• ستمبر
1983
ناصر الدین البانی
استاذ ناصر الدین البانی علمی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا اسلوب تحریر او رطرز استدلال صرف کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ پر مبنی ہے او ریہی مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے۔زیر نظر مقالہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!واجبات مریض :مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ہرمریض کے لیے انتہائی ضروری ہے:1۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے
  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
استاد محترم! جناب مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب حفظہ اللہ! السلام علیکم
ماہنامہ "محدث" کی جلد 17 شمارہ 8 میں آپ کا ایک مضمون بعنوان "مسنون نمازِ جنازہ" شائع ہوا۔
اس میں آپ نے نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے ثبوت میں صحیح بخاری کے حوالہ سے یہ روایت لکھی ہے:
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»
مگر اس روایت سے آپ کا استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ احمد یار گجراتی نے اپنی تصنیف "جاء الحق' کی دوسری جلد کے صفحہ 242 پر یہی روایت ذکر کر کے مندرجہ ذیل اعتراضات کئے ہیں:
1۔ اس روایت میں یہ نہیں آیا کہ جناب ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ کے اندر سورہ فاتحہ پڑھی۔
بلکہ ظاہر یہ ہے کہ نماز کے بعد میت کو ایصالِ ثواب کے لئے پڑھی ہو۔ جیسا کہ " فَقَرَأَ " کی "ف" سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ "ف" تعقیب کی ہے۔