• اپریل
2005
عمران ایوب لاہوری
اسلام پاكيزہ مذہب ہے اور پاكيزگى و صفائى ستھرائى كوہى پسند كرتا ہے-يہى وجہ ہے كہ كتاب و سنت ميں متعدد مقامات پر طہارت و پاكيزگى اختيار كرنے كى اہميت و فضيلت بيان كى گئى ہے- اس كے دلائل ميں سے چند آيات و احاديث حسب ِذيل ہيں:
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿٤﴾ وَٱلرُّ‌جْزَ فَٱهْجُرْ‌ ﴿٥...سورۃ المدثر
  ”اپنے كپڑے پاك ركهيں اور گندگى سے احتراز كريں-“
  • اپریل
2005
حسن مدنی
بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى كے زير اہتمام كام كرنے والے علمى ادارے ’ادارہ تحقيقاتِ اسلامى‘ اسلام آباد نے چند ماہ قبل اجتماعى اجتہاد كے عمل كو متعارف كرانے كى غرض سے اہل علم كا ايك بين الاقوامى سيمينار منعقد كرنے كا فيصلہ كيا- 19سے 22/مارچ 2005ء تك يہ سيمينار فيصل مسجد سے ملحقہ كيمپس كے آڈيٹوريم ميں منعقد ہوا۔
  • اپریل
2005
حسن مدنی
اُمت ِمسلمہ ميں چند صدياں ايسى گزرى ہيں جب اجتہاد كا دروازہ بند كركے پچهلے فقہاء ومجتہدين كى آرا پر ہى عمل كرليناكافى سمجھا جاتا رہا، ليكن موجودہ دور ميں ترقى وايجادات نے جس تيزى سے انسانى زندگى ميں محير العقول تبديلياں برپا كى ہيں، اس كے بعد وہى علما جو پہلے اجتہاد كے دروازے كو بند كرنے كاموقف ركهتے تهے، اب اسے كهولنے كے لئے آمادہ نظر آتے ہيں۔
  • اپریل
2005
شیخ سلمان بن فہد
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
1۔ نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -
  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
اسلام دین کامل ہے۔یہ آج سے چودہ صدیاں قبل مکمل ہوا۔اورآج تک کتاب وسنت میں مکمل ،جوں کاتوں موجود ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی تھی:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلاہوں۔جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامےرکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے اور دوسری اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت!"
زبان نبوت سے ادا ہونے والے یہ پاکیزہ اور قیمتی الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیمات کوابدیت حاصل ہے۔تاقیامت ہمیں نہ کسی دوسرے شریعت کی ضرورت پیش آئے گی۔اور نہ ہی شریعت محمدیہ میں کسی قسم کی کمی بیشی یاتبدیلی کی گنجائش ہے!۔قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا یہی نتیجہ ہے کہ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر دور میں ہماری راہنمائی ہوگی!
  • جنوری
2006
شیخ سلمان بن فہد
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
  • اپریل
2005
عبد الرحمن مدنی
پاكستان ميں علامہ اقبال اور پارليمانى اجتہاد كے بارے ميں اكثر لوگوں كى تحريريں نظرسے گزرتى رہتى ہيں جن ميں يہ كوشش كى جاتى ہے كہ پاكستان ميں تعبير شريعت كے لئے پارليمنٹ كو قانون سازى كا اختيار ديا جائے يا اعلىٰ عدليہ كے ذريعے مروّ جہ قوانين كى تصحيح كى جائے- حالانكہ دنيائے اسلام ميں شريعت كا كامياب جزوى يا كلى نفاذ ديگر طريقوں سے بهى ہوا ہے۔
  • مارچ
2000
وحید بن عبدالسلام
جادوگر اور شیطان کے درمیان اکثر و بیشتر ایک معاہدہ طے پاتا ہے، جس کے مطابق جادوگر کو کچھ شرکیہ یا کفریہ کام چھپ کر یا علیٰ الاعلان کرنا ہوتے ہیں اور اس کے بدلے شیطان کو جادوگر کی خدمت کرنا ہوتی ہے یا اس کے لئے خدمت گار مہیا کرنے ہوتے ہیں، کیونکہ جس شیطان کے ساتھ جادوگر معاہدہ کرتا ہے وہ جنوں اور شیطانوں کے کسی ایک قبیلے کا سردار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنے قبیلے کے کسی بے وقوف کو اَحکامات جاری کرتا ہے
  • فروری
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
محمد صدیق مغل، 9؍11 دہلی کالونی کراچی سے لکھتے ہیں :
’’کیا عورت اپنے شوہر کی میّت کو ہاتھ لگاسکتی  اور اسے دیکھ سکتی ہے؟‘‘
الجواب بعون اللہ الوھاب، اقول و باللہ التوفیق:
ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اس کے برخلاف خاندانی رسوم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے۔
اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے۔
اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں۔
  • اکتوبر
  • نومبر
2002
محمد آصف احسان
اسلامی عبادات میں یہ پہلا رکن بلکہ رکن عظیم ہے جس کی ادائیگی امیر و غریب، بوڑھے و جوان، مرد و عورت اور بیمار و تندرست سب پر یکساں فرض ہے۔ ایسی عبادت کہ جس کا حکم کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔ ایمان لانے کے بعد مسلمان سے اولین مطالبہ ہی یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: )
  • اگست
1987
ادارہ
تقلید کی جکڑ بندیوں نے جہاں اسلامی فکر و نظر کی قوتوں کو گھائل کیا او رذہنی غلامی کو پروان چڑھایا ہے، وہاں اس سے بغاوت کرنے والوں نے اجتہاد کے نام پر دین میں تحریف و تبدل کے ذریعہ ایک دوسری انتہاء کو جنم دیا ہے۔ لیکن کیا یہ بات انتہائی عجیب نہیں کہ تقلید کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں ان متجددین نے بھی اپنے مزعومہ ''مجتہدین'' (حکومت و پارلیمنٹ) کو اپنا مقتداء و پیشوا بنا کر ان کے افکار و
  • نومبر
1992
صلاح الدین یوسف
بسلسلہ اسلامی ریاست میں تعبیر شریعت کا ا ختیار

آج کل بہت سے سیکولر اہل قلم جن میں علامہ اقبالؒ کے فرزند جاویداقبال ؒبھی شامل ہیں ۔فکر اقبال ؒ کے حوالے سے ایک شرعی اصطلاح ۔اجتہاد ۔کے بارے میں ایسی باتیں کہہ اور پھیلا رہے ہیں کہ جن سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ گمراہ اور صراط مستقیم سے انحراف پر مبنی ہیں ۔