2007
  • ستمبر
حمزہ مدنی
بیعت دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ایک سودے اور معاہدے کا نام ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جان اور مال قربان کرنے کا عہد کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے بدلے میں جنت دینے کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ قرآنِ مجید میں ایک جگہ بیعت کے اس مفہوم کو بڑے ہی خوبصورت اَنداز میں بیان کیاگیاہے
1982
  • جولائی
حبیب الرحمن الٰہی
میرے یہ مضمون لکھنے کامحرک یوسف سلیم چشتی صاحب کاوہ مضمون ہےےجو ہندوسان میں بھگتی تحریک کےنامسے اکتوبر سن 1980 کےمیثاق میں شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں چشتیوں صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان میں اسلام صرف صوفیوں اورچشتیوں نےپھیلایا ہےاورعلماء میں ذوق تبلیغ سرے ہی سے موجود نہ تھا۔چشتی صاحب نے صوفیوں کی اللہ کےدین کےخلاف کار گزاری کوعلماء کےسرتھوپ کر ان کی بڑی تحقیر کی ہے ۔
2007
  • ستمبر
صہیب حسن
سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرعِ متین بابت اس مسئلہ کے، کہ ہندوپاک میں پیرومرشد عوام سے جو بیعت لیتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ بات کہاں تک درست ہے کہ جس کا کوئی پیرومرشد نہ ہو، اس کا پیرومرشد شیطان ہوتا ہے، جیساکہ عوام میں مشہور ہے؟ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں ۔ (قاری محمد ایاز الدین، حیدر آباددکن)