• جنوری
2000
غازی عزیر
ایک استفتاء میں سائل کہتا ہے کہ ''ان دنوں ہم ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع کی نشریات میں بکثرت عیسی سال ۲۰۰۰؁ء کی تکمیل اور تیسرے ہزار سالہ عہد کی ابتداء کی تقریب کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور کارروائیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے کفار اس تقریب کی بہت خوشیاں منا رہے ہیں اور اس موقع کو امید کی کرن تصور کرتے ہیں۔
  • جنوری
1999
نصیراحمد اختر
اجتماعی ملکیت
اجتماعی ملکیت سے مراد یہ ہے کہ "مملوکہ سے حق انتفاع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام افراد اُمت کے لئے یہ حق انتفاع موجود ہے جس میں کوئی بھی ترجیح کا حق دار نہ ہے۔
جب کسی چیز سے امت کے اجتماعی مفادات وابستہ ہوں تو اسے کسی ایک فرد کی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا کہ بڑی بڑی نہریں، دریا، سڑکیں، پل اور آبادی کے اردگرد چراگاہیں اور بڑے بڑے پارک، فوجی ٹریننگ سنٹر وغیرہ ۔۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" الفرات ودجلة لجميع المسلمين فهم فيهما شركاء" (1)
"فرات اور دجلہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور سب ان میں برابر کے حصہ دار ہیں"
ہاں اگر اجتماعی مفاد ختم ہو جائے تو حاکم وقت اُمت کے مفاد میں جو مناسب ہو، تصرف کر سکتا ہے مثلا ایک شارعِ عام تھی پھر دوسری شارعِ عام کے وجود سے اس کا مفاد ختم ہو گیا اور اب لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے تو حاکم وقت اسے نیلام کر سکتا ہے اور وہ اس طرح انفرادی ملکیت کی طرف بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
  • جون
2013
حسن مدنی
صدر ایوب خاں کے دورِحکومت 1962ء میں قائم کی جانے والی 'اسلامی مشاورتی کونسل' کو ترقی دے کر 1973ء کے دستور میں 'اسلامی نظریاتی کونسل' کا نام دیا گیا اور کسی بھی قانون کی شرعی حیثیت جانچنے کے لئے اُس کو آئینی کردار سونپا گیا۔ستمبر 1977ء میں اس دستوری ادارے کے کردار کو مؤثر کرتے ہوئے،اس کے 20؍ ارکان مقرر کئے گئے اور ضروری قرار دیا گیا کہ اس کے کم ازکم چار ارکان ایسے ہوں گے
  • مارچ
2007
عبداللہ روپڑی
ماں باپ اپنى زندگى ميں اپنى اولاد كو كئى چيزيں عنايت كرجاتے ہيں، ايسے ہى اُنہيں كسى بيٹے يا بيٹى سے طبعاً زيادہ محبت بهى ہوتى ہے ليكن اسلامى شريعت نے اس سلسلے ميں چند ايك اُصول مقرر فرمائے ہيں جن كو پيش نظر ركهنامسلم والدين كے لئے ضرورى ہے- اس نوعيت كے مسائل مسلم معاشرہ ميں اكثر وبيشتر پيش آتے رہتے ہيں، زير نظر مضمون ميں ايسے ہى احكام سوال وجواب كى صورت ميں بيان ہوئے ہيں۔
  • اگست
1976
عزیز زبیدی
عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت جلس (وفی بعض النسخ جلسن۔نووی وفی روایۃ ابی عوانۃجلست وفی روایۃ ابی علی الطبری، جلسن وفی روایۃ للنسائی: اجتمع وفی روایۃ ابی عبید: اجتمعت وفی روایۃ ابی یعلی: اجتمعن ۔ فتح ) احدی عشرۃ امراء ۃ فتعاھدن و تعاقدن ان لا یکتمن (وفی روایۃ ابی اویس و عقبہ: ان یتصاد قن بینھن ولا یکتمن ۔ فتح ) من اخبار ازواجھن شیئا۔
  • دسمبر
2002
نوید احمد شہزاد
زیر نظر مقالہ میں تعددِ ازواج کی حکمتوں میں اگرچہ جنسی ضرورتوں کو زیادہ اُجاگر کیا گیا ہے، کیونکہ عام لوگ نکاح کو صرف ایک جنسی ضرورت ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام میں 'نکاح' خاندانی نظام کی بنیاد ہے جو مہذب معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر کوئی صاحب نکاح (شادی) اور سفاح(معاشقہ) کے دیگر پہلوئوں بالخصوص سماجی پہلوئوں پر بھی قلم اُٹھائے تو آج اس کی بڑی اہمیت ہے۔
  • فروری
1978
سیف الرحمن الفلاح
آج کا نوجوان کئی فضول اور بیہودہ عادات کا عادی ہے۔ ان میں سے ایک عادت تمباکو نوشی بھی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹروں او ریونانی حکماف نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ یہ صحت انسانی کے لیے تباہ کن او رمہلک ہے۔ اس کے پینے سے انسان کے جسم میں نہ تو خون کی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور نہ ہی اس سے گوشت پوست کا کچھ بھلا ہوتا ہے بلکہ اس سے نظام اعصاب شدید متاثر ہوتے ہیں
  • جنوری
2013
صلاح الدین یوسف
کراچی کے ایک رہائشی ملک محمد عثمان نے حدود آرڈیننس کی پانچ دفعات کو بدلنے کے لیے پانچ رِٹیں ( درخواستیں) وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی تھیں۔ شرعی عدالت نے اپنے طریق کار کے مطابق بعض علماے کرام سے مذکورہ درخواستوں پر ان کی رائے طلب کی۔ راقم (حافظ صلاح الدین یوسف) کو بھی شرعی عدالت کا مشیر ہونے کے ناطے ان سوالات پر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا۔
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
1۔﴿ فخلف من بعدھم خلف ورثو الکتب یاخذون عرض ھذا الاولی و یقولون سیغفرلنا وان یاتھم عرض مثلہ یا خذوہ﴾ (پ9۔ اعراف ع21)

یہ گناہ تو ہمارا معاف ہو ہی جائے گا: (ترجمہ) ''پھر ان کے بعدایسے ناخلف (ان کے) جانشین ہوئےکہ (وہ بڑوں کی جگہ)کتاب (تورات) کے وارث (تو) بنے (مگر آیات فروشی کے عوض ان کو) اس دنیائے دوں کی (کوئی) چیز (مل جائے تو)لے لیتے ہیں او رکہتے ہیں
  • اکتوبر
1982
عزیز زبیدی
دوا کےلیے مہندی ٭ نیک رشتہ اوروالدین
نماز کےبعد دائرہ کی شکل میں ورد ٭ اذان سےپہلے درود

سوال 1۔ : عبدالرؤف صاحب سید مٹھا بازارلاہور سےلکھتےہیں :میں نےایک کتاب سےحدیث پڑھی کہ آں حضرت ﷺ کوجب کبھی سردرد ہوتاتو مہندی لگا لیا کرتے تھے ۔اسی کتا ب میں یہ بھی لکھا تھا کہ گرتےبالوں کےلیے مہندی اکسیر ہے۔ کیاایسا کرنےسے گرتےبال پھر نہیں گرتے؟ 
اس کی وضاحت اگرحدیث میں ہوتومجھے ضرور لکھ دیں –شکریہ !
  • اپریل
2015
فاطمہ جلیل فلاحی
رسم ورواج سماجی زندگی کی علامت ہواکرتے ہیں اور تہذیب کے اجتماعی پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہرقوم کی انفرادی واجتماعی زندگی میں ان رسوم ورواج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور تہذیب وثقافت، اخلاق وعادات، مذہبی عقائد، ذہنی رجحانات اور طرز معاشرت پر ان کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

''یہ رسوم درحقیقت مختلف اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں
  • ستمبر
1976
عزیز زبیدی
واضرب لھم مثلا رجلین جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب و حفقنھما بنخل وجعلنا بینھما ندعا۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا وفجرنا خللھما نھرا۔ وکان لہ ثمر فقال لصحاحبہ وھو یحاورہ انا اکثر منک مالاوا عزنفرا۔ ودخل جنتہ وھوظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرا منھا منقلبا۔ قال الہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلا۔
  • اکتوبر
1998
ادارہ
28 اگست 1998کوموجودہ حکومت نےنفاذِ شریعت کےحوالہ سے آئین میں پندرہویں ترمیم کاایک بل پیش کیا ہے جس میں شریعت کوسپریم لاء قرار دینےکااعلان ہے۔
اس بل میں جوتجویز یادعویٰ کیاگیا ہے، یہ وہی ہےجس کاوعدہ تحریک پاکستان میں کیاگیا،پھرقیا پاکستان کےبعد کیا گیا اوراب تک کیا جاتارہا ہے۔جب واقعہ یہ ہےکہ شریعت کی عملداری پاکستان کےقیام کی محرک تھی اوربانی پاکستان سےلےکرہرحکمران نےا س کاوعدہ بھی کیا۔خود میاں نواز شریف صاحب نےیہ وعدہ متعدد مواقع پرکیا۔ توپھر اس مقصد کےلیے پیش کی گئی پندرہویں ترمیم کی مخالفت اپنوں اوربیگانوں کی طرف سےکیوں کی جارہی ہے؟ اپنوں سےمراد وہ دینی جماعتیں اورمذہبی حلقے ہیں جن کی سیاست اورسرگرمیوں کامقصد ومحور ہی شریعت کی بالا دستی ہےلیکن ان کی اکثریت بھی حکومت کےپیش کردہ بل سےمتعلق ذہنی تحفظات کاشکار ہے۔اور بیگانوں سےمراد وہ لوگ ہیں جواس ملک میں شریعت اسلامیہ کی بجائے سکولرازم ، اباحیت اورزندقہ کےعلم بردارہیں ۔ان لوگوں کےمقاصد وعزائم اگرچہ ڈھکے چھپے نہیں رہےہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہےکہ واضح الفاظ میں ان لوگوں کواس سےپہلے شریعت کی بالادستی کےخلاف اس طرح لب کشائی کی جراءت نہیں ہوئی تھی ۔یہ پہلا موقعہ ہےکہ ایسے لوگ اس شریعت بل کےخلاف متحد ہوگئے ہیں اوراس کےخلاف تحریک چلانے کےعزم کااظہار کررہےہیں۔آخرایسا کیوں ہے؟
  • جون
2013
صلاح الدین یوسف
پاکستان میں حکومت کے مجوزہ نکاح فارم کی ایک شق میں یہ درج ہوتا ہے کہ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا ہے یا نہیں؟... اکثر لوگ تو اس شق کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اثبات یا نفی (ہاں یا نہیں) میں کچھ نہیں لکھتے۔ لیکن بعض لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ نکاح کے موقعے پر تفویض طلاق کے اس حق کو تسلیم کیا جائے اور وہ اس شرط کو لکھواتے یعنی منواتے ہیں کہ عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے۔
  • جنوری
1989
امام ابن قدامہ مقدسی
اہل تصوف کے نزدیک غناء (قوالی) رقص، تواجد، دف بجانا، مزامیر سننا، ذکر و تحلیل کے نام پر اصوات منکرہ بلند کرنا اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ یہ تمام اشیاء قربِ الہیٰ کی انواع سے ہیں، بہت عام ہے۔ ان تمام امور کے متعلق شیخ الاسلام امام المجتہد علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ ابن احمد بن محمد المقدسی الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه (م سئہ 620ھ) المعروف بابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک دقیع فتویٰ مختصر کتابچہ کی شکل میں استاذ زھیر الشاویش حفظہ اللہ (صاحب المکتب الاسلامی بدمشق) کی کوشش سے سئہ 1984ء میں بار سوم طبع ہوا تھا۔ اگرچہ اس سے قبل ان امور سے متعلق ہمارے بیشتر اکابرین اور علمائے حق زور قلم صرف کر چکے ہیں، بالخصوص امام حافظ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه  نے (م سئہ 597ھ) "تلبیس ابلیس" اور "ذم الھویٰ" میں، امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے "فتاویٰ" میں امام ابن القیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ نے "اغاثۃ اللہفان فی مکاید الشیطان" میں امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "کف الرعاع" میں اور ابن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ  نے "ذم الملاھی" وغیرہ میں ان امور پر اس قدر سیر حاصل بحث و جرح کی ہے کہ مزید کچھ لکھنے کی حاجت باقی نظر نہیں آتی۔ فجزاھم اللہ۔ مگر چونکہ راقم اسلاف و اکابرینِ ملت کی دینی خدمات اور ان کے آثارِ مبارکہ سے عام مسلمانوں کو متعارف کرانا اپنے لیے باعثِ سعادت تصور کرتا ہے، لہذا ذیل میں علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ ، کہ جن کی شخصیت علم دین سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے، کے اس اہم فتویٰ کو اردو قالب میں ڈھال کر مختصر تخریج و تحقیق کے ساتھ استفادہ عام کی خاطر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔مترجم
  • جنوری
1978
ادارہ
1۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : وایاکم وسوء ذات البین فانھا الحالقۃ (رواہ الترمذی) ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور بداعتمادی پیدا کرنے سے پرہیز کرو! کیونکہ یہ (بات دین ایمان کو) مونڈ کر صفا چٹ کردیتی ہے۔''
  • دسمبر
2014
عبدالرؤف
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے نام کے ساتھ ان کے آباء کا نام لیا جائے گا یا اُن کی ماؤں کا؟... اس بارے میں بکثرت سوالات کے پیش نظر قدرے تفصیل حاضر خدمت ہے۔
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
1۔ عن شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰعنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم الکیس من وان نفسہ و عمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھواھا وتمنیٰ علی اللہ (ترمذی)

کام بھونڈے امیدیں نیک : رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
  • دسمبر
2002
محمد علی قصوری
مولانامحمد علی قصوریؒ اس خاندان کے چشم و چراغ ہیں جن کے اکثر افراد نے برصغیر میں اسلام اور ملک وملت کی خدمت اورجدوجہد ِآزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مولانا عبدالقادر قصوری(سابق صدر انجمن اہلحدیث، پنجاب) کے صاحبزادے، معین قریشی (سابق نگران وزیراعظم) کے چچا اور موجودہ وفاقی وزیر خارجہ (خورشید محمود قصوری) کے تایا تھے۔