعمال صالح اس مہینے میں بھی پیش نظر رکھے جائیں۔ اس مہینے کی برائی بھی احادیث میں مذکور نہیں بلکہ ایامِ جاہلیت میں اس مہینے سے بد شگونی کی جاتی تھی، اور اس مہینے کی طرف طرح طرح کی آفات و مصائب منسوب کی جاتی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے عقائد کو باطل قرار دیا۔
  • جولائی
1995
زبیر علی زئی
زیر نظر مقالہ میں قرآن مجید،صحیح احادیث ،اجماع اور آثار صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی روشنی میں حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم الناصری علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔اور منکرین کےاعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔تصنیف کے بعد جناب انور شاہ کشمیری کی تصنیف"التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" کا علم ہوا۔کتاب حاصل کرکے پڑھی۔بہترین کوشش ہے۔کنزالعمال وغیرہ سے بلاتحقیق احادیث نقل کی گئی ہیں۔لہذا اس میں صحیح ،حسن،ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔غفراللہ لنا وله،آمین!
  • مئی
2005
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال: درج ذيل احاديث كے بارے ميں مكمل تحقيق دركار ہے- جزاك اللہ خيرًا
حدثنا موسىٰ بن اسماعيل ثنا أبان ثنا يحيىٰ عن أبي جعفر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال بينما رجل يصلى مسبلًا إزاره إذ قال له رسول الله ﷺ اذهب فتوضأ فذهب فتوضأ ثم جاء ثم قال اذهب فتوضأ فذهب فتوضا ثم جاء فقال له رجل: يا رسول الله! مالك أمرته أن يتوضأ قال إنه كان يصلى وهو مسبل إزاره وإن الله جل ذكره لايقبل صلوٰة رجل مسبل إزاره“