• فروری
1987
محمد صدیق
چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں کیاجاسکتا کہ شعبان کی تیسویں تاریخ ہے یانہیں؟ بعض لوگ احتیاط کے طور پر شکی روزہ رکھتے ہیں۔جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ حضرت عمارؓ نے فرمایا:''من صام الیوم شک فیہ فقد عصٰی ابا القاسم''کہ '' جس شخص نے شکی دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم ؐ کی نافرمانی کی ہے۔''شہراعید لاینقصان:یہ حدیث کے الفاظ ہیں۔
  • جنوری
1987
محمد صدیق
'' درج ذیل مقالہ حضر ت مولانا ابوالسلام محمد صدیق جامعہ علمیہ سرگودھا نے ، جمعیت اہلحدیث کورٹ روڈ کراچی کے زیراہتمامایک مجلس مذاکرہ (منعقدہ 17نومبرتا 20نومبر 1968ء) میں پڑھا، جسے افادہ عام کے لیے محدث میں شائع کیا جارہا ہے۔ (ادارہ) الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد !''يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَ‌ٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ...﴿١٨٩﴾...سورۃ البقرۃ''
  • مارچ
1999
صلاح الدین یوسف
عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور رؤیتِ ہلال کے بارے میں بحثوں کا سلسلہ پھر سے جاری ہے۔ سرحد کے لوگ اگر اپنی رؤیت کے اعتبار سے دینی تہوار منانے پر مصر ہیں تو دوسری طرف وحدتِ امت کے تقاضے کے طور پر تمام عالم اسلام میں ایک ہی دن مذہبی تہوار بالخصوص عیدیں منانے کا مطالبہ بھی سنائی دے رہا ہے۔ یوں تو صدیوں سے مسلمان رؤیت ہلال پر مبنی اپنی مستقل تقویم Calender پر عمل کرتے آ رہے ہیں، اسی طرح مخصوص تہواروں کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کا ایک واضح موقف ہے۔ چنانچہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہ مسئلہ کچھ اس طرح سے موضوع بحث نہیں جس طرح وطن عزیز میں اس پر گرما گرم بحث ہوتی ہے جس کی کچھ مخصوص علاقائی وجوہات بھی ہیں چنانچہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کا پاکستان کے مخصوص پس منظر میں جائزہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ شرعی دلائل اور موقف کے متعلق کسی شک و شبہ کا امکان نہ رہے، اس کے باجود دینی تقاضوں اور حکمتوں سے بے خبر اپنی بانسری الگ بجانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا کہ وہ جو جی میں آئے، کہتے پھریں ۔۔۔
  • جون
1999
صلاح الدین یوسف

(وزارتِ مذہبی امور کی نئی تجاویز کا ایک جائزہ)

ایک عرصے سے پاکستان میں رویتِ ہلال کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ آئے دن اس سلسلے میں نئی تجاویز سامنے آتی ہیں اور بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور اس کے لئے جو ضروری باتیں تھیں، وہ شریعت نے ہمیں بتا دی ہیں۔ مثلا یہ کہ:
(1)ہلال کا دیکھا جانا ضروری ہے، یعنی اس کے لیے رؤیتِ بصری ضروری ہے، محض سائنسی آلات سے اس کے وجود و عدمِ وجود کا علم کافی نہیں۔
(2) ایک جماعت کا دیکھنا ضروری نہیں، ایک یا دو یا چند افراد کا دیکھ لینا کافی ہے، اگر دیکھنے کی گواہی دینے والے معتبر ہوں تو ان کی رؤیت پورے ملک کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
(3) عیدیں یا رمضان یا حج، جن کی بنیاد رؤیتِ ہلال پر ہے، ان کی حیثیت ملکی تہواروں یا جشنوں کی نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ سب ملت اسلامیہ کے شعائر ہونے کے ناطے عبادات میں شامل ہیں۔ اس لیے ان میں وحدت (یعنی پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن اِن کا آغاز ہو) مطلوب نہیں ہے، بلکہ ان میں اصل چیز اخلاص اور خشوع و خضوع ہے۔ اور اس کے لیے ہر جگہ علاقائی اجتماعات کافی ہیں جو مسلمانوں کی شان و شوکت کا مظہر ہوں، عالمی وحدت قطعا ضروری نہیں (جیسا کہ ہم محدث، مارچ 99ء کے "فکرونظر" میں اس نکتے کی وضاحت کر چکے ہیں)

  • ستمبر
2007
حسن مدنی
یوں تو تقویم (کیلنڈر) اور رئویت ِہلال ایک مستقل نوعیت کا عالمی اور ملی موضوع ہے لیکن رمضان المبارک کے موقع پر یہ مسئلہ مسلم معاشروں اور غیرمسلم ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے لئے بڑی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اخبارات و رسائل میں اس پر مضامین لکھے جاتے ہیں اور بالفرض کہیں اختلافِ رائے ہوجائے تو پھر اس واقعہ کو مثال بنا کر ہجری تقویم اور اسلام کو خوب نشانہ بنایا جاتا ہے۔