• اگست
  • ستمبر
2002
ابو الاعلیٰ مودودی
ذیل میں جسٹس ایس اے رحمن کے ایک خط پرمولانا کا تبصرہ شائع کیاجارہا ہے۔ یہ خط اس مراسلت کا ایک حصہ ہے جو 'ترجمان القرآن' کے صفحات میں موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی کے درمیان ہوئی تھی۔ ادارہ
جسٹس ایس اے رحمن اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
  • مارچ
  • اپریل
1979
ناصر الدین البانی
اس کتاب کا جب ساتواں ایڈیشن ختم ہوگیا او رکتاب کے طبع کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیاتو میں نے ضروری سمجھا کہ اصرار کرنے والوں کی خواہش کا احترام کیا جائے چنانچہ کتاب کا آٹھواں ایڈیشن قارئین کی خدمت میں پیش کرنے پر مسرت محسوس کررہا ہوں اور پُرامید ہوں کہ اس کے محتویات سے تمام عالم اسلام کو مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔
  • مئی
  • جون
1995
رمضان سلفی
سنت و حدیث کے الفا ظ بنیا دی طور پر کلام الٰہی (قرآن ) کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ (جسے مراد الٰہی کہہ سکتے ہیں ) کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔اگر چہ مختلف اہل فنون نے اپنے فن میں خاص پہلو کا لحاظرکھتے ہوئے سنت کے اہم پہلو بھی اجا گر کیے ہیں ۔اسی لیے سنت کی اصطلا ح بظا ہر مختلف معانی میں بعض اوقات استعمال ہو تی نظر آتی ہے۔ مثلاً احکام فقہ میں "مستحب "کے معنی میں اور وعظ و ارشادمیں بدعت کے بالمقابل لیکن چونکہ محدثین کا مطمح نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تمام گو شوں کی روایت و روایت ہے اس لیے وہ احادیث کے ذریعہ سنت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال و افعا ل بشمول سکوت و احوال) کے متعلق بحیثیت واقعہ بحث کرتے ہیں اسی لیے وہ حدیث و سنت کے الفاظ ایک دوسرے پر بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان کے مترادف ہو نے کے یہی معنی ہیں لہٰذا محدثین احادیث کی بہت سی کتابوں کو "سنن"سے نھی موسوم کرتے ہیں مثلاً سنن اربعہ سے مراد ترمذی ،نسائی ،ابو داؤد اور ابن ما جہ کی کتب احا دیث لیتے ہیں ۔اس طرح سنن کبریٰ بیہقی شرح السنۃ معرفۃ الاثار والسنن وغیرہامت کے اہل علم ان استعمالات میں کو ئی اجنبیت محسوس نہیں کرتے ۔برصغیر میں فرقہ وارانہ رحجا نات کے باوجود ان اصطلا حا ت کے مفاہیم معروف ہیں ۔
ماضی قریب میں متجددانہ رحجا نات کے زیر اثر بعض مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے کچھ لوگوں نے حدیث و سنت کو الگ کر کے اگر چہ ان کے مصداق مختلف متعین کرنے کی کو شش کی ہے جن میں مرزا غلا م احمد قادیانی نما یاں ہیں ۔
لا ہو ر کا حلقہ اشرا ق جو نام کے سلسلے میں عیسائیت کے فلسفہ اشتراکیت(جس میں شریعت کو فلسفہ بنانے کی کوشش کی گئی) اور رجحانات کے اعتبار سے"اخوان الصفا" کی باطنی تحریک سے متاثر ہے۔
  • ستمبر
1971
عبدالسلام کیلانی
امام لقب، شیخ الاسلام خطاب، ابو عبد اللہ کنیت ہے۔ ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام نصر ہے۔ خراسان کے ایک قدیم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ علمی مرکز ''مرو'' کی طرف نسبت کی وجہ سے مروزی کہلاتے تھے۔ ان کی پیدائش ۲۰۲ھ میں بغداد شہر میں ہوئی جب کہ وہ علم و سیاست کا گہوارہ بن چکا تھا۔ ابتدائی تعلیم اور نشوونما نیشا پور کے حصہ میں آئی۔ پھر علم کی پیاس بجھانے کے لئے دنیا کا کونا کونا چھان مارا۔ بالآخر سمر قند میں رہائش پذیر ہوئے۔
  • مئی
1989
رمضان سلفی
فتنہ تجدید نبوت اور تجدید رسالت کی قدر مشترک

برصغیر میں فرنگی استعمار نے مسلمانوں کے"جذبہ جہاد"پر کاری ضرب لگانے کیلیے"تجدید نبوت"کی صورت میں"آنجہانی غلام احمد قادیانی"کے ذریعے"تفریق دین"کا جو منصوبہ بنایا تھا،اسی کی تکمیل کے لیے مستشرق ہندی"مسٹر غلام احمدپرویز"کے ہاتھوں"جدید اجتہاد"کے دعویٰ سے نئے طلوعِ اسلام کا کھیل رچایا ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد موسیٰ
زمانۂ رسالتؐ اور عہد ِصحابہؓ و تابعینؒ سے جوں جوں دوری ہوتی جارہی ہے، رشدوہدایت میں کمی واقع ہوتی جارہی اور شروضلالت پنجے گاڑتی جارہی ہے۔ فتنے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کا یہ طوفان و طغیان فطری اور لازمی ہے۔ جب تک دنیا میں خیر و اصلاح کا نام و نشان باقی ہے، دنیا بھی باقی ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1980
مسعود احمد
اللہ تعالیٰ ہمارا حاکم حقیقی ہے ، ہم اس کے احکام کے تابع ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام اس کے بندوں تک پہنچائے کا ذریعہ صر ف اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں  جن کو اللہ تعالیٰ خود منتخب فرماتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کے مجموعہ کو اللہ تعالیٰ کا دین کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے دین کا نام اسلام  ہے اور اس دین کو ماننے والا مسلم کہلاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کے دو ماخذ ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ قرآن مجید کا ماخذ احکام ہونا موضوع بخث نہیں ، اس وقت موضوع بحث صرف احادیث کا ماخذ احکام ہونا ہے ۔
اگرچہ قرآن مجید کے  ۔۔۔ماخذ قانون ہونے کا ابھی تک کھلم کھلا  انکار نہیں کیا گیا ۔ تاہم دبے دبے الفاظ میں یہ تو کہا جانے لگا ہے کہ یہ 1400 سال پرانا قانون اس دور میں نہیں چل سکتا ۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ، قرآن مجید کا ابھی تک ظاہر ی طور پر انکار نہیں ہوا لیکن معنوی طور پر ہو چکا ہے ۔ قرآن مجید کی وہ تشریح جو عہد رسالت سے چلی آرہی تھی اس کا انکار کیا جا چکا ہے ۔
  • مئی
  • جون
1995
صلاح الدین یوسف
ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اک نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔تقریر سے مراد ایسے امور ہیں کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیے گئے لیکن آپ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ خاموش رہ کر ا س پر اپنی پسندیدگی کا اظہارفرمایا:ان تینوں کے قسم کے علوم نبوت کے لئے بالعموم چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں:خبر،اثر،حدیث اورسنت۔
خبر:ویسے تو ہر واقعے کی اطلاع اور حکایت کو کہا جاتا ہے۔مگر آنحضرت   صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے لئے بھی ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اس کا استعمال کیا ہے۔ اور اس وقت یہ حدیث کے مترادف اور اخبار الرسول کے ہم معنی ہوگا۔
اثر: کسی چیز کے بقیہ اور نشان کو کہتے ہیں،اورنقل کو بھی"اثر" کہا جاتا ہے۔اس لئے صحابہ وتابعین سے منقول مسائل کو"آثار" کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آثار کا لفظ مطلقاً بولا جائے گا۔تو اسے مراد آثار صحابہ وتابعین ہوں گے لیکن جب اس کی اضافت رسول کی طرف ہوگی یعنی"آثار الرسول" کہا جائے گا تواخبار الرسول کی طرح آثار الرسول بھی احادیث الرسول کے ہی ہم معنی ہوگا۔
  • اپریل
1980
ابوشہبہ
زمانہ طالب علمی میں جب یہ حدیث پڑھی ’’من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر  مائۃ شہید‘‘ یعنی جو شخص میر امت میں فتنہ و فساد کے موقعہ پر میری سنت کا احیاء  کرے گا تو اسے سو شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔اس وقت نوعمری کا زمانہ تھا ۔ علم وعقل میں پختگی نہیں تھی ۔ بنا بریں یہ بات میرے فہم و ادارک سے بالا تر رہی کہ ایک چھوٹی سی  سنت جیسے رفع الیدین فی الصلوٰۃ وغیرہ پر عمل کرنے سے سو شہید کا ثواب کیسے ملے گا  آج سب کچھ معلوم ہو رہا ہے اور عقل و دانش اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی رسو ل اکرم ﷺ کی سنت کے احیاء میں اتنا ثواب ہونا چاہیے ۔
چنانچہ آج  کے دور میں جسے جدید دورسے تعبیر کیا جاتا ہے جس قدر سنت نبوی سے  بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں  برتی جا رہی  چنانچہ بعض لوگوں کو سنت نبوی کی پیروی کرنے کی وجہ سے مسجدوں سے نکلا گیا اور سنت سے انکاروں  انحراف کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے امام صاحب  سے یوں نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ کچھ لوگ حدیث اور سنت کے معاملہ میں اس قدر افراط اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر عربی عبارت کو حدیث تصور کرتے ہیں ہر قصہ کہانی کی کتاب  میں  میں آنحضرت  ﷺ  کا کوئی معجزہ ، کوئی واقعہ یا کوئی فرمان سنتے  ہیں تو اسے آنکھیں بند  کر کے حدیث نبوی تصور کرتے ہیں اور اسے تسلیم نہ کرنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ  نبی ﷺ کی حدیث کاہی منکر ہے ۔ یہ گستاخ اور بے ادب ہے ،وغیرہ )بعض سراسر موضوع احادیث کو صحیح  مرفوع احادیث سےمقدم سمجھتے ہیں ۔
  • جنوری
1994
رمضان سلفی
محدثین کرام ،حدیث و سنت کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں ان کے ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل اور آپ کی تقریر نیز آپ سے متعلق کوئی صفت یا حالت کو"حدیث"کہا جا تا ہے اور سنت کاالفاظ تین معانی میں استعمال ہو تا ہے۔کبھی یہ لفظ حدیث کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل اور آپ کی تقریر کو سنت کہا جا تا ہے اور کبھی اہل علم اسے احکام میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کام سنت ہے یعنی فرض نہیں ۔
  • نومبر
2012
محمد رمضان سلفی
حدیث کو خبر بھی کہتے ہیں اور خبر کی دو قسمیں ہیں: 1۔ خبر متواتر 2۔خبر واحد
حدیث کی ان دونوں قسموں کا دین اسلام میں حجیتِ شرعیہ ہونا اُمّتِ مسلمہ میں مسلّم رہا ہے۔ معتزلہ اور ان کے ہم نوا منکرین حدیث کو چھوڑ کر اُمّت ِمسلمہ کے تمام ائمہ و محدثین اور علما ومحققین اخبارِ آحاد سے احکامِ شرعیہ کا استنباط کرتے آئے ہیں۔
  • جنوری
2006
محمد اسرائیل فاروقی
سنت و حدیث کی بدولت قرآ ن کریم کی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تفسیر و تعبیر کا کامل نمونہ ہر دور میں موجود رہا ہے۔ عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثر سے عہد ِصحابہؓ کا 'مزاج و مذاق' ایک نسل سے دوسری نسل اورایک طبقہ سے دوسرے طبقہ میں منتقل ہوتا رہا اورہر دور میں ایسے افراد موجود رہے جو 'سلف ' کے مزاج اور ذوق کے حامل کہے جا سکتے ہیں۔قرآنِ حکیم میں تقریباً چالیس مقامات پر 'اتباع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ' کا حکم مختلف انداز میں وارد ہوا ہے۔
  • مارچ
1996
غزل کاشمیری
علما متقدمین نے حدیث کی شرعی تعریف یوں کی ہے کہ

"اس کا اطلاق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر پر ہوتا ہے"۔

مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
برصغیر پاک وہند میں "فقہی جمود" کے خلاف جب"اتباع واحیائے سنت" کی تحریک چلی تو اس کا توڑ دو طرح سے کرنے کی کوشش کی گئی،ایک تو صحیح احادیث کے بالمقابل ہرطرح کی صحیح وضعیف احادیث کے ذریعے"مذہب" کا دفاع،دوسرا یہ  پروپیگنڈا کہ محدثین صرف حدیث کے چھلکے کو لیتے ہیں مغز تک کی رسائی کی کوشش نہیں کرتے۔حالانکہ محدثین پر یہ الزام بالکل غلط ہے ۔جس کی شہادت کے لئے امیر المومنین فی الحدیث"امام بخاری" کی مثال ہی کافی ہے اس بارے میں پہلا طریقہ زیادہ تر متعصب مقلدین نے اختیار کیا اور دوسرا طریقہ متجددین(ترقی پسند مقلدین) نے مولانا امین احسن  اصلاحی کاتعلق دوسرے طبقہ فکر سے ہے۔لہذا وہ عبادات میں تو حنفی ہیں تاہم جہاں کہیں دل چاہتا ہے۔"تدبر " کے نام پر"تقلید" کے بجائے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی انحراف کرنے سے نہیں چوکتے۔اس سلسلے میں ان کا مخصوص طریق کار ہے۔قرآن کریم کی تفسیر میں ان کے اپنے"تدبر  واجتہاد" پر مبنی "فلسفہ نظم" ہے،جس میں نکتہ رسی کے فوائدسے قطع نظر ان کا ظاہر احادیث سے الرجک ہونا"متبعین سنت"سنت کوضرور کھلتا ہے۔در اصل یہ مکتب فکر اپنے"تدبر واجتہاد" کو دو
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبدالخالق محمد صادق
'اصولِ حدیث' کی رو سے حدیث اور سنت دو مترادف اصطلاحات ہیں جن سے مراد نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال اور تقریرات ہیں، گویا حدیث یا سنت قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور بیان و تشریح کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو نازل کرکے اس کے احکامات کی عملی تطبیق کے لئے نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو نمونہ قرار دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
  • نومبر
2006
عبدالرشید اظہر
حدیث ِنبویؐ کی مستند ترین کتاب 'صحیح بخاری' کے اختتام کے موقعہ پر 'تقریب ِصحیح بخاری' کا انعقاد دینی مدارس کی ایک دیرینہ روایت ہے۔ اِمسال جامعہ لاہور الاسلامیہ میں مؤرخہ 6 ستمبر کو یہ تقریب منعقد ہوئی جس کے بعد جامعہ کی آخری کلاس مکمل کرنے والے طلبہ کو دستارِ فضیلت سے سرفراز کیا گیا۔اس مرحلہ پر شیخ الجامعہ مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی اورشیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہم اللہ کے پر مغز اور مؤثر خطابات بھی ہوئے۔ تقریب کے بعد جامعہ کے شعبہ کلیہ القرآن الکریم کے زیر اہتمام 'محفل حسن قراء ة'کا بھی انعقاد ہوا۔
  • اکتوبر
1995
غازی عزیر
لغوی اعتبار سے کسی چیز کی خفیہ طور پر اور جلدی اطلاع دینا "وحی" کہلاتا ہے۔ چونکہ اس میں اخفاء کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ اس لیے آئمہ لغت کے نزدیک کتابت،رمزواشارہ اور خفیہ کلام سب "وحی" کی تعریف میں آتا ہے۔ لیکن "وحی" کا اصطلاحی مفہوم، اس لغوی معنی کی نسبت خاص ہے۔ شرعی اصطلاح سے میں وحی سے مراد اللہ عزوجل کا اپنے منتخب انبیاء کو اخبار واحکام منجانب اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔
  • مارچ
1977
عزیز زبیدی
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَهَا تَقُولُ نَبِيٌّ كَانَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ(سنن الترمذی:حدیث3144)

اسے نبی کے نام سے نہ پکارو۔"حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک یہودی نے اپنے رفیق سے کہا کہ : اس نبی کے پاس میرے ہمراہ چلیے، اس نے کہا: (او ہو) "نبی" نہ کہو، یقین کیجئے! اگر (یہ کہتا ہوا) اس نے تجھے سن لیا تو اس کی آنکھیں چار ہو جائیں گی (بہت ہی خوش ہو جائے گا)"
  • مارچ
2008
محمد زبیر
یہ زمانہ فتنوں کا زمانہ ہے، آئے دن کسی نہ کسی نئے فتنے کا ظہور ہوتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ اس دنیا کو 'دارالابتلا' بنایا ہے، اس لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ دنیا سے شر بالکل ختم ہو جائے۔ اگر ایک برائی اپنے انجام کوپہنچے گی تو اس کی جگہ دوسری برائی لے لے گی، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ کسی بھی باطل یاشر کو دوام نہیں بخشتے۔
  • اپریل
1973
محمد کنگن پوری
رسول اللہ ﷺ کی سیرت و کردار کا نام سنّت ہے اور اِسی کے بیان کا نام حدیث، گویا دونوں معنیً ایک ہیں۔ البتہ اعتباری فرق ہے۔ لیکن بعض نادان دوستوں نے اس نام کے اختلاف کو اتنی اہمیت دی ہے کہ اس پر مستقل فرقے بنا دیئے ہیں حالانکہ یہ لوگ اگر فرقہ بندی جسے قرآن، شرک ﴿وَلا تَكونوا مِنَ المُشرِ‌كينَ ٣١ مِنَ الَّذينَ فَرَّ‌قوا دينَهُم...٣٢﴾... سورة الروم" اور بن سی بے گانگی ﴿إِنَّ الَّذينَ فَرَّ‌قوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَىءٍ...١٥٩﴾... سورة الانعام" قرار دیتا ہے۔
  • مئی
1973
محمد کنگن پوری
زیر نظر آرٹیکل میں جواباً تلخ نوائی تو کسی حد تک گوارا ہو سکتی ہے لیکن جوابات میں بعض جگہ عالمین بالحدیث کے متعلق بھی اجتہاد کے حریف 'فرقہ' ہونے کا احساس ہوتا ہے جو پیش کردہ حدیث 'وھی الجماعة (ما انا علیه واصحابی) کی صحیح تعبیر نہیں ہے۔ (ادارہ)
  • جون
1971
عزیز زبیدی
شروع سے ہند کی طرف مسلمانوں کی نگاہیں اُٹھ رہی تھیں، چنانچہ ۱۵ ؁ھ / ۶۳۶ع میں عمان اور بحرین کے گورنر کے ایما پر حکم شفقی نے بمبئی کی سرزمین (تھانہ) پر حملہ کیا اور ۹۳ ؁ھ میں محمد بن قاسم نے اپنی مشہور منجنیق ''العروس'' کے ذریعے حملہ کر کے دیبل (ٹھٹھ) کا قلعہ فتح کیا اور ہند میں اپنے قدم جما لئے۔ اس کے بعد بتدریج مسلمانوں کی آمدورفت بڑھتی رہی اور علاقے کے علاقے مسلمان ہوتے چلے گئے۔