• فروری
2009
عبدالرؤف ظفر
پاکستان کے معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی کے سالہا سال کے مطالعہ اور علمی تجربہ کا نچوڑ 'نقوشِ سیرت' ہے جو 234 صفحات پر مشتمل ہے۔ خوبصورت جلد میں یہ کتاب نہایت دیدہ زیب ہے۔ 2007ء میں اسے 'پروگریسو بکس' اُردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں ملک کے معروف سکالر اُستادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی رحمة اللہ علیہ، معروف ادیب اور عربی زبان کے فاضل اجل پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اورممتاز دانش ور پروفیسر عبدالجبار
  • اکتوبر
1992
صلاح الدین یوسف
زکواۃ کا انکار؟

حدیث سے انحراف اور قرآن میں تحریف!

مسٹر غلام احمد صاحب پرویز کے نظریات کا پرچارک ماہنامہ"طلوع اسلام" جس کا مشن ہی اسلامی مسلمات کا انکار اور ان کی دوراز کارکیک تاویلات ہے۔
  • اگست
1984
اکرام اللہ ساجد
ایک شوراٹھا،ایک طوفان برپا ہوا کہ"عورت کی نصف گواہی نا منظور!" اور وہ جو ہمیشہ سے عورت کو چراغِ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اپنی عیاشیوں کے راستے کا روڑا خیال کرتے۔اور کتاب وسنت کی فضاؤں میں اپنی خواہشات کا دم گھٹتا محسوس کرتے تھے۔اس نعرہ"مستانہ" کو سن کر میدان میں آگئے۔
  • اکتوبر
1992
عبدالرحمن عاجز
نور قلب وجگر بھی ہوتی ہے
اور نظر فتنہ گر بھی ہوتی ہے۔
بات کو صرف رائیگاں نہ سمجھ
  • مارچ
  • اپریل
1979
اسرار احمد سہاروی
کیا آمد بہار ہے غم خوار کچھ نہ پوچھ گلش میں ہیں بہار کے آثار کچھ نہ پوچھ
کس اوج پر ہے طالع بیدارکچھ نہ پوچھ مشرق ہے آج مطلع انوار کچھ نہ پوچھ
احیائے دین نوید بہاراں ہے اِن دنوں دامانہ گلفروش ہے ہر خار کچھ نہ پوچھ
  • اپریل
2014
مفتی عبداللہ
صفحات:432 ... مصنّفین: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد و مفتی شعیب احمد

عمار خان ناصر صاحب کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاک و ہند کی مشہور علمی شخصیت مولانا سرفراز خان صفدر﷫کے پوتے اور دوسری مشہور شخصیت مولانا زاہد الراشدی﷾ کے صاحب زادے ہیں۔ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ماہ نامے 'الشریعہ'کے مدیر ہیں۔
  • جنوری
2010
تاج الدین الازہری
تقدیر پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام کے ارکانِ خمسہ کے طرح ایمانیات میں چھ چیزیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پر ایمان لانا شامل ہے۔ اس چھٹی شے تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ دیگر پانچ ارکان کے بغیر تقدیر پر ایمان کا پورا ہونا ممکن نہیں، ایسے ہی تقدیر کے بغیر باقی چیزوں پر ایمان کو بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا۔
  • نومبر
1976
محمد سلیمان اظہر
قارئین محترم! کسی گذشتہ شمارے میں ہم آپ کے سامنے پریوی کونسل لندن کا ایک تاریخی فیصلہ پیش کرچکے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آج کے بریلوی احباب کا واویلا بعد از مرگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقلید و عدم تقلید ، رفع الیدین، آمین بالجہر یاقرأت فاتحہ خلف الامام ایسے امور نہیں ہیں کہ ان کاقائل و عامل اہل سنت سے خارج کردیا جائے یا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ناجائز یا مکرہ ہو۔
  • جون
2002
ظفر علی راجا
۲۰۰۲ء کے ماہ مارچ اور پھر ماہ مئی کے دوران وطن عزیز کی پاک سرزمین اپنے دو ایسے فرزندانِ جلیل کے لہو سے گل رنگ ہوئی جن کی شہادت نے اہل و فکر ونظر کو بے تاب وبے قرار کردیا۔ مملکت خدادادِ پاکستان میں امر ربی کے قیام اور تسلسل کا خواب دیکھنے والی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور اس ملک کے طول و عرض میں قرآن و سنت کی سرفرازی کا ارمان رکھنے والے دل مجروح ہوکر رہ گئے!!
  • اگست
  • ستمبر
2002
حسن مدنی
دینی رسائل وجرائد نے 'فتنہ انکارِ حدیث' کی تردید میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کا یہ امتیاز ہے کہ ان میں معاشرتی رجحانات پر ماہ بہ ماہ تنقید و تبصرہ ہوتا رہتا ہے اور ان کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے افکار کی ساتھ ساتھ وضاحت و تردید او رمطلوبہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔
  • نومبر
2012
ثریا بتول علوی
مصنّف : پروفیسر خورشید عالم ...صفحات: 560 ... اشاعت: 2011ء
پیش نظر کتاب کے اس جائزے کی مصنفہ برسہا برس گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد میں علوم اسلامیہ کی تدریس کے بعد اسی شعبہ کی سربراہی پر فائز رہنے کے ناطے اس میدان میں وسیع تجربے کی حامل ہیں۔
  • مئی
2010
ادارہ
قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
  • اکتوبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
چند ماہ پہلے۔۔۔وحشی قاتل جاوید مغل کی  طرف سے سو معصوم بچوں کے قتل کی بہیمانہ واردات نے پورے عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے وحشت وبربریت کے اس عدیم النظر واقع کو غیر معمولی کوریج دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج جناب اللہ بخش رانجھا نے چند ماہ قبل اس مقدمہ کے متعلق سزا سنائی کہ" جاوید کومغل کو سو بار پھانسی دی جائے" اور اس کے جسم کےٹکڑے کرکے انہیں تیزاب میں اسی  طرح ڈالا جائے جس طرح کہ اس نے سو بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر موت کے گھاٹ اُتارا تھا اور یہ کہ ا س سزا پر عملدرآمد مینار پاکستان گراؤنڈ میں عام پبلک کے سامنے کیا جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔"
فاضل جج کی جانب سے اس سزا کے متعلق عوام الناس کا رد عمل نہایت مثبت تھا۔البتہ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراضات بھی وارد کئے گئے۔ یہودی لابی کی تنخواہ وار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اورHRCPکے ڈائیرکٹر آئی اے رحمان قادیانی نے اس سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئےبیان دیا کہ اس سے بربریت میں اضاہوگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہونے دی گی۔بعض دینی حلقوں کی جانب سے بھی اس سزا کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے  گئے۔
  • جنوری
2000
غازی عزیر
ایک استفتاء میں سائل کہتا ہے کہ ''ان دنوں ہم ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع کی نشریات میں بکثرت عیسی سال ۲۰۰۰؁ء کی تکمیل اور تیسرے ہزار سالہ عہد کی ابتداء کی تقریب کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور کارروائیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے کفار اس تقریب کی بہت خوشیاں منا رہے ہیں اور اس موقع کو امید کی کرن تصور کرتے ہیں۔
  • نومبر
2004
محمد اسماعیل قریشی
قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
  • مارچ
2002
محمد اسلم صدیق
اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث ِنبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے
  • اکتوبر
1988
حافظ ابن رجب
(قسط 2)

شرف و عزت سے محبت کی آفات میں سے ایک، عہدوں کی طلب اور ان لا لالچ بھی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ باب ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت سے سرشار لوگ ہی جان سکتے ہیں، اور جس کی مخالفت ایسے جاہل لوگ ہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی معرفت رکھنے والوں کے ہاں حقیر و ذلیل ہیں۔
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
  • جنوری
1996
محمد بلال حماد
مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی رہنما میاں فضل حق 12-13 جنوری کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون

میاں فضل حق کا نام تاریخ پاکستان میں سنیرہ حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑی جوانمردی کے ساتھ بھرپور خدمات سرانجام دیں۔
  • جنوری
1996
ام عبدالرب
زیر نظر مضمون مرحوم کی سب سے چھوٹی صاجزادی (زوجہ مولانا عبدالقدوس سلفی، جو طالبات کی معروف دینی درسگاہ "مدرسہ تدریس القرآن و الحدیث" کی مدیرہ ہیں کے آپ کی وفات پر فوری تاثرات و جذبات پر مشتمل ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ مضمون کچھ ذاتی حوالوں اور یادوں پر مبنی ہے، قارئین کے لئے بصیرت افروز ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے تفصیلی حالات، کتب کا تعارف، معمولات زندگی اور دینی و جماعتی خدمات کا تعارف "مستقل نمبر" میں ملاحظہ فرمائیے۔
  • اکتوبر
1976
محمد سلیمان اظہر
ان دنوں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے کہ وہابی (نجدی) یا اہلحدیث کی اقتداء میں حنفی خصوصاً بریلوی نماز پرھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں۔ حرمین شریفین کے عالی قدر اماموں کی پاکستان میں آمد اور عوام کی طرف سے ان کی بے پناہ پذیراوی سے بوکھلا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہ بحث شروع کررکھی ہے اور فتویٰ بازی کا بازار گرم ہے۔
  • فروری
1985
غازی عزیر
تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔
  • مارچ
1985
غازی عزیر
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)
  • ستمبر
2005
حِوار سے مراد باہمى گفتگو، كسى عنوان پر مباحثہ كرنا اوركسى موضوع سے متعلق سوال و جواب كرنا ہے،كيونكہ حِوار باب مفاعلة كا مصدر ہے جس ميں مشاركت كا معنى پايا جاتا ہے- حَاوَرَ يُحَاوِرُ مُحَاوَرَةً وَّحِوَارًَا قرآن مجيد ميں يہ لفظ اسى مفہوم ميں وارد ہوا ہے: سورة الكہف ميں دو بهائيوں كا تذكرہ كرتے ہوئے اللہ تعالىٰ ارشاد فرماتے ہيں :
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَنَا أَكْثَرُ‌ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرً‌ا ﴿٣٤﴾وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا ﴿٣٥﴾ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّ‌دِدتُّ إِلَىٰ رَ‌بِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرً‌ا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ﴿٣٦﴾ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَكَفَرْ‌تَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَ‌جُلًا ﴿٣٧...سورۃ الکہف