• جنوری
1995
غازی عزیر
مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہو نے والا اُردو ماہنا مہ "تہذیب الاخلاق "مجریہ ماہ مئی 1988ء را قم کے پیش نظر ہے ۔شمار ہ ہذا میں جنا ب مولوی شبیر احمد خاں غوری صاحب (سابق رجسٹر ارامتحانات و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد یو ،پی) کا ایک اہم مضمون زیر عنوان "اسلام اور سائنس "شائع ہوا ہے آں موصوف کی شخصیت بر صغیر کے اہل علم طبقہ میں خاصی معروف ہے آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسا ئل و جرا ئد کی زینت بنتے رہتے ہیں آں محترم نے پیش نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی "ضعیف " اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلا ف ہے چنانچہ رقم طراز ہیں ۔
  • اپریل
1992
زبیر علی زئی
محترم جناب غازی عزیر صاحب حفظہ اللہ قارئین "محدث" کے لئے محتاج تعارف نہیں۔  آپ کے مضامین اکثر محدث کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔محدث(زی الحجہ 1409ہجری) میں"الاستفتاء" کے اوراق  پر آپ کامقالہ بعنوان " کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول وبراز پاک تھا؟ شائع ہوا تھا جس میں فاضل مقالہ نگار کوتگ ودود کے باوجود چند احادیث کاطریق نہ مل سکا۔محترم زبیر بن مجدد علی صاحب نے ان احادیث کے طرق کا تتبع کیا ہے اور حوالہ تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔قارئین کے علم میں اضافے کی خاطر ان کے"استدراک" کو شائع کیاجارہا ہے۔۔۔ادارہ
  • جون
1972
محمد خالد سیف
''علومُ الحدیث'' پر ایک ناقدانہ نظر:

اگرچہ امام ابن الصلاحؒ کو تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور لغت وغیرہ مختلف علوم و فنون میں یدِ طولےٰ حاصل ہے اور خصوصاً اصولِ حدیث میں تو آپ امامت و اجتہاد کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور آپ کی اس شہرۂ آفاق تصنیف کو اس فن میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے
  • اکتوبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
ولادت اور نام و نسب:۔
امام ترمذی 210ھ کے حدود میں پیدا ہوئے بعض نے 209ھ ذکر کیا ہے۔کیونکہ وفات بالاتفاق 279ھ ہے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے میزان الاعتدال میں 279ھ وفات ذکر کی ہے اور لکھا ہے:
"وكان من ابناء سبعين"
یہی الفاظ علی القاری نے شرح الشمائل میں ذکر کیے ہیں،پس ان جملہ اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ امام موصوف 209ھ میں پیدا ہوئے لہذا ان کی ولادت 210ھ ہی ہے۔(1)
امام ترمذی کا نام محمد،باپ کا نام عیسیٰ اور کنیت ابو عیسیٰ ہےاور  پورا نسب یہ ہے:
محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن الضحاک اور نسبت اسلمی الترمذی ہے بعض نے البوغی کی نسبت بھی ذکر کی ہے کیونکہ آپ قریہ بوغ میں مدفون ہیں جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ کی مسافت  پر واقع ہے۔(2)لیکن ترمذی کی نسبت زیادہ مشہور ہے اور اسی نسبت سے معروف ہیں۔(3)
  • مارچ
1989
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
  • جنوری
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
(215تا303ھ)

ابو عبدالرحمٰن ،احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر الخرسانی ،النسائی صاحب "السنن"

"نساء"کی طرف نسبت:
  • مئی
1972
محمد خالد سیف
اصولِ حدیث کا کون سا طالب علم ہے جو امام ابن الصلاحؒ اور آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ''علوم الحدیث'' المعروف بہٖ ''مقدمہ ابن الصلاح'' سے ناواقف ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شرفِ قبولیت ''علوم الحدیث'' کو حاصل ہوا، اس فن کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکا۔ قبل اس کے کہ ''علوم الحدیث'' کے ساتھ علماء کے اعتناء، اس کی اہمیت و عظمت اور اس پر نقد و تبصرہ کو پیش کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے
  • اپریل
1992
غازی عزیر
(إتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله )
(مومن کی فراست سے ڈرتے رہو،کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے)
قرآن کریم کی آیت ﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ﴿٧٥﴾...الحجر  کی شرح میں بیان کی جانے والی اس حدیث نے علمائے شریعت اور عوارف ہردو طبقات میں بہت شہرت حاصل کی ہے۔آیت مذکورہ  میں لفظ"(متوسمین)" کی تفسیر میں امام ترمذی ؒ بعض اہل علم حضرات سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد(متفرسین) ہے۔
  • اپریل
1992
عبداللہ دامانوی
روایت ہے کہ امام بخاریؒ اس بات کے قائل ہیں کہ جب کسی کا پیر سن ہوجائے تو یا "محمد" صلی اللہ علیہ وسلم کہے تو اس کا پاؤں درست ہوجائے گا۔
الفاظ یہ ہیں:۔
(باب ما يقول الرجل إذا أخدرت رجله)  
یعنی باب ہے کہ آدمی پاؤں سن ہوجائے تو کیا کہے؟حضرت عبدالرحمٰن بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا پاؤں سن ہوگیا۔تو ایک شخص نے ان سے کہا جو آدمی آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اس کا نام لیجئے انہوں نے کہا"یا محمد" صلی اللہ علیہ وسلم(اردو ترجمہ ادب المفرد ص281۔اردو ترجمہ نفیس اکیڈمی کراچی)۔۔۔ادب المفرد کے دوسرے نسخے میں حرف ندا"یا" مذکور نہیں ہے۔یعنی صرف "محمد" صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔(الدین الخالص صفحہ 160 جلد نمبر 3)
اول تو بلاشبہ سنداً یہ روایت ضعیف ہے کیوں کہ اس کی سند میں ابواسحاق السبیعی ؒ اورسفیان ثوریؒ مدلس راوی موجود ہیں۔اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ مدلس راوی جب"عن" سے روایت کرے گا تو اس کی روایت ضعیف ہوگی۔کیوں کہ مدلس کا عن سے ر وایت کرتا علت قادحہ ہے ،۔تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں جناب زبیر علی زئی صاحب کا مضمون "تین روایات کی تحقیق"(ہفت روزہ الاعتصام لاہور 8 نومبر 1991ء)
  • مئی
2000
خالد ظفراللہ
(((مذہبی روایات عام طور پر کسی معاشرے میں مختلف مذہبی رجحانات کی بنیاد پر رواج پاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ان کی پشت پر صالح اور محققانہ  فکرہی موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مسلم معاشروں کے تعامل کو سنت یا روایت متواترہ کا نام دے کر احادیث صحیحہ کو ان پرپیش کرناضروری سمجھتے ہیں ہم انہیں فن حدیث سے ناواقف سمجھتے ہیں۔اس کے بالمقابل فن  روایت ایک نہایت ذمہ دارانہ فن ہے جس کے پیچھے نہایت گہری علمی بنیادیں موجود ہیں۔
درحقیقت عہد نبوت اور متصلہ قرون خیر میں اسلامی سوسائٹی میں جو اسلامی اقدار مسلم معاشرے نے محفوظ کیں،ان کے اندر تغیر وتبدل کے علاج کے لئے ہی ایک طریق کار زبانی روایت کو فروغ دینے کا بھی اختیار کیا گیا جس نے اسلامی قدروں کی مضبوطی میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو محدثین کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔گویا یہ انسانی کردار اور معاشرتی رویے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کی زبانی روایات سے تائید پاکر اعلیٰ میعار حاصل کرتے رہے۔
فن روایات کے سلسلہ میں دوسری بات جو عموماً نظر انداز ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی روایت میں اصل اہتمام الفاظ کا ہوتا ہے اسی لئے وہاں سا رازور "زبانی تلقی" پر ہوتاہے اگرچہ یہ بھی روایت کی ہی ایک قسم ہے لیکن سنت کا زیادہ تر تعلق چونکہ مراد الٰہی سے ہوتا ہے جو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کے اسوہ عمل سے تشکیل پذیر ہوئی،اس لئے اس کے تحفظ وبقا میں اصل مقصود بھی تعبیر شریعت ہے۔چنانچہ اس میں الفاظ کی بجائے زیادہ اہتمام مفہوم ومراد کا ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
عزیز زبیدی
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعوض الناس یوم القیمۃ ثلث عرضات فاما عرضتان فجد ال و معاذ یروا ما العرضۃ الثالثۃ قعتد ذٰلک تطیرالصحف فی الایدی فاخذ بیمینہ واخذ بشمالہ (رواہ احمد و ترمذی وفیہ انقطاع)

تین پیشیاں: ''رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، قیامت کے دن لوگوں کو تین بار پیش ہونا پڑے گا۔