• فروری
2000
عبدالجبار شاکر
قانون وراثت۔۔۔اسلام سے قبل:۔
انسانی تمدن کے احیاء بقا اور استحکام کاتعلق طریق وراثت کے ساتھ وابستہ ہے۔دنیا کے مختلف ممالک اور اقوام  میں انتقال جائیداد یا حصول جائیداد کے مختلف طریقے رہے ہیں۔جن میں وصیت کے ذریعے وراثت کا حصول ایک قدیم ترین طرز عمل ہے۔وصیت کے ان طریقہ ہائے کار میں عموماً یہ فرض کر لیا گیاتھا کہ جائیداد کا مالک خود بہتر سمجھتاہے۔کہ اس کے مرنے کے بعد اسے کس طور پر اور کن کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔یوں اس طریق کار سے ظلم اور بے انصافی کی روایت مدتوں مختلف زمانوں میں جاری وساری ہیں۔اسلامی قانون سے قبل اہل  روما کے قانون وراثت کو بہت شہرت حاصل ہے۔اور آج بھی بہت سے یورپی ممال کے قوانین کا مآخذ یہی اہل روما کا قانون ہے۔قانون  روما میں بھی بنیادی طور پر وصیت کے طریق کار کو اپنایا گیا لیکن اگر کوئی فرد بغیر وصیت کئے دنیا سے ر خصت ہوجاتا تو ایسی صورت حالات میں اس کاترکہ جدی اشخاص کو منتقل ہوتاتھا۔ان میں حقیقی اولاد کو فوقیت ہوتی تھی۔
  • اگست
1999
ثنااللہ مدنی
٭ذِکر و اَذکار میں گنتی متعین کر لینے اور تسبیح پھیرنے کا حکم؟
٭ مُحدث میں شائع شدہ دو جوابوں پر اعتراضات کا جائزہ
٭ کاروبار میں شراکت، مالِ وراثت کی تقسیم ۔۔
٭ مسند احمد کی ایک روایت پر سوالات کے جوابات
٭ سوال: ذکر میں اپنی طرف سے گنتی متعین کرنے نیز تسبیح پھیرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: ذکر و اَذکار اور وِرد و وَظائف کے سلسلہ میں اصل یہ ہے کہ کتاب و سنت کی نصوص میں جہاں کہیں تعداد اور وقت کا تعین ہے، وہاں اُن کا اہتمام ہونا چاہئے اور جس جگہ ان کو مطلق چھوڑا گیا ہے وہاں اپنی طرف سے متعین کرنا بدعت کے زمرہ میں شامل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد " یعنی "جو دین میں اضافہ کرے وہ اضافہ ناقابل قبول ہے"
مسنون وِرد وظائف میں گنتی سو سے زیادہ منقول نہیں ہے۔ علامہ البانی نے سلسلة الاحاديث الضعيفة میں اس امر کی تصریح کی ہے۔
  • نومبر
1987
محمد صدیق
سیف اللہ خالد ریلوے روڈ بھکر سے لکھتے ہیں:

"مندرجہ ذیل سوال درپیش ہے، جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جائے، زید نے اپنے ترکہ میں نقد دو لاکھ روپیہ چھوڑا ہے۔ جبکہ پس ماندگان میں اس کی ایک بیوی، چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں۔ ہر ایک کے حصہ میں کتنی کتنی رقم آئے گی؟"
  • جنوری
2012
عبیداللہ عفیف

اہل بیت البنیﷺ کا نفقہ، سیددہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضامندی، وراثت جاری نہ ہونے کی حکمتوں پر  اَحادیث ِکثیرہ، مشہورہ،صحیحہ، مرفوعہ کے مطابق اہل السنۃ والجماعہ کامتفق علیہ عقیدہ ہےکہ انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ کوئی ان کاوارث ہوتا ہے۔ چند ایک احادیث ملاحظہ فرمائیے:

  • مئی
1990
ثنااللہ مدنی
(((محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شرح متین می روشنی میں درج ذیل مسئلے کا حل عطا فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔بنیوا توجروا۔(السائل۔محمد مزمل)
مسئلہ:
ایک شخص عبیداللہ دو سال قبل فوت ہوا  پسماندگان میں  1 بیوہ 1 بیٹی اور دو بہنیں تھیں۔لیکن جائداد تقسیم نہ ہوسکی بیو ہ کے پاس ہی ساری جائیداد رہی۔اب بیوہ وفات پاچکی ہے۔
اس طرح مرحوم کی ایک بیٹی زندہ ہے( اور دہی دو بہنیں بھی) جب کہ مرحومہ بیوہ کی ایک بہن اور چھ بھائی زندہ ہیں۔مسئلہ مذکورہ میں جائیداد کس  طرح تقسیم ہوگی؟
مسئلہ نمبر 8۔تصیح مسئلہ :16
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
٭ سوال: گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں مختلف ریکارکس دئے ہیں ۔۔ ازراہِ کرم اس ضمن میں صحیح شرعی رائے بتلائیے، تفصیلی دلائل بھی ذکر فرما سکیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ (سمیع الرحمٰن، لاہور)
جواب: اس بارے میں شرعی دلائل یوں ہیں ۔۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ... ﴿٧﴾...النساء
"ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور اقارب چھوڑ مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اُس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"